Police personnel secure the Khazina Banda check post in Hangu after a deadly drone-assisted militant attack.

ہنگو واقعہ اور بدلتی گوریلا جنگ: 11 اہلکاروں کی شہادت کے بعد سی ٹی ڈی کی تفتیش جاری، اہم انکشافات سامنے آ گئے

ہنگو (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع ہنگو کی حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی اہم خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حالیہ خونریز حملے کے بعد محکمہ پولیس نے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی 16 مختلف دفعات کے تحت سی ٹی ڈی کوہاٹ میں باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس ایچ او سی ٹی ڈی کوہاٹ کی مدعیت میں درج کی گئی اس ایف آئی آر نے خیبر پختونخوا میں پولیس کے سامنے درپیش خطرات کی ایک نئی اور تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس دردناک واقعے میں مجموعی طور پر 11 پولیس اہلکار شہید اور 28 زخمی ہوئے، جس کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن مکمل کر کے واقعے کی تفتیش سی ٹی ڈی کے سپرد کر دی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حملے کیلئے انتہائی منظم اور جدید ترین منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حملہ اوں نے کارروائی کا آغاز گورنمنٹ پرائمری سکول خزینہ میں قائم پولیس پوسٹ کو نچلی پرواز کرنے والے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنا کر کیا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جب ڈی ایس پی کی قیادت میں پولیس کی اضافی نفری اور بکتر بند گاڑی (APC) متاثرہ مقام کی طرف روانہ ہوئی، تو راستے میں پہلے سے گھات لگائے حملہ آوروں نے ڈرون اور بھاری خودکار ہتھیاروں سے قافلے پر حملہ کر دیا۔ اس شدید فائرنگ کے نتیجے میں سرکاری گاڑیاں اور بکتر بند گاڑیاں بری طرح جعلس گئے ہیں، جبکہ شدت پسند موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لوٹ کر فرار ہو گئے۔
دی خیبر ٹائمز کی تحقیقی جائزہ رپورٹ کے مطابق، ہنگو کا یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں شدت پسند گروہ اپنے روایتی حربوں سے آگے بڑھ کر فضائی ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر چکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ڈرون کے ذریعے بارودی مواد گرانا اور پھر امداد کیلئے آنے والی فورس پر امبوش کرنا، حملہ آوروں کی اعلیٰ سطحی حکمت عملی اور نائٹ ویژن یا نگرانی کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس طویل عرصے سے گوریلا حملوں اور آئی ای ڈی دھماکوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے، لیکن جدید ڈرونز کا یہ نیا چیلنج فورسز کیلئے سیکیورٹی کی مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔
محکمہ پولیس اور سی ٹی ڈی نے اگرچہ واقعے کی جیو فینسنگ اور فرانزک تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم یہ واقعہ فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں کی سیکیورٹی پر کئی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ میں یہ بھی واضح کردوں کہ روایتی چیک پوسٹیں اور موجودہ بکتر بند گاڑیاں جدید فضائی خطرات سے نمٹنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ جب تک پولیس فورس کو جدید اینٹی ڈرون سسٹمز، سگنل جیمرز اور جدید مانیٹرنگ کی صلاحیت فراہم نہیں کی جاتی، اس نوعیت کے غیر متوقع حملوں کو روکنا دشوار رہے گا۔
دوسری جانب، خیبر پختونخوا کے سالانہ بجٹ میں پولیس فورس کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جہاں اہلکاروں کے حالاتِ کار اور زندگی کو بہتر بنانے سمیت ان کی سیکیورٹی کیلئے جدید آلات اور نئے سسٹمز کو فعال کرنے کیلئے مختص بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہنگو کا یہ المیہ جہاں پولیس اہلکاروں کی بے مثال شجاعت کی داستان ہے، وہیں یہ اربابِ اختیار کیلئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے کہ جنگ کے دہانے پر موجود فورس کو جدید ترین وسائل فراہم کرنا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

Summery: 

Following the deadly drone-assisted attack on the Khazina Banda check post in Hangu that left 11 police officers dead and 28 injured, CTD has launched an investigation under anti-terrorism laws. The case highlights the increasing use of drone technology and evolving militant tactics in Khyber Pakhtunkhwa.