پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے بیان کی تردید کو بین الاقوامی جائزوں اور ٹھوس دستاویزی شواہد نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اب عالمی برادری نے بھی افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے علاوہ اب یورپی یونین، روس، چین، امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) نے بھی متفقہ طور پر افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
برطانوی اور یورپی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو نہ صرف کھلی چھوٹ حاصل ہے بلکہ وہ افغان سرزمین پر کھلم کھلا اپنے تربیتی کیمپ چلا رہی ہیں، ان تنظیموں کو جدید اور مہلک ہتھیاروں تک آسان رسائی حاصل ہو چکی ہے۔
شدت پسندوں کو اپنے نیٹ ورک چلانے کیلئے باقاعدہ مالی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی مانیٹرنگ رپورٹ: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ مانیٹرنگ رپورٹ نے افغان حکومت کے تمام دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم ہے، رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں میں 13000 سے 23000 تک جنگجوں کی تعداد ہے۔
اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے، پاکستان کے روایتی موقف کی تائید کرتے ہوئے روس اور چین نے بھی افغان سرزمیں پر موجود ان پناہ گاہوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
طالبان کے انکاری موقف کو سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید دھچکا حال ہی میں کراچی سے گرفتار ہونے والے ایک افغان دہشت گرد کے اعترافی بیان سے لگا ہے۔
27 جون کو کراچی میں رینجرز پر ایک حملہ کیا گیا تھا، جس کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک افغان دہشتگرد عثمان علی کو زندہ گرفتار کیا۔ عثمان علی نے دورانِ تفتیش اپنے جرم اور دہشتگردی کے نیٹ ورک کا تفصیلی اعتراف کیا ہے۔ اس اعترافی بیان نے طالبان حکومت کے ان تمام دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں وہ دہشتگردوں کی پشت پناہی سے انکار کرتے رہے ہیں۔
ان تمام بین الاقوامی جائزوں، یو این او کی رپورٹس، عالمی طاقتوں کے دباؤ اور عثمان علی جیسے زندہ گرفتار دہشتگردوں کے ٹھوس دستاویزی شواہد کے باوجود، افغان حکومت حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے مسلسل انکار کی پالیسی پر گامزن ہے، جو عالمی امن کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
Summary: Global Evidence Rejects Taliban’s Denial of Terrorist Safe Havens
Afghan Taliban spokesperson Zabihullah Mujahid’s denial of Pakistani PM Shehbaz Sharif’s claims regarding terrorist sanctuaries has been strongly refuted by international monitoring reports and documented evidence.
Key Highlights:
-
Global Consensus: Alongside Pakistan, the European Union, Russia, China, the United States, and the UN Security Council (UNSC) have expressed deep concern over active terrorist safe havens in Afghanistan.
-
Support for TTP: British and European officials reveal that the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) and other militant factions have unrestricted access to training camps, advanced weaponry, and financial funding on Afghan soil.
-
UNSC Statistics: UN monitoring reports indicate that over 20 terrorist organizations and an estimated 13,000 to 23,000 fighters are currently active in the country. This alarming data has prompted even Russia and China to demand immediate action.
-
The Confession: The Taliban’s claims were further dismantled by the confession of Usman Ali, an Afghan terrorist captured alive during an attack on Karachi Rangers on June 27. He explicitly detailed the operational network running across the border.
Bottom Line: Despite overwhelming global intelligence, official UNSC data, and direct confessionary evidence, the interim Afghan government continues to maintain a stance of complete denial.




