ISKP networks and security situation in Pakistan illustrated through analytical concept image

:پاکستان میں داعش خراسان ، نیٹ ورکس، سرگرمیاں اور بدلتی صورتحال: قسط سوم

:پاکستان میں داعش خراسان ، نیٹ ورکس، سرگرمیاں اور بدلتی صورتحال: قسط سوم

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ

پاکستان میں داعش خراسان (ISKP) کی موجودگی ایک پیچیدہ اور مسلسل بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کا حصہ رہی ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم زیادہ تر افغانستان میں اپنے مرکز کے حوالے سے جانی جاتی ہے، لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس کے نیٹ ورکس، معاونین اور نظریاتی اثرات سے متعلق متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی اداروں نے متعدد کارروائیوں میں داعش خراسان سے منسلک افراد کی گرفتاری اور ہلاکت کی اطلاعات دی ہیں۔ ان کارروائیوں کے باوجود بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گروہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے زیادہ خفیہ اور غیر مرکزی انداز اختیار کیا ہے۔

پاکستان میں داعش خراسان کے ابتدائی اثرات 2015 کے بعد مختلف علاقوں میں دیکھے گئے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں میں۔ ابتدا میں یہ گروہ محدود سطح پر سرگرم تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس کے نظریاتی اور نیٹ ورکنگ اثرات مختلف علاقوں تک پھیلنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق متعدد کارروائیوں کے ذریعے اس تنظیم کے کئی اہم نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا گیا، لیکن اس کے باوجود بعض علاقوں میں اس کے سہولتکار اور ہمدرد موجود رہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں داعش خراسان کی موجودہ ساخت ایک روایتی تنظیم سے زیادہ ایک غیر مرکزی نیٹ ورک  کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس میں  مختلف علاقوں میں آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں، جو اکثر بڑے تنظیمی ڈھانچے سے براہ راست منسلک نہیں ہوتے، بلکہ چھوٹے اور مختصر سیلز قائم کردئے جاتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ اس گروہ کی مکمل نگرانی اور خاتمہ ایک پیچیدہ سکیورٹی چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی ادارے مختلف ادوار میں داعش خراسان سے منسلک نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں گرفتاریوں، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور بعض اوقات بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شامل رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں اس گروہ کی عملی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے، تاہم مکمل خاتمے کے حوالے سے صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے۔

پاکستان میں داعش خراسان کی موجودگی کو اکثر افغانستان میں جاری سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی خطہ اس تنظیم کیلئے ماضی میں ایک حساس اور متحرک علاقہ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان اور پاکستان میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا براہ راست اثر اس گروہ کی سرگرمیوں اور حکمت عملی پر بھی پڑتا ہے۔

پاکستان میں داعش خراسان ایک ایسا سکیورٹی چیلنج ہے جو اگرچہ ماضی کی نسبت کمزور ہوا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس کی موجودہ شکل زیادہ خفیہ، تقسیم شدہ اور غیر مرکزی ہے، جس کی وجہ سے اسے مکمل طور پر ٹریک کرنا اور ختم کرنا ایک مسلسل سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔

دی خیبر ٹائمز اسپیشل انویسٹی گیشن

یہ رپورٹ چار حصوں پر مشتمل سلسلے کا تیسرا حصہ ہے۔

____________________________________________

Executive Summary (Exclusive)

This third installment of The Khyber Times Special Investigation focuses on the presence and evolving structure of the Islamic State Khorasan Province (ISKP) within Pakistan. While the group is more prominently active in Afghanistan, multiple security incidents, arrests, and intelligence-based operations in Pakistan indicate that ISKP-linked elements and facilitators have continued to operate in various capacities.

The report highlights how ISKP’s organizational structure in Pakistan has reportedly shifted from a centralized framework to a more decentralized network of small, loosely connected cells. This transformation has made detection and counterterrorism efforts more complex for security agencies, despite sustained operations and crackdowns that have significantly weakened its operational capacity.

It further examines the regional dimension of ISKP’s activities, particularly the influence of cross-border dynamics between Afghanistan and Pakistan. Security analysts suggest that developments in Afghanistan continue to have a direct or indirect impact on the group’s presence and behavior in Pakistan.

While ISKP’s overall strength in Pakistan is assessed to have declined compared to earlier years, the persistence of scattered networks indicates an ongoing, though limited, security concern that continues to require monitoring.

This report is part of a four-part investigative series by The Khyber Times examining ISKP’s evolving threat across Pakistan and Afghanistan.