دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
خطے میں ایک بار پھر پاک افغان تعلقات سنگین نوعیت کے تناؤ اور سفارتی ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔ حالیہ سرحدی اور سیکیورٹی واقعات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف دونوں ممالک کے سیکورٹی اداروں کو محتاط کر دیا ہے بلکہ خطے کے تجارتی حلقوں اور عام عوام میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک طرف افغان حکومت کی جانب سے فضائی کارروائیوں پر شدید ردعمل اور جوابی کارروائی کے دعوے سامنے آئے ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی سلامتی اور حالیہ خونریز دہشتگرد حملوں کے دفاع میں اٹھائے گئے ہیں۔
افغان حکومت نے حالیہ دنوں میں کونڑ اور پکتیکا کے علاقوں میں مبینہ فضائی کارروائیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت متعدد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ امارت اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، کہ ملکی خودمختاری کا یہ پامال کیا جانا ناقابلِ قبول ہے اور ان کی حکومت مناسب وقت، اور طریقے سے اس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
دوسری جانب، وزارتِ اطلاعات اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ فضائی کارروائیاں اچانک یا بلاجواز نہیں کی گئیں۔ حال ہی میں کوہاٹ، ہنگو اور کرم میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے ہولناک واقعات کے ردعمل میں یہ قدم اٹھایا گیا، جہاں محض ایک ہفتے کے قلیل عرصے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں سمیت تقریباً 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پاکستانی حکام کا واضح کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی ہدف حافظ گل بہادر گروپ (آئی ایم پی) اور دیگر شدت پسند نیٹ ورکس تھے جو سرحد پار سے پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
دوحہ (قطر)، استنبول، سعودی عرب اور چین کے پلیٹ فارمز پر ہونے والے اب تک کے تمام امن مذاکرات میں دونوں فریقین کے مؤقف میں بنیادی تضاد برقرار رہا ہے۔ اسلام آباد کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سمیت دیگر دہشتگردوں کے مضبوط نیٹ ورکس وہیں سے اپریٹ کر رہے ہیں۔ کوہاٹ پولیس لائن حملے سمیت بنوں، پشاور اور گذشتہ ماہ کراچی کے پُرتشدد واقعے میں گرفتار یا ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے افغانستان سے براہِ راست روابط اور شناختی تصدیق اس مؤقف کو مزید تقویت دیتی ہے۔
کابل انتظامیہ مسلسل یہ دعویٰ کرتی چلی آئی ہے کہ ان کی سرزمین پر کوئی بھی غیر ملکی دہشتگرد موجود نہیں ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کے خلاف کسی عسکری کارروائی کی اجازت دیتے ہیں۔
تاہم، بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے حوالے سے دیگر اہم آراء بھی ریکارڈ پر ہیں۔ روس کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی دہشتگرد موجود ہیں، جبکہ اقوام متحدہ (UN) کی رپورٹس بھی اس خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں سب سے زیادہ معاشی سرمایہ کاری کرنے والے ملک چین کو بھی یہ شدید تحفظات ہیں کہ ای ٹی آئی ایم (ETIM) یا ٹی آئی پی (TIP) جیسے گروپس کی افغانستان میں موجودگی اور سرگرمیاں چینی منصوبوں کیلئے براہِ راست ایک بڑا سیکورٹی خطرہ ہیں۔ دیگر تحقیقی رپورٹس بھی اس بات کی نفی کرتی ہیں کہ افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس موجود نہیں، بلکہ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ان کی عسکری صلاحیتیں اور نیٹ ورکس روز بروز پھیل رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں ایک باضابطہ اور موثر دوطرفہ سیکیورٹی مکینزم بنانے پر اتفاق ہوا تھا، جس کا پاکستان نے خیرمقدم بھی کیا تھا۔ لیکن اس طرح کے سفارتی اچھے اشارے اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب سرحد پار سے اچانک خونریز حملے اور پرتشدد کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں، جو امن کی تمام کوششوں کو صابن کی جھاگ کی طرح بیٹھا دیتی ہیں۔
اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو اس موجودہ پاک افغان کشیدگی اور سرد جنگ میں نہ تو پاکستان کا کوئی اسٹریٹجک فائدہ ہے اور نہ ہی افغان عوام کی بہتری وابستہ ہے۔ اس پورے کھیل میں اصل فاتح شدت پسند گروپس، اور افغانستان کے اندر موجود وہ عناصر ہیں جو خطے میں مستقل عدم استحکام کے خواہاں ہیں۔ موجودہ کشیدہ ماحول اور بداعتمادی کی فضا براہِ راست انہی عناصر کے مفاد میں جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کتنی ہی طویل جنگیں کیوں نہ لڑی جائیں، بالآخر تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ لہٰذا، عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ مستقل اور پائیدار سفارت کاری ہی اس پیچیدہ مسئلے کا واحد حل ہے۔
سرحدی کشیدگی کا سب سے بڑا منفی اثر دونوں ممالک کے عام عوام، بالخصوص بزنس کمیونٹی اور کاروباری طبقے پر پڑتا ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے وابستہ افراد کی ہمیشہ یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ تجارت اور معیشت کو سیاست اور عسکریت پسندی سے الگ رکھا جائے۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان حالات خراب ہوتے ہیں، تجارتی روٹس کی بندش سے کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے، جس سے سب سے زیادہ دکھ اور تکلیف افغان عوام کو اٹھانی پڑتی ہے جن کی روزمرہ خوراک، صحت، تعلیم اور روزگار کی بنیادی ضروریات کسی نہ کسی طور پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔
اسی طرح، اس پوری صورتحال کے تناظر میں پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو بھی گوناگوں سماجی و اقتصادی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں کاروبار کرکے اربوں اور کروڑوں روپے کمانے والے کئی افغان سرمایہ کار یہاں سے کمایا ہوا سرمایہ واپس افغانستان یا تیسرے ملک منتقل کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی معیشت پر بھی منفی دباؤ پڑتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ کابل اور اسلام آباد دونوں دارالحکومت جذباتی بیانئے سے نکل کر زمینی حقائق کو تسلیم کریں۔ دہشتگردی ایک مشترکہ ناسور ہے جو دونوں ممالک کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ باہمی الزام تراشی کی بجائے ایک مخلصانہ، شفاف اور قابلِ عمل سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دے کر ہی خطے کے کروڑوں غریب عوام کو امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔
Executive Summary: Pak-Afghan Tensions and Regional Security
Key Highlights of the Report:
-
Airstrikes and Official Stances:
-
Afghan Government’s Stance: Condemned recent alleged airstrikes in Kunar and Paktika, claiming civilian casualties (including a woman). Spokesperson Zabihullah Mujahid stated that sovereignty violations are unacceptable and vowed an appropriate response, while maintaining that no foreign terrorists operate on Afghan soil.
-
Pakistan’s Stance: Asserted that the airstrikes were defensive responses to recent deadly terrorist attacks in Kohat, Hangu, and Kurram—which claimed around 50 lives among security personnel and civilians within a weekن specifically targeting militant networks like the Hafiz Gul Bahadur Group and TTP.
-
-
International and Regional Perspectives: Global reports from the United Nations, Russia, and security analyses contradict Kabul’s denials, confirming the active presence of militant networks in Afghanistan. Furthermore, China remains deeply concerned regarding groups like ETIM/TIP threatening regional stability and economic projects.
-
Derailed Diplomatic Efforts: While prior high-level discussions—such as talks with Afghan Interior Minister Sirajuddin Haqqani—showed promise toward establishing a joint security mechanism, sudden outbreaks of cross-border violence repeatedly undermine peace initiatives.
-
The Real Beneficiaries: The report underscores that neither Pakistan nor ordinary Afghan citizens benefit from this ongoing cold war. Instead, extremist groups and elements seeking permanent regional instability are the real winners, thriving on mutual mistrust.
-
Economic and Social Impact: Border closures and trade disruptions severely damage the Pak-Afghan Transit Trade, harming Afghan citizens who depend on trade, food, and daily essentials from Pakistan. The situation also creates socio-economic pressures regarding Afghan refugees and capital flight.
-
The Way Forward: Both Islamabad and Kabul must move beyond emotional rhetoric, acknowledge ground realities, and establish a sincere, transparent, and cooperative security framework to eradicate terrorism and foster mutual prosperity.
ٓAbout Authoir: Nasir Dawar Execuive Editoir The Khyber Times, Editor Wahdat News and Researcher- contact: dawarjan@gmail.com




