Collage of PTI protest demonstrations, sit-ins, and portraits of founding chairman Imran Khan.

اپریل 2022 سے تاحال: پی ٹی آئی کے احتجاجی سفر اور اسٹریٹ موومنٹ کا پس منظر

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ
اپریل 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملکی سیاست میں احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچز کا ایک ایسا تسلسل شروع ہوا جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا. اس طویل سیاسی کشمکش کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متعدد بار طاقتور اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کیا، جس کی تفصیلی تاریخ درج ذیل ہے:
مئی 2022 کا پہلا آزادی مارچ: حکومت کے خاتمے کے صرف ایک ماہ بعد مئی 2022 میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف پہلا بڑا مارچ کیا، جس کے شرکاء ریڈ زون تک پہنچے اور چند روز بعد الٹی میٹم دے کر اسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا.
اکتوبر تا نومبر 2022 کا لانگ مارچ اور وزیرآباد واقعہ: لاہور سے شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ حکومت پر دباؤ کا سبب بن رہا تھا، لیکن 3 نومبر کو وزیرآباد میں چیئرمین پی ٹی آئی کے کنٹینر پر فائرنگ کے المئے نے اس پورے مارچ کا رُخ موڑ دیا.
9 مئی 2023 کے ہنگامے: عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جو ردعمل سامنے آیا، اس نے سیاسی تقابل کو ایک بالکل نئی اور خطرناک سطح پر پہنچا دیا، جس کے نتیجے میں پارٹی کو شدید ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا.
سال 2024 کے دباؤ اور نومبر کا “ڈو اور ڈائے” مارچ: فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے بعد، ستمبر اور اکتوبر میں آئینی ترامیم کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ بالآخر نومبر 2024 میں علی امین گنڈاپور کی قیادت میں “ڈو اور ڈائے” کے نعرے کے ساتھ اسلام آباد کی طرف یلغار کی گئی، جو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اچانک اس وقت ختم ہوگئی، جب علی امین گنڈا پور ، بشریٰ بی بی اور دیگر رہنما غائب ہوگئے، اور پی تی آئی کا جذباتی ورکرز کو سڑکوں پر اللہ کے رحمکن و کرم پر چھوڑدیا۔
حالیہ صورتحال (ستمبر تا اکتوبر 2026): آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور زیرِ حراست رہنماؤں کی رہائی کے مطالبات کے ساتھ ستمبر کے آخر کی کال کو مؤخر کر کے اکتوبر تک لایا گیا، جبکہ حکومت اور پارٹی کے درمیان سیاسی ملاقاتوں و مذاکرات کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے. 
جب ہم اس طویل احتجاجی سفر اور زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، تو کئی ایسے تلخ حقائق سامنے آتے ہیں جو تحریک کی کامیابی یا ناکامی کی اصل وجوہات کو بے نقاب کرتے ہیں، جیسا کہ جذباتی کارکن اور غیر حاضر قیادت: یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کا عام ورکر ہمیشہ سچی لگن اور “سروں پر کفن باندھ کر” نکلتا ہے، مگر نازک وقت پر مرکزی قیادت کی غیر واضح پالیسی یا اچانک غائب ہو جانا ورکرز کو سڑکوں پر تنہا اور غیر محفوظ چھوڑ دیتا ہے۔
بداعتمادی کی فضا اور مالیاتی کمزوری: حالیہ احتجاجی کالز کو بار بار آخری لمحے میں ملتوی کرنے کے فیصلوں نے ورکرز کے دل توڑے ہیں اور قیادت پر ان کا اعتماد مجروح کیا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب پارٹی کو مضبوط اور خودکار مالی وسائل میسر تھے، مگر اب آخری لمحات میں چندے اور فنڈز اکٹھا کرنے کی مجبوری اس بات کا ثبوت ہے کہ تنظیم اندرونی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
شہری مراکز میں ناکامی اور خیبر پختونخوا پر انحصار
سیاسی حقیقت یہ ہے کہ کراچی اور لاہور جیسے بڑے معاشی و سیاسی مراکز میں اسٹریٹ موومنٹ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں تمام تر دباؤ اور احتجاج کا بوجھ اکیلے خیبرپختونخوا کے ورکرز اور وہاں کے وزراء پر آ جاتا ہے۔
کراچی میں ورکرز کا حال: سرد مہری اور گہرا تنہا پن
کراچی، جو کبھی 2018 کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کا سب سے بڑا گڑھ اور سیاسی قلعہ مانا جاتا تھا، حالیہ احتجاجی کالز کے دوران شدید ترین سرد مہری کا شکار رہا۔ مسلسل مقدمات، چھاپوں اور گرفتاریوں کے بعد کراچی کا عام کارکن خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ مقامی سطح پر قائدین کی مؤثر موجودگی اور سڑکوں پر رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے ورکرز میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ مشکل وقت میں انہیں اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے احتجاجی کالز محض علامتی بیانات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
لاہور کے سیاسی “ڈرامے” اور زمینی حقائق لاہور، جہاں سے ماضی میں بڑے بڑے لانگ مارچز کا آغاز ہوا تھا (جیسا کہ اکتوبر 2022 کا تاریخی مارچ یہیں سے نکلا تھا)، وہاں حالیہ برسوں میں سیاسی حکمت عملی کے نام پر صرف تماشے دیکھنے کو ملے ہیں۔ رہنما بڑے بڑے جلسوں اور بھرپور مزاحمت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر جب عملی میدان میں اترنے کا وقت آتا ہے تو صفیں خالی نظر آتی ہیں۔ ماضی کے کئی مواقع پر دیکھا گیا کہ کارکن سڑکوں پر پولیس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ نام نہاد رہنما یا تو گھروں تک محدود ہو جاتے ہیں یا روپوش ہو جاتے ہیں، جس نے لاہوری ورکرز کا حوصلہ توڑ دیا ہے۔
وفاق کی آہنی دیواریں اور مستقبل کا چیلنج
ان تمام اندرونی کمزوریوں اور شہری مراکز (کراچی و لاہور) کی مکمل ناکامی کے بعد، اسٹریٹ موومنٹ کا سارا بوجھ اکیلے خیبرپختونخوا کے ورکرز اور صوبائی حکومت پر منتقل ہو جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء جتنا بھی زور لگا لیں، صرف ایک صوبے کے بل بوتے پر وفاق کے مرکز کو ہلانا انتہائی کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری طرف، وفاقی حکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح کو کنٹینرز، خندقوں اور ریاست کی پوری طاقت جھونک کر ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیتی ہے، جہاں باہر سے آنے والے محدود قافلوں کیلئے دباؤ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں نامساعد حالات اور حکمت عملی کے خلا کے ساتھ صرف جذبے کے بل بوتے پر وفاق کے مرکز میں کامیابی حاصل کرنا پی ٹی آئی کیلئے ایک کڑا ترین امتحان بن چکا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پی ٹی آئی فیصلہ کرے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کے ساتھ: عطا تارڑ

Summery: 

From April 2022 to Present: PTI’s Protest Journey and Street Movement Dynamics

By Nasir Dawar

Timeline of Protests and Long Marches

  • April 2022: Political instability and continuous protests began following the ouster of former Prime Minister Imran Khan through a vote of no-confidence.
  • May 2022: The first “Azadi March” reached Islamabad’s Red Zone and was temporarily suspended after issuing a six-day ultimatum.
  • October   November 2022: A long march from Lahore was abruptly halted on November 3 following the Wazirabad container shooting incident.
  • May 9, 2023: Widespread, spontaneous protests erupted nationwide following Imran Khan’s arrest, leading to a massive state crackdown and arrests.
  • 2024 Protests & November “Do or Die” March: Demonstrations followed the February general elections and opposition to constitutional amendments, culminating in the November 2024 march led by Ali Amin Gandapur.
  • Current Status (September–October 2026): Recent protest calls were deferred to October amid a backdrop of ongoing political negotiations and government talks.

Key Analytical Insights

  • Passionate Workers vs. Absent Leadership: While grassroots workers remain deeply dedicated and willing to face risks, the central leadership’s frequent lack of presence or clear direction often leaves workers isolated on the front lines.
  • Trust Deficit and Financial Constraints: Repeated last-minute cancellations of protest calls have eroded worker morale and trust. Furthermore, transitioning from robust historical funding systems to last-minute fundraising reflects internal organizational strain.
  • Failure in Urban Centers (Karachi & Lahore): Street mobilization in major political and economic hubs like Karachi and Lahore has heavily faltered due to intense state pressure, fear of arrests, and a vacuum of local leadership.
  • Heavy Reliance on Khyber Pakhtunkhwa: Due to the collapse of urban movements, the entire burden of the street agitation now rests on Khyber Pakhtunkhwa’s workers and provincial leadership. Challenging the federal center through a single province while facing fortified state barriers in Islamabad remains a massive strategic hurdle.

 About the Author
Nasir Dawar is a field journalist, researcher, and editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, and security developments in Khyber Pakhtunkhwa and the former FATA. He has closely followed the Afghan conflict and developments in Afghanistan, with a particular focus on militancy, cross border security, and Pakistan, Afghanistan relations.
Dawar has reported extensively from conflict affected areas and has developed a specialized research focus on militant movements, regional security dynamics, and Afghan affairs. He serves as the Editor of The Khyber Times.
Contact: dawarjan@gmail.com +92 3109020962