دی خیبر ٹائمز : تحقیقی رپورٹ
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں گزشتہ چند ہفتوں سے امارتِ اسلامیہ (طالبان حکومت) کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ عسکریت پسند تحریکوں اور جنگجوؤں کی نقل و حرکت پہلے سے جاری تھی، مگر جولائی کے وسط سے یہ سلسلہ ایک منظم اور مسلسل مہم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ طالبان قیادت کا مؤقف ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، تاہم زمینی حقائق ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔
مزاحمتی کارروائیوں کا مرکز بدخشان کا ضلع زیبک ہے، جہاں 23 جولائی سے لڑائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ ہفتوں میں درج ذیل اضلاع اور علاقے زیرِ اثر رہے ہیں:
یفتلِ سفلیٰ اور یفتلِ پائین 17 جولائی کو مختصر وقت کیلئے ضلعی مرکز پر قبضہ سے طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی کمانڈر کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا، این آر ایف کی جانب سے حملے، درایم اور شیکے (قطقتی سونے کی کان) کان کنوں اور طالبان فورسز کے درمیان جھڑپیں، دوشی، صوبہ بغلان میں طالبان کے فوجی قافلے پر حملہ، کندز و ہرات میں بھی چھوٹے پیمانے کی کارروائیاں، اس کے علاوہ پنجشیر ایک الگ محاذ کے طور پر مسلسل کشیدہ ہے، جہاں مزاحمتی سرگرمیوں سے زیادہ طالبان کی جوابی کارروائیاں اور گرفتاریاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کے مطابق ماضی میں کاپیسا، بغلان، بدخشان، لغمان، پنجشیر اور پروان سمیت کابل شہر میں بھی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) سابق آرمی چیف جنرل یاسین ضیاء کی قیادت میں، جو حالیہ ہفتوں میں سب سے زیادہ فعال گروہ کے طور پر ابھرا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) احمد مسعود کی قیادت میں، وادی پنجشیر اور شمالی صوبوں میں سرگرم۔
سپاہیانِ میہن (ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ) ایک نیا گروہ جس نے یفتلِ سفلیٰ پر مختصر قبضہ کر کے 2021 کے بعد پہلی بار کسی ضلعی انتظامیہ کو عارضی طور پر طالبان کے کنٹرول سے نکالا۔
داعش خراسان (ISKP) طالبان کا الگ اور نظریاتی حریف، جو بدخشان و کندوز میں ناراض تاجک اور ازبک نوجوانوں کی بھرتی میں مصروف ہے، خصوصاً پوست کی فصلیں تباہ کئے جانے کے ردعمل میں۔
واضح رہے کہ ذیل کے تمام اعداد و شمار متحارب فریقین کے اپنے دعوے ہیں، جن کی کسی آزاد ذریعے سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
زیبک، 23 تا 26 جولائی: AFF کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائیوں میں کم از کم 21 طالبان جنگجو ہلاک اور 37 زخمی ہوئے، جبکہ ان کا ایک جنگجو مارا گیا۔ طالبان کی 219ویں عمرِ صالح ڈویژن نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ پاکستان کے علاقے چترال سے داخل ہونے والے 5 مسلح افراد ہلاک کئے گئے۔
دوشی، بغلان، 25 جولائی: AFF کے مطابق کابل سے بدخشان جانے والے فوجی قافلے پر حملے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک اور 6 زخمی ہوئے۔
اسی طرح راغ کے علاقے میں بھی 10 جولائی کو NRF نے دعویٰ کیا ہے ، کہ اس کی کارروائی میں 2 طالبان ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔
حالیہ دنوں میں NRF نے ایک اور چوکی پر حملے میں 1 ہلاک، 2 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔
AFF کے مطابق مختلف صوبوں میں اس کی کارروائیوں میں 231 طالبان ہلاک اور 338 زخمی ہوئے، جبکہ AFF کے 8 جنگجو مارے گئے ہیں۔
قومی سطح پر، افغان حقوقِ انسانی ادارے رواداری کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں کم از کم 617 افراد ہلاک اور 537 زخمی ہوئے ۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، تاہم یہ اعداد و شمار مجموعی طور پر تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں، نہ کہ صرف مزاحمتی جھڑپوں تک محدود۔
طالبان کی گرفتاریوں کا بنیادی ہدف بڑی حد تک پنجشیر کے تاجک باشندے اور سابقہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ارکان رہے ہیں، جنہیں مزاحمتی گروہوں سے مبینہ تعلق کے شبے میں گرفتار کیا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مشن (UNAMA) کے مطابق مارچ 2022 سے اگست 2023 کے دوران NRF سے مبینہ تعلق کے شبے میں 408 من مانی گرفتاریاں و حراستیں ریکارڈ کی گئیں۔
افغان وٹنس کے مطابق جنوری 2024 سے جنوری 2025 کے دوران پنجشیر نژاد 138 افراد کو پنجشیر، کاپیسا اور کابل سمیت مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔
جون 2026 میں پنجشیر کے ضلع دره سے سابق فوجی اہلکاروں سمیت 5 افراد کو چند دنوں کے اندر گرفتار کیا گیا۔
جولائی 2026 کے وسط میں پنجشیر سے مزید ایک عام شہری حراست میں لیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پنجشیر میں طالبان کی کارروائیوں کو اجتماعی سزا اور جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔ ماضی میں ضلع خینج میں 80 سے زائد افراد کو صرف معلومات حاصل کرنے کی غرض سے حراست میں رکھا گیا تھا، جہاں ضلعی جیل میں مزید قریب 100 افراد بغیر وکیل یا خاندان سے رابطے کے قید تھے۔
مجموعی طور پر گرفتار افراد میں زیادہ تر نسلی تاجک، پنجشیری، اور سابقہ حکومت و فوج سے وابستہ افراد شامل ہیں، جبکہ کئی رپورٹس میں خاندان کے دیگر افراد کو بھی محض شبے کی بنیاد پر ہراساں یا گرفتار کئے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
جمعرات 23 جولائی کو زیبک میں شروع ہوئی اور آج 28 جولائی تک، یعنی چھٹے دن، بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔
اگر 17 جولائی کو یفتلِ سفلیٰ پر قبضے کو نقطہ آغاز مانا جائے تو Amu TV کے مطابق یہ جھڑپیں اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہیں۔
اگر اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو نقطہ آغاز مانا جائے تو NRF، AFF اور دیگر گروہوں کی وقفے وقفے سے جاری چھاپہ مار کارروائیوں کو تقریباً پانچ سال ہو چکے ہیں۔
اتوار 26 اور پیر 27 جولائی 2026 کو موصولہ اطلاعات کے مطابق AFF نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے زیبک میں مزید دو طالبان چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور بھاری ہتھیار حاصل کئے۔
طالبان کے آرمی چیف قاری فصیح الدین فتحی نے کہاہے ، کہ ان کی فورسز سرحدی علاقوں میں پہلے ہی سے موجود تھیں اور کوئی مسئلہ نہیں، تاہم انہوں نے ذاتی طور پر بدخشان کا دورہ کیا اور مزید نفری روانہ کی گئی۔
طالبان کے ساتھ اختلافات رکھنے والے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح، جنہیں کابل طلب کیا گیا تھا، بدخشان واپس لوٹ آئے ہیں۔
21 جولائی کو بدخشان میں کان کنوں نے پوست اور معدنیات سے متعلق پابندیوں کے خلاف طالبان کے کان کنی کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا، جس میں کارکنوں پر تشدد اور دھمکیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
بدخشان کی صورتحال میں کئی عوامل بیک وقت کارفرما ہیں، تاجک اکثریتی آبادی اور پشتون اکثریتی طالبان قیادت کے درمیان نسلی کشیدگی، سونے کی کانوں پر کنٹرول کی رسہ کشی، پوست کے خاتمے کی مہم سے متاثرہ کسانوں کی ناراضگی، اور داعش خراسان کی جانب سے انہی شکایات سے فائدہ اٹھا کر اپنی صفوں میں ان لوگوں نکی شمولیت کی کوششیں کی جارہی ہے۔ موسمِ سرما کی آمد سے قبل، جولائی تا نومبر کا عرصہ تاریخی طور پر زیادہ کشیدہ رہا ہے، جبکہ پامیر کے پہاڑی سلسلے میں شدید برفباری امارتِ اسلامیہ کی فوجی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ خطے کی چین کے ساتھ سرحد اور واخان راہداری کی وجہ سے بیجنگ بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، خصوصاً سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے تناظر میں۔
بدخشان اور اس سے ملحقہ شمالی صوبوں میں امارتِ اسلامیہ کے خلاف مزاحمت فی الحال ایک قابلِ انتظام سطح پر ہے، مگر گزشتہ چند ہفتوں کی شدت خصوصاً زیبک کی لڑائی اور یفتلِ سفلیٰ پر عارضی قبضہ 2021 کے بعد سب سے نمایاں واقعات میں شمار ہوتی ہے۔ دوسری جانب وادی پنجشیر میں طالبان کی گرفتاریوں اور سختیوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔ آنے والے مہینوں میں نسلی، معاشی اور سیکیورٹی دباؤ کے امتزاج سے کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں شامل جانی نقصان اور گرفتاریوں کے اعداد و شمار بیشتر متحارب فریقین کے اپنے دعووں یا حقوقِ انسانی اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں اور ان کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں۔
EXCLUSIVE REPORT: Escalating Armed Resistance in Northeastern Afghanistan
Armed resistance against the Taliban in northeastern Afghanistan has intensified significantly, evolving from sporadic insurgent raids into a coordinated offensive. Badakhshan province has emerged as the primary focal point, marked by continuous heavy fighting in Zebak district, where the Afghanistan Freedom Front (AFF) claims to have inflicted significant Taliban casualties. This surge follows the brief capture of the Yaftal-e-Sufla district center by a new group, Sepahiyan-e-Mihan, marking the first time since August 2021 that a district administration temporarily fell out of Taliban control.
The resistance landscape is primarily driven by General Yasin Zia’s AFF and Ahmad Massoud’s National Resistance Front (NRF). Deepening ethnic friction between the local Tajik majority and Pashtun-dominated Taliban command, combined with local anger over poppy eradication and disputes over gold mining resources, has fueled the unrest. Simultaneously, ISKP is exploiting these local grievances to recruit discontented youth, while neighboring China closely monitors the volatile Wakhan Corridor border ahead of the winter season.
In response, Taliban Army Chief Qari Fasihuddin Fitrat personally visited Badakhshan to deploy heavy reinforcements, despite official statements insisting the situation is secure. Concurrently, the regime has escalated severe crackdowns in Panjshir, conducting widespread arbitrary detentions against ethnic Tajiks and former military personnel—actions condemned by rights groups like Amnesty International and UNAMA as collective punishment. While the uprising remains at a manageable scale for Kabul, these coordinated strikes represent the most notable challenge to Taliban authority in five years.
Operational casualties, combat claims, and detention figures included in this report are based on statements by warring factions and rights organizations, which cannot be independently verified.




