پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 کے ایکٹ کے تحت پہلی بار جنرل سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا تھا تو اس کی شرح 12.5 فیصد تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی خساروں کو پورا کرنے کیلئے اسے بتدریج 18 فیصد کی معیاری سطح پر لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ یہ پالیسی اس تلخ معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے جہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کر پانے کی وجہ سے تمام تر بوجھ بالواسطہ محصولات کے ذریعے عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، بالواسطہ ٹیکسیشن کا سب سے بڑا المیہ اس کا رجعتی کردار ہے، کیونکہ یہ امیر اور غریب دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ اگرچہ حکومت بعض اوقات غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے دالوں، لال مرچ، ادرک، ہلدی، انڈوں اور پولٹری کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے ، لیکن عملی طور پر یہ ریلیف صرف کاغذات تک محدود رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداواری عمل میں استعمال ہونے والے بین السطور ذرائع جیسے ایندھن، بجلی اور گیس پر بھاری ٹیکس عائد ہیں، جو تسلسلی اثر کے تحت حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہو کر مستثنیٰ اشیاء کو بھی مہنگا کر دیتے ہیں ۔    اس مالیاتی بوجھ کو مزید پیچیدہ بنانے میں صوبائی اور وفاقی سطحوں پر لاگو الگ الگ سروسز ٹیکس کا ڈھانچہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، جہاں پنجاب میں سروسز پر 16 فیصد، سندھ میں 13 فیصد، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 15 فیصد سروسز ٹیکس لاگو ہے، جبکہ وفاقی سطح پر اشیاء پر معیاری سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے ۔ اس دوہرے دباؤ کے بھیانک اثرات ہمیں پیکڈ ڈیری اور پولٹری سیکٹر پر واضح نظر آتے ہیں، جہاں پیکڈ دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے دودھ کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کر دیا ہے ۔ اس غیر متوقع فیصلے سے رسمی ڈیری سیکٹر کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث دیہی علاقوں میں 500 سے زائد ملک کلیکشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں اور تقریباً 40,000 سے زائد کسانوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے ۔ نتیجے کے طور پر، صارفین جراثیم سے پاک پیکڈ دودھ چھوڑ کر کھلے اور ملاوٹ زدہ دودھ کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی سٹنٹنگ کی شرح، جو کہ پہلے ہی 37 فیصد کی خطرناک سطح پر ہے، کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا ۔ لائیوسٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں بھی خوراک پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے عام شہریوں کیلئے پروٹین کا آخری ذریعہ بھی مہنگا کر دیا ہے، جس کے باعث پشاور جیسے بڑے شہروں میں زندہ مرغی 420 روپے فی کلو اور انڈے 240 سے 260 روپے فی درجن تک بک رہے ہیں، جبکہ بغیر ہڈی کا گائے کا گوشت سرکاری نرخ یعنی 900 روپے کے برعکس 1350 سے 1500 جبکہ پشاور کے بعض سٹوروں میں تو 1600 روپے کلو تک جا پہنچا ہے ۔    غذائی منڈیوں میں حکومتی مداخلت اور ٹیکس پالیسیوں کا تضاد چینی کے شعبے میں بھی عیاں ہے، جہاں مینوفیکچررز کو فراہم کی جانے والی چینی پر 15 روپے فی کلو وفاقی ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے، جبکہ دوسری طرف مارکیٹ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے 500,000 میٹرک ٹن سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کو یکسر ختم کر کے سیلز ٹیکس کو محض 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ ادھر گندم کے بحران نے صوبائی سطح پر تنازعات کو ہوا دی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے فلور ملرز نے پنجاب کی طرف سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، جسے وہ آئین کے آرٹیکل 151 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں ۔ ان معاشی دباؤ کے متوازی، معیشت کا غیر دستاویزی چہرہ عید الاضحیٰ جیسے تہواروں پر نمایاں ہوتا ہے، جہاں سال 2025 میں قربانی کے جانوروں اور ان سے منسلک سرگرمیوں پر عوام نے تقریباً 641 ارب روپے خرچ کیئے، جو ملکی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے ۔ یہ زبردست مالیاتی بہاؤ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کی جڑیں ٹیکسوں کے ناکارہ ڈھانچے اور سرمائے کے غیر دستاویزی بہاؤ میں پیوست ہیں۔    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ (2026-27) بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 37 ماہ کے توسیعی پروگرام کی کڑی شرائط کے سائے میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ آئی ایم ایف نے وفاق کیلئے مجموعی طور پر 17.145 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کیلئے ایف بی آر کو 15.264 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ملا ہے ۔ اس ہدف کے تحت صوبوں کو بھی مجبور کیا گیا ہے کہ وہ سروسز اور زرعی انکم ٹیکس سے 1.95 ٹریلین روپے اکٹھے کریں اور اپنی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے مساوی سرپلس نقد وفاق کو سرنڈر کریں ۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی علاقوں کو دی گئی تمام رعایتوں کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے اور گندم و چینی کی سرکاری منڈیوں سے حکومت کو مکمل طور پر باہر نکالنے کی کڑی ضمانتیں دی گئی ہیں ۔ دوسری طرف، تنخواہ دار اور متوسط طبقے کو مزید نچوڑنے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں سالانہ 10 ملین سے زائد آمدنی پر 9 فیصد انکم ٹیکس کا اضافی بوجھ برقرار رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں ہنر مند پیشہ ور افراد کا شدید برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ بجلی اور ایندھن کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ پٹرولیم لیوی کا وفاقی ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کر کے پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کا تزویراتی عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس کا حتمی بوجھ ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے روزمرہ کی ہر کھانے پینے والی شے پر پڑے گا ۔    حکومت کے ان جارحانہ ٹیکسیشن اقدامات نے تاجر برادری اور سیاسی حلقوں میں شدید مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ ستمبر 2023 میں جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی جانب سے کی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک کو یومیہ تقریباً 10 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اصل احتجاج بجلی کے بلوں میں غیر متناسب اضافے اور آئی پی پیز کو دی جانے والی بھاری گنجائش کی ادائیگیوں کے خلاف تھا ۔ اسی طرح جولائی 2025 میں کراچی چیمبر آف کامرس نے فنانس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو حاصل ہونے والے گرفتاری کے اختیارات اور نقد لین دین پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ۔ سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی کے راولپنڈی دھرنے (جولائی 2024) نے حکومت کو دباؤ میں لا کر آئی پی پیز کے آڈٹ کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کا معاہدہ کروایا، لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث جنوری 2025 میں ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کی لہر شروع ہوئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ عوام اور حکومت کے مابین معاشی معاہدے کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔    لیکن یہاں ایک انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے کہ ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور معاشی لاچارگی کے باوجود کینیا یا سری لنکا کی طرح پاکستان میں کوئی بڑا عوامی سیلاب سڑکوں پر کیوں نہیں آیا؟ احتجاج کی سیاسیات کے ماہرین اس کی متبادل اور گہری وجوہات بتاتے ہیں۔ پہلا عنصر مادی وسائل کی شدید قلت ہے، احتجاج منظم کرنے اور سڑکوں پر نکلنے کیلئے وقت، پیسہ اور باہمی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے سسکتے ہوئے غریب خاندانوں کے پاس بالکل نہیں ہے، کیونکہ ان کیلئے ایک دن کام چھوڑنے کا مطلب رات کا فاقہ ہے ۔ دوسرا بڑا عنصر پرامن مظاہرین کے خلاف ریاست کا غیر معمولی جبر، لاٹھی چارج اور بلاجواز گرفتاریوں کا خوف ہے، جس کی وجہ سے احتجاج کی ذاتی لاگت ایک عام آدمی کیلئے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے ۔ اس مایوسی کو سیاسی جماعتوں اور آزاد مزدور تنظیموں کی مکمل لاتعلقی اور آپس کی سیاسی و عدالتی کشمکش نے مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی قائدین عام آدمی کے معاشی وجود کی جنگ لڑنے کے بجائے صرف اقتدار کے جوڑ توڑ میں مگن ہیں ۔ اس سیاسی بیگانگی نے عوام کے اندر ایک گہرا نفسیاتی جمود اور مایوسی پیدا کر دی ہے، جس کے تحت وہ اجتماعی مزاحمت کو بے سود سمجھتے ہوئے انفرادی بقا کی تگ و دو یا پھر خاموش ہجرت کا راستہ چن رہے ہیں ۔    اس گھمبیر معاشی اور سماجی جمود کو توڑنے کیلئے اب پاکستان کو روایتی لیت و لعل سے ہٹ کر انقلابی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم پیکڈ ڈیری مصنوعات پر عائد 18 فیصد کا سفاکانہ سیلز ٹیکس واپس لے کر اسے 5 فیصد کی رعایتی شرح پر لانا ہے، تاکہ دیہی معیشت کا تحفظ اور بچوں کی غذائی ضرورت کو سستی اور محفوظ قیمت پر پورا کیا جا سکے ۔ بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد کا اضافی انکم ٹیکس سرچارج اور سولر پینلز پر عائد 18 فیصد کا ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ انسانی سرمائے کے برین ڈرین کو روکا جا سکے اور متبادل توانائی کا فروغ ہو سکے ۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے رئیل اسٹیٹ اور بااثر زرعی زمینداروں کو حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ۔ تاجروں کو ہراساں کرنے والے ایف بی آر کے گرفتاری کے تعزیری قوانین کو واپس لیتے ہوئے چھوٹے خوردہ فروشوں کیلئے بجلی کے بلوں کے ذریعے 10,000 روپے ماہانہ کا فلیٹ اور آسان فکسڈ ٹیکس نظام رائج کیا جائے، جو معیشت کو دستاویزی بنانے کا سب سے عملی اور پرامن طریقہ ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر، آئی پی پیز کو دی جانے والی گنجائش کی ادائیگیوں کا کڑا آڈٹ کر کے بجلی کے بنیادی ٹیرف کو سستا کیا جائے، کیونکہ اس تزویراتی معاشی سرجری کے بغیر ملکی صنعتی پیداوار کی بحالی اور روپے کی قدر کو سہارا دینا محض ایک خام خیالی ہی رہے گا ۔   

پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی

ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 مزید پڑھیں

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عام شہری اور سرمایہ کار مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک پھیلی یہ بدامنی محض مقامی نوعیت کی نہیں رہی بلکہ اس نے ملک کے دفاعی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے مابین سیکیورٹی کے معاملات پر پائی جانے والی سرد جنگ، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سرحد پار سے جدید ترین اسلحہ کی منتقلی اور مقامی سطح پر قبائلی و عوامی حلقوں میں عسکری آپریشنز کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اس بحران کی وہ بنیادی کڑیاں ہیں جن کو سمجھے بغیر پائیدار امن کا خواب نامکمل معلوم ہوتا ہے۔ اس سنگین بحران کا بنیادی مرکز قبائلی اضلاع ہیں جو اب مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی دوبارہ منظم ہونے کی سرگرمیوں کا محور بن چکے ہیں ۔ خطے کے معروضی حالات اور انٹیلی جنس معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں متعدد خطرناک تنظیموں کی فعال موجودگی کے پختہ امکانات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا اور منظم نیٹ ورک تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا ہے ۔ یہ گروپ پاکستان کے وجود کو غیر آئینی قرار دے کر فاٹا انضمام کے خاتمے، قبائلی علاقوں سے ریاستی افواج کے انخلا اور اپنے سخت نظریات کے نفاذ کیلئے برسرِپیکار ہے ۔ عسکریت پسندوں کا یہ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہے، جہاں سے یہ مالی وسائل حاصل کرنے کیلئے ٹرانزٹ ٹیکس, اغوا برائے تاوان، لکڑی کی غیر قانونی تجارت، معدنیات کی اسمگلنگ اور مدارس سے عطیات کا استعمال کرتا ہے ۔ اسی خطے میں حافظ گل بہادر گروپ بھی ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر سرگرم ہے، جو بنیادی طور پر شمالی وزیرستان اور بنوں کے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کیلئے بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش دھماکوں اور راکٹ حملوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے ۔ دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد اس گروپ کا نام اتحادالمجاہدین پاکستان بن گیا، دولتِ اسلامیہ خراسان (ISKP) نامی شدت پسند تنظیم خلافت کے عالمی ایجنڈے کے تحت باجوڑ، پشاور اور کرم ایجنسی جیسے اضلاع میں فعال ہے ۔ یہ تنظیم زیادہ تر شہری مراکز میں بم دھماکوں، سیاسی و مذہبی جلسوں پر خودکش حملوں اور مذہبی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس خطے میں اسود الخراسان اور الحمید خودکش فورس جیسے چھوٹے اور انتہائی متشدد عسکری دھڑے بھی سیکیورٹی فورسز کیلئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔    ان حالات میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی عسکری کارروائی مئی 2026 میں شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کی گئی جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں دو اہم عسکری کمانڈروں سمیت درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کرنے کیلئے دروزاندہ میں واقع علم خیل مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا ۔ دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئرکے انتظامی مرکز وانا میں قبائلی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی آبادی اور ریاست کے مابین رابطے کا نظام مفلوج ہو جائے ۔ اس کی حالیہ ہولناک مثال 18 مئی 2026 کو وانا کے مصروف ترین رستم بازار میں دیکھنے میں آئی جہاں گلشن پلازہ اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب احمد زئی وزیر قبیلے کے معتبر سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔ اس طاقتور دھماکے میں ملک طارق وزیر کے علاوہ ان کے قریبی قبائلی ساتھی ملک سرفراز اور غلام رسول یار گل خیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ۔ قبائلی عمائدین کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2004 سے اب تک تقریباً ڈھائی سے تین ہزار بااثر قبائلی عمائدین کو عسکریت پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث روایتی قبائلی نظامِ مصالحت اور مقامی قیادت کا ڈھانچہ بری طرح پامال ہو چکا ہے ۔    یہ لہر اب وزیرستان کے جغرافیائی دائرے سے نکل کر باجوڑ اور لکی مروت جیسے دیگر اہم اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جہاں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جنوری 2024 میں باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس کی گاڑی پر ایک آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور 27 افراد زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی ۔ ستمبر 2024 میں باجوڑ میں ہی کانسٹیبل لقمان کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی فورسز میں اس قدر غم و غصہ پیدا کیا کہ پولیس اہلکاروں نے باجوڑ میں پولیو ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ۔ اسی طرح کی دہشت گردی کا ایک اور ہولناک منظر 12 مئی 2026 کو لکی مروت کے تحصیل سرائے نورنگ بازار میں پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری لوڈر رکشہ کے ذریعے کاروباری مرکز کو اڑا دیا ۔ اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں، عادل جان اور راحت اللہ، اور ایک معصوم خاتون سمیت نو افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 33 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ۔ اگرچہ اس دھماکے کی فوری طور پر کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن یہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب شہری علاقوں اور بازاروں میں گھس کر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں ۔    سیکیورٹی کی اس دگرگوں صورتحال اور عسکریت پسند دھڑوں کے مابین بقا اور وسائل کی اندرونی جنگ کی ایک ہولناک اور تازہ ترین مثال حال ہی میں، یعنی 20 مئی 2026 کو وسطی کرم کے علاقے مناتو کامران کلے میں دیکھنے میں آئی ہے، جو تھانہ چینارک کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے دو انتہائی متشدد حریف دھڑوں، یعنی کمانڈر احمد کاظم کے (کاظم گروپ) اور کمانڈر ممتاز امتی کے (ممتاز امتی گروپ) کے مابین بھتے اور غیر قانونی ٹیکس (قلنگ) کی وصولی اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے تنازعے پر ایک ہولناک اور خونریز مسلح تصادم ہوا۔ اس تصادم میں دونوں جانب سے راکٹوں اور مارٹروں سمیت بھاری اور خودکار جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ممتاز امتی گروپ کے عسکری کمانڈر ممتاز امتی سمیت مجموعی طور پر 18یا 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی اور پولیس حکام کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 18 عسکریت پسندوں کا تعلق براہِ راست ممتاز امتی گروپ سے تھا (جبکہ اس گروپ کے مزید 3 جنگجو تاحال لاپتہ ہیں)، اور مخالف کاظم گروپ کا بھی ایک اہم جنگجو اس لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اگرچہ تصادم کے فوراً بعد مقامی قبائل نے کشیدہ حالات میں لاشوں کو اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا، لیکن اس واقعے نے پورے ضلع کرم میں شدید خوف اور انتہائی سنسنی خیز تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔ مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس خونریز تصادم کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر مفرور اور زخمی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کر دیا، تاہم اس واقعے کے مستقبل پر دور رس اور تشویشناک اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، یہ تصادم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ مسلح عسکریت پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی جدوجہد کیلئے نہیں، بلکہ خالصتاً مال و دولت، بھتہ خوری، اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس جنگ کے بعد کرم میں عسکریت پسندوں کی آپسمیں گینگ وار مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہے، جس سے ایک طرف تو ان کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہوگا، لیکن دوسری طرف پہلے سے ہی زمین کے دیرینہ تنازعات اور شدید فرقہ وارانہ حساسیت کے شکار ضلع کرم میں امن و امان کا نازک توازن بگڑنے اور بالخصوص ٹل پاراچنار ہائی وے جیسے کلیدی تجارتی راستوں پر نقل و حمل معطل ہونے کا سنگین اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ ریاستی رٹ کیلئے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور میں عسکریت پسندوں کی پوشیدہ نقل و حرکت اور حیات آباد جیسے حساس اور متمول علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے شہر کی سماجی اور کاروباری زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آنے والی حالیہ تاریخی مندی کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سے پہلی غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا وہ حکومتی فیصلہ ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا، پشاور اور بالخصوص بورڈ بازار میں جعلی دستاویزات پر جائیدادیں خریدنے والے تقریباً 12 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں نے عجلت میں انتہائی کم داموں پر اپنی جائیدادیں اور کاروبار فروخت کرنا شروع کر دئے ۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور جائیدادوں کی بھرمار کے باعث پشاور کے پوش علاقے حیات آباد مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے ۔ دوسری جانب پشاور کا تجارتی طبقہ اس وقت پارہ چنار سے لے کر سرحد پار افغانستان تک پھیلے عسکریت پسند بھتہ خوروں کے نشانے پر ہے ۔ انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (IAP) کے مطابق، سرمایہ کاروں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں اور 20 ملین روپے تک کے بھتے کے مطالبے موصول ہو رہے ہیں ۔ حیات آباد میں صنعتکاروں کے گھر وں اور سابق صوبائی وزیر حاجی جاوید کی رہائش گاہ پر بھتہ نہ دینے کی پاداش میں دستی بم حملوں نے پورے بزنس کمیونٹی کو خوف زدہ کر دیا ہے ۔ سیکیورٹی کی اس غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تیزی سے پشاور سے اپنے کاروبار بند کر کے پنجاب، کراچی یا پھر دبئی اور ملائشیا جیسے محفوظ اور ٹیکس فری مقامات پر منتقل کر رہے ہیں ۔ پشاور میں سرمایہ کاری کے کم ہوتے امکانات اور سیکیورٹی خدشات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنے قونصلیٹ جنرل کو بند کردیا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا ریاستی عزم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت اور پالیسیوں کے تضاد کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ وفاق کی جانب سے جب بھی کوئی نیا سیکیورٹی فریم ورک بالخصوص آپریشن عزمِ استحکام کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے ۔ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لئے بغیر بند کمروں میں فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے بڑے فوجی آپریشنز جیسے ضربِ عضب یا راہِ راست نے صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی پیدا کی، جیسا کہ باجوڑ میں 2008 کے آپریشن شیردل کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ۔ حالیہ دور میں بھی جولائی 2025 میں باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں شروع کئے جانے والے آپریشن سر بکف کے بعد 55 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وادی تیراہ میں آپریشن کی افواہوں پر تقریباً 70 ہزار افراد کو سردی کے موسم میں بے گھر ہونا پڑا ۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل، تحصیل سپین وام اور شیواہ میں بھی مسلح تنظیموں کے خلاف کارروئیوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہورہے ہیں۔ بنوں کے حالات بھی وزیرستان سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزراء صوبائی حکومت پر عسکریت پسندوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے اور تزویراتی سستی کا الزام عائد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مابین وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔    ماہرین کا ماننا ہے کہ آج خیبر پختونخوا جس عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی بنیادیں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت میں لئے گئے متنازع فیصلوں میں ملتی ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، جذبہ خیر سگالی کے نام پر ٹی ٹی پی کے ایک سو سے زائد انتہائی مطلوب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جو بڑی مشکل اور فورسز نے جانوں کا نظرانہ پیش کرکے گرفتار لئے گئے تھے، اسی کمزور فیصلے کے تحت، افغانستان میں موجود تقریباً چھ ہزار مسلح جنگجوؤں کو ان کے خاندانوں سمیت قبائلی علاقوں میں واپسی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے یا پرامن شہری بننے کے بجائے ان علاقوں میں دوبارہ اپنے نیٹ ورکس منظم کر لئے، جس کا سنگین خمیازہ آج سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں اگست 2021 کو رونما ہونے والی تبدیلی نے جہاں پاک افغان تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے، وہیں پاکستانی عسکریت پسندوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور وہاں سے آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کر دیا ۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی افواج کے جلدی میں انخلا کے باعث تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار بلیک مارکیٹ اور عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے ۔ اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروپ پاکستان کے خلاف ایم-4 اور ایم-16 خودکار رائفلیں, ایم-249 لائٹ مشین گنز، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور سب سے بڑھ کر جدید تھرمل اور نائٹ ویژن آلات استعمال کر رہے ہیں، جن کی بدولت عسکریت پسندوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے ۔ اسی دوران پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ افغان طالبان اور مقامی سرحدی قبائل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ باڑ زمین کو نہیں بلکہ ان کے دلوں کو تقسیم کرتی ہے ۔ کئی مقامات پر باڑ کاٹے جانے کے باعث کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک کھلی سرحدی جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جس میں پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے اسے آپریشن غضب الحق کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے بھی شدید شیلنگ کی گئی ۔    بدامنی کی اس خوفناک تصویر کے خلاف اب مقامی سطح پر غیر معمولی عوامی ردعمل اور ریاستی پالیسیوں پر بے اعتمادی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ مئی 2026 میں بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس فورس اور مقامی تاجروں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں بنوں کے شہریوں اور تاجروں نے کسی بھی پارٹی کے جھنڈے کے بغیر صرف سفید امن جھنڈے اٹھا کر تاریخی بنوں امن مارچ منعقد کیا تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے فوراً بعد ستمبر 2024 میں لکی مروت میں تایا چوک پر پولیس اہلکاروں نے پاکستان کی تاریخ کا انوکھا احتجاج شروع کیا اور کراچی پشاور انڈس ہائی وے کو بلاک کر کے فوج کے انخلا اور پولیس کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا، جس پر مروت قومی جرگہ کی ثالثی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام عسکری آپریشنز کی قیادت مقامی پولیس کے ہاتھ میں ہوگی ۔ ماضی میں عسکریت پسندی کے خلاف قبائلی سطح پر تشکیل دئے گئے رضاکارانہ دفاعی نظام جیسے شمالی وزیرستان کے عیدک کا (عیدک قبائل کا امن لشکر) اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان لشکروں کے عمائدین کی پے در پے ٹارگٹ کلنگ نے اس روایتی اور مقامی دفاعی نظام کو بھی تقریباً ختم کر دیا ہے ۔    ان تمام منفی اور خونریز حالات کے درمیان سرحد کے دونوں اطراف آباد عام قبائلی عوام نے امن قائم کرنے کیلئے تاریخ ساز کوششیں شروع کی ہیں ۔ مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے اضلاع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی رہنماؤں اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین کے مابین نوا پاس بارڈر کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا ۔ باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لال شاہ پختون یار اور افغان وفد کے سربراہ ظاہر گل کی مشترکہ قیادت میں طے پانے والے اس پانچ نکاتی امن معاہدے کے تحت دونوں اطراف کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح قبائل ایک دوسرے پر فائرنگ سے مکمل گریز کریں گے اور کسی بھی سرحدی تنازعے کو جنگ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا ۔ اس معاہدے کے تحت بند تجارتی راستے کھولنے اور ہر تین ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو کہ چترال اور افغانستان کے صوبہ نورستان کے مابین وسطِ اپریل 2026 میں ہونے والے سڑکوں کی بحالی کے کامیاب معاہدے کے بعد ایک بڑی مقامی کامیابی ہے ۔ یہ مقامی معاہدات ثابت کرتے ہیں کہ گراس روٹ لیول پر عوام جنگ اور سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اپنی اناؤں کو پسِ پشت ڈال کر مقامی لوگوں کے ان مصالحتی اقدامات کو تسلیم کریں، مقامی پولیس کو بااختیار بنائیں اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک منظم، قومی اور جامع سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن اور اقتصادی استحکام کا وہ حق مل سکے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں۔   حال ہی میں چارسدہ کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث شیخ ادریس کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے کو سوگوار کیا ہے، بلکہ یہ اس سنگین خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ہمارا ملک ایک نئے اور پیچیدہ سیکیورٹی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط، ٹھوس اور فیصلہ کن حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو ریاست کا یہ حصہ ایک ایسی ہولناک دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا آنے والی نسلوں کیلئے ایک ناممکن خواب بن کر رہ جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ورنہ اس غفلت کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں حائل رکاوٹوں نے صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ گزشتہ مزید پڑھیں