خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد سے، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری دھڑوں کی کارروائیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس نے صوبے کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد جو 2021 میں محض 282 تھی، غیر معمولی رفتار سے بڑھتی ہوئی 2024 میں 1,758 سالانہ تک جا پہنچی ہے ۔ یہ خوفناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے نہ صرف جدید ترین امریکی ساختہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات تک رسائی حاصل کر لی ہے، بلکہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس عسکری پھیلاؤ کے نتیجے میں صوبے میں سیکیورٹی فورسز شدید دباؤ کا شکار ہیں، ریاستی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور شہری حقوق و عوامی جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔    صوبائی سیکیورٹی کے اس مجموعی بگاڑ اور ریاستی عملداری کے زوال کا سب سے تشویشناک مظہر صوبے کے جنوبی اضلاع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کبھی عسکریت پسندی سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں عسکریت پسندی کا نیا گڑھ قائم ہو چکا ہے جس نے پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ضلع کرک میں، جو کبھی پرامن سمجھا جاتا تھا، اب ایک اہم میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پہلی بار شدت پسند تنظیموں نے اس ضلع تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے سرکاری عملداری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی پولیس کو تھانوں اور قلعہ نما چوکیوں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ کرک میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بمباری کی گئی، اور جب زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسیں روانہ ہوئیں تو عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، لاشوں کو نذرِ آتش کیا اور گاڑیوں کو پھونک دیا ۔ اس منظم عسکری اجارہ داری نے پولیس فورس کی دن ڈھلنے کے بعد نقل و حرکت کو صفر کر دیا ہے اور مضافاتی و دیہی پٹی پر عسکریت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکمرانی قائم ہو چکی ہے ۔    کرک کی اس ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی اور عسکریت پسندوں کا گہرا نفوذ نمایاں ہے۔ ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے پولیس کا وہ حشر نشر کر دیا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لکی مروت میں پولیس اسٹیشنوں پر مسلسل ہونے والے راکٹ اور دستی بموں کے حملوں، اور سڑک کنارے نصب بارودی سرنگوں کے ذریعے پولیس افسران کی ہلاکتوں نے فورس کے حوصلے پست کر دئے ہیں ۔ ستمبر 2024 میں، عاجز آ کر لکی مروت کے پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑیں اور تاجہ زئی کے مقام پر انڈس ہائی وے بلاک کر کے تاریخی دھرنا دیا ۔ ان مظاہرین کا کھلا مطالبہ تھا کہ اگر سیکیورٹی فورس کو جدید ہتھیار اور جنگی اختیارات دئے جائیں تو وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی حکام انہیں بے یار و مددگار چھوڑ چکے ہیں ۔ اسی طرح ضلع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عسکریت پسندوں نے نہ صرف سرکاری عملداری کو شدید متاثر کیا ہے، بلکہ یہاں کے عوام کا جینا بھی محال ہو گیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں روزانہ کی بنیاد پر بینک کی کیش گاڑیوں کی لوٹ مار، تاجروں کا اغوا برائے تاوان اور بنوں میں مئی 2026 میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کئے گئے خودکش دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا جنوبی ریجن عسکریت پسندوں کے چنگل میں آ چکا ہے ۔    جنوبی اضلاع کی اس سیکیورٹی دلدل کا موازنہ اگر قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کا خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق اس تزویراتی وعدے کے باوجود ناکام رہا کہ اس سے یہاں کی محرومیوں کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی خوشحالی آئے گی اور امن کا بول بالا ہوگا ۔ انضمام کے آٹھ سال بعد بھی ریاستی دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ نہ تو ان قبائلی اضلاع کی تاریخی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس یہ خطہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید بدامنی کا شکار ہو چکا ہے ۔ ریاستی ڈھانچے کی منتقلی اتنی ناقص اور عجلت پسندانہ تھی کہ نوآبادیاتی دور کے قانون (FCR) کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور انتظامی خلا کو پورا نہیں کیا جا سکا ۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کا سب سے ہولناک سماجی اثر یہ نکلا ہے کہ کوئی بھی طاقت اور مالی حیثیت رکھنے والا قبائلی شخص عسکریت پسندوں کے ڈر اور معاشی زوال کی وجہ سے قبائلی اضلاع سے نکل کر پشاور ، اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس، جس غریب شخص کے پاس ہجرت کرنے کی طاقت اور وسائل نہ ہوں، وہ ان جنگ زدہ اضلاع میں عملاً یرغمال بنے اپنے تلخ ترین دن گزارنے پر مجبور ہے ۔    قبائلی اضلاع کے اس سماجی و سیکیورٹی خلا کے معاشی اثرات پورے صوبے کی کاروباری برادری اور عام شہریوں پر بھی بھتہ خوری کی شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سب سے سنگین مالی مظہر بھتہ خوری (Bhatta) کا وہ منظم جال ہے جس نے اب باقاعدہ ایک متوازی متحرک ٹیکسیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور عسکریت پسندوں کی بقا و فنانسنگ کا ایک بڑا حصہ اسی بھتے سے حاصل ہوتا ہے ۔ صوبے میں بھتہ خوری اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکریت پسند گروہ اب نہ صرف بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو واٹس ایپ کالز اور ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈز پر دھمکیاں دے کر لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں بلکہ انتہائی غریب طبقہ بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں ہے ۔ حالت یہ ہے کہ سڑک کنارے ریڑھیاں لگانے والے غریب ریڑھی فروش بھی شدت پسند تنظیموں کو باقاعدہ بھتے کی وصولی کر کے ہی پیاز، آلو اور ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں ۔ انکار کی صورت میں ان کی ریڑھیوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کرنا اس معاشی المئے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس کا بنیادی مقصد 140,000 سے زائد غریب دکانداروں کو اس منظم بھتہ خور مافیا کے چنگل سے بچانا ہے ۔    مذکورہ معاشی نچوڑ کی جڑیں عسکریت پسندی کی مالیاتی فنڈنگ کے منظم نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے ان فنڈنگ نیٹ ورکس کے بنیادی اہداف میں بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار شامل ہیں جنہیں واٹس ایپ پیغامات، غیر ملکی نمبرز اور براہ راست اغوا برائے تاوان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ ان کی اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ کابل، خوست اور لغمان میں بنے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، عسکریت پسند سرکاری اور نجی ٹھیکیداروں سے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر 5% سے 15% تک جبری ٹیکسیشن کی شکل میں بھتہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبے اور سی پیک فیز 2.0 کے کام معطل ہو رہے ہیں ۔ اس کام کو منظم کرنے میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عسکری کمانڈرز براہِ راست ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ، شدت پسندوں کو چرس اور افیون کی فصلوں پر 20% سے 30% تک کا براہ راست شیئر دے کر منشیات کے ڈیلرز اور اسمگلر بھی بھتہ دیتے ہیں، جس سے غیر قانونی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور یہ کالا دھن عسکریت پسندی کی فنڈنگ کے کام آتا ہے ۔ اس غیر قانونی منشیات ٹیکسیشن کو تحریک طالبان پاکستان اور وادی تیراہ میں متحرک لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، انتہائی نچلے درجے پر غریب ریڑھی فروشوں اور دکانداروں سے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر مائیکرو بھتہ خوری کی جاتی ہے جہاں مقامی فعال عسکری سیل اور غنڈہ مافیا کا گٹھ جوڑ غریب خاندانوں کا معاشی استحصال کرتا ہے ۔    ریاستی سطح پر ان معاشی اور مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دہائیوں پر محیط بدامنی کو ختم کرنے کے نام پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک متعدد عسکری آپریشنز (مثلاً سوات آپریشن، ضربِ عضب، رد الفساد اور حالیہ آپریشن عزم استحکام) کئے جا چکے ہیں، لیکن یہاں مستقل امن کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس ناکامی کے برعکس، حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے متعدد نیٹ ورکس بنا کر یہاں ترقی، بحالی اور خوشحالی کے ایسے قصیدے گھڑے ہیں جو تھکنے کا نام نہیں لیتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے ۔ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں وہی پرانی محرومی، وہی خوفناک بدامنی، بلکہ اب تو یہ کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کی موجودہ لہر 2014 سے قبل کی بدامنی سے بھی زیادہ ہولناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تضاد کو چھپانے کے لئے ریاستی سطح پر ایک غیر اعلانیہ سنسرشپ لاگو ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قومی میڈیا پر بھی خیبر پختونخوا کی اس ابتر بدامنی، روزانہ کی ہلاکتوں، اور قبائلی اضلاع کی گہری سیکیورٹی و سماجی محرومی کو بالکل رپورٹ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہاں کا عام شہری خود کو ملک سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔    اس میڈیا بلیک آؤٹ کے پسِ پردہ عسکریت پسندوں کا تنظیمی ڈھانچہ جس تیزی سے مضبوط ہوا ہے، وہ ایک تزویراتی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2014 میں شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسندوں کا جو تنظیمی نیٹ ورک عارضی طور پر توڑ دیا گیا تھا، عسکری منصوبہ بندی میں تزویراتی خامیوں کے باعث وہ نیٹ ورک اب نہ صرف دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے ۔ اس نیٹ ورک کے جڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسند بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کی کابل آمد کے بعد، ان جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں، جہاں سے انہوں نے سرحد پار نقل و حرکت تیز کی اور جدید امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اور جنوبی اضلاع میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ سے بحال اور فعال کر دیا ۔    عسکریت پسندوں کی اس دوبارہ تنظیمِ نو میں ان کی تنظیمی مضبوطی اور نت نئے تزویراتی اتحادوں کا کلیدی کردار ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے کئی منتشر اور الگ ہو جانے والے دھڑوں کو دوبارہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مرکزی ڈھانچے میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود بکھری ہوئی شدت پسند تنظیموں اور دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا غیر معمولی ماہر مانا جاتا ہے، جس نے سخت نظم و ضبط قائم کر کے عسکریت پسندوں کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط کیا ہے ۔ اس عسکری ارتقاء کا سب سے خطرناک پہلو شمالی وزیرستان کے روایتی حافظ گل بہادر گروپ (HGBG) کا دن بہ دن مضبوط ہونا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے لئے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔ اب اس گروپ نے اپنا باقاعدہ تنظیمی نام بدل کر اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) رکھ لیا ہے اور اس مہلک عسکری اتحاد میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ، لشکرِ اسلام گروپ اور حرکت الانقلابِ اسلامی پاکستان جیسے دھڑے شامل ہو چکے ہیں ۔    شدت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کی تفصیلی اندرونی دھڑے بندیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عزائم اور اثرات واضح ہوتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مفتی نور ولی محسود کی کلیدی قیادت میں تقریباً 80 سے زائد چھوٹے مقامی عسکری سیلز (ڈالگئی) کے اتحاد کی شکل میں متحرک ہے ۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر جنوبی و مغربی اضلاع، سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور منظم گوریلا حملوں، سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتی ہے ۔ دوسری جانب، اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کا نیا اتحاد حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور حرکت الانقلابِ اسلامی کی شراکت داری سے شمالی وزیرستان، بنوں، خیبر اور وادی تیراہ میں فعال ہے ۔ یہ گروہ فوجی چھاؤنیوں پر بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش حملوں اور نائٹ ویژن اسنائپنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والا متشدد گروپ ٹی ٹی پی جماعت الاحرار (JuA) پشاور، مہمند، باجوڑ اور نوشہرہ پٹی پر سرگرم ہے، جو اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق رکھتا ہے مگر آزاد فیلڈ آپریشنز کے تحت شہری علاقوں میں دستی بموں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگز کرتا ہے، جس کے باعث عام شہری روز بہ روز شدید غیر یقینی اور خوف و ہراس کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔    اس مسلسل اور منظم بدامنی کے براہِ راست اور مہلک معاشی اثرات صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ (HIE)، جو کبھی صوبے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھی، اب عملاً کھنڈر بننے جا رہی ہے کیونکہ وہاں درجنوں صنعتیں اور فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ۔ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے اس صنعتی بندش کی دو بڑی اور بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ بدامنی اور بھتہ خوری ہے جس کے تحت حیات آباد کے فیکٹری مالکان کو عسکریت پسندوں کی جانب سے واٹس ایپ پر کروڑوں روپے کے بھتے کے پیغامات مل رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کے گھروں اور فیکٹریوں کو دستی بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے سینکڑوں مینوفیکچررز اپنا تمام سرمایہ لے کر بیرونِ ملک یا پنجاب منتقل ہو چکے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ بجلی کے ناقابلِ برداشت بلز اور گیس کنکشنز پر پابندی ہے، جس کی وجہ سے اب کارخانہ دار فیکٹریاں چلانے کی مالی سکت ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزانہ کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کے تحت 55 فیصد اور سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے زیرِ انتظام 64 فیصد کارخانے اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔    خیبر پختونخوا کے بگڑتے ہوئے سلامتی کے حالات کا براہِ راست تعلق پاکستان اور افغان امارتِ اسلامی کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سرحدی تنازعات سے ہے ۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان بھڑک اٹھنے والی باقاعدہ سرحدی جنگ، جس میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل تھے، نے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بدترین نہج پر پہنچا دیا ہے ۔ چین، جس نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان حملوں اور سیکیورٹی بحران سے شدید تشویش کا شکار ہے ۔ اس جیو پولیٹیکل تعطل میں سب سے تشویشناک تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب امارتِ اسلامی افغانستان نے چین کو ایک اہم اجلاس میں مطلع کیا کہ کابل کی یہ کوشش ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت اور ان کے تمام عسکری دھڑوں کو زبردستی افغان سرزمین سے نکال کر واپس پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیل دے رہے ہیں ۔ افغان طالبان یہ اقدام اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لگنے والے عالمی الزامات اور سفارتی بلیک میلنگ کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے ۔ اس تزویراتی فیصلے کے تحت، سنکیانگ کے ایغور علیحدگی پسندوں کا مہلک گروہ ای ٹی آئی ایم یا رکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) بھی مجبوراً افغانستان سے نکل کر پاکستان کے قبائلی اضلاع کا رخ کرے گا ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کی قبائلی اضلاع کی طرف یہ زبردستی منتقلی خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے والی ہے جہاں سے نکلنا شاید ریاست کے بس میں نہ رہے، اور یہ خدشہ روز بہ روز حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ امن و امان کی یہ بدترین صورتحال ناقابلِ تلافی حد تک مزید خراب ہو جائے گی ۔

خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ

خصوصی رپورٹ : ناصر داوڑ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر مزید پڑھیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی گرینڈ جرگے میں مکمل جنگ بندی اور مستقبل میں پائیدار تعاون کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم بیٹھک سرحدی مقام نوا پاس پر منعقد ہوئی، جو تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس جرگے میں دونوں اطراف کے تقریباً 30 بااثر قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور باقاعدہ طور پر امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط کئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حاجی لالی شاہ (صدر باجوڑ چیمبر آف کامرس) نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی صوبہ کنڑ کے حاجی ظاہر گل نے کی۔ اس جرگے کو مہمند اور دیگر قریبی سرحدی علاقوں کے قبائل کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی، جو طویل عرصے سے سرحد پر ہونے والی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس دوستانہ جرگے میں ایک جامع امن فارمولے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سرحد کے دونوں جانب سے ہر قسم کی فائرنگ، گولہ باری اور دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق، مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال یا غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو دونوں اطراف کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔ جرگے نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ امن کی بدولت نوا پاس اور دیگر روایتی تجارتی راستوں کو کھولا جانا چاہئے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔ دونوں اطراف کے عمائدین نے عزم کیا کہ وہ اپنی اپنی حدود میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں گے اور سرحدی پٹی پر آباد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ تجزیہ کار اس معاہدے کو اس لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ کسی حکومتی سطح کے بجائے خالصتاً قبائلی روایات اور پختونولی کے تحت عوامی سطح پر کیا گیا ہے۔ 2007 سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند نوا پاس کے راستے کے حوالے سے یہ جرگہ ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں پار بسنے والے قبائل ایک ہی سماج کا حصہ ہیں اور وہ مزید خونریزی یا معاشی بدحالی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس فیصلے سے نہ صرف باجوڑ اور کنڑ بلکہ پورے سرحدی بیلٹ میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے

پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے

پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی مزید پڑھیں

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ رپورٹ ان تعلقات میں آنے والی حالیہ خرابی، اس کے تاریخی اسباب، شدت پسند گروہوں کے کردار، سفارتی مذاکرات کی ناکامیوں اور مستقبل کے ممکنہ منظر نامے کا ایک ماہرانہ اور مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔ اس مخالفت کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کا تنازع تھا، جسے افغانستان نے ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ افغان قیادت کا موقف رہا ہے کہ 1893 میں برطانوی ہند اور افغان امیر کے درمیان کھینچی گئی یہ لکیر محض ایک عارضی انتظامی تقسیم تھی جس نے پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔    آزادی کے فوراً بعد افغانستان نے پاکستان کے اندر پشتونستان کی تحریک کی حمایت کی، جس کا مقصد پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کو الگ کر کے ایک آزاد ریاست قائم کرنا یا انہیں افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس نظریاتی اور علاقائی تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی دہائیوں میں ہی عدم اعتماد کی دیوار کھڑی کر دی، جو 1961 اور 1963 کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل منقطع ہونے پر منتج ہوئی ۔    تعلقات میں خرابی کے دوسرے بڑے مرحلے کا آغاز 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی اور لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندر کلاشنکوف کلچر، منشیات اور شدت پسندی کے ایسے بیج بوئے جنہوں نے بعد ازاں خود پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، تو طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک طرف افغان طالبان کو پناہ دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی ہے، جس سے ڈبل گیم کا تاثر ابھرا اور دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔    دورانیہ تعلقات کی نوعیت اہم تنازع / محرک 1947–1960 شدید تناؤ ڈیورنڈ لائن اور پشتونستان تحریک 1961–1963 سفارتی بائیکاٹ سرحدی جھڑپیں اور قونصل خانوں پر حملے 1979–1989 تزویراتی تعاون سوویت یونین کے خلاف جہاد اور مہاجرین کی آمد 1996–2001 قریبی تعلقات طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنا 2021 تا حال تزویراتی دشمنی ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پر باقاعدہ جنگ    طالبان اور پاکستان: تزویراتی گہرائی سے تزویراتی بوجھ تک یہ سوال کہ کیا یہ طالبان پہلے پاکستان کے تھے؟ تزویراتی حلقوں میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی تحریک کو افغانستان میں استحکام لانے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کے لئے سپورٹ کیا جو پاکستان کے مفادات کی نگران ہو اور بھارت کے اثر و رسوخ کو روک سکے ۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا ۔    تاہم، 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد یہ تزویراتی حساب کتاب مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی واپسی کو "غلامی کی زنجیریں توڑنے" سے تعبیر کیا تھا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ افغان طالبان اب اسلام آباد کے زیر اثر رہنے کے بجائے ایک آزاد قوت کے طور پر ابھرے ہیں ۔ سب سے بڑا بحران "تحریک طالبان پاکستان" (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر پیدا ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ان کے درمیان نظریاتی، قبائلی اور تنظیمی روابط اتنے مضبوط ہیں کہ افغان طالبان انہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔    پاکستان کی نظر میں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے پاکستان کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ تزویراتی گہرائی کا جو تصور پاکستان نے برسوں سے پال رکھا تھا، وہ اب ایک تزویراتی بوجھ بن چکا ہے کیونکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے ۔    عسکری تصادم اور فضائی کارروائیوں کے اہداف پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب پاکستان نے اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر براہ راست فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ عسکری مداخلت اس بات کا واضح اعلان تھی کہ پاکستان اب صبر کی پالیسی ترک کر چکا ہے ۔    مارچ 2024 اور دسمبر 2024 کی فضائی کارروائیاں 18 مارچ 2024 کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ ان کارروائیوں کا مقصد حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈروں اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے میں ملوث تھے ۔ دسمبر 2024 میں پاکستان نے ایک بار پھر پکتیکا کے ضلع برمل میں کارروائی کی، جہاں پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ۔    پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان نے کابل میں ایک ڈرامائی فضائی حملہ کیا جس کا بنیادی ہدف ٹی ٹی پی کا امیر نور ولی محسود تھا ۔ اگرچہ وہ اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا، لیکن کابل جیسے شہر کے اندر اس نوعیت کی کارروائی نے افغان طالبان کو شدید دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ۔    استاد قریشی: اکتوبر 2024 میں ایک سینیئر ٹی ٹی پی لیڈر استاد قریشی کو بھی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا ۔    امید کیمپ (Omid Camp) پر حملہ: 16 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں واقع ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ یہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا مرکز تھا جہاں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ یہ نیٹو کا سابقہ اڈہ تھا جسے ٹی ٹی پی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی تھی ۔    پاکستان نے ان گروہوں کو فتنہ الخوارج کا نام دیا ہے اور میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ انہیں اسی نام سے پکاریں، تاکہ ان کے مذہبی لبادے کو بے نقاب کیا جا سکے ۔    سفارتی مذاکرات کا سفر: دوحہ سے ارومچی تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم کو روکنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر متعدد سفارتی کوششیں کی گئیں۔ ان مذاکرات میں قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین نے کلیدی کردار ادا کیا، لیکن ہر بار کسی نہ کسی تعطل کی وجہ سے دیرپا امن قائم نہ ہو سکا۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات (اکتوبر-نومبر 2025) مذاکرات کے اس سلسلے کا آغاز قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہوا، جہاں 18 سے 19 اکتوبر 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ۔ اس کے بعد مذاکرات کا مرکز ترکی کا شہر استنبول بن گیا۔ استنبول میں مذاکرات کے تین دور ہوئے:    پہلا دور: 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، جس میں ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ثالثی کی ۔    تیسرا دور: 6 سے 7 نومبر 2025 کو ہوا ۔    شرکاء: افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب کر رہے تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے ۔    پاکستان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ ایک باقاعدہ فتویٰ جاری کریں جس میں پاکستان کے خلاف جنگ کو غیر اسلامی قرار دیا جائے ۔ افغان وفد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ فتویٰ جاری کرنا دارالافتاء کا کام ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ پر ایسا نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے افغان حکومت نے عدم کنٹرول کا عذر پیش کر کے مسترد کر دیا ۔    ریاض کانفرنس (دسمبر 2025) دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب نے ریاض میں مذاکرات کی میزبانی کی ۔ یہاں بھی فریقین نے جنگ بندی کی توسیع پر تو اتفاق کیا، لیکن ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے کوئی تحریری ضمانت نہ مل سکی ۔ پاکستان نے واضح کیا کہ محض خالی وعدوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمین پر ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے ۔    اپریل 2026 کو سب سے اہم مذاکرات چین کے شہر ارومچی (Urumqi)، سنکیانگ میں ہوئے ۔ یہ مذاکرات یکم اپریل سے 7 اپریل 2026 تک جاری رہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے دفاعی، خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی ۔ چین کی جانب سے خصوصی ایلچی اور سفارت کاروں نے ثالثی کے فرائض انجام دئے۔    اگرچہ چین نے اسے ایک تعمیری عمل قرار دیا اور فریقین نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا، لیکن بنیادی ڈیڈ لاک برقرار ہے ۔ پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ کابل کا اصرار ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور اسے افغان سرزمین سے جوڑنا غلط ہے ۔    شہر / مقام تاریخ ثالثی بنیادی نتیجہ / تعطل کی وجہ دوحہ 18–19 اکتوبر 2025 قطر، ترکی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ استنبول 25 اکتوبر – 7 نومبر 2025 ترکی، قطر فتویٰ کے مطالبے پر تعطل ریاض 4–6 دسمبر 2025 سعودی عرب جنگ بندی کی تجدید، تحریری ضمانت کا فقدان ارومچی 1–7 اپریل 2026 چین کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، بنیادی مطالبات پر ڈیڈ لاک    پاک افغان تعلقات میں خرابی کا سب سے براہ راست اثر سرحد پر ہونے والی تجارت پر پڑا ہے۔ اکتوبر 2025 سے پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر طورخم، چمن اور سپن بولدک جیسے اہم سرحدی راستوں کو کئی بار بند کیا ۔    افغان وزارت صنعت و تجارت کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2024 میں 2.46 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں گر کر 1.77 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی تقریباً 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی، جبکہ پاکستان سے درآمدات بھی 23 فیصد تک گر گئیں ۔ پاکستان کے لئے یہ بندش ماہانہ 2.5 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کے نقصان کا سبب بن رہی ہے ۔    تجارت میں اس تعطل کی وجہ سے افغانستان نے اپنا رخ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں ازبکستان اور قازقستان کی طرف کر لیا ہے ۔ 2025 میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغان تجارت 122 ملین ڈالر سے بڑھ کر 216 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت لاکھوں افغانوں کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔    پہلا مرحلہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا جس میں غیر دستاویزی افغانوں کو نکالا گیا ۔    دوسرا مرحلہ اپریل 2024 میں افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کو نشانہ بنایا گیا ۔    تیسرا مرحلہ اگست 2025 میں شروع ہوا جس کا ہدف 1.4 ملین پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز ہیں ۔    انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اس جبری انخلاء پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ واپس جانے والے افغانوں کو طالبان کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مستقبل میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی کی ایک مستقل وجہ بنا رہے گا، کیونکہ پاکستان اسے سکیورٹی کی ضرورت قرار دیتا ہے جبکہ کابل اسے نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی پامالی سمجھتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں سوشل میڈیا نے پٹرول کا کام کیا ہے۔ دونوں جانب سے پروپیگنڈا اور غلط معلومات (Misinformation) کی تشہیر نے عوامی سطح پر نفرتوں کو ہوا دی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے حامیوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم چلا رکھی ہے ۔    طالبان کے پروپیگنڈا سیل نے تاجکستان کے انٹیلی جنس چیف اور دیگر غیر ملکی عہدیداروں کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے تاکہ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان سفارتی تعلقات خراب کیے جا سکیں ۔    سوشل میڈیا پر پشتون اور بلوچ قوم پرستی کو ہوا دے کر پاکستانی شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔    اسلام آباد میں دھماکوں یا سیاسی بحران کے بارے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر اور جعلی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کیا جاتا ہے ۔    تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، شدت پسند گروہوں میں داعش خراسان (ISK) ڈیجیٹل میدان میں سب سے زیادہ نفیس اور خطرناک پروپیگنڈا کر رہی ہے، جو 12 سے زائد زبانوں میں مواد تیار کرتی ہے ۔ تاہم، افغان سرزمین سے ہونے والے سوشل میڈیا استعمال میں ٹی ٹی پی کے حامی اور طالبان کے ڈیجیٹل اثاثے زیادہ متحرک ہیں جو براہ راست پاکستان کی داخلی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی قوم پرست اور مخصوص سیاسی حلقے ان بیانیوں کو نادانستہ یا دانستہ طور پر آگے بڑھاتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان رابطے کے پل ٹوٹ رہے ہیں ۔    تعلقات میں خرابی کا ایک ابھرتا ہوا اور انتہائی خطرناک پہلو دریائے کنڑ (Kunar River) پر ڈیم کی تعمیر ہے ۔ افغانستان نے پاکستان سے مشاورت کے بغیر اس دریا پر ڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے، جو خیبر پختونخوا کے لئے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ پاکستان اسے آبی دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں زراعت اور بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔    تزویراتی لحاظ سے، پاکستان کے لئے یہ صورتحال تشویشناک ہے کہ بھارت نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے ۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بھارت کے لئے لانچنگ پیڈ بن جائے گا، جیسا کہ سابقہ دورِ حکومت میں تھا ۔    پاکستان کا سرکاری بیانیہ اب انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے کھلی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کابل نے دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند ہونا چاہئے ۔    دوسری طرف، طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر نہ ڈالے ۔ ان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور کابل کسی کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔ تزویراتی گہرائی کا پرانا خواب اب ایک ڈراؤنی حقیقت بن چکا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کشیدگی میں عارضی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن جب تک ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور ڈیورنڈ لائن کی شناخت جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، یہ خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مستقبل میں پاکستان کی پالیسی مزید جارحانہ دفاع (Aggressive Defense) کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جس میں فضائی حملے اور معاشی پابندیاں ایک معمول بن جائیں گی۔ دوسری طرف، افغانستان کا اپنی معیشت کو پاکستان سے الگ کر کے ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑنا پاکستان کے تزویراتی اثر و رسوخ کو مزید کم کر دے گا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان دونوں ممالک کے عام شہریوں، تاجروں اور ان لاکھوں مہاجرین کا ہو رہا ہے جو دو ریاستوں کے انا اور مفادات کی جنگ میں پس رہے ہیں۔

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ

دی خیبر ٹائمز کوصی تحریر: پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران مزید پڑھیں