A detailed news infographic by The Khyber Times about Indian protests. At the top, Urdu text reads: "India: Protests by Students and Farmers, Minister Resigns, 3 Demands Still Pending." The main image is a split-screen photo of massive protest rallies in New Delhi near India Gate. The left side features young people with signs that say "JNU PROTESTS," "STUDENT POWER," and "انقلاب زندہ باد" (Long Live the Revolution). The right side shows farmers in turbans and beards with signs reading "KISAN UNITY" and "JUSTICE FOR FARMERS." Overlaid Urdu text in the center and bottom says: "The struggle will continue until the 3 demands are met." The bottom section includes a summary in Urdu under the heading "Key Points" and three smaller image insets. The insets show a "Resignation is Not Victory" sign, a dejected former minister, and a banner that lists "REPEAL, RELEASE, JUSTICE" in English and Urdu.

ایوانوں کے قہقہوں سے حکمرانوں کے جھکنے تک: بھارت میں طلبہ و کسان تحریک کا وہ طوفان جس نے اقتدار کا غرور توڑ دیا

پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی سیاسی تاریخ میں بظاہر ایک محدود مسئلے سے شروع ہونے والی طلبہ اور کسانوں کی تحریک نے بالآخر وہ کام کر دکھایا جسے چند ماہ قبل تک ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔ سالوں سے کسانوں کے احتجاج اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے طلبہ کے صدائے احتجاج کو یکسر نظر انداز کرنے والی حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد اپنے ایک بااثر اور موجودہ وزیر کو عہدے سے ہٹانا پڑ گیا۔ لیکن اس بڑی پیشرفت کے باوجود تحریکی قیادت اور کاکروچ جنتا پارٹی سی جے پی (CJP) نے اسے حتمی فتح تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، کیونکہ ان کے بنیادی تین مطالبات اب بھی غیر حل شدہ اور التوا کا شکار ہیں۔
اس تحریک کا آغاز اگر دیکھا جائے تو حکمرانوں کے تعصب اور ہٹ دھرمی کی ایک بھیانک داستان ہے۔ جب نوجوان اور کسان اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلے تو ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں نے نہ صرف ان کا مذاق اڑایا بلکہ طنز و مزاح کے تیر چلا کر تحقیر کی تمام حدیں پار کر دیں۔ مظاہرین کو کیڑے مکوڑوں اور کاکروچ سے تشبیہہ دی گئی، سڑکوں پر ان پر بدترین ریاستی تشدد ڈھایا گیا، آنسو گیس کے شیل داغے گئے اور درجنوں بے گناہ نوجوانوں و کسانوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ لیکن تشدد کی اس تاریک رات میں جب چند سرفروشوں کی جانی قربانیاں سامنے آئیں تو خوف کے بجائے عوامی غیض و غضب کا ایک ایسا سیلاب امڈ آیا جس نے اقتدار کے فرعونوں کے پرخچے اڑا دئے اور آخر کار حکومت کو اپنے ایک وزیر کی قربانی دینے پر مجبور کر دیا۔
اس پوری جدوجہد کا سب سے عبرت ناک پہلو بھارتی مین اسٹریم (گودی) میڈیا کا شرمناک کردار رہا۔ جس وقت لاکھوں نوجوان سڑکوں پر اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے تھے، اس وقت دہلی کے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز اینکرز اس تحریک پر مکمل بلیک آؤٹ کئے ہوئے تھے یا اسے بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔ لیکن حکمران اور ان کا پالتو میڈیا یہ بھول گئے تھے کہ آج کا نوجوان روایتی میڈیا کا محتاج نہیں ہے۔ اسٹوڈنٹس نے اپنے موبائل فونز، انسٹاگرام، ایکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گلی محلوں کے تشدد کی ویڈیوز دنیا بھر میں وائرل ہوئیں اور عالمی سطح پر ایک ایسا دباؤ پیدا ہوا جس نے حکومت کے دفاعی حصار کو پاش پاش کر دیا۔
ایک وزیر کی برطرفی اگرچہ اسٹوڈنٹ پاور اور کسان اتحاد کے غلبے کا واضح ثبوت ہے، مگر تحریک کی قیادت کے نزدیک یہ محض پہلا قدم ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تین بنیادی مطالبات آئینی اور قانونی طور پر تسلیم نہیں کئے جاتے، سڑکوں پر قائم یہ مورچے کسی صورت خالی نہیں ہوں گے۔ ان التوا کا شکار مطالبات میں متنازع و ظالمانہ تعلیمی اور زرعی پالیسیوں کی کامل منسوخی، گرفتار شدہ تمام طلبہ و کسانوں پر درج جھوٹے مقدمات کا خاتمہ اور بلا مشروط رہائی، اور دورانِ تحریک جان کی بازی ہارنے والے مقتولین کے خاندانوں کیلئے انصاف اور مالی معاونت کا باضابطہ اعلان شامل ہے۔
بھارت میں ابھرنے والے اس طوفان نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی جبر یا میڈیا بلیک آؤٹ سے عوامی آواز کو عارضی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، لیکن جب سڑکوں پر موجود نوجوان اور کسان ایک ہو جائیں تو دنیا کی کوئی بھی جابر طاقت انہیں ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتی۔ ایوانوں میں جن قہقہوں کے ساتھ اس تحریک کا استقبال کیا گیا تھا، آج وہی ایوان ان نوجوانوں کے مطالبات پر کانپ رہے ہیں، اور آنے والے چند دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ تاریخ ساز تحریک بھارتی سیاست کے نقشے کو کس رخ پر موڑتی ہے۔