دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عام شہری اور سرمایہ کار مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک پھیلی یہ بدامنی محض مقامی نوعیت کی نہیں رہی بلکہ اس نے ملک کے دفاعی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے مابین سیکیورٹی کے معاملات پر پائی جانے والی سرد جنگ، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سرحد پار سے جدید ترین اسلحہ کی منتقلی اور مقامی سطح پر قبائلی و عوامی حلقوں میں عسکری آپریشنز کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اس بحران کی وہ بنیادی کڑیاں ہیں جن کو سمجھے بغیر پائیدار امن کا خواب نامکمل معلوم ہوتا ہے۔ اس سنگین بحران کا بنیادی مرکز قبائلی اضلاع ہیں جو اب مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی دوبارہ منظم ہونے کی سرگرمیوں کا محور بن چکے ہیں ۔ خطے کے معروضی حالات اور انٹیلی جنس معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں متعدد خطرناک تنظیموں کی فعال موجودگی کے پختہ امکانات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا اور منظم نیٹ ورک تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا ہے ۔ یہ گروپ پاکستان کے وجود کو غیر آئینی قرار دے کر فاٹا انضمام کے خاتمے، قبائلی علاقوں سے ریاستی افواج کے انخلا اور اپنے سخت نظریات کے نفاذ کیلئے برسرِپیکار ہے ۔ عسکریت پسندوں کا یہ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہے، جہاں سے یہ مالی وسائل حاصل کرنے کیلئے ٹرانزٹ ٹیکس, اغوا برائے تاوان، لکڑی کی غیر قانونی تجارت، معدنیات کی اسمگلنگ اور مدارس سے عطیات کا استعمال کرتا ہے ۔ اسی خطے میں حافظ گل بہادر گروپ بھی ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر سرگرم ہے، جو بنیادی طور پر شمالی وزیرستان اور بنوں کے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کیلئے بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش دھماکوں اور راکٹ حملوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے ۔ دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد اس گروپ کا نام اتحادالمجاہدین پاکستان بن گیا، دولتِ اسلامیہ خراسان (ISKP) نامی شدت پسند تنظیم خلافت کے عالمی ایجنڈے کے تحت باجوڑ، پشاور اور کرم ایجنسی جیسے اضلاع میں فعال ہے ۔ یہ تنظیم زیادہ تر شہری مراکز میں بم دھماکوں، سیاسی و مذہبی جلسوں پر خودکش حملوں اور مذہبی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس خطے میں اسود الخراسان اور الحمید خودکش فورس جیسے چھوٹے اور انتہائی متشدد عسکری دھڑے بھی سیکیورٹی فورسز کیلئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔    ان حالات میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی عسکری کارروائی مئی 2026 میں شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کی گئی جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں دو اہم عسکری کمانڈروں سمیت درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کرنے کیلئے دروزاندہ میں واقع علم خیل مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا ۔ دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئرکے انتظامی مرکز وانا میں قبائلی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی آبادی اور ریاست کے مابین رابطے کا نظام مفلوج ہو جائے ۔ اس کی حالیہ ہولناک مثال 18 مئی 2026 کو وانا کے مصروف ترین رستم بازار میں دیکھنے میں آئی جہاں گلشن پلازہ اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب احمد زئی وزیر قبیلے کے معتبر سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔ اس طاقتور دھماکے میں ملک طارق وزیر کے علاوہ ان کے قریبی قبائلی ساتھی ملک سرفراز اور غلام رسول یار گل خیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ۔ قبائلی عمائدین کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2004 سے اب تک تقریباً ڈھائی سے تین ہزار بااثر قبائلی عمائدین کو عسکریت پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث روایتی قبائلی نظامِ مصالحت اور مقامی قیادت کا ڈھانچہ بری طرح پامال ہو چکا ہے ۔    یہ لہر اب وزیرستان کے جغرافیائی دائرے سے نکل کر باجوڑ اور لکی مروت جیسے دیگر اہم اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جہاں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جنوری 2024 میں باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس کی گاڑی پر ایک آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور 27 افراد زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی ۔ ستمبر 2024 میں باجوڑ میں ہی کانسٹیبل لقمان کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی فورسز میں اس قدر غم و غصہ پیدا کیا کہ پولیس اہلکاروں نے باجوڑ میں پولیو ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ۔ اسی طرح کی دہشت گردی کا ایک اور ہولناک منظر 12 مئی 2026 کو لکی مروت کے تحصیل سرائے نورنگ بازار میں پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری لوڈر رکشہ کے ذریعے کاروباری مرکز کو اڑا دیا ۔ اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں، عادل جان اور راحت اللہ، اور ایک معصوم خاتون سمیت نو افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 33 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ۔ اگرچہ اس دھماکے کی فوری طور پر کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن یہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب شہری علاقوں اور بازاروں میں گھس کر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں ۔    سیکیورٹی کی اس دگرگوں صورتحال اور عسکریت پسند دھڑوں کے مابین بقا اور وسائل کی اندرونی جنگ کی ایک ہولناک اور تازہ ترین مثال حال ہی میں، یعنی 20 مئی 2026 کو وسطی کرم کے علاقے مناتو کامران کلے میں دیکھنے میں آئی ہے، جو تھانہ چینارک کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے دو انتہائی متشدد حریف دھڑوں، یعنی کمانڈر احمد کاظم کے (کاظم گروپ) اور کمانڈر ممتاز امتی کے (ممتاز امتی گروپ) کے مابین بھتے اور غیر قانونی ٹیکس (قلنگ) کی وصولی اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے تنازعے پر ایک ہولناک اور خونریز مسلح تصادم ہوا۔ اس تصادم میں دونوں جانب سے راکٹوں اور مارٹروں سمیت بھاری اور خودکار جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ممتاز امتی گروپ کے عسکری کمانڈر ممتاز امتی سمیت مجموعی طور پر 18یا 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی اور پولیس حکام کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 18 عسکریت پسندوں کا تعلق براہِ راست ممتاز امتی گروپ سے تھا (جبکہ اس گروپ کے مزید 3 جنگجو تاحال لاپتہ ہیں)، اور مخالف کاظم گروپ کا بھی ایک اہم جنگجو اس لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اگرچہ تصادم کے فوراً بعد مقامی قبائل نے کشیدہ حالات میں لاشوں کو اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا، لیکن اس واقعے نے پورے ضلع کرم میں شدید خوف اور انتہائی سنسنی خیز تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔ مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس خونریز تصادم کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر مفرور اور زخمی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کر دیا، تاہم اس واقعے کے مستقبل پر دور رس اور تشویشناک اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، یہ تصادم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ مسلح عسکریت پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی جدوجہد کیلئے نہیں، بلکہ خالصتاً مال و دولت، بھتہ خوری، اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس جنگ کے بعد کرم میں عسکریت پسندوں کی آپسمیں گینگ وار مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہے، جس سے ایک طرف تو ان کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہوگا، لیکن دوسری طرف پہلے سے ہی زمین کے دیرینہ تنازعات اور شدید فرقہ وارانہ حساسیت کے شکار ضلع کرم میں امن و امان کا نازک توازن بگڑنے اور بالخصوص ٹل پاراچنار ہائی وے جیسے کلیدی تجارتی راستوں پر نقل و حمل معطل ہونے کا سنگین اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ ریاستی رٹ کیلئے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور میں عسکریت پسندوں کی پوشیدہ نقل و حرکت اور حیات آباد جیسے حساس اور متمول علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے شہر کی سماجی اور کاروباری زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آنے والی حالیہ تاریخی مندی کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سے پہلی غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا وہ حکومتی فیصلہ ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا، پشاور اور بالخصوص بورڈ بازار میں جعلی دستاویزات پر جائیدادیں خریدنے والے تقریباً 12 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں نے عجلت میں انتہائی کم داموں پر اپنی جائیدادیں اور کاروبار فروخت کرنا شروع کر دئے ۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور جائیدادوں کی بھرمار کے باعث پشاور کے پوش علاقے حیات آباد مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے ۔ دوسری جانب پشاور کا تجارتی طبقہ اس وقت پارہ چنار سے لے کر سرحد پار افغانستان تک پھیلے عسکریت پسند بھتہ خوروں کے نشانے پر ہے ۔ انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (IAP) کے مطابق، سرمایہ کاروں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں اور 20 ملین روپے تک کے بھتے کے مطالبے موصول ہو رہے ہیں ۔ حیات آباد میں صنعتکاروں کے گھر وں اور سابق صوبائی وزیر حاجی جاوید کی رہائش گاہ پر بھتہ نہ دینے کی پاداش میں دستی بم حملوں نے پورے بزنس کمیونٹی کو خوف زدہ کر دیا ہے ۔ سیکیورٹی کی اس غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تیزی سے پشاور سے اپنے کاروبار بند کر کے پنجاب، کراچی یا پھر دبئی اور ملائشیا جیسے محفوظ اور ٹیکس فری مقامات پر منتقل کر رہے ہیں ۔ پشاور میں سرمایہ کاری کے کم ہوتے امکانات اور سیکیورٹی خدشات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنے قونصلیٹ جنرل کو بند کردیا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا ریاستی عزم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت اور پالیسیوں کے تضاد کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ وفاق کی جانب سے جب بھی کوئی نیا سیکیورٹی فریم ورک بالخصوص آپریشن عزمِ استحکام کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے ۔ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لئے بغیر بند کمروں میں فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے بڑے فوجی آپریشنز جیسے ضربِ عضب یا راہِ راست نے صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی پیدا کی، جیسا کہ باجوڑ میں 2008 کے آپریشن شیردل کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ۔ حالیہ دور میں بھی جولائی 2025 میں باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں شروع کئے جانے والے آپریشن سر بکف کے بعد 55 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وادی تیراہ میں آپریشن کی افواہوں پر تقریباً 70 ہزار افراد کو سردی کے موسم میں بے گھر ہونا پڑا ۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل، تحصیل سپین وام اور شیواہ میں بھی مسلح تنظیموں کے خلاف کارروئیوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہورہے ہیں۔ بنوں کے حالات بھی وزیرستان سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزراء صوبائی حکومت پر عسکریت پسندوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے اور تزویراتی سستی کا الزام عائد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مابین وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔    ماہرین کا ماننا ہے کہ آج خیبر پختونخوا جس عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی بنیادیں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت میں لئے گئے متنازع فیصلوں میں ملتی ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، جذبہ خیر سگالی کے نام پر ٹی ٹی پی کے ایک سو سے زائد انتہائی مطلوب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جو بڑی مشکل اور فورسز نے جانوں کا نظرانہ پیش کرکے گرفتار لئے گئے تھے، اسی کمزور فیصلے کے تحت، افغانستان میں موجود تقریباً چھ ہزار مسلح جنگجوؤں کو ان کے خاندانوں سمیت قبائلی علاقوں میں واپسی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے یا پرامن شہری بننے کے بجائے ان علاقوں میں دوبارہ اپنے نیٹ ورکس منظم کر لئے، جس کا سنگین خمیازہ آج سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں اگست 2021 کو رونما ہونے والی تبدیلی نے جہاں پاک افغان تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے، وہیں پاکستانی عسکریت پسندوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور وہاں سے آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کر دیا ۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی افواج کے جلدی میں انخلا کے باعث تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار بلیک مارکیٹ اور عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے ۔ اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروپ پاکستان کے خلاف ایم-4 اور ایم-16 خودکار رائفلیں, ایم-249 لائٹ مشین گنز، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور سب سے بڑھ کر جدید تھرمل اور نائٹ ویژن آلات استعمال کر رہے ہیں، جن کی بدولت عسکریت پسندوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے ۔ اسی دوران پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ افغان طالبان اور مقامی سرحدی قبائل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ باڑ زمین کو نہیں بلکہ ان کے دلوں کو تقسیم کرتی ہے ۔ کئی مقامات پر باڑ کاٹے جانے کے باعث کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک کھلی سرحدی جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جس میں پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے اسے آپریشن غضب الحق کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے بھی شدید شیلنگ کی گئی ۔    بدامنی کی اس خوفناک تصویر کے خلاف اب مقامی سطح پر غیر معمولی عوامی ردعمل اور ریاستی پالیسیوں پر بے اعتمادی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ مئی 2026 میں بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس فورس اور مقامی تاجروں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں بنوں کے شہریوں اور تاجروں نے کسی بھی پارٹی کے جھنڈے کے بغیر صرف سفید امن جھنڈے اٹھا کر تاریخی بنوں امن مارچ منعقد کیا تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے فوراً بعد ستمبر 2024 میں لکی مروت میں تایا چوک پر پولیس اہلکاروں نے پاکستان کی تاریخ کا انوکھا احتجاج شروع کیا اور کراچی پشاور انڈس ہائی وے کو بلاک کر کے فوج کے انخلا اور پولیس کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا، جس پر مروت قومی جرگہ کی ثالثی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام عسکری آپریشنز کی قیادت مقامی پولیس کے ہاتھ میں ہوگی ۔ ماضی میں عسکریت پسندی کے خلاف قبائلی سطح پر تشکیل دئے گئے رضاکارانہ دفاعی نظام جیسے شمالی وزیرستان کے عیدک کا (عیدک قبائل کا امن لشکر) اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان لشکروں کے عمائدین کی پے در پے ٹارگٹ کلنگ نے اس روایتی اور مقامی دفاعی نظام کو بھی تقریباً ختم کر دیا ہے ۔    ان تمام منفی اور خونریز حالات کے درمیان سرحد کے دونوں اطراف آباد عام قبائلی عوام نے امن قائم کرنے کیلئے تاریخ ساز کوششیں شروع کی ہیں ۔ مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے اضلاع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی رہنماؤں اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین کے مابین نوا پاس بارڈر کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا ۔ باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لال شاہ پختون یار اور افغان وفد کے سربراہ ظاہر گل کی مشترکہ قیادت میں طے پانے والے اس پانچ نکاتی امن معاہدے کے تحت دونوں اطراف کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح قبائل ایک دوسرے پر فائرنگ سے مکمل گریز کریں گے اور کسی بھی سرحدی تنازعے کو جنگ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا ۔ اس معاہدے کے تحت بند تجارتی راستے کھولنے اور ہر تین ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو کہ چترال اور افغانستان کے صوبہ نورستان کے مابین وسطِ اپریل 2026 میں ہونے والے سڑکوں کی بحالی کے کامیاب معاہدے کے بعد ایک بڑی مقامی کامیابی ہے ۔ یہ مقامی معاہدات ثابت کرتے ہیں کہ گراس روٹ لیول پر عوام جنگ اور سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اپنی اناؤں کو پسِ پشت ڈال کر مقامی لوگوں کے ان مصالحتی اقدامات کو تسلیم کریں، مقامی پولیس کو بااختیار بنائیں اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک منظم، قومی اور جامع سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن اور اقتصادی استحکام کا وہ حق مل سکے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں۔   حال ہی میں چارسدہ کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث شیخ ادریس کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے کو سوگوار کیا ہے، بلکہ یہ اس سنگین خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ہمارا ملک ایک نئے اور پیچیدہ سیکیورٹی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط، ٹھوس اور فیصلہ کن حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو ریاست کا یہ حصہ ایک ایسی ہولناک دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا آنے والی نسلوں کیلئے ایک ناممکن خواب بن کر رہ جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ورنہ اس غفلت کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں