ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ ایران ایک بہتر معاہدہ قبول کرے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایک موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ڈیل پر آمادہ ہو جو دونوں ممالک کیلئے قابل قبول ہو۔ ان کے مطابق، اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری راستے کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں آسانی آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور مبینہ ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور وہ مؤثر طریقے سے تجارت نہیں کر پا رہا۔ ٹرمپ نے ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ وہاں اصل قیادت کس کے پاس ہے، اور ملک اندرونی انتشار کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے 75 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایران نے ممکنہ طور پر اپنی کچھ عسکری صلاحیت بحال کی ہو، تاہم امریکی فوج ایک دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک طویل المدتی اور پائیدار امن معاہدہ چاہتا ہے، اور اس سلسلے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث انہیں کچھ عرصے کیلئے گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان بیانات کی یہ جنگ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے مزید پڑھیں

ایرانی عدلیہ نے 8 خواتین کی سزائے موت سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت اور بعد ازاں اس کی مبینہ منسوخی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جن خواتین کا ذکر امریکی صدر کی جانب سے کیا جا رہا ہے، انہیں نہ تو کبھی سزائے موت سنائی گئی اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی عدالتی فیصلہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران میں سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد سے قبل 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم یہ دعویٰ بھی بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوا تھا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اب دوبارہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان خواتین کی سزائے موت “ٹرمپ کے مطالبے” پر منسوخ کر دی گئی ہے، جسے ایرانی حکام نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے “من گھڑت اور پروپیگنڈا پر مبنی خبر” قرار دیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ یہ مبینہ 8 خواتین کون ہیں، انہیں کب اور کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، یا آیا ان کے خلاف کوئی باضابطہ عدالتی کارروائی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر امریکی اور ایرانی بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے عالمی سفارتکاری اور جاری سیاسی کشیدگی میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔

ایرانی عدلیہ نے 8 خواتین کی سزائے موت سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت اور بعد ازاں اس کی مبینہ منسوخی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر مزید پڑھیں


لندن میں آبنائے ہرمز پر اہم کانفرنس آج، 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شریک اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شرکت کریں گے۔ ویب ڈیسک کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی تجارتی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش یا عدم استحکام عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق کانفرنس میں شریک فوجی ماہرین اپنے اپنے ممالک کی عسکری صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام اور خطے میں افواج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی حکمت عملی یا منصوبے کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی معاہدے کے بعد ہی عملی شکل دی جائے گی، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کانفرنس نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال بلکہ عالمی سلامتی کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس کے نتائج آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


لندن میں آبنائے ہرمز پر اہم کانفرنس آج، 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شریک

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے مزید پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں کے معاملات، اس تازہ بحران کی بنیاد بنے، خلیج کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جہاں ایرانی افواج کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آئے جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کمزور نہیں ہونے دے گا، ان تمام حالات کے درمیان ایک عارضی سیزفائر ضرور قائم کیا گیا لیکن یہ زیادہ ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے نہ کہ مستقل حل کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات لگ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہے، اسی تناظر میں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں امن مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی گئی مگر یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں جس کی بڑی وجہ سخت شرائط، باہمی عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کا دباؤ تھا، پاکستان نے اس سارے معاملے میں محتاط اور متوازن پالیسی اپناتے ہوئے نہ صرف سفارتی رابطے جاری رکھے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے لئے یہ صورتحال ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کا خیال رکھنا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیزفائر ایک نازک مرحلہ ہے جو بظاہر سکون کا تاثر دیتا ہے مگر اس کے نیچے چھپی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسی لئے آنے والے دن نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران مزید پڑھیں

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی خاتون ہزاروں سانپ پال کر سالانہ 10 لاکھ یوآن (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، چن اس وقت اپنے خاندان کے سانپ فارم میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور تقریباً 60 ہزار سے زائد سانپوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 50 ہزار سے زائد انتہائی زہریلے سانپ جبکہ تقریباً 10 ہزار کوبرا سانپ شامل ہیں۔ چن نے بتایا کہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے دو سال بعد وہ اپنے آبائی قصبے واپس آئیں تاکہ اپنے والد کے سانپ فارمنگ کے کاروبار میں مدد کر سکیں۔ ابتدا میں ان کے والد اس بات کے سخت مخالف تھے کہ ان کی بیٹی اس خطرناک کام کا حصہ بنے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فارم کی وسعت اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث چن بھی اس پیشے کا باقاعدہ حصہ بن گئیں۔ چن کے مطابق سانپوں کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہوتا ہے، تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے اپنے والد کے ساتھ اس ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ چین میں سانپوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے، جن میں روایتی ادویات، طبی تحقیق اور خوراک شامل ہیں۔ سانپ کے زہر کی قیمت 40 سے 200 یوآن فی گرام تک ہوتی ہے، جبکہ سانپ کا گوشت 200 سے 300 یوآن فی کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔ تمام اخراجات نکالنے کے باوجود، چن کا یہ کاروبار انہیں سالانہ 10 لاکھ یوآن سے زائد منافع فراہم کرتا ہے۔ چن نہ صرف اس منفرد کاروبار کو چلا رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں، جہاں وہ اپنے سانپ فارم کے تجربات اور معلومات شیئر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سانپ کا ڈسنا شدید تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہ ان کے کام کا حصہ ہے اور وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں۔ چن کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ غیر روایتی اور خطرناک شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ محنت، حوصلہ اور مستقل مزاجی ساتھ ہو۔ ان کا یہ منفرد پیشہ نہ صرف انہیں مالی خودمختاری دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا

چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی مزید پڑھیں

اسلام آباد میں مذاکرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل، ملک بھر میں سخت اقدامات نافذ

اسلام آباد:
متوقع اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے غیر معمولی مزید پڑھیں

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم مینگورہ ( عزیز خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، خصوصاً محلہ لنڈیکس اور محلہ بنگلہ دیش میں آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بجلی، گیس اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بحال نہ ہوسکیں، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان محلوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے فوری بعد وقتی امدادی سرگرمیاں تو دیکھنے میں آئیں، مگر مستقل بحالی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ گلیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ نکاس آب کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ پانی جمع رہتا ہے اور نالیاں ریت اور ملبے سے بھری پڑی ہیں، جس سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یونین کونسل کے سابق چیئرمین فضل ربی راجا کے مطابق، مقامی لوگوں نے بارہا اپنے منتخب نمائندوں کو مسائل سے آگاہ کیا، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وعدے تو کئے، لیکن متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی اور عارضی بحالی کے کئی کام علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انجام دئے، تاہم بڑے پیمانے پر درکار اقدامات کے لئے حکومتی وسائل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلوں نے ندیوں پر قائم کئی چھوٹے بڑے پل بہا دئے، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بچے اسکول اور مدارس جانے سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ندی میں اترنا پڑتا ہے۔ کاروباری افراد کو بھی روزانہ اسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بزرگ افراد کے لئے ندی پار کرنا ایک خطرناک مرحلہ بن چکا ہے، اور اکثر حادثات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ فضل ربی راجا کے مطابق، علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی عارضی پل تعمیر کئے، لیکن پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث یہ پل چند ہی دنوں میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرچکی ہے، مگر ایسے منصوبے جن کے لئے بھاری مشینری اور خطیر فنڈز درکار ہوں، وہ حکومت ہی انجام دے سکتی ہے۔ مقامی رہائشی محمد علی نے بتایا کہ گیس کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہے، اور کئی مقامات پر پائپ لائنیں سیلاب میں بہہ چکی ہیں۔ اسی طرح بجلی کا نظام بھی مکمل بحال نہیں ہو سکا، کیونکہ کئی کھمبے اور ٹرانسفارمر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش معمول بن چکی ہے، جبکہ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہونے کے باعث زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ علاقے، جو سیلاب سے قبل مینگورہ کے اہم اور قیمتی رہائشی علاقوں میں شمار ہوتے تھے، اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی، ہر طرف پھیلی گندگی، کیچڑ اور ملبہ نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی کو بھی گہنا چکا ہے۔ صفائی اور ترقیاتی کاموں کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، مینگورہ کے سٹی میئر شاہد علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فنڈز کی کمی کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جلد مرکزی پل کی تعمیر کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی بتدریج کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقوں میں تنگ گلیاں سرکاری مشینری کے استعمال میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور اضافی فنڈز کے حصول کے لئے حکومت سے رابطے میں ہیں۔ مینگورہ کے ان گنجان آباد محلوں میں لاکھوں افراد مقیم ہیں، جن میں سے کئی خاندان سیلاب کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کر گئے تھے، تاہم بعد ازاں اپنے گھروں کو آباد کرنے کی غرض سے واپس آنا پڑا۔ اب سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ خاندان ایک بار پھر مشکلات کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ صورتحال میں نہ تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کہیں اور مستقل طور پر منتقل ہونے کی سکت رکھتے ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر بنیادی سہولیات کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم

مینگورہ ( عزیر خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، مزید پڑھیں

اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر محیط سیزفائر اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے، مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک عارضی وقفہ تھا، مستقل حل نہیں۔ بظاہر میدان جنگ خاموش ہے، لیکن پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطگی نے نہ صرف کشیدگی کو بڑھایا بلکہ اس نے سیزفائر کی روح کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لینا ایک ایسا اقدام تھا جس نے حالات کو یکسر بدل دیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز میں ایسا سامان موجود تھا جو بظاہر تجارتی تھا، مگر اسے عسکری مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان میں دھاتیں، پائپ اور الیکٹرانک آلات شامل بتائے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایران اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ تہران کے نزدیک یہ نہ صرف سیزفائر کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی نفی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا وفد یہاں پہنچ چکا ہے اور اس نے مذاکرات کیلئے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تاہم ایران کی غیر یقینی صورتحال نے اس پورے عمل کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے آمادہ تھا، لیکن حالیہ پیش رفت کے بعد اس کا مؤقف سخت ہو گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس پر دباؤ جاری رہے گا، بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات صرف مقام اور تیاری کا نام نہیں، بلکہ اس کیلئے سیاسی ارادہ اور اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے، جو اس وقت واضح طور پر موجود نہیں۔ اگرچہ مذاکرات کے مقام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ شہر کے بڑے ہوٹلز کو اس مقصد کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان ہوٹلز کو جزوی طور پر خالی کرایا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات غیر معمولی ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، اور شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ مذاکرات چاہتا ہے، مگر اپنی شرائط کے ساتھ۔ اس کا زور ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر پابندیوں پر ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو اولین شرط قرار دے رہا ہے۔ اس کے نزدیک حالیہ جہاز ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ سنجیدہ سفارت کاری کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے ، اور یہی اختلافات اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سیزفائر اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر ایران مذاکرات میں شامل ہو جاتا ہے تو اس میں توسیع ممکن ہے۔ لیکن اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو یہ عارضی امن کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں فریق فوری طور پر کشیدگی کم کریں، کیونکہ کسی بھی قسم کی نئی جھڑپ نہ صرف اس سیزفائر کو ختم کر سکتی ہے بلکہ ایک وسیع تر تنازع کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سب کچھ تیار ہے۔ سفارتی ماحول موجود ہے، سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عالمی نظریں اس شہر پر مرکوز ہیں۔ مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا؟ یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں، بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، اور اگر ناکام رہے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اسلام آباد امن کی علامت بنتا ہے یا ایک ضائع شدہ موقع کی؟

اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر مزید پڑھیں