ناصر داوڑ
مالیاتی سال 2025-2026 کے یہ اعدادوشمار کہ پاکستان کو ملنے والے 16 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے میں سے صرف 3 ارب ڈالر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوئے، ملکی نظامِ حکمرانی کی ترجیحات کا واضح آئینہ ہیں۔ جب کسی ریاست کے فیصلے اور معیشت بیرونی قرضوں کے رحم و کرم پر ہوں اور ان قرضوں کا بڑا حصہ عوامی فلاح، صنعت یا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے بجائے حاکم وقت کے شاہانہ طرزِ زندگی اور غیر پیداواری اخراجات کی نذر ہو جائے، تو ملک سدھرنے کے بجائے تباہی کے گہرے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں جب حکومت کرپشن کے خاتمے اور سادگی مہم کیلئے ایک قدم بھی آگے بڑھانے سے قاصر ہو، تو ملک کا مستقبل نہ صرف تاریک ہو جاتا ہے بلکہ عوامی سطح پر ریاست اور شہریوں کا رشتہ بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔
اگر کوئی مقروض حکومت اپنے شاہی اخراجات کو کم کرنے کے بجائے نئے قرضوں پر انحصار بڑھاتی رہے، تو اس کا سب سے پہلا اور خطرناک نتیجہ قومی خودمختاری کی محرومی کی صورت میں نکلتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور بیرونی قرض خواہ ممالک ملکی معاشی فیصلوں، ٹیکس پالیسیوں اور اسٹریٹجک اثاثوں پر براہِ راست اثر انداز ہونے لگتے ہیں، جس سے آزادی صرف کاغذی حد تک رہ جاتی ہے۔ مزید برآں، یہ روش ملک کو ناگزیر طور پر معاشی دیوالیہ پن کی طرف دھکیلتی ہے، جہاں بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی نایاب ہو جاتی ہیں۔ ان عیاشیوں کا خمیازہ غریب اور مڈل کلاس عوام کو بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی و گیس کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ جب تک احتساب کے حقیقی نظام کو فعال کر کے اس لوٹ مار کو نہیں روکا جاتا، سرمائے کا فرار اور باصلاحیت نوجوانوں کا ملک چھوڑ کر جانا بند نہیں کیا جا سکتا۔
اس تلخ زمینی حقیقت کے برعکس، سرکاری کنٹرولڈ میڈیا اور اخبارات کے مہنگے اشتہارات میں دن رات ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن دکھانے کا جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
جب عام آدمی آٹے، چینی اور ادویات کیلئے لائنوں میں کھڑا ہو، بجلی کے بل دیکھ کر بلب جلانے سے کتراتا ہو اور ٹی وی پر خوشحالی کے راگ سنے، تو وہ اس بیانئے پر یقین کرنے کے بجائے صرف ہنسی اور طنز کا سہارا لیتا ہے۔ یہ عوامی ہنسی دراصل نظام کے خلاف ایک خاموش احتجاج اور ریاست کے دعووں پر عدم اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ حکومتیں اشتہارات سے وقتی طور پر تو اپنی ناکامی چھپا سکتی ہیں، لیکن بھوکے پیٹ کو ترقی کے جھوٹے نعروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
اس بھیانک منظرنامے میں ان عوامی حلقوں اور شہریوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو خود کو ریاست کا خیرخواہ اور محبِ وطن کہتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خاموشی کا روزہ توڑا جائے اور ٹیکس دینے والے شہری کی حیثیت سے حکمرانوں سے یہ سخت سوال پوچھا جائے کہ بیرونی قرضوں کی بھاری رقوم کہاں غائب ہوئیں؟۔ سول سوسائٹی اور باشعور شہریوں کو اشتہاری ترقی کے متبادل حقیقی معاشی حقائق کو اجاگر کرنا ہوگا اور اشرافیہ کو ملنے والی مفت بجلی، مفت پٹرول اور وی آئی پی پروٹوکول جیسے غیر منصفانہ امتیازات کے خلاف سماجی سطح پر ایک توانا آواز بننا ہوگا۔ محبِ وطنی صرف نعرے لگانے کا نام نہیں، بلکہ ریاست کو تباہی کی طرف لے جانے والے فیصلوں کے سامنے سچ کی دیوار کھڑی کرنے کا نام ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے اور شاہ خرچیوں کو پورا کرنے کیلئے نئے قرضوں کا حصول جاری رہا، تو ملک کا مستقبل انتہائی ہولناک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ تاریخ کا سبق بڑا واضح ہے کہ قرض کی بیساکھیوں پر کھڑی عارضی عیاشی بالآخر مستقل غلامی اور معاشی مٹ مٹاؤ پر ختم ہوتی ہے۔
Executive Summary: The Illusion of Progress Amidst Rising Debt
This summary outlines the critical report regarding the severe disconnect between state propaganda and the economic reality in Pakistan, triggered by the stark misallocation of foreign funds.
Key Takeaways
-
Misallocation of Funds: Out of a massive $16 billion foreign loan received, a mere $3 billion was spent on actual development projects. The remaining $13 billion was consumed by debt servicing and the ruling elite’s non-productive expenses.
-
Severe Economic Risks: Relying on new loans to fund elite extravagance while ignoring corruption pushes the country toward a total loss of national sovereignty, potential economic default, and an unbearable tax burden on the working class.
-
Propaganda vs. Ground Reality: There is a sharp contrast between state-controlled media campaigns claiming progress and the hardships of daily life. This massive gap turns official success stories into a subject of public ridicule and irony.
-
Call to Civic Duty: Well-wishing citizens and civil society must stop being silent spectators. They have a responsibility to demand transparency on where borrowed funds go and challenge the unfair perks (free electricity, fuel, and VIP protocols) enjoyed by the اشرافیہ (elite).
Core Message: Borrowed wealth spent on luxury rather than productivity guarantees permanent economic enslavement. True patriotism demands holding the system accountable before the damage becomes irreversible.




