پشاور( دی خیبرٹائمز افغان مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہونے کے بعد امارت اسلامی افغانستان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے بدخشاں سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موجود مسائل کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق بدخشاں میں جمعہ خان فاتح اور ان کے حامی جنگجوؤں کی جانب سے سرکاری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اطلاعات میں بعض پلوں اور دیگر سرکاری تنصیبات کو دھماکوں سے نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوران امارت اسلامی افغانستان کے ایک ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنا کر مار گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس واقعے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جانی نقصانات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ امارت اسلامی کی فورسز میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد واضح نہیں کی گئی۔
بدخشاں میں جاری صورتحال نے طالبان حکومت کیلئے ایک ایسے وقت میں نیا چیلنج پیدا کیا ہے جب کابل میں امارت اسلامی کی حکومت کے قیام کو پانچ سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اگست 2021 میں طالبان نے کابل پر قبضہ کرکے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی تھی۔
بدخشاں افغانستان کا ایک اہم شمال مشرقی صوبہ ہے جو تاجکستان، چین اور پاکستان کے قریب واقع ہونے کے باعث جغرافیائی اور سیکیورٹی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ صوبے میں کسی بھی قسم کی مسلح شورش یا بدامنی کا براہِ راست اثر سرحدی علاقوں کی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے بدخشاں کی صورتحال کو محدود نوعیت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کے بجائے صوبے سمیت ملک میں موجود سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کے مستقل حل پر زور دیا ہے۔ امارت اسلامی کی قیادت کی جانب سے متعلقہ حکام کو صورتحال پر قابو پانے اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
تاہم جمعہ خان فاتح اور ان کے حامیوں کی سرگرمیوں، ہیلی کاپٹر کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے اور امارت اسلامی کی فورسز کی ہلاکتوں سے متعلق مزید آزاد اور قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
Exclussive Summery:
Taliban Supreme Leader Mullah Hibatullah Akhundzada has ordered authorities to permanently resolve security and administrative problems in Afghanistan’s Badakhshan province. The directive comes amid reports of armed clashes involving Jumma Khan Fateh and his supporters, attacks on government facilities and bridges, and the reported downing of an Islamic Emirate helicopter. Casualty figures among Taliban forces remain unclear, while independent verification of the reported incidents is still awaited. The developments come as the Taliban administration approaches five years since its return to power in Afghanistan.




