Pakistani and Afghan elders shaking hands at the border with a Grand Jirga meeting in the background representing peace and diplomacy.

پاک افغان تعلقات: دراڑ کے اسباب، امن کی ناگزیریت اور پائیدار حل کا روڈ میپ

دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر
پاکستان اور افغانستان دو ایسے پڑوسی ممالک ہیں جن کا جغرافیہ، تاریخ، مذہب اور ثقافت ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ دونوں ممالک کا امن اور استحکام ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہے۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے سے ان برادرانہ تعلقات میں ایک سنگین دراڑ پیدا ہو چکی ہے، جس کا براہِ راست اثر دونوں اطراف کے عوام پر پڑ رہا ہے۔
اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو تعلقات میں یہ خرابی کسی بھی ملک کے فائدے میں نہیں ہے، سوائے ان دشمن قوتوں کے جو اس خطے میں عدم استحکام دیکھنا چاہتی ہیں۔
کسی بھی دوستی اور ہمسائیگی کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی سلامتی کا احترام کیا جائے۔ اگر پاکستان مخالف قوتیں اور دہشتگرد عناصر افغان حکام کیلئے “وی آئی پی مہمان” بن کر رہیں گے، تو محض بیانات کی حد تک ایک دوسرے کو دوست اور ہمسایہ تسلیم کرنا ناکافی ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال دوستی نہیں بلکہ ایک مستقل اور سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
پاک افغان تعلقات کی اس نازک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر، حافظ نعیم الرحمان نے جیو نیوز کے پروگرام “جرگہ” میں سلیم صافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین دراڑ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، کہ افغان طالبان سے ہمارا بہت بڑا شکوہ ہے کہ آپ کی سرزمین وطن عزیز پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور آپ اسے روک نہیں پا رہے، یہ نہیں ہونا چاہئے۔ افغان طالبان سے بڑی دردمندی سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے اور کسی اور کے ایجنڈے پر انہیں کام نہیں کرنا چاہئے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے عوام نے گزشتہ 50 سالوں سے ایک دوسرے کو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ افغانستان پر جب بھی مشکل وقت آیا، وہاں کی عوام نے قربانیاں دیں تو پاکستان نے بھی اس کی بھاری قیمت ادا کی اور اپنے افغان بھائیوں کیلئے کاروبار اور مارکیٹیں کھول دیں۔ لہذا، چند واقعات کی بنا پر یہ طویل تاریخی رشتہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تعلقات میں موجود اس دراڑ کو ختم کرنے اور دونوں ممالک کو پرامن راستے پر لانے کیلئے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں، جن کا ذکر امیر جماعت اسلامی نے بھی اپنے مؤقف میں کیا ہے، وہ یہ کہ پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف آباد قبائل کی ایک مشترکہ تاریخ اور اثر و رسوخ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق، خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے عمائدین کا ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جانا چاہئے، یہی عمائدین افغان حکام کو بہتر انداز میں سمجھا سکتے ہیں اور دونوں طرف کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مذہبی روابط دونوں ممالک میں انتہائی مضبوط ہیں۔ ریاست پاکستان اور افغانستان کے مابین معاملات کو سلجھانے کیلئے جید علمائے کرام کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر علما کی تنظیمیں اس مسئلے کا ایک معتبر اور قابلِ قبول حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاک افغان خطے میں امن صرف دو ممالک کا نہیں بلکہ پورے خطے کا مسئلہ ہے۔ اس وقت چین اور روس دونوں ممالک کے معاملات کو نارمل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ترکیہ بھی اس عمل میں تعمیری حصہ لے سکتا ہے۔ ان تمام دوست ممالک کے ساتھ مل کر بات چیت کو ہی ترجیح دینی چاہئے، کیونکہ لڑائی کے نتیجے میں صرف عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، جو کہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
مذاکرات کی کامیابی کا راز ان کے تسلسل میں ہے۔ اگر ایک دور ناکام ہو تو دوسرا دور شروع کرنا چاہئے، کیونکہ جنگ یا سرد مہری کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سرحدی تجارت (Border Trade) کے منصوبوں کو فعال کرنا چاہئے تاکہ دونوں ممالک کے معاشی مفادات ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔ معاشی استحکام ہی امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
پاکستان اور افغانستان کا پرامن رہنا کوئی آپشن نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ حکام کے مابین لڑائی اور اکھڑ پن دونوں ممالک کے عوام کو غربت اور عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر موجود پاکستان مخالف عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے، اور حکومتِ پاکستان مذاکرات کے تمام راستے کھلے رکھے۔ جب تک دونوں ممالک خلوصِ نیت کے ساتھ میز پر نہیں بیٹھیں گے، تیسری قوتیں اس دراڑ سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔

Summary: Pak-Afghan Relations  Challenges, Imperatives for Peace, and the Way Forward

  • The Core Conflict: The peace and stability of Pakistan and Afghanistan are deeply interconnected. However, bilateral relations have severely strained because anti-Pakistan elements and terrorist groups are allegedly operating from Afghan soil. For Pakistan, the Afghan interim government harboring these elements as “VIP guests” is a major barrier to recognizing them as a peaceful neighbor.

  • Hafiz Naeem-ur-Rehman’s Stance: Quoting a recent interview, Jamaat-e-Islami Chief Hafiz Naeem-ur-Rehman expressed deep concern over the situation. He issued a heartfelt grievance to the Afghan Taliban, stating that their soil must not be used against Pakistan or to serve external agendas. He reminded both nations of their 50-year-old historic bond, emphasizing that the sacrifices made by the people of both countries during Afghanistan’s turbulent past cannot be discarded due to a few recent incidents.

  • Proposed Road Map for Peace:

    • Grand Jirga: Establishing a grand jirga of tribal elders from Khyber Pakhtunkhwa to mediate and clear misunderstandings with Afghan authorities.

    • Religious Diplomacy: Utilizing the influence of Islamic scholars (Ulema) and international scholarly bodies to facilitate state-level talks.

    • Regional Mediation: Welcoming the diplomatic efforts of regional powers like China, Russia, and Turkey to prevent further alienation of the people of both nations.

    • Continuous Dialogue & Trade: Emphasizing uninterrupted bilateral negotiations and boosting border trade to link both nations through shared economic interests.

Conclusion: War and hostility yield no benefits. For lasting peace, Afghanistan must address Pakistan’s security concerns, while Pakistan must keep the doors of dialogue open, as mutual cooperation is the only viable path forward.