اسلام آباد ( دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک) پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر اور ڈیجیٹل مارکیٹ سے وابستہ نوجوانوں نے ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ڈیجیٹل اکانومی میں ایک بہت بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستانی فری لانسرز نے ریکارڈ 1 ارب 76 کروڑ ڈالرز (1.76 Billion USD) کا خطیر زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت میں اپنا تاریخی حصہ ڈالا ہے۔
برآمدی آمدن میں 78 فیصد کا ریکارڈ اضافہ
آئی ٹی اور فری لانسنگ کے شعبے سے جاری کردہ سرکاری ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس سال فری لانسرز کی برآمدی آمدن (Export Earnings) میں مجموعی طور پر 78 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین اس غیر معمولی نمو کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کیلئے ایک انتہائی مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر صرف ماہِ جون کی بات کی جائے، تو جون 2026 میں فری لانسرز کی ایکسپورٹ ارننگ 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز رہی۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ سال کے اسی مہینے (جون) کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر اس بار فری لانسرز کی آمدن میں 69 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستانی فری لانسنگ انڈسٹری نے گزشتہ چند سالوں کے دوران جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے، اس کا اندازہ سال بہ سال بڑھتے ہوئے اعداد و شمار سے واضح طور پر لگایا جا سکتا ہے۔ مالی سال 2022-23 میں فری لانسرز کی برآمدی آمدن 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز ریکارڈ کی گئی تھی، جو کہ اس شعبے کی شروعاتی مضبوط بنیاد بنی۔ اس کے بعد، مالی سال 2023-24 میں یہ حجم مزید بڑھ کر 50 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا، جس نے مارکیٹ کے استحکام کو ظاہر کیا۔ یہ تسلسل یہیں نہیں رکا، بلکہ مالی سال 2024-25 میں فری لانسرز کی ایکسپورٹ ارننگ نمایاں اضافے کے ساتھ 98 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی سطح کو چھو گئی، اور اب موجودہ مالی سال 2025-26 میں یہ آمدن تمام پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے 1 ارب 76 کروڑ ڈالرز کی تاریخی بلند ترین سطح پر براجمان ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بہتر ہوتی ہوئی سہولیات، نوجوانوں میں ڈیجیٹل اسکلز (انفارمیشن ٹیکنالوجی، گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور کنٹینٹ رائٹنگ) کا بڑھتا ہوا رجحان اور عالمی سطح پر پاکستانی ٹیلنٹ کی مانگ اس تاریخی کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں۔
واضح رہے کہ اگر حکومت کی سطح پر فری لانسرز کیلئے بین الاقوامی ادائیگیوں (Payment Gateways) کے نظام کو مزید آسان بنایا جائے اور ٹیکس چھوٹ سمیت دیگر مراعات دی جائیں، تو پاکستان بہت جلد خطے میں ڈیجیٹل سروسز کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔




