تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ
جنوب مشرقی ایشیا میں امریکا اور چین کی کشمکش اب صرف فوجی طاقت، بحری راستوں یا سفارتی اتحادوں تک محدود نہیں رہی۔ اس مقابلے کا ایک اہم میدان معیشت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوامی بیانیہ بھی بن چکا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ویتنام ایک غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔
ویتنام چین کا ہمسایہ بھی ہے، اس کا بڑا تجارتی شراکت دار بھی اور بحیرہ جنوبی چین کے تنازع میں اس کا اہم فریق بھی۔ دوسری طرف امریکا نے گزشتہ برسوں میں ہنوئی کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ لیکن ویتنام نے چین سے فاصلہ اختیار کرنے کے بجائے دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو اپنے قومی مفادات کے مطابق متوازن رکھنے کی پالیسی اختیار کی ہے، جسے خود ویتنامی قیادت بانس سفارت کاری سے تعبیر کرتی ہے: جڑیں مضبوط مگر شاخیں حالات کے مطابق لچکدار۔
یہی وجہ ہے کہ ویتنام کو محض امریکا یا چین کے کیمپ میں رکھنا اس کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کیلئے ناکافی ہے۔
ویتنام میں چینی معاشی موجودگی کو سمجھنے کیلئے Cat Linh-Ha Dong Metro Line ایک اہم مثال ہے۔ ہنوئی میں تعمیر ہونے والی یہ شہری ریل لائن چین کی مالی معاونت اور چینی کمپنیوں کی تعمیراتی شمولیت سے مکمل ہوئی۔
اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 552.86 ملین ڈالر بتائی گئی تھی، جس میں چین کے Export-Import Bank of China (China Exim Bank) کی قرض سہولت بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔ بعد میں منصوبے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا اور مجموعی رقم تقریباً 868.04 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
یعنی ابتدائی تخمینے اور حتمی لاگت کے درمیان تقریباً: 868.04 – 552.86 = 315.18 ملین ڈالرکا فرق پیدا ہوا۔ یہ اضافہ تقریباً 57 فیصد بنتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ پورے 868 ملین ڈالر کو ’’چین کی جانب سے دی گئی مفت امداد‘‘ کہنا درست نہیں ہوگا۔ یہ بنیادی طور پر قرض پر مبنی مالیاتی ڈھانچہ تھا، جس کی ادائیگی ویتنامی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ اسی لئے اس منصوبے کو چین کی بیرونی امداد کے بجائے چینی مالیاتی معاونت اور قرض پر مبنی انفراسٹرکچر تعاون کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔
منصوبہ 2011 میں تعمیر کے مرحلے میں داخل ہوا، لیکن اس کی تکمیل اور آپریشن میں کئی سال کی تاخیر ہوئی۔ بالآخر 2021 میں مسافروں کیلئے اسے کھولا گیا۔
یہ تاخیر، لاگت میں اضافہ، تعمیراتی معیار، حفاظتی مسائل اور قرض کی شرائط ویتنام میں چین کے زیرِ قیادت انفراسٹرکچر منصوبوں پر ہونے والی تنقید کا حصہ بن گئے۔
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے: کیا کسی ایک منصوبے کی تاخیر سے چین کے تمام بیرونی منصوبوں کو ناکام قرار دیا جا سکتا ہے؟
جواب ظاہر ہے کہ سادہ نہیں۔ ایک منصوبے کا تجربہ سیاسی بیانئے کو ضرور متاثر کر سکتا ہے، لیکن اسے چین کی تمام سرمایہ کاری کے عمومی نتیجے کے طور پر پیش کرنے کیلئے مزید شواہد درکار ہوتے ہیں۔
باکسائٹ منصوبے اور قومی سلامتی کا سوال
ویتنام کے وسطی پہاڑی علاقوں میں Tân Rai اور Nhân Cơ باکسائٹ اور ایلومینا منصوبے بھی چین کے ساتھ معاشی تعلقات کے بارے میں ہونے والی بحث میں اہم ہیں۔
ویتنام کیلئے باکسائٹ کے ذخائر ایک بڑی معدنی دولت ہیں۔ چینی کمپنیوں کی شمولیت سے ان منصوبوں نے معاشی فائدے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور قومی سلامتی کے سوالات بھی پیدا کئے۔
ناقدین نے خاص طور پر red mud یعنی ایلومینا کی پیداوار کے دوران پیدا ہونے والے سرخ صنعتی فضلے، ماحولیاتی خطرات، چینی کارکنوں کی موجودگی اور حساس جغرافیائی علاقوں میں غیر ملکی معاشی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔
یہ تنقید صرف امریکی یا مغربی حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ ویتنام کے اندر بھی چینی معاشی موجودگی کے بارے میں تاریخی حساسیت موجود ہے۔
اس کی ایک وجہ ویتنام اور چین کی پیچیدہ تاریخ ہے۔ دونوں ممالک کمیونسٹ نظام رکھتے ہیں اور ان کے درمیان نظریاتی قربت بھی رہی ہے، لیکن دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے اور بحیرہ جنوبی چین میں علاقائی تنازعات بھی برقرار ہیں۔
2018 میں ویتنام میں مجوزہ Special Economic Zones قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ مجوزہ قانون میں بعض خصوصی اقتصادی علاقوں میں طویل مدتی زمین لیز کی تجاویز شامل تھیں۔
مظاہرین کے ایک حصے کو خدشہ تھا کہ طویل مدتی لیز بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو غیر معمولی اثر و رسوخ دے سکتی ہے۔
یہ احتجاج بعض مقامات پر پرتشدد بھی ہوا اور حکومت کو قانون سازی کا عمل مؤخر کرنا پڑا۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ویتنام میں چینی معاشی اثر و رسوخ کا سوال صرف معاشیات کا سوال نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور تاریخی حساسیت سے بھی جڑا ہوا ہے، لیکن ویتنام چین سے دور نہیں ہو رہا۔
یہاں ویتنام کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم تضاد سامنے آتا ہے۔
ایک طرف ہنوئی جنوبی بحیرہ چین میں چین کے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے، اپنی سمندری پوزیشن مضبوط کرتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ دفاعی و تکنیکی تعاون بڑھاتا ہے۔
دوسری طرف چین ویتنام کا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے اور ویتنام کی صنعتی پیداوار کیلئے چینی مشینری، پرزہ جات، خام مال اور intermediate goods کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
ویتنام کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ چین سے آنے والی سپلائی چین پر منحصر ہے۔ اسی لئے ہنوئی کیلئے چین سے مکمل معاشی علیحدگی عملی طور پر انتہائی مہنگا فیصلہ ہوگا۔
اسی حقیقت کے پیش نظر ویتنام نے ایسی متوازن خارجہ پالیسی اختیار کی جسے ’’بانس سفارت کاری‘‘ (Bamboo Diplomacy) کہا جاتا ہے، یعنی جڑوں میں مضبوطی کے ساتھ حالات کے مطابق سفارتی لچک۔
امریکا کے ساتھ ستمبر 2023 میں تعلقات کو Comprehensive Strategic Partnership تک لے جانے کے باوجود ویتنام نے چین کے ساتھ بھی اپنے اعلیٰ سطح کے سیاسی تعلقات برقرار رکھے۔
یہ دراصل کسی ایک طاقت کا انتخاب نہیں بلکہ قومی مفادات کیلئے دونوں طاقتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان ویتنام میں مقابلے کا سب سے حساس پہلو South China Sea ہے جسے ویتنام East Sea کہتا ہے۔
ویتنام اور چین کے درمیان Paracel Islands اور Spratly Islands کے حوالے سے طویل عرصے سے تنازع موجود ہے۔
چین ان علاقوں پر وسیع علاقائی دعوے رکھتا ہے جبکہ ویتنام بھی ان جزائر اور ان کے اردگرد کے سمندری حقوق پر دعویٰ کرتا ہے۔
ویتنام چین کے بعض بحری اقدامات، سروے سرگرمیوں، ماہی گیری پر عائد یکطرفہ پابندیوں اور متنازع سمندری علاقوں میں چینی موجودگی کو اپنی خودمختاری کیلئے چیلنج سمجھتا ہے۔
دوسری جانب چین اپنے علاقائی دعووں اور سرگرمیوں کو تاریخی اور قانونی بنیادوں سے جوڑتا ہے۔
اسی تنازع نے امریکا کو ویتنام کے ساتھ Maritime Security، Coast Guard Capacity اور Maritime Domain Awareness جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
واشنگٹن کا مقصد کیا ہے؟
یہاں ’’امریکی چین مخالف پروپیگنڈا‘‘ جیسی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے امریکی Strategic Competition with China کو سمجھنا زیادہ درست ہے۔
واشنگٹن کی وسیع تر انڈو پیسیفک حکمت عملی میں چین کو خطے میں ایک بڑی اسٹریٹجک طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ اتحادی اور شراکت دار ممالک اپنی معیشت، ٹیکنالوجی، دفاعی صلاحیت اور سپلائی چین میں ایسے متبادل پیدا کریں جن سے چین پر حد سے زیادہ انحصار کم ہو۔
ویتنام اس حکمت عملی میں اس لئے اہم ہے ک، وہ چین کے ساتھ زمینی سرحد رکھتا ہے؛ بحیرہ جنوبی چین کے تنازع کا فریق ہے، جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی معیشت ہے؛
عالمی مینوفیکچرنگ سپلائی چین میں اس کا کردار بڑھ رہا ہے؛
اور امریکا کیلئے چین کے متبادل manufacturing hub کے طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اس لئے واشنگٹن کی حکمت عملی صرف فوجی نہیں۔ اس میں ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، سپلائی چین، میری ٹائم سیکیورٹی، تعلیم، سول سوسائٹی اور پبلک ڈپلومیسی سب شامل ہیں۔
کیا امریکا چین مخالف بیانیے کیلئے رقم خرچ کرتا ہے؟
امریکی حکومت کی دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن چین کے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف سرکاری پروگرام چلاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم صحافتی فرق ضروری ہے۔
کسی پروگرام کا عنوان Countering PRC Influence ہونا اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ اس کی تمام رقم ’’چین کے خلاف پروپیگنڈا‘‘ پر خرچ ہوتی ہے۔
ایسے پروگراموں میں پالیسی تحقیق، میڈیا لٹریسی، غلط معلومات کا مقابلہ، سول سوسائٹی، شفافیت، ٹیکنالوجی، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن جیسے مختلف شعبے شامل ہو سکتے ہیں۔
بیانیہ کیسے بنتا ہے؟
عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں بیانیہ ہمیشہ براہ راست حکومتی اشتہار کی شکل میں نہیں آتا۔ یہ زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ ایک طرف سرکاری ادارے پالیسی بناتے ہیں۔ دوسری طرف تحقیقی ادارے رپورٹس شائع کرتے ہیں۔ صحافتی ادارے ان رپورٹس کو خبروں میں تبدیل کرتے ہیں۔ ماہرین ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہیں۔ مقامی سول سوسائٹی اپنے تجربات بیان کرتی ہے اور عام صارف انہی معلومات کو دوبارہ سوشل میڈیا پر پھیلاتا ہے۔
اس پورے عمل میں ریاستی پالیسی، آزاد تحقیق، صحافت، advocacy اور propaganda کے درمیان فرق برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
کسی صحافی کا چین کے کسی منصوبے پر تنقید کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ امریکی فنڈنگ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح کسی چینی منصوبے کی تعریف کرنے والے شخص کو چینی اثر و رسوخ کا نمائندہ قرار دینا بھی شواہد کے بغیر درست نہیں۔
یہ فرق خاص طور پر ویتنام جیسے ملک میں اہم ہے جہاں مقامی میڈیا اور سیاسی نظام خود سخت ریاستی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ مگر میڈیا کو اس مہم سے باہر کرنا بھی درست نہیں، کسی نا کسی صورت میں میڈیا یا مخصوص نیڈیا مالکان صحافی اس میں ملوث ہونے کا امکان ہے۔
ویتنام میں سوشل میڈیا کی اہمیت
ویتنام میں روایتی میڈیا پر ریاست کا مضبوط کنٹرول ہے، لیکن سوشل میڈیا نے معلومات کے بہاؤ کو تبدیل کیا ہے۔
Facebook، YouTube اور دیگر پلیٹ فارمز ویتنامی عوام میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔اسی لئے چین، امریکا اور خود ویتنام تینوں کیلئے ڈیجیٹل معلوماتی ماحول اہم ہے۔ چین اپنی اقتصادی کامیابی، انفراسٹرکچر اور علاقائی تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔ امریکا قانون کی حکمرانی، آزاد سمندری راستوں، سپلائی چین diversification اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر زور دیتا ہے۔ ویتنام اپنی طرف سے قومی خودمختاری، معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔یوں سوشل میڈیا ایک ایسا میدان بن جاتا ہے جہاں ایک ہی واقعے کی تین مختلف تشریحات سامنے آ سکتی ہیں۔
چین کے منصوبے: ناکامی یا بیانئے کا مسئلہ؟
Cat LinhHa-Dong منصوبے کی تاخیر اور اضافی لاگت حقیقی اور قابلِ بحث مسائل ہیں۔ لیکن اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا چین کے ہر انفراسٹرکچر منصوبے کو اسی ایک تجربے کی بنیاد پر پرکھا جا سکتا ہے؟
یہاں بھی جواب نہیں میں ہے۔
چینی منصوبوں کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ لینے کیلئے الگ الگ عوامل دیکھنے پڑتے ہیں:
اصل لاگت کیا تھی؟
حتمی لاگت کتنی ہوئی؟
قرض کی شرائط کیا تھیں؟
شرح سود کیا تھی؟
تعمیر میں تاخیر کس وجہ سے ہوئی؟
مقامی حکومت کی ذمہ داری کیا تھی؟
چینی کمپنی کی ذمہ داری کیا تھی؟
منصوبے سے طویل المدت معاشی فائدہ کتنا ہوا؟
صرف ’’چین نے منصوبہ بنایا اور منصوبہ مہنگا ہوگیا‘‘ کہنا مکمل تجزیہ نہیں۔ اسی طرح ’’چینی منصوبہ ہے اس لئے وہ لازماً اسٹریٹجک جال ہے‘‘ کہنا بھی تحقیقی معیار پر پورا نہیں اترتا۔
امریکا کا مقصد: چین کو روکنا یا متبادل پیدا کرنا؟
واشنگٹن کی چین پالیسی کو ایک جملے میں بیان کرنا مشکل ہے، لیکن اس کے چند واضح عناصر ہیں۔
امریکا چین کو ایسی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے جو ایشیا اور عالمی معیشت میں اس کے اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اسی لئے واشنگٹن چاہتا ہے کہ اتحادی اور شراکت دار ممالک چین پر حد سے زیادہ معاشی، تکنیکی اور سیکیورٹی انحصار سے بچیں۔
اس مقصد کے لیے امریکا، سپلائی چینز کو diversify کرنا چاہتا ہے۔ سیمی کنڈکٹر اور جدید ٹیکنالوجی میں چین کے اثر کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ انڈو پیسیفک میں بحری شراکت داری مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ویتنام، فلپائن، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھاتا ہے۔ چینی انفراسٹرکچر کے متبادل مالیاتی اور اقتصادی ماڈل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ سب وسیع تر Strategic Competition کا حصہ ہے۔
مگر ویتنام کسی کا اتحادی بننے کیلئے تیار نہیں، ویتنام کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہے کہ وہ امریکا کے قریب آتے ہوئے بھی چین کو چھوڑ نہیں رہا۔ اس کی وجہ صرف نظریاتی نہیں بلکہ جغرافیائی اور معاشی بھی ہے۔
چین ویتنام کا ہمسایہ ہے۔ دونوں کی سرحد ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے۔ دونوں ممالک کی تجارت وسیع ہے اور ویتنام کی صنعتی سپلائی چین کا ایک بڑا حصہ چین سے جڑا ہے۔
دوسری طرف امریکا ویتنام کی برآمدات کیلئے ایک انتہائی اہم منڈی ہے۔ لہٰذا ہنوئی کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں کہ امریکا یا چین؟
اصل سوال یہ ہے، کہ امریکا اور چین دونوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے ویتنام اپنی خودمختاری کیسے برقرار رکھ سکتا ہے؟
یہی Bamboo Diplomacy کی اصل روح ہے۔
جنوبی ایشیا کیلئے سبق
ویتنام کا تجربہ صرف جنوب مشرقی ایشیا تک محدود نہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے بھی اس میں اہم اسباق موجود ہیں۔
بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں چھوٹی اور درمیانی ریاستیں اکثر ایک طاقت کا مکمل انتخاب کرنے کے بجائے متعدد شراکت داروں کے درمیان توازن پیدا کرتی ہیں۔
چین انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری فراہم کر سکتا ہے۔
امریکا ٹیکنالوجی، برآمدی منڈی، مالیاتی اداروں اور سیکیورٹی تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہونا چاہئے کہ، کسی منصوبے کی فنڈنگ کہاں سے آئی؟ قرض ہے یا گرانٹ؟ شرح سود کیا ہے؟ واپسی کا شیڈول کیا ہے؟
مقامی معیشت کو کتنا فائدہ ہوگا؟ ٹیکنالوجی کی منتقلی کتنی ہوگی؟ مقامی روزگار کتنا پیدا ہوگا؟ ماحولیاتی اور قومی سلامتی کے اثرات کیا ہوں گے؟
اور سب سے اہم، کیا منصوبہ قومی مفاد کے مطابق ہے یا کسی بڑی طاقت کی جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ بن رہا ہے؟
یہ سوال چین کے منصوبوں کیلئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا امریکی یا مغربی منصوبوں کیلئے۔
ویتنام میں چین اور امریکا کی رقابت کو صرف ’’چین بمقابلہ امریکا‘‘ کے طور پر دیکھنا تصویر کا ایک حصہ ہے۔
ایک طرف چین ہے جس کے پاس جغرافیائی قربت، بڑی معیشت، وسیع تجارتی روابط اور انفراسٹرکچر کی صلاحیت ہے۔
دوسری طرف امریکا ہے جو انڈو پیسیفک میں اتحادوں، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، سپلائی چین اور سیکیورٹی شراکت داری کے ذریعے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان ویتنام ہے جو نہ چین سے مکمل دوری چاہتا ہے اور نہ امریکا کا باقاعدہ اتحادی بننا۔
ویتنام کی حکمت عملی کا بنیادی سبق یہی ہے کہ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں قومی خودمختاری صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ معاشی تنوع، متوازن خارجہ پالیسی، مضبوط اداروں اور اپنے مفادات کے واضح تعین سے بھی محفوظ ہوتی ہے۔
چینی منصوبوں کی ناکامیوں کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں اور ہر چینی منصوبے کو ناکامی یا سازش قرار دینا بھی نہیں۔
اسی طرح امریکی Strategic Competition کو محض ’’پروپیگنڈا‘‘ کہہ دینا بھی اتنا ہی نامکمل ہے جتنا واشنگٹن کے تمام اقدامات کو محض ’’جمہوریت اور آزادی‘‘ کی کوشش سمجھ لینا۔
اصل کہانی ان دونوں بیانیوں کے درمیان موجود مفادات، پیسے، قرض، تجارت، ٹیکنالوجی، بحری راستوں اور طاقت کے توازن میں چھپی ہوئی ہے۔
اور ویتنام اس پوری عالمی کشمکش میں شاید اس لئے سب سے دلچسپ مثال ہے کہ وہ دونوں بڑی طاقتوں سے تعلق رکھتا ہے، دونوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، دونوں سے اختلاف بھی کرتا ہے اور کسی ایک کے سامنے اپنی خارجہ پالیسی مکمل طور پر نہیں چھوڑتا۔ٕ
یہ بھی ملاحظی کیجئے: ملائیشیا میں امریکہ اور چین کا اسٹریٹجک مقابلہ: امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد، فنڈنگ میکانزم اور پراکسی نیٹ ورکس کا تحقیقی جائزہ
Executive Overview
The geopolitical rivalry between the United States and China in Southeast Asia has expanded beyond traditional military and diplomatic domains into economics, infrastructure, technology, media, and public narratives. Within this complex landscape, Vietnam serves as a unique and critical case study. Rather than aligning with a single superpower, Hanoi practices “Bamboo Diplomacy” maintaining strong roots while flexibly adapting its branches to safeguard national interests between two competing global powers.
Key Themes of the Article
1. Bamboo Diplomacy: Vietnam’s Strategic Balance
- The Dual Reality: Vietnam shares a long land border and deep economic integration with China, making complete economic decoupling practically impossible and financially prohibitive. Simultaneously, Hanoi has elevated its ties with Washington (reaching a Comprehensive Strategic Partnership in September 2023) and opposes Beijing’s assertiveness in the South China Sea (referred to in Vietnam as the East Sea).
- Avoiding Bloc Politics: Vietnam refuses to join camps, choosing instead to maximize economic and strategic benefits from both superpowers without sacrificing its national autonomy.
2. Economic Footprint and Infrastructure: The Case of the Cat Linh-Ha Dong Metro
- Loan-Based Financing: The Hanoi urban rail line, financed largely through a loan from the Export-Import Bank of China (China Exim Bank), is a key case study.
- Cost Overruns & Delays: The project’s cost rose from an initial estimate of ~$552.86M to ~$868.04M (a ~57% increase) and faced years of delays before opening in 2021.
- Nuanced Analysis: The author notes that characterizing such projects purely as “free Chinese aid” is factually incorrect (as they are loans backed by repayment responsibilities). Similarly, generalizing every Chinese infrastructure project as an automatic failure or a “debt trap” lacks rigorous empirical evaluation; each project must be assessed individually based on its terms, cost efficiency, and local impact.
3. Domestic Sensitivity and Sovereignty
- Bauxite Mining & Environmental Concerns: Projects like the Tân Rai and Nhân Cơ bauxite/alumina ventures in Vietnam’s Central Highlands sparked debates over environmental hazards (industrial red mud), the presence of foreign workers, and national security.
- Protests and Historical Caution: Historical complexities—including past wars and ongoing maritime disputes with China—shape domestic public opinion. For instance, widespread protests in 2018 against proposed Special Economic Zone laws regarding long-term land leases reflected public anxiety over potential foreign dominance.
4. US Strategic Competition in the Indo-Pacific
- Washington’s Objectives: The US views China as its primary strategic competitor. Its broader Indo-Pacific strategy aims to help partner nations diversify supply chains, counter Chinese dominance in advanced technologies (like semiconductors), and strengthen maritime security.
- Funding and Public Diplomacy: While Washington funds programs to counter Chinese influence, the author emphasizes a necessary journalistic distinction: labeling a program under “countering influence” does not automatically mean all its funds are used for “anti-China propaganda”; many support institutional transparency, legal literacy, and civil society.
5. The Digital Battleground and Narrative Wars
- Social Media Influence: With state-controlled traditional media, platforms like Facebook and YouTube have become critical arenas in Vietnam where competing narratives collide:
- China highlights economic achievements, infrastructure cooperation, and regional trade.
- The US emphasizes the rule of law, freedom of navigation, and supply chain resilience.
- Vietnam focuses on national sovereignty, economic growth, and domestic political stability.
Lessons for South Asia and Beyond
The article concludes that Vietnam’s approach offers valuable lessons for middle and smaller powers (such as Pakistan) navigating great-power competition:
- Rigorous Project Evaluation: States must critically evaluate foreign projects based on financial terms (loans vs. grants, interest rates), local employment generation, technology transfer, and environmental/security impacts.
- Sovereignty Through Balance: True national independence in a polarized world is protected not merely through military might, but through economic diversification, balanced foreign policies, institutional strength, and a clear definition of national interest.
- About the Author
Nasir Dawar is a field journalist, researcher, and editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, and security developments in Khyber Pakhtunkhwa and the former FATA. He has closely followed the Afghan conflict and developments in Afghanistan, with a particular focus on militancy, cross border security, and Pakistan, Afghanistan relations.
Dawar has reported extensively from conflict affected areas and has developed a specialized research focus on militant movements, regional security dynamics, and Afghan affairs. He serves as the Editor of The Khyber Times.
Contact: dawarjan@gmail.com +92 3109020962




