A composite news front page from 'The Khyber Times'. The top section shows a massive political rally for Imran Khan (inset photo, top right) against a backdrop of the Badshahi Mosque. The bottom section shows a devastating bomb blast site with police guarding rubble and an injured man in blood-stained clothing standing nearby.

خیبر پختونخوا کا بحران: اصل ایشوز، انتظامی الجھنیں اور گورننس کا سوال

دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر
خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ سے گزر رہا ہے جہاں سکیورٹی کا بحران، وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی، صوبائی حکومت کے انتظامی فیصلے اور پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی اس طرح گتھم گتھا ہو چکے ہیں کہ عام شہری کیلئے یہ تفریق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ ان کا اصل مسئلہ کیا ہے اور سیاسی نان ایشوز کون سے ہیں۔
صوبے کا بنیادی سوال کسی ایک سیاسی جماعت کی بقا، کسی رہنما کی رہائی یا وفاق اور صوبے کی بیان بازی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہریوں کو محفوظ زندگی، پولیس کو واضح کمانڈ، سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ انتظامی تعاون اور حکومت کو مؤثر حکمرانی کب اور کیسے ملے گی؟ یہ سوال اس لئے بھی ناگزیر ہے کیونکہ دہشتگردی کی موجودہ لہر نے صوبے کے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی، معیشت اور تعلیم کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ سیاسی محاذ آرائی نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امن: شہری کی اولین ضرورت
خیبر پختونخوا کے باسی کیلئے سب سے بنیادی مسئلہ امن ہے۔ اگر ایک خاندان کو اپنے بچے کے اسکول جانے، ایک تاجر کو دکان کھولنے اور ایک مسافر کو سڑک پر سفر کرنے کے بارے میں مسلسل خدشات لاحق ہوں، تو حکومت کی کارکردگی کا واحد پیمانہ یہی ہونا چاہئے کہ ریاست شہری کو کتنا محفوظ ماحول فراہم کر رہی ہے۔ اس تناظر میں سیاسی جلسے، احتجاج، الزامات اور باہمی اختلافات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔
تاہم، دوسری طرف سیاسی حکومت کا یہ مؤقف بھی اپنی حقیقت رکھتا ہے کہ امن و امان کی ذمہ داری اکیلی صوبائی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ سرحدی صورت حال، افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہ، وفاقی سکیورٹی پالیسی، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعاون مجموعی سکیورٹی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ اس لئے اس بحران کو محض صوبائی نا اہلی یا صرف وفاق کی ناکامی قرار دینا حقیقت کا ادھورا عکس پیش کرتا ہے۔
کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ابہام
حالیہ بحث میں پولیس کی کمانڈ اور اختیارات کا معاملہ بھی نمایاں ہوا ہے۔ اگر پولیس کے انتظامی یا آپریشنل اسٹرکچر میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں تو بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانونی طور پر کمانڈ کا ڈھانچہ کیا ہے، فیصلہ سازی کس کے پاس ہے اور کسی آپریشن کی کامیابی یا ناکامی پر جواب دہ کون ہوگا؟ اصل بحث کسی فرد کے پر کاٹنے کی نہیں بلکہ واضح کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ہے۔ اگر پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے درمیان حدود واضح نہ ہوں تو بحران کے وقت فیصلوں میں تاخیر اور جواب دہی کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
صوبائی کمانڈر کی اصطلاح بھی اب تک وضاحت طلب ہے۔ اگر روایتی پولیس چین آف کمانڈ کے علاوہ کسی اور عہدے دار کو وسیع اختیارات دئے گئے ہیں تو عوام اور اداروں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی قانونی حیثیت کیا ہے، ضلعی پولیس افسر کس کو جواب دہ ہے، اور دہشتگردی کے واقعے پر حتمی فیصلہ کون کرے گا۔
وفاق اور صوبے کے مابین فاصلہ:
وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان کشیدگی نئی نہیں، لیکن جب یہ تنازع سکیورٹی تک پہنچ جائے تو اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ وفاق کی طرف سے انتظامی تعاون کے فقدان کی شکایات اور صوبے کی جانب سے مداخلت کے الزامات کو الگ الگ رکھنے کے بجائے ایک مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ الزام کا جواب الزام نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی ہے۔
عمران خان کی رہائی پی ٹی آئی اور اس کے کارکنوں کا مرکزی سیاسی مطالبہ ہے، جو اپنی جگہ اہم سہی، لیکن یہ خیبر پختونخوا کے عام شہری کے روزمرہ سکیورٹی مسائل کا متبادل نہیں بن سکتا۔ صوبائی حکومت کی اولین آئینی ذمہ داری اپنے صوبے میں امن، صحت، تعلیم اور عوامی خدمات کی فراہمی ہے، بالکل اسی طرح جیسے وفاق کیلئے امن و امان ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
اصل ایشوز بمقابلہ نان ایشوز
اس وقت خیبر پختونخوا کے اصل عوامی ایشوز درج ذیل ہیں:
1. امن و امان: دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور شہریوں کا تحفظ۔
2. واضح سکیورٹی کمانڈ: پولیس، سی ٹی ڈی اور انتظامیہ کے درمیان ذمہ داریوں کا تعین۔
3. ادارہ جاتی تعاون: سیاسی اختلاف کے باوجود دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی۔
4. گورننس اور معیشت: صحت، تعلیم، روزگار اور بلدیاتی خدمات۔
اس کے برعکس، روزمرہ کے سیاسی بیانات، سوشل میڈیا کے ٹرینڈز اور وزراء کی لفظی جنگ ایسے نان ایشوز ہیں جن کا عام شہری کی زندگی سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکل 232 یا 234 جیسے آئینی شقوں کا محض سیاسی خوف پھیلانے کیلئے استعمال زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، جب تک کوئی مصدقہ فیصلہ سامنے نہ آئے۔
آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیاں اور احتجاجی شیڈول اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان یہی ہوگا کہ سیاسی سرگرمی اور صوبے کی سکیورٹی ضروریات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔
خیبر پختونخوا کا شہری یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ سیاسی بحث میں کون فاتح رہا؟
وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے علاقے میں امن کب آئیگا؟
اس کا بچہ محفوظ اسکول کیسے جائیگا؟ اور تاجر خوف کے بغیر کاروبار کب کریگا؟
اس بحران کا حل کسی نئے سیاسی نعرے میں نہیں، بلکہ واضح کمانڈ، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور جواب دہ حکمرانی میں ہے۔
سوال اب بھی وہی ہے: اگر امن ہی ریاست کی پہلی ذمہ داری ہے؟ تو تمام سیاسی و عسکری فریق اس مقصد کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھنے کا عملی راستہ کب تلاش کریں گے؟

Exclussive Summary

Khyber Pakhtunkhwa’s Crisis: Real Issues, Administrative Confusion, and the Question of Governance

Khyber Pakhtunkhwa is currently navigating a critical juncture where a worsening security crisis, federal-provincial political tensions, administrative restructuring, and political agitation have severely overlapped.

The Core Issue: The primary concern for the province is not political survival, leadership detention, or rhetorical blame games, but rather ensuring citizens’ safety, establishing a clear police command, fostering institutional cooperation, and delivering effective governance amidst a renewed wave of terrorism.

Peace as the Priority: While public safety remains the ultimate yardstick of governance, security cannot be blamed solely on the provincial administration; it requires coordinated efforts involving federal policies, intelligence sharing, and border management.

Command & Control Ambiguities: Recent debates regarding changes in police operational structures and the introduction of a “Provincial Commander” role highlight the urgent need for legal clarity, distinct chains of command, and clear accountability.

Real Issues vs. Political Noise: Daily political protests, rhetoric, social media trends, and institutional friction often overshadow actual public grievances such as target killings, extortion, police capability, health, education, and regional stability.

Path Forward: Resolving KP’s multifaceted crisis requires shifting away from political posturing toward measurable performance, institutional synergy, and an uncompromising focus on public safety and accountable governance.

About Author= Nasir Dawar Editor The khyber Times and researcher on KP and Afghanistan Issues. Contact: dawarjan@gmail.com