وزیرستان کا پھولوں کا میلہ: جو وقت کے گرد و غبار میں دفن ہو گیا
تحریر: احسان داوڑ
شمالی وزیرستان کا سب سے مشہور پھولوں کا میلہ، جسے عرفِ عام میں “دا گلونو نندارہ” (پھولوں کی نمائش) کہا جاتا تھا، اگرچہ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے، لیکن بڑے بوڑھے جب بھی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں تو اس میلے کا تذکرہ لازمی چھیڑتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر تو یاد نہیں کہ یہ روایت کب ختم ہوئی اور اس پر وقت کا گرد و غبار کیسے جم گیا، لیکن اپنے بزرگوں سے اس کے بارے میں اتنا کچھ سن رکھا ہے کہ اس کی ایک روشن تصویر ذہن میں محفوظ ہو چکی ہے۔
اسے پھولوں کا میلہ اس لئے کہا جاتا تھا کہ اس میں شرکت کرنے والا ہر شخص اپنے کانوں اور ہاتھوں میں ایک خاص قسم کا مقامی پھول، جسے “خوجارا” کہا جاتا تھا، سجا کر میلے میں شامل ہوتا تھا۔ یہ پھول موسمِ بہار میں ہمارے قریبی پہاڑوں پر وافر مقدار میں کھلتے تھے۔ لوگ جب یہ پھول توڑ کر لاتے تو میلے کا منظر ہی بدل جاتا۔ سخت اور کٹھن سردیوں کا موسم گزرنے کے بعد لوگ گویا ایک قسم کا جشنِ بہاراں منایا کرتے تھے۔
اس جشن کی نوعیت کے بارے میں میرے چچا، حاجی غفور خان بتاتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو انہوں نے خود کئی بار اس میلے میں شرکت کی تھی۔ پھولوں کا یہ میلہ کبھی “عیسوڑی” کے مقام پر “زوڑ کوٹ” میں منعقد ہوتا تھا اور کبھی حسوخیل میں مولانا یعقوب خان جامع مسجد کے قریب کھلے میدان میں سجایا جاتا تھا۔ ہر گاؤں کے لوگ اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی مخصوص روایتی ڈش لاتے اور اپنے گاؤں کے “ڈمان” (ڈھولچی و فنکار) کے ساتھ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہوئے اور روایتی رقص کرتے ہوئے جلوس کی صورت میں میلے کی جگہ پہنچتے۔
میلے میں پورا دن روایتی اتنڑ اور انفرادی رقص کے مقابلے جاری رہتے۔ 20 سے 30 ڈھول پورا دن ایک ساتھ گونجتے رہتے۔ پھر کھانے کا وقفہ ہوتا تو ہر گاؤں والے اپنی لائی ہوئی روایتی ڈشز میدان میں سجاتے اور سب مل کر ایک دوسرے کے دسترخوان سے لطف اندوز ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے گاؤں “زیرکی” سے آنے والی روایتی غذا “چیرائی” اور “پوستہ” کو لوگ بہت شوق سے تناول فرماتے تھے کیونکہ یہ ہمارے گاؤں کی خاص سوغات تھی، اسی طرح ہر گاؤں اپنی مخصوص ڈش لاتا جس کی سب دل کھول کر تعریف کرتے۔ ظہر کی نماز کے بعد چائے کا انتظام اسی گاؤں کی طرف سے ہوتا جہاں میلہ منعقد کیا جا رہا ہوتا۔
ہمارے گاؤں کے ایک اور بزرگ بتاتے ہیں کہ بہت پہلے اس میلے میں گاؤں کی بوڑھی خواتین بھی شرکت کرتی تھیں اور کھانے کے بڑے بڑے تھال اپنے سروں پر رکھ کر لاتی تھیں۔ قدیم زمانے میں یہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ اتنڑ میں بھی حصہ لیتی تھیں جسے “براگائی اتنڑ” کہا جاتا تھا۔ اس دور میں خواتین ایک خاص قسم کی بھاری قمیص پہنتی تھیں جسے “گانڑ خَت” (بھاری قمیص) کہا جاتا تھا۔ یہ قمیص کم از کم 22 گز کپڑے سے تیار کی جاتی تھی اور اس کیلئے “مُرینہ” نامی ایک مخصوص کپڑا استعمال ہوتا تھا، جسے دکاندار اکثر افغانستان کے علاقے خوست سے لایا کرتے تھے۔ آج کے جدید دور میں شاید یہ رواج عجیب معلوم ہو، لیکن ہمارے آبا و اجداد ہم سے زیادہ تہذیب یافتہ اور رواداری کے قائل تھے، جس کا اندازہ “براگائی اتنڑ” جیسی روایات سے لگایا جا سکتا ہے۔
اس زمانے میں گھر کی بوڑھی خواتین گھر کی عملی ملکہ ہوا کرتی تھیں اور انہی کا حکم چلتا تھا۔ ان کی عزت و احترام کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی بڑی عمر کی خاتون کو ان کے اصل نام سے نہیں پکارتا تھا بلکہ کنیت (فلاں کی ماں یا فلاں کی دادی) سے یاد کیا جاتا تھا۔ یہ خواتین سہ پہر کو اپنے گاؤں کے مردوں کے ساتھ ہی باوقار انداز میں واپس گھروں کو لوٹ جاتی تھیں۔ پھولوں کے اس میلے میں خواتین بھی ہاتھوں میں “خوجارا” کے پھول سجا کر شریک ہوتی تھیں، جو ان کے گھر والے پہاڑوں سے ان کیلئے توڑ کر لاتے تھے۔
یہ میلہ تین دن تک جاری رہتا تھا اور تمام لوگ بغیر کسی تفریق کے اس میں اپنا حصہ ڈالتے تھے۔ یہ میلہ ارد گرد کے دیہاتوں کے باشندوں کے مابین باہمی اخوت، پیار اور یکجہتی کو فروغ دینے کا ایک شاندار ذریعہ تھا، جس کی وجہ سے پورا علاقہ ایک اجتماعی پلیٹ فارم پر متحد رہتا تھا۔
جوں جوں ہماری نام نہاد ترقی کی راہیں کھلتی گئیں، ہم نے اپنے اس اتحاد، اجتماعیت اور اخوت کو داؤ پر لگا دیا اور جو رہی سہی کسر تھی وہ سرکاری بے حسی اور پالیسیوں نے پوری کر دی۔ امریکہ اور دیگر یورپین ممالک میں آج بھی ایسے قدیم قبائل موجود ہیں جنہیں حکومت کی طرف سے تمام تر سہولیات ملتی ہیں لیکن انہوں نے اپنے ہزاروں سال پرانے کلچر اور تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اس کے برعکس، ہم اپنی ثقافت کے دشمن خود ہیں اور حکومت نے بھی ہماری ثقافت و روایات پر وار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
چاہئے تو یہ تھا کہ ہمارے علاقے کی منفرد ثقافت اور تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاتے تاکہ یہ صدیوں پرانا تہذیبی ورثہ زندہ رہتا، لیکن نہ تو ہم نے خود اپنے ورثے کی قدر کی اور نہ ہی حکومت نے اس کی سرپرستی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہماری ہزاروں سال پر محیط سچی شناخت ختم ہوتی جا رہی ہے اور رفتہ رفتہ ہم تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو رہے ہیں۔
(ماخوذ از: “وزیرستان کا ثقافتی ورثہ”، تحریر: احسان داوڑ)
بابائے صحافت بھی پڑھئے:
افاقیات: اس کا نام سیلاب محسود نہیں ہونا چاہئے تھا!
Here is an exclusive summary of the passage in English, highlighting its key cultural insights and unique historical details:
Waziristan’s Forgotten Flower Festival: A Legacy of Unity, Tradition, and Cultural Elegance
1. Grand Festivities & Communal Feasts
-
The Rhythm of the Festival: The historic Da Glono Nandara (Flower Festival) featured daylong celebrations driven by the thunderous beat of 20 to 30 traditional drums accompanying energetic Attan (tribal dance) and solo performance competitions.
-
Culinary Traditions: Each participating village contributed signature traditional dishes to a collective feast. The author’s home village of Ziraki was renowned for its local delicacies, Chirai and Posta. Afternoon tea was hosted for the entire gathering by the host village following the Dhuhr prayer.
2. The Role of Women & Cultural Heritage
-
Active Participation: Matriarchs and elderly women held a revered status in the community, carrying large platters of food on their heads to the festival grounds.
-
Bragai Attan: In earlier eras, women participated alongside men in a unified traditional dance known as Bragai Attan, highlighting the progressive, inclusive, and civilized social order of ancestral Waziristan.
-
The Famous ‘Gan Khat’ Dress: Women wore an elaborate, heavy traditional gown called Gan Khat, crafted from an astounding 22 yards of fabric.
-
Imported ‘Mureena’ Cloth: The specialized fabric used for this attire, known as Mureena, was specifically imported by local traders from Khost, Afghanistan, reflecting historical cross-border trade and cultural aesthetics.
3. Social Respect & Lost Identity
-
Reverence for Matriarchs: Older women were treated as the true queens of their households and held immense authority; calling them directly by name was taboo, and they were always addressed respectfully through honorifics (e.g., “Mother of [X]”).
-
A Lost Cultural Heritage: The passage reflects on how modern shifts and state neglect have eroded these rich, harmonious traditions, urging the preservation of Waziristan’s centuries-old identity before it fades into history.





6 تبصرے “وزیرستان میں پھولوں کا میلہ، جو وقت کی گردو غبار میں دفن ہو چکا ہے۔ تحریر : احسان داوڑ”