دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر:
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سفارتی رابطے، سرحدی کشیدگی، سکیورٹی خدشات اور باہمی بداعتمادی ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کوئی نئی حقیقت نہیں۔ شاہی دور سے لے کر سردار داؤد، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کے ادوار تک اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ، باہمی شکایات اور تزویراتی اختلافات موجود رہے ہیں۔ تاہم موجودہ بحران کی نوعیت اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اب یہ تنازع صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ سرحدی علاقوں، تجارت، نقل و حرکت اور سکیورٹی کے مسائل سے براہ راست جڑ چکا ہے۔
طالبان کے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں ایک مرحلے پر یہ توقع پیدا ہوئی کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ماضی کے مقابلے میں زیادہ قریبی تعلقات قائم ہوں گے۔ پاکستان میں بعض حلقوں کو امید تھی کہ نئی افغان حکومت کے ساتھ سیاسی اور سکیورٹی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے دیرینہ مسائل کو نسبتاً آسانی سے حل کیا جا سکے گا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے تجربے نے ظاہر کیا کہ محض نظریاتی قربت، تاریخی روابط یا جغرافیائی مجبوریوں کی بنیاد پر پائیدار اعتماد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
آج بحران کا بنیادی مرکز اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان اور بعض دیگر مسلح گروہوں کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے جگہ مل رہی ہے۔ افغان عبوری حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اپنی سرزمین کے بارے میں کسی بھی بیرونی دباؤ کو اپنی خودمختاری کے مسئلے سے جوڑتی ہے۔ یہی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان ہر نئے سکیورٹی واقعے کو محض ایک الگ واقعہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک بڑے سفارتی اور تزویراتی تنازع میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اس بحران میں سب سے نمایاں علاقائی کردار چین کا ہے۔ بیجنگ کیلئے پاک افغان کشیدگی صرف دو ہمسایہ ممالک کا باہمی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اپنے معاشی اور سلامتی کے مفادات سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری، خاص طور پر سی پیک اور سی پیک ٹو سے متعلق منصوبے، چینی شہریوں اور منصوبوں کی سلامتی اور افغانستان کے مستقبل میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے بیجنگ کو اس بحران سے لاتعلق رہنے کی اجازت نہیں دی۔
چین نے اسی پس منظر میں اسلام آباد اور کابل کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کیں۔ ارومچی میں مذاکراتی عمل اور افغانستان کیلئے چین کے خصوصی نمائندے کی سرگرمیاں اس بات کی علامت تھیں کہ بیجنگ محض رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔ چین کا طریقہ کار عمومی طور پر خاموش سفارت کاری، مسلسل رابطے اور فریقین کو کسی مشترکہ کم سے کم ایجنڈے پر لانے پر مرکوز رہا ہے۔ اس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ چین افغانستان کو صرف سکیورٹی کے زاوئے سے نہیں دیکھتا بلکہ اسے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک ممکنہ تجارتی اور معاشی رابطے کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔
چینی کوششوں کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بیجنگ کے اپنے سکیورٹی تحفظات موجود ہیں۔ افغانستان میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر ایسے گروہوں کی موجودگی جنہیں چین اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے، اس کیلئے براہ راست تشویش کا باعث ہے۔ چین کی خواہش ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم کیلئے استعمال نہ ہو جو چینی مفادات یا چینی شہریوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہو۔ اس لئے افغانستان کے بارے میں چینی پالیسی کو صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ چین کے وسیع تر علاقائی سلامتی کے تصور کا حصہ بھی ہے۔
اسی طرح افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی امکانات میں چینی دلچسپی بیجنگ کیلئے ایک اور محرک ہے۔ چین افغانستان میں معدنیات، توانائی، انفراسٹرکچر اور علاقائی رابطوں کے امکانات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لیکن کسی بھی بڑے معاشی منصوبے کیلئے سکیورٹی اور سیاسی استحکام بنیادی شرط ہیں۔ اگر افغانستان اور پاکستان کے درمیان مستقل محاذ آرائی قائم رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف سرحدی تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں معاشی رابطوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر پڑ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چین کی سفارتی کوششوں کو محض ثالثی کہنا شاید کافی نہیں۔ بیجنگ بیک وقت کئی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے: پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو محفوظ رکھنا، افغانستان میں غیر یقینی صورت حال کو قابو میں رکھنا، چینی مفادات اور شہریوں کو ممکنہ خطرات سے بچانا اور افغانستان کو ایسے راستے پر لانا جہاں علاقائی معاشی انضمام کی گنجائش پیدا ہو۔
لیکن چین کی سفارتی کوششوں کی اپنی حدود بھی ہیں۔ کوئی بھی ثالث فریقین کو اس وقت تک بنیادی اختلافات سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا جب تک خود متعلقہ حکومتیں اپنے سکیورٹی اور سیاسی مفادات میں کچھ لچک پیدا نہ کریں۔ چین مذاکرات کا ماحول پیدا کر سکتا ہے، رابطے بحال کرا سکتا ہے اور اعتماد سازی کیلئے فریم ورک تجویز کر سکتا ہے، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی اختلافات کا حتمی فیصلہ بہرحال دونوں ریاستوں کو ہی کرنا ہوگا۔
ترکی نے اس بحران میں ایک مختلف مگر اہم انداز اپنایا ہے۔ انقرہ نے روایتی سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ سفارت کاری اور سکیورٹی روابط کو بھی استعمال کیا۔ ترکی کیلئے پاکستان اور افغانستان دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات اہم ہیں اور اسی لئے وہ خود کو ایسے فریق کے طور پر پیش کر سکتا ہے جو دونوں دارالحکومتوں سے بیک وقت بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترک انٹیلی جنس اور سفارتی ذرائع کی سرگرمیوں کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کابل، قندہار اور اسلام آباد میں رابطوں کا مقصد بسا اوقات ایسے معاملات پر بات چیت کیلئے راستہ پیدا کرنا ہوتا ہے جنہیں کھلے عام مذاکرات کی میز پر لانا سیاسی طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ترکی اور قطر کی کوششوں میں یہ پہلو خاص طور پر نمایاں رہا کہ جب فریقین کے درمیان براہ راست سیاسی اعتماد کم ہو تو پسِ پردہ رابطے کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور مذاکراتی راستہ کھولنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تاہم عارضی جنگ بندی اور مستقل سیاسی حل میں بنیادی فرق ہے۔ جنگ بندی اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب دونوں فریق فوری تصادم روکنے پر متفق ہو جائیں، لیکن پائیدار معاہدے کیلئے ان بنیادی مسائل پر اتفاق ضروری ہے جنہوں نے تصادم کو جنم دیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ترکی، قطر اور چین سمیت بیرونی ثالثوں کی کوششیں ایک حد تک پہنچ جاتی ہیں۔
اصل مسئلہ اس وقت بھی وہی ہے جو کئی برسوں سے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکتا رہا ہے: سکیورٹی کے مسئلے کی مختلف تشریحات۔ پاکستان کیلئے کالعدم ٹی ٹی پی اور سرحد پار مسلح کارروائیاں بنیادی قومی سلامتی کا مسئلہ ہیں، جبکہ کابل اس معاملے کو اپنی خودمختاری، داخلی نظم اور اپنے خلاف کسی بھی دباؤ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ جب تک ان دونوں تصورات کے درمیان کوئی قابلِ عمل مشترکہ فارمولہ نہیں بنتا، محض سفارتی ملاقاتیں بحران کو کچھ وقت کیلئے منجمد تو کر سکتی ہیں لیکن اسے ختم نہیں کر سکتیں۔
سرحدی کشیدگی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چمن، طورخم اور دیگر کراسنگ پوائنٹس پر بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے تجارت، مسافروں، مریضوں، طلبہ اور سرحدی آبادیوں کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ افغانستان کیلئے پاکستان ایک اہم تجارتی اور راہداری راستہ ہے جبکہ پاکستان کیلئے بھی افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی ایک وسیع تر معاشی امکان رکھتی ہے۔ اس لئے دونوں ممالک کی طویل محاذ آرائی کا نقصان صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرحدی علاقوں کے عام لوگوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس پس منظر میں چین اور ترکی کی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، مگر ایک کامیاب علاقائی سفارتی عمل کیلئے ثالثوں کے درمیان بھی غیر رسمی ہم آہنگی ضروری ہوگی۔ چین معاشی اور اسٹریٹجک وزن رکھتا ہے، ترکی سفارتی اور سکیورٹی روابط کا ایک مختلف نیٹ ورک رکھتا ہے جبکہ قطر پہلے ہی افغان تنازع سے متعلق مذاکراتی پس منظر رکھتا ہے۔ اگر یہ کوششیں الگ الگ چینلز کے بجائے کسی مشترکہ سفارتی فریم ورک میں آگے بڑھیں تو اعتماد سازی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
روس کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں قابلِ توجہ ہے۔ ماسکو کے حالیہ مؤقف یا بیانات کو افغانستان میں سلامتی کی صورت حال کے بارے میں اس کی اپنی تشویش کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ روس پہلے ہی وسطی ایشیا میں اپنی سلامتی اور سرحدی استحکام کے بارے میں حساس ہے، اس لئے افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی ممکنہ علاقائی توسیع اس کیلئے بھی اہم مسئلہ ہے۔ تاہم کسی ایک ملک کے بیان کو مکمل پالیسی تبدیلی یا کسی فریق کے پورے بیانئے کی حتمی تردید قرار دینا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے مختلف علاقائی طاقتوں کے خدشات ایک دوسرے سے بڑھتے ہوئے جڑ رہے ہیں۔
تاجکستان کے تحفظات بھی اسی بڑے علاقائی سکیورٹی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ وسطی ایشیا کی ریاستیں افغانستان میں مسلح گروہوں کی موجودگی، سرحدی عدم استحکام اور شدت پسند نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی رہی ہیں۔ اس لیے پاک افغان تنازع اب صرف دو ممالک کے درمیان اختلاف نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات چین، روس، تاجکستان، ایران، وسطی ایشیا اور خلیجی ریاستوں کے مفادات تک پھیل رہے ہیں۔
افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی نگرانی اور مختلف رپورٹوں میں عسکریت پسند گروہوں اور دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے متعلق خدشات بارہا زیر بحث آئے ہیں۔ تاہم اس پورے معاملے میں ایک بنیادی اصول برقرار رہنا چاہئے: ہر الزام اور ہر سکیورٹی دعوے کو قابلِ تصدیق شواہد، آزادانہ تصدیق اور واضح ذمہ داری کے تعین کے ساتھ دیکھا جائے۔ یہی وہ معیار ہے جو مستقبل کے کسی بھی پاک افغان معاہدے کو محض سیاسی اعلان کے بجائے عملی سکیورٹی انتظام میں تبدیل کر سکتا ہے۔
موجودہ بحران یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسئلہ صرف رابطے کی کمی نہیں بلکہ اعتماد کی کمی ہے۔ چین اس اعتماد کو معاشی مفادات اور اسٹریٹجک ضمانتوں کے ذریعے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ترکی نسبتاً خاموش سفارت کاری، سکیورٹی روابط اور پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر دونوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایسے فریقین کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں جو اپنے بنیادی مؤقف کو محض سفارتی دباؤ کی وجہ سے تبدیل کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔
اس لئے مستقبل کا سوال یہ نہیں کہ چین یا ترکی میں سے کون زیادہ مؤثر ثالث ثابت ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا اسلام آباد اور کابل اپنی بنیادی سکیورٹی تشویشوں کے حوالے سے کوئی ایسا قابلِ تصدیق اور باہمی قابلِ قبول نظام وضع کر سکتے ہیں جس میں وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کی پیمائش ممکن ہو۔
ایک پائیدار حل کیلئے کم از کم تین سطحوں پر پیش رفت درکار ہوگی۔ پہلی سطح پر سرحدی کشیدگی کو مستقل طور پر کم کرنا ہوگا، دوسری سطح پر مسلح گروہوں اور سرحد پار حملوں سے متعلق قابلِ تصدیق سکیورٹی نظام بنانا ہوگا، اور تیسری سطح پر تجارت، آمدورفت اور عوامی روابط کو سیاسی تنازع سے الگ رکھنے کا طریقہ وضع کرنا ہوگا۔ چین اور ترکی اس عمل کو سہارا دے سکتے ہیں، فریقین کو ایک دوسرے سے بات کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں اور اعتماد سازی کیلئے ضمانتیں فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پائیدار امن کی بنیادی ذمہ داری اسلام آباد اور کابل ہی پر عائد ہوگی۔
اگر یہ موقع بھی محض عارضی جنگ بندیوں، سفارتی بیانات اور محدود پسِ پردہ رابطوں تک رہ گیا تو پاک افغان تعلقات ایک ایسے طویل تعطل میں داخل ہو سکتے ہیں جس میں سکیورٹی بحران، اقتصادی نقصان اور انسانی مشکلات ایک دوسرے کو مزید بڑھاتے رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر علاقائی ثالثی کو ایک واضح، مرحلہ وار اور قابلِ تصدیق مذاکراتی عمل میں تبدیل کیا گیا تو موجودہ بحران محض ایک نئی سرحدی محاذ آرائی کے بجائے ایک زیادہ جامع علاقائی سکیورٹی اور معاشی فریم ورک کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
Summery:
Pakistan-Afghanistan Stalemate: China and Türkiye’s Diplomatic Efforts and the Missing Link to Sustainable Peace
Pakistan-Afghanistan relations have once again entered a highly strained phase marked by deteriorating trust, border tensions, security concerns, and diplomatic deadlock. Although disagreements between the two countries have existed throughout different political eras in Afghanistan, the current crisis has become more complex because security disputes are now directly affecting border crossings, trade, movement, and local communities.
At the heart of the current impasse is a fundamental disagreement over security. Pakistan maintains that militant groups, particularly the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP), are using Afghan territory to carry out attacks against Pakistan. The Afghan authorities reject these accusations and emphasize Afghanistan’s sovereignty. This sharply contrasting understanding of the security issue has made every new border or militant incident part of a much wider strategic dispute.
China has emerged as one of the most important regional actors attempting to reduce tensions. Beijing’s concerns extend beyond the bilateral relationship because instability between Pakistan and Afghanistan directly affects Chinese economic and security interests. Chinese investments in Pakistan, including CPEC-related projects, the security of Chinese citizens, and Beijing’s growing economic interest in Afghanistan all provide strong incentives for China to encourage dialogue between the two sides.
Through diplomatic engagement, including the Urumqi talks and the activities of China’s special representative for Afghanistan, Beijing has sought to bring Islamabad and Kabul to the negotiating table. China’s approach has focused on sustained diplomatic contact, confidence-building, and encouraging both sides to identify areas of common interest. Beijing also views Afghanistan as a potential bridge between South and Central Asia and therefore has an interest in regional connectivity, trade, infrastructure, energy, and investment.
China also has its own security concerns. The presence of groups such as the East Turkistan Islamic Movement (ETIM) and other militant networks in Afghanistan remains an issue for Beijing. China therefore seeks assurances that Afghan territory will not be used against Chinese interests or citizens. At the same time, instability in Afghanistan could undermine broader regional economic projects and investment plans.
Türkiye has pursued a somewhat different diplomatic approach. Alongside conventional state-to-state diplomacy, Ankara has relied on discreet contacts, security channels, and back-channel engagement. Its relations with both Pakistan and Afghanistan allow Türkiye to communicate with the two sides and support efforts aimed at reducing tensions.
Turkish and Qatari diplomatic and security contacts have been particularly relevant when direct negotiations become politically difficult. Such back-channel efforts can help create temporary ceasefires, reopen communication, and prepare the ground for formal talks. However, an important distinction remains between securing a temporary cessation of hostilities and achieving a lasting political settlement.
The central challenge for both China and Türkiye is therefore not simply bringing the two sides together but helping them address the underlying causes of mistrust. External mediation can create an environment for dialogue, but it cannot substitute for concrete policy decisions by Islamabad and Kabul.
The crisis also has wider regional implications. Russia and Central Asian states, particularly Tajikistan, have their own concerns about militant networks, instability, and the possible regional spillover of insecurity from Afghanistan. As a result, the Pakistan-Afghanistan dispute is increasingly connected to the wider security and economic interests of China, Russia, Central Asia, Iran, and the Gulf states.
A sustainable settlement will require more than diplomatic statements or temporary ceasefires. It would need a verifiable security mechanism, sustained reduction in border tensions, and arrangements that protect trade, movement, and people living along the frontier. China and Türkiye can facilitate communication, support confidence-building, and encourage a structured negotiation process, but a durable settlement ultimately depends on Pakistan and Afghanistan addressing their core security concerns through mutually acceptable and verifiable commitments.
About the Author: Nasir Dawar is Editor of The Khyber Times and a researcher and journalist focusing on Pakistan, Afghanistan, security, geopolitics, and developments in the tribal belt. Contact: dawarjan@gmail.com.




