"An analytical graphic featuring portraits of former Afghan leaders including Hamid Karzai, Ashraf Ghani, Gulbuddin Hekmatyar, and Abdullah Abdullah at the top, and an illustrative scene of former President Hamid Karzai interacting with Taliban representatives at the bottom, overlaid with Urdu text reading 'Hamid Karzai to the Taliban: Power, Promises, and Shifting Political Realities in Afghanistan'."

حامد کرزئی سے طالبان تک: افغانستان میں اقتدار، وعدے اور بدلتی ہوئی سیاسی حقیقت

تحریر: ناصر داوڑ

افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کو سمجھنے کیلئے صرف اگست 2021 میں طالبان کی کابل واپسی کو دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پیچھے گزشتہ پچیس برس کی ایک پیچیدہ سیاسی تاریخ ہے جس میں بون کانفرنس، لویہ جرگہ، عبوری حکومت، آئین، انتخابات، جنگجو کمانڈروں کا اثر، امریکی و نیٹو موجودگی، طالبان کی مزاحمت اور بالآخر سابق حکومت کا خاتمہ شامل ہے۔
اسی تاریخ کے مرکز میں ایک نام حامد کرزئی کا بھی ہے۔
ستمبر 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کی نقل و حرکت اور ان سے ملاقاتوں پر طالبان کی جانب سے مبینہ پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ افغانستان انٹرنیشنل نے 23 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ طالبان فورسز نے کرزئی کی رہائش گاہ کے قریب کارروائی کی اور ان سے ملنے آنے والے افراد کو منتشر کیا۔ ان رپورٹس کے مطابق اس سے پہلے بھی ان کی ملاقاتوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق اور طالبان حکومت کا مکمل مؤقف اس معاملے کو سمجھنے کیلئے اہم ہے، لیکن اگر یہ پابندیاں اسی طرح موجود ہیں تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگست 2021 میں سابق حکومتی اہلکاروں کیلئے اعلان کی جانے والی عام معافی کا عملی دائرہ کہاں تک ہے؟
یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ حامد کرزئی آج کسی مسلح مزاحمتی گروہ کے سربراہ نہیں بلکہ وہ شخص ہیں جسے 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے نئے سیاسی نظام کی تعمیر کیلئے سامنے لایا گیا تھا۔

بون سے کابل تک
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان عالمی سیاست کا مرکز بن گیا۔ امریکا نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور اکتوبر 2001 میں افغانستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی۔
طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سوال یہ تھا کہ افغانستان کا نیا سیاسی نظام کس طرح قائم کیا جائے؟
اسی مقصد کیلئے جرمنی کے شہر بون میں افغان سیاسی گروہوں اور عالمی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ بون معاہدہ 5 دسمبر 2001 کو طے پایا۔
معاہدے کے تحت افغانستان میں ایک عبوری انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا اور حامد کرزئی کو اس انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 22 دسمبر 2001 کو باضابطہ طور پر اقتدار سنبھالا۔ یہ افغانستان کیلئے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز تھا۔
کرزئی کے سامنے ایک ایسا ملک تھا جہاں دو دہائیوں کی جنگ نے ریاستی اداروں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ وزارتیں، انتظامی ڈھانچہ، پولیس، فوج اور عدالتی نظام یا تو تباہ ہو چکے تھے یا مختلف سیاسی اور عسکری قوتوں میں تقسیم تھے۔ اس لئے کرزئی حکومت کے ابتدائی برس صرف سیاسی اقتدار کے حصول کا مرحلہ نہیں تھے بلکہ ریاستی اداروں کی ازسرنو تعمیر کا دور بھی تھے۔

لویہ جرگہ اور کرزئی کی نئی حیثیت
جون 2002 میں کابل میں ایمرجنسی لویہ جرگہ منعقد ہوا۔ افغانستان کے مختلف علاقوں اور سیاسی و سماجی حلقوں سے نمائندے اس عمل میں شریک ہوئے۔
اسی جرگے نے مشترکہ فیصہے یکے تحت حامد کرزئی کو عبوری انتظامیہ کا سربراہ برقرار رکھا اور ان کی سیاسی حیثیت کو مزید وسیع قومی بنیاد فراہم کی۔
یہاں ایک تاریخی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ افغانستان کی سیاسی تاریخ میں 2002، 2003 اور 2004 کے لویہ جرگے مختلف مقاصد کے لئے منعقد ہوئے۔ 2002 کا لویہ جرگہ عبوری سیاسی انتظام کے بارے میں تھا، جبکہ 2003-04 کے آئینی جرگے کا بنیادی مقصد نئے آئین کی منظوری تھا۔
جنوری 2004 میں افغانستان کا نیا آئین منظور ہوا جس نے ملک کیلئے صدارتی جمہوری نظام کی بنیاد رکھی۔
اس آئینی عمل کے بعد وہ مرحلہ آیا جس نے حامد کرزئی کو عبوری حکمران سے منتخب صدر میں تبدیل کر دیا۔

افغانستان کا پہلا منتخب صدر
9 اکتوبر 2004 کو افغانستان میں صدارتی انتخابات ہوئے۔ حامد کرزئی نے تقریباً 55 فیصد ووٹ حاصل کئے اور افغانستان کے پہلے منتخب صدر بنے۔
انہوں نے دسمبر 2004 میں باضابطہ طور پر صدر کا منصب سنبھالا۔
2009 کے صدارتی انتخابات میں بھی کرزئی کامیاب قرار پائے اور دوسری مدت کیلئے صدر بن گئے۔ ان کا دور صدارت 2014 میں ختم ہوا اور اسی سال اقتدار اشرف غنی کے حوالے کیا گیا۔
یوں حامد کرزئی دسمبر 2001 سے ستمبر 2014 تک افغانستان کے سیاسی نظام کے مرکزی کردار رہے۔
یہ تقریباً تیرہ برس کا عرصہ تھا، لیکن اس پورے عرصے کو ایک ہی نوعیت کی حکمرانی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس دوران ان کی حیثیت تین مختلف مراحل سے گزری: عبوری انتظامیہ کے سربراہ، عبوری سیاسی انتظام کے سربراہ اور پھر منتخب صدر۔
افغانستان کی سیاست میں حامد کرزئی کے بارے میں ایک مشہور سیاسی تاثر تھا کہ ان کی حکومت کا اصل اثر کابل سے باہر محدود ہے۔ بعض مغربی صحافیوں نے اسی تناظر میں انہیں طنزیہ طور پر “Mayor of Kabul” بھی کہا۔
لیکن اس جملے کو مکمل تاریخی حقیقت سمجھنا بھی درست نہیں۔
کرزئی آئینی طور پر پورے افغانستان کے صدر تھے اور ان کی حکومت نے ملک کے بیشتر حصوں میں وزارتیں، صوبائی انتظامیہ، پولیس، فوج اور دیگر سرکاری ادارے قائم کئے۔ انتخابات بھی ملک کے مختلف حصوں میں ہوئے اور مرکزی حکومت نے وسیع تر انتظامی ڈھانچہ قائم کیا۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں مقامی کمانڈروں، قبائلی عمائدین، سابق مجاہدین، سیاسی گروہوں اور بعد میں طالبان کی مسلح مزاحمت کا اثر موجود رہا۔ بعض صوبوں میں مرکزی حکومت کی عمل داری نسبتاً مضبوط تھی جبکہ دور دراز علاقوں میں مقامی طاقتور شخصیات زیادہ بااثر تھیں۔
امریکی اور نیٹو افواج بھی اس عرصے میں افغانستان کی سکیورٹی میں بنیادی کردار ادا کر رہی تھیں۔
اس لئے کرزئی دور کو نہ مکمل طور پر کابل تک محدود حکومت کہا جا سکتا ہے، اور نہ ہی ایسا دور، جس میں مرکزی ریاست پورے ملک پر یکساں قوت کے ساتھ قابض تھی۔ یہ دراصل ایک ایسی ریاست تھی جو بیک وقت تعمیر بھی ہو رہی تھی، اور مسلح تنازعے سے بھی دوچار تھی۔

حامد کرزئی کے حامی افغانستان میں آئین، انتخابات، پارلیمانی اداروں، سرکاری ڈھانچے، میڈیا کی آزادی، خواتین کی تعلیم اور عالمی برادری کے ساتھ نئے تعلقات کو ان کے دور کے اہم نتائج میں شمار کرتے ہیں۔
دوسری طرف ان کے دور پر بدعنوانی، کمزور ریاستی اداروں، جنگجو کمانڈروں کے اثر، انتخابی تنازعات اور سکیورٹی کی خراب صورت حال کے حوالے سے شدید تنقید بھی ہوتی رہی۔
اس لئے یہ کہنا کہ کرزئی نے افغانستان کو مکمل طور پر ایک نیا نظام دے دیا، ایک سیاسی یا تجزیاتی رائے ہے، تاریخی حقیقت نہیں۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ، 2001 کے بعد افغانستان میں ایک نیا آئینی اور انتظامی ڈھانچہ قائم ہوا اور کرزئی اس پورے عمل کے مرکزی سیاسی کردار تھے۔
پھر 2021 آیا، تقریباً دو دہائیاں بعد وہی افغان ریاست جسے 2001 کے بعد تعمیر کیا گیا تھا، اگست 2021 میں تیزی سے ٹوٹنے لگی۔
طالبان نے ایک کے بعد دوسرا صوبائی مرکز اپنے قبضے میں لینا شروع کیا اور 15 اگست کو کابل میں داخل ہوگئے۔ اسی روز صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ گئے۔

غنی کے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے کو آج تک مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ غنی نے بعد میں وضاحت کی کہ انہوں نے مزید خونریزی روکنے کیلئے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان پر شدید تنقید بھی ہوئی اور بعض افغان سیاسی حلقوں نے اسے ریاستی نظام کے خاتمے کا اہم سبب قرار دیا۔
تاہم یہ کہنا کہ غنی نے طالبان کو “خوش آمدید” کہا، ایک سیاسی تعبیر ہے جسے تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنے کیلئے مزید شواہد درکار ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر تحقیقات کے مطابق غنی اور ان کے قریبی ساتھی 15 اگست کو افغانستان سے نکلے۔ وہ پہلے ازبکستان گئے اور بعد میں متحدہ عرب امارات پہنچے، جہاں یو اے ای حکومت نے غنی اور ان کے خاندان کو انسانی بنیادوں پر رہائش دینے کا اعلان کیا۔
2026 تک غنی کی مستقل رہائش متحدہ عرب امارات سے منسلک ہے، اگرچہ ان کی سیاسی سرگرمیاں افغانستان میں 2021 سے پہلے کی سطح پر نہیں رہیں۔
طالبان کی عام معافی کا اعلان:
طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد سابق حکومتی اہلکاروں، فوجیوں اور مخالفین کیلئے عام معافی کا اعلان کیا۔
اس اعلان کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ طالبان 1990 کی دہائی کے دور کو دہرانے کے بجائے ایک مختلف سیاسی طرز حکومت اختیار کریں گے۔
لیکن اس وعدے کے بعد سامنے آنے والی انسانی حقوق کی رپورٹس نے ایک مختلف تصویر بھی پیش کی۔
اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان، انسانی حقوق کے اداروں اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے سابق افغان سکیورٹی فورسز اور حکومت سے وابستہ افراد کے قتل، گرفتاری، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ کئے۔

عام معافی کا اعلان ایک سیاسی وعدہ تھا، جبکہ اس وعدے پر عمل درآمد کا سوال زمینی واقعات سے طے ہونا تھا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس میں ایسے واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے جن میں سابق سکیورٹی اہلکاروں اور حکومت سے وابستہ افراد کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات شامل تھے۔ طالبان نے بعض رپورٹس کو مسترد کیا، بعض واقعات کی مختلف وضاحتیں پیش کیں اور متعدد مواقع پر عام معافی کی پالیسی برقرار رکھنے کا دعویٰ کیا۔ یہی تضاد آج بھی افغان سیاسی بحران کا ایک بنیادی سوال ہے۔

حامد کرزئی نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، لیکن وہ کابل میں رہے۔ وہ طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا حصہ بھی نہیں بنے۔ اس کے باوجود انہوں نے خاص طور پر افغان لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے پر طالبان کی پالیسی کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے طالبان سے لڑکیوں کیلئے اسکول اور یونیورسٹیاں کھولنے کا مطالبہ کیا اور افغانستان میں جامع سیاسی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ستمبر 2026 میں ان کی رہائش گاہ اور ملاقاتوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹس اسی پس منظر میں اہم ہیں۔
اگر سابق صدر کو واقعی اپنے گھر میں رہنے، سیاسی گفتگو کرنے اور لوگوں سے ملاقات کرنے کیلئے بھی مخصوص اجازتوں کا پابند بنایا گیا ہے تو یہ سوال صرف ایک فرد کی آزادی کا نہیں رہتا بلکہ طالبان کی 2021 کی عام معافی اور سیاسی شمولیت کے وعدوں کے دائرہ کار سے بھی جڑ جاتا ہے۔

گلبدین حکمتیار کا مختلف راستہ
حامد کرزئی کے مقابلے میں گلبدین حکمتیار کی تاریخ بالکل مختلف ہے۔
حکمتیار حزب اسلامی کے سربراہ اور افغانستان کی جنگوں کے اہم کردار رہے۔ کئی برس بیرون ملک رہنے کے بعد 2016 میں انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور کابل واپس آئے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سیاسی گنجائش بھی محدود ہوئی۔
حالیہ برسوں میں حکمتیار اور طالبان کے درمیان تعلقات میں اختلافات سامنے آئے۔ حزب اسلامی کی سیاسی سرگرمیوں، حکمتیار کی رہائش اور ان کے میڈیا ادارے کے حوالے سے بھی مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

2025 میں حکمتیار کے ملائیشیا جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جہاں ان کے خاندان کے مطابق وہ علاج کیلئے گئے تھے۔ تاہم ان کے بیرون ملک سفر اور طالبان کی جانب سے مبینہ پابندیوں کے بارے میں مختلف ذرائع کی تفصیلات میں فرق پایا جاتا ہے۔
اس لئے حکمتیار کے موجودہ مقام اور ان پر عائد مخصوص پابندیوں کے بارے میں قطعی دعویٰ کرنے سے پہلے تازہ ترین آزاد ذرائع کی تصدیق ضروری ہے۔

افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی طالبان کے اقتدار کے بعد کابل میں موجود رہے اور انہوں نے مسلح مزاحمت کے بجائے سیاسی رابطے کا راستہ اختیار کیا۔
امراللہ صالح، جو اشرف غنی کے نائب صدر تھے، طالبان کے خلاف پنج شیر کی مزاحمت سے وابستہ رہے۔ 2021 میں پنج شیر پر طالبان کے قبضے کے بعد ان کی سرگرمیوں اور موجودہ مقام کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، لیکن ان کے موجودہ مستقل مقام کو قابل اعتماد تازہ ذرائع سے الگ سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح عبدالرشید دوستم، عطا محمد نور، محمد محقق، کریم خلیلی، یونس قانونی اور دیگر سابق افغان رہنماؤں میں سے کئی ملک سے باہر ہیں، جبکہ بعض نے افغانستان میں رہنے یا محدود سیاسی رابطے برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔
افغانستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے کی ایک اہم خصوصیت یہی ہے کہ سابق حکومت کے تقریباً تمام بڑے سیاسی مراکز یا تو کمزور ہو چکے ہیں، بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں یا طالبان کے سیاسی نظام سے باہر ہیں۔
کیا افغان عوام عام معافی پر یقین کرتے ہیں؟ آج افغانستان میں یہ ایک بہت اہم سوال ہے،
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، لیکن اس کا جواب اتنا آسان نہیں۔
افغانستان میں عام معافی کے بارے میں پورے ملک کی آبادی کی رائے جاننے والا ایسا قابل اعتماد اور تازہ سروے موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ افغان عوام کی اکثریت طالبان کے وعدے پر یقین کرتی ہے یا نہیں کرتی۔
البتہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے اداروں اور افغان شہریوں کے انفرادی بیانات میں سابق فوجیوں، سرکاری ملازمین اور مخالف سیاسی حلقوں کے خوف اور عدم تحفظ کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
اس لئے زیادہ محتاط نتیجہ یہی ہے کہ عام معافی پر اعتماد کے بارے میں ملک گیر اکثریتی رائے اخذ کرنا ممکن نہیں، لیکن دستاویزی انسانی حقوق کی رپورٹس نے اس وعدے کے عملی نفاذ پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھائے ہیں۔

2001 سے 2026 تک ایک طویل سفر
حامد کرزئی نے جس افغانستان کی قیادت 2001 میں سنبھالی تھی، وہ طالبان حکومت کے خاتمے، امریکی فوجی مداخلت اور بین الاقوامی سیاسی حمایت کے بعد ایک نئے نظام کی تعمیر کی کوشش کر رہا تھا۔
2004 میں آئین کے تحت انتخابات ہوئے۔
2009 میں کرزئی دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔
2014 میں اشرف غنی نے اقتدار سنبھالا۔
2021 میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے ساتھ افغان ریاست کا سیاسی و عسکری ڈھانچہ تیزی سے بکھر گیا اور طالبان جو کبھی مزاحمت کار سمجھے جاتے تھے، آج وہ دوبارہ کابل کے حکمران بن گئے ہیں۔
اور اب 2026 میں وہی حامد کرزئی، جو کبھی بون کانفرنس کے بعد افغانستان کے نئے سیاسی نظام کی علامت سمجھے جاتے تھے، کابل میں اپنی رہائش گاہ پر مبینہ پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ افغانستان کی تاریخ کا ایک غیر معمولی سیاسی دائرہ ہے۔
ایک طرف 2001 کا وہ افغانستان ہے جہاں ایک نئی ریاست، نیا آئین، انتخابات اور ادارے بنانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف 2026 کا افغانستان ہے جہاں طالبان دوبارہ اقتدار میں ہیں اور سابق سیاسی نظام کے بڑے کردار اپنی نئی حقیقت سے نبرد آزما ہیں۔
حامد کرزئی کی موجودہ صورت حال اسی تبدیلی کی ایک علامت ہے۔ لیکن اس پوری تاریخ کو صرف ایک شخص یا ایک حکومت کی کامیابی اور ناکامی میں محدود کرنا بھی افغانستان کی پیچیدگی کو کم کر دیتا ہے۔
افغانستان میں گزشتہ پچیس برس کے دوران ریاستیں بنیں، ٹوٹیں، دوبارہ بنیں، انتخابات ہوئے، جنگیں ہوئیں، معاہدے ہوئے اور سیاسی وعدے کئے گئے۔
سوال اب بھی وہی ہے جو 2001 میں تھا:
افغانستان میں ایسا سیاسی نظام کب قائم ہوگا جس میں اقتدار کی تبدیلی صرف فاتح اور مغلوب کے درمیان تبدیلی نہ ہو بلکہ شہریوں، سیاسی مخالفین اور سابق حکام کیلئے بھی قابل قبول سیاسی اور قانونی تحفظ موجود ہو؟ اور شاید حامد کرزئی کے گھر کے گرد موجودہ مبینہ پابندیاں اسی بڑے سوال کی ایک نئی شکل ہیں۔

Summery:

From Hamid Karzai to the Taliban: Afghanistan’s Changing Political Reality
Afghanistan’s political journey since the Bonn Agreement of 2001 has been marked by repeated transitions of power, weak state institutions, contested political legitimacy and changing relations between Kabul and the country’s diverse political and armed actors. Hamid Karzai emerged as the central figure of the post-Taliban political order and served as president until 2014, followed by Ashraf Ghani, whose government collapsed with the Taliban’s return to Kabul in August 2021.
The article examines how much practical authority successive governments exercised beyond Kabul, the political roles of figures such as Gulbuddin Hekmatyar, Abdullah Abdullah and Amrullah Saleh, and the challenges faced by former political leaders after the Taliban takeover.
It also examines the Taliban’s 2021 general amnesty and the concerns raised by international rights organizations over reported killings, arrests, disappearances and other abuses involving former security personnel and government officials. Rather than presenting a simple conclusion about public trust in the amnesty, the article highlights the gap between the Taliban’s announced policy and documented concerns from affected groups.
The broader question is whether Afghanistan’s successive political transitions have produced lasting institutions or merely replaced one form of political order with another, leaving unresolved questions about power, inclusion, accountability and the security of former political actors.
About Author: Nasir Dawar | Editor, The Khyber Times & Researcher | Contact: dawarjan@gmail.com