Primary Alt Text: Massive PTI power show rally with supporters holding party flags around a decorated container displaying Imran Khan's portrait.

پی ٹی آئی میں دائمی بگاڑ: اندرونی دھڑے بندیوں اور اہم اختلافات کی داستانیں

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات کی تاریخ محض کسی ایک واقعہ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا تسلسل ہے جو اقتدار سے لے کر اپوزیشن تک پارٹی کے ہمراہ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں سامنے آنے والے اہم اختلافات، واقعات اور ان سے جڑی شخصیات درج ذیل ہیں:
۱. خیبر پختونخوا کا موجودہ بحران: خاندانی اثر و رسوخ اور ناراض دھڑا
نوید آفریدی اور وزراء کی نالاں صورتحال: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی نوید آفریدی کی جانب سے بلدیات، پی ڈی اے (PDA) اور ترقیاتی منصوبوں میں براہِ راست مداخلت پر ان کے اپنے قریبی رفقاء مینا خان آفریدی، ضلع خیبر کے رہنما عبدالغنی آفریدی، اور محمد عاصم (پی کے 78 پشاور) شدید ناخوش ہیں۔
ناراض اراکینِ اسمبلی بمقابلہ صوبائی سیٹ اپ: سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، مشتاق غنی، قاسم علی شاہ، اور سجاد مروت سمیت 20 سے زائد اراکینِ اسمبلی کا ایک مضبوط دھڑا سامنے آیا۔ ان کے خلاف اینٹی کرپشن نوٹسز اور تادیبی اقدامات کی اطلاعات نے پارٹی میں خلیج کو مزید بڑھا دیا۔
محمود خان کا دورِ حکومت: عاطف خان اور شہرام تراکئی کی برطرفی
خیبر پختونخوا میں سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے دور میں پارٹی واضح دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔
سابق سینئر وزراء عاطف خان اور شہرام خان تراکئی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی انتظامی صلاحیتوں پر کھلے عام تحفظات ظاہر کئے، جس کے نتیجے میں انہیں کابینہ سے برطرف کر دیا گیا اور یہ کشمکش طویل عرصے تک صوبائی تنظیم کو مفلوج کرتی رہی۔
 پنجاب اور وفاق: جہانگیر ترین اور علیم خان کا ’ہم خیال گروپ‘
تحریکِ انصاف کی وفاقی و صوبائی حکومت کے دوران پارٹی کے سب سے متحرک اور مالی معاوضات فراہم کرنے والے رہنما جہانگیر خان ترین اور علیم خان کے عمران خان اور سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ جس کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں باقاعدہ “ترین گروپ” اور “علیم خان گروپ” بنے، جنہوں نے بالآخر اپوزیشن کے ساتھ مل کر پارٹی کی صوبائی اور وفاقی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
 عمران خان کی رہائی کی تحریک اور احتجاجی اعلانات پر مرکزی اور صوبائی رہنماؤں (مثلاً شہریار آفریدی، حماد اظہر اور دیگر عہدیداروں) کے درمیان باہمی حکمتِ عملی پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، جس نے نچلی سطح کے کارکنوں کو بھی تقسیم اور ابہام کا شکار کیا ہے۔
ان تمام واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی میں اختیارات کی تقسیم، نچلی سطح پر مداخلت اور دھڑے بندی ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی شکل میں ابھرتا رہا ہے۔
اگرچہ پارٹی کے اندر شدید اختلافات موجود ہیں، لیکن خیبر پختونخوا اسمبلی میں عددی اکثریت کی وجہ سے فی الحال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یا دیگر وزراء کیلئے کوئی بڑا سیکیورٹی یا حکومتی مسئلہ پیدا ہونے کا امکان نہیں۔ تاہم، اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی اور پارٹی قیادت کی یہ باہمی کشمکش عمران خان کی رہائی کی تحریک کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

Internal Rifts in PTI (Khyber Pakhtunkhwa)
  • Core Issue: Deep-seated factionalism within Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) in Khyber Pakhtunkhwa continues to escalate, threatening party cohesion ahead of the planned September 27 protest movement for Imran Khan’s release.
  • Family Interference: Discontent is driven by the political and administrative overreach of Chief Minister Sohail Afridi’s brother, Naveed Afridi, who is actively interfering in municipal bodies (PDA, WSSP) and local development projects.
  • Alienation of Key Allies: Key party figures and campaign leaders—including Meena Khan Afridi, Abdul Ghani Afridi (Khyber), and Muhammad Asim (PK-78 Peshawar)—are increasingly alienated by Naveed Afridi’s encroachment into their respective constituencies.
  • Targeting Dissident MPAs: Tensions have further worsened over reports of anti-corruption mechanisms being weaponized against a bloc of over 20 dissatisfied MPAs, including former CM Ali Amin Gandapur and Mushtaq Ghani.
  • Core Impact: While PTI’s parliamentary numerical majority in the KP Assembly prevents an immediate collapse of the provincial government, these unaddressed internal feuds severely undermine unity and risk sabotaging the upcoming movement for Imran Khan’s release.