واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی اور بظاہر ہدف وہی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کا ایران جنگ یا کسی بیرونی تنازع سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہفتے کی رات واشنگٹن میں منعقدہ اس اہم سالانہ میڈیا ڈنر کے دوران اچانک فائرنگ یا فائرنگ جیسی آوازوں نے تقریب میں موجود شرکاء میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام فوری طور پر سیکریٹ سروس کی حفاظت میں محفوظ مقام پر منتقل کر دئے گئے، جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور اس نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے غیر معمولی جرات اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا، جس سے ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے کو روکا گیا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جس وقت واقعہ پیش آیا وہ اسٹیج کے قریب موجود تھے اور اچانک زوردار آوازیں سنیں، جو ابتدائی طور پر ٹرے گرنے یا کسی شے کے ٹوٹنے جیسی محسوس ہوئیں۔ ان کے مطابق وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے فوراً خبردار کیا کہ یہ خطرناک آوازیں ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی کوشش کی، تاہم ایک سیکریٹ سروس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران گولی لگنے سے محفوظ رہا کیونکہ اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات بھی کی ہے اور اس کی حالت تسلی بخش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق اس حملے کا ایران یا کسی بین الاقوامی جنگی صورتحال سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے بتایا جا رہا ہے اور اس کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ اکیلا ملوث تھا یا کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے میں سیکریٹ سروس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں افراد کی جانیں محفوظ بنائیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے مسلسل خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سیاسی اختلافات کے باوجود اس طرح کے واقعات قابل مذمت ہیں اور قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی عوامی تقاریب کو منسوخ نہیں کریں گے اور معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 30 دن میں اس سے بھی بڑی اور محفوظ تقریب منعقد کی جائے گی۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حملہ آور کس طرح سخت سیکیورٹی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔ ابتدائی طور پر اسے ایک انفرادی حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ نیٹ ورک یا سازش کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب واشنگٹن میں سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی ماحول پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جس نے امریکی داخلی سیکیورٹی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واشنگٹن میڈیا ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی اور بظاہر ہدف وہی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کا ایران جنگ یا کسی بیرونی تنازع سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
ہفتے کی رات واشنگٹن میں منعقدہ اس اہم سالانہ میڈیا ڈنر کے دوران اچانک فائرنگ یا فائرنگ جیسی آوازوں نے تقریب میں موجود شرکاء میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام فوری طور پر سیکریٹ سروس کی حفاظت میں محفوظ مقام پر منتقل کر دئے گئے، جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور اس نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے غیر معمولی جرات اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا، جس سے ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے کو روکا گیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جس وقت واقعہ پیش آیا وہ اسٹیج کے قریب موجود تھے اور اچانک زوردار آوازیں سنیں، جو ابتدائی طور پر ٹرے گرنے یا کسی شے کے ٹوٹنے جیسی محسوس ہوئیں۔ ان کے مطابق وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے فوراً خبردار کیا کہ یہ خطرناک آوازیں ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی کوشش کی، تاہم ایک سیکریٹ سروس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران گولی لگنے سے محفوظ رہا کیونکہ اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات بھی کی ہے اور اس کی حالت تسلی بخش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق اس حملے کا ایران یا کسی بین الاقوامی جنگی صورتحال سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے بتایا جا رہا ہے اور اس کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ اکیلا ملوث تھا یا کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے میں سیکریٹ سروس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں افراد کی جانیں محفوظ بنائیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے مسلسل خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سیاسی اختلافات کے باوجود اس طرح کے واقعات قابل مذمت ہیں اور قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی عوامی تقاریب کو منسوخ نہیں کریں گے اور معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 30 دن میں اس سے بھی بڑی اور محفوظ تقریب منعقد کی جائے گی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حملہ آور کس طرح سخت سیکیورٹی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔ ابتدائی طور پر اسے ایک انفرادی حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ نیٹ ورک یا سازش کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب واشنگٹن میں سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی ماحول پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جس نے امریکی داخلی سیکیورٹی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔