پشاور مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے ساحلی صوبے بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک دشمن (امریکی) طیارے کو مار گرایا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی حکام نے صورتحال کو معمول کے مطابق قرار دیا ہے۔
ایرانی میڈیا اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، آج رات بوشہر کے علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی طور پر ان دھماکوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ یہ آوازیں فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے اور ایک نامعلوم طیارے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔
ضلع جام کے گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک دشمن طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں اب صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔
اس اہم پیشرفت کے باوجود، تاحال امریکی حکام کی جانب سے کسی طیارے کے گرائے جانے یا تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ عالمی عسکری مبصرین اس واقعے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزنے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ اگرچہ ان میزائل حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، لیکن بوشہر کے حالیہ واقعے نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دی خیبر ٹائمز اس خبر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے ہی مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آئیں گی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔




