14 August, 2026
اہم خبریں
  • طالبان کی تعلیمی پالیسی پر اندرونی بغاوت، لاکھوں افغان لڑکیوں کا مستقبل داؤ پر
  • قصہ خوانی بازار: پشاور کی وہ گلی جہاں صدیوں کے قصے آج بھی زندہ ہیں
  • آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ مسترد: تہران کا مکمل انتظام کا اعلان، امریکی بحری بیڑے پر شدید ذہنی تناؤ اور عالمی منڈی میں نیا سسپنس
  • پاک ایران ایک دوسرے کے اسٹریٹجک معاون ہیں، پاکستانی حکومت، فوج اور عوام اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ ہیں: محسن رضائی
  • ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئے کام کرنے کے الزام میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کو 15 سال قید کی سزا سنادی
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
Crowds of local tribesmen and security personnel along the blocked Bannu-Miranshah road in North Waziristan.
وزیرستان: دہشت گردی کی دھول میں گم ہوتے قبائلی تنازعات
News thumbnail featuring Dr Waliullah Dawar and Provincial Minister Iqbal Wazir regarding the murder case controversy.
ڈاکٹر ولی اللہ داوڑ کا قتل: متنازع ٹویٹ، تعزیت گاہ میں فائرنگ اور سیاست کا الجھاؤ
"A powerful senior official in a professional office setting receiving a document from a young woman in a black abaya and niqab during a formal administrative meeting."
تعلیم کے ایوانوں میں خاموش ظلم: خصوصی تحریر: رفعت انجم
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا

حیرت انگیز

Four young Afghan schoolgirls in black uniforms and white headscarves walking together on a street in Kabul.
طالبان کی تعلیمی پالیسی پر اندرونی بغاوت، لاکھوں افغان لڑکیوں کا مستقبل داؤ پر
Historical collage of Qissa Khwani Bazaar Peshawar showing old and modern views with Urdu title and author profile of Mehwish Tasleem.
قصہ خوانی بازار: پشاور کی وہ گلی جہاں صدیوں کے قصے آج بھی زندہ ہیں
Iranian Deputy Foreign Minister Kazem Gharibabadi speaking about US proposals, Islamabad negotiations and the Strait of Hormuz.
آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ مسترد: تہران کا مکمل انتظام کا اعلان، امریکی بحری بیڑے پر شدید ذہنی تناؤ اور عالمی منڈی میں نیا سسپنس
Pakistan Interior Minister Mohsin Naqvi meeting Iranian SNSC Secretary Mohsin Rezaei in Tehran with Pakistani and Iranian flags in the background
پاک ایران ایک دوسرے کے اسٹریٹجک معاون ہیں، پاکستانی حکومت، فوج اور عوام اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ ہیں: محسن رضائی
Iranian photojournalist Yalda Moaiery smiling in a navy blue scarf
ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئے کام کرنے کے الزام میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کو 15 سال قید کی سزا سنادی
Representational view of a Badakhshan city with local residents, mountains and security personnel
بدخشان میں جنوبی طالبان کے خلاف جنگ کا حکم، جمعہ خان فاتح کے جنگی پیغام سے شمالی افغانستان میں نئی کشیدگی کے خدشات

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
Crowds of local tribesmen and security personnel along the blocked Bannu-Miranshah road in North Waziristan.
وزیرستان: دہشت گردی کی دھول میں گم ہوتے قبائلی تنازعات
News thumbnail featuring Dr Waliullah Dawar and Provincial Minister Iqbal Wazir regarding the murder case controversy.
ڈاکٹر ولی اللہ داوڑ کا قتل: متنازع ٹویٹ، تعزیت گاہ میں فائرنگ اور سیاست کا الجھاؤ
"A powerful senior official in a professional office setting receiving a document from a young woman in a black abaya and niqab during a formal administrative meeting."
تعلیم کے ایوانوں میں خاموش ظلم: خصوصی تحریر: رفعت انجم
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی اور بظاہر ہدف وہی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کا ایران جنگ یا کسی بیرونی تنازع سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہفتے کی رات واشنگٹن میں منعقدہ اس اہم سالانہ میڈیا ڈنر کے دوران اچانک فائرنگ یا فائرنگ جیسی آوازوں نے تقریب میں موجود شرکاء میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام فوری طور پر سیکریٹ سروس کی حفاظت میں محفوظ مقام پر منتقل کر دئے گئے، جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور اس نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے غیر معمولی جرات اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا، جس سے ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے کو روکا گیا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جس وقت واقعہ پیش آیا وہ اسٹیج کے قریب موجود تھے اور اچانک زوردار آوازیں سنیں، جو ابتدائی طور پر ٹرے گرنے یا کسی شے کے ٹوٹنے جیسی محسوس ہوئیں۔ ان کے مطابق وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے فوراً خبردار کیا کہ یہ خطرناک آوازیں ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی کوشش کی، تاہم ایک سیکریٹ سروس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران گولی لگنے سے محفوظ رہا کیونکہ اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات بھی کی ہے اور اس کی حالت تسلی بخش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق اس حملے کا ایران یا کسی بین الاقوامی جنگی صورتحال سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے بتایا جا رہا ہے اور اس کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ اکیلا ملوث تھا یا کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے میں سیکریٹ سروس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں افراد کی جانیں محفوظ بنائیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے مسلسل خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سیاسی اختلافات کے باوجود اس طرح کے واقعات قابل مذمت ہیں اور قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی عوامی تقاریب کو منسوخ نہیں کریں گے اور معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 30 دن میں اس سے بھی بڑی اور محفوظ تقریب منعقد کی جائے گی۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حملہ آور کس طرح سخت سیکیورٹی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔ ابتدائی طور پر اسے ایک انفرادی حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ نیٹ ورک یا سازش کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب واشنگٹن میں سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی ماحول پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جس نے امریکی داخلی سیکیورٹی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واشنگٹن میڈیا ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ محفوظ

اپریل 26, 2026April 26, 2026

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے تقریباً 15 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2026, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND