سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ پاکستان کا تعلیمی نظام دو متوازی دھاروں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جہاں ملک کی اکثریتی آبادی اپنے بچوں کو بھیجنے پر مجبور ہے، تو دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جو جدید سہولیات اور معیاری تعلیم کے دعوے دار ہیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پالیسی ساز یعنی وزراء، بیوروکریٹس، اعلیٰ افسران اور کاروباری اشرافیہ میں سے شاذ و نادر ہی کسی کے بچے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم نظر آتے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس بات کا کوئی شفاف ریکارڈ موجود نہیں کہ کتنے سرکاری عہدیداران کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ شرح تقریباً صفر ہے۔ جب تک حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے انہی بوسیدہ بینچوں یا ٹاٹ پر نہیں بیٹھتے جن پر ایک غریب کا بچہ بیٹھتا ہے، تب تک پالیسی سازی میں وہ درد شامل نہیں ہو سکتا جو نظام کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کیلئے سرکاری اسکول کی چھت کا گرنا، پینے کا پانی کی یا دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان یا اساتذہ کی غیر حاضری محض ایک فائل کا مسئلہ رہ جاتا ہے، نہ کہ زندگی اور موت کا سوال۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی کامیابی کا راز کوئی جادو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی طلب اور سرکاری نظام کی ناکامی ہے۔ ان اداروں میں اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کا سخت احتساب ہوتا ہے کیونکہ والدین فیس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نجی تعلیمی مافیا سرکاری نظام کو بہتر نہیں ہونے دیتا؟ اس کا جواب دو رخی ہے۔ بہت سے سرکاری عہدیداران خود پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان یا شراکت دار ہیں۔ جب کسی کا مالی مفاد سرکاری اسکولوں کے زوال میں وابستہ ہو، تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ سرکاری اسکول اتنے معیاری ہو جائیں کہ نجی اسکولوں کی دکانیں بند ہو جائیں۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں ثانوی تعلیمی بورڈز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا گٹھ جوڑ تشکیل پا چکا ہے جس میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو کسی بھی صورت سبقت نہ ملنے دی جائے۔ پرائیویٹ اسکول مالکان کے درمیان اس بات کا مقابلہ ہے کہ ان کے طلبا بورڈ کے ٹاپ ٹین میں جگہ بنائیں، جس کے حصول کیلئے سفارش، تحفے تحائف اور رشوت خوری کا کھل کر سہارا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین کی کرسی کے حصول کیلئے سیاسی رسہ کشی اور بھاری رقوم کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار نجی اداروں کے برابر ہو جائے، تو غیر ضروری پرائیویٹ اسکول بند ہو جائیں گے اور تعلیم ایک منافع بخش کاروبار سے نکل کر دوبارہ بنیادی انسانی حق بن جائے گی۔ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب مفادات کا یہ ٹکراؤ ختم ہو۔ جب تک بیوروکریسی، سیاستدانوں اور بااثر شخصیات کیلئے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنا لازمی نہیں کیا جاتا، تب تک سرکاری درسگاہوں کی حالتِ زار تبدیل ہونا محال ہے۔ جس دن حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں والے کمروں میں بیٹھنے لگیں گے، اسی دن تعلیمی بجٹ میں اضافہ بھی ہوگا اور نظامِ تعلیم کی کایا پلٹ بھی، کیونکہ تب یہ ان کی اپنی مجبوری اور ضرورت بن جائے گی۔ دی خیبر ٹائمز ۔ عوامی آواز، حقائق کی تلاش

سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ

دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ
پاکستان کا تعلیمی نظام دو متوازی دھاروں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جہاں ملک کی اکثریتی آبادی اپنے بچوں کو بھیجنے پر مجبور ہے، تو دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جو جدید سہولیات اور معیاری تعلیم کے دعوے دار ہیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پالیسی ساز یعنی وزراء، بیوروکریٹس، اعلیٰ افسران اور کاروباری اشرافیہ میں سے شاذ و نادر ہی کسی کے بچے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم نظر آتے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس بات کا کوئی شفاف ریکارڈ موجود نہیں کہ کتنے سرکاری عہدیداران کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ شرح تقریباً صفر ہے۔ جب تک حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے انہی بوسیدہ بینچوں یا ٹاٹ پر نہیں بیٹھتے جن پر ایک غریب کا بچہ بیٹھتا ہے، تب تک پالیسی سازی میں وہ درد شامل نہیں ہو سکتا جو نظام کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کیلئے سرکاری اسکول کی چھت کا گرنا، پینے کا پانی کی یا دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان یا اساتذہ کی غیر حاضری محض ایک فائل کا مسئلہ رہ جاتا ہے، نہ کہ زندگی اور موت کا سوال۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی کامیابی کا راز کوئی جادو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی طلب اور سرکاری نظام کی ناکامی ہے۔ ان اداروں میں اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کا سخت احتساب ہوتا ہے کیونکہ والدین فیس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نجی تعلیمی مافیا سرکاری نظام کو بہتر نہیں ہونے دیتا؟ اس کا جواب دو رخی ہے۔ بہت سے سرکاری عہدیداران خود پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان یا شراکت دار ہیں۔ جب کسی کا مالی مفاد سرکاری اسکولوں کے زوال میں وابستہ ہو، تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ سرکاری اسکول اتنے معیاری ہو جائیں کہ نجی اسکولوں کی دکانیں بند ہو جائیں۔
اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں ثانوی تعلیمی بورڈز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا گٹھ جوڑ تشکیل پا چکا ہے جس میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو کسی بھی صورت سبقت نہ ملنے دی جائے۔ پرائیویٹ اسکول مالکان کے درمیان اس بات کا مقابلہ ہے کہ ان کے طلبا بورڈ کے ٹاپ ٹین میں جگہ بنائیں، جس کے حصول کیلئے سفارش، تحفے تحائف اور رشوت خوری کا کھل کر سہارا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین کی کرسی کے حصول کیلئے سیاسی رسہ کشی اور بھاری رقوم کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔
اگر سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار نجی اداروں کے برابر ہو جائے، تو غیر ضروری پرائیویٹ اسکول بند ہو جائیں گے اور تعلیم ایک منافع بخش کاروبار سے نکل کر دوبارہ بنیادی انسانی حق بن جائے گی۔ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب مفادات کا یہ ٹکراؤ ختم ہو۔ جب تک بیوروکریسی، سیاستدانوں اور بااثر شخصیات کیلئے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنا لازمی نہیں کیا جاتا، تب تک سرکاری درسگاہوں کی حالتِ زار تبدیل ہونا محال ہے۔ جس دن حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں والے کمروں میں بیٹھنے لگیں گے، اسی دن تعلیمی بجٹ میں اضافہ بھی ہوگا اور نظامِ تعلیم کی کایا پلٹ بھی، کیونکہ تب یہ ان کی اپنی مجبوری اور ضرورت بن جائے گی۔
دی خیبر ٹائمز ۔ عوامی آواز، حقائق کی تلاش