دی خیبر ٹائمز
سنگاپور کے پرتعیش اور پُرشور ہوٹل کے ہال میں بین الاقوامی میڈیا کا ہجوم تھا۔ سیکیورٹی سخت تھی اور فضا میں ایک خاص قسم کی سفارتی تپش محسوس کی جا رہی تھی۔ موقع تھا شنگریلا ڈائیلاگ کا، جہاں دنیا بھر کی دفاعی قیادت سر جوڑے بیٹھی تھی۔
اسی دوران، امریکی وزیرِ دفاع (جنہیں روایتی طور پر وزیرِ جنگ بھی کہا جاتا ہے) پیٹ ہیگستھ ایک خصوصی انٹرویو کیلئے کیمرے کے سامنے بیٹھے۔ جب ان سے مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی صورتحال اور ایران امریکہ کشیدگی پر سوال کیا گیا، تو انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے اسلام آباد سے لے کر واشنگٹن تک سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔
پیٹ ہیگستھ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان امریکہ کا ایک مخلص دوست ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکہ امن مذاکرات میں شاندار اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سچی دوستی پروان چڑھنے کی نوید سناتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جو بھی ڈیل ہوگی، وہ اچھی ہونی چاہئے کیونکہ امریکہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ تمام فیصلے امریکی مفادات کو مدنظر رکھ کر کریں گے۔
امریکی وزیرِ جنگ کا یہ بیان محض ایک رسمی جملہ نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کی مہینوں پر محیط پوشیدہ اور انتھک سفارت کاری کی ایک طویل اور دلچسپ داستان تھی۔
کچھ ماہ پہلے تک پاک امریکہ تعلقات میں ایک واضح سرد مہرئی پائی جاتی تھی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امریکہ اور کسی دوسرے ملک کے درمیان ڈیڈ لاک ہوا، پاکستان نے ہمیشہ ایک پُل کا کردار ادا کیا، بالکل اسی طرح جیسے 1971ء میں پاکستان نے امریکہ اور چین کی تاریخی دوستی کروائی تھی۔ اس بار چیلنج مختلف تھا، ایک طرف ایران تھا جو پاکستان کا ہمسایہ برادر ملک ہے اور دوسری طرف امریکہ، جو پاکستان کا دیرینہ سٹریٹجک شراکت دار رہا ہے۔ جب ان دونوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچی، تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مضبوط عسکری سفارت کاری نے مل کر ایک سائلنٹ مشن کا آغاز کیا۔ اس مشن کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا ایک غیر علانیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور ایک غیر جانبدار ثالث بننے کیلئے تیار ہے۔ عسکری قیادت پر تہران کا یہ اعتماد بحال ہونا اس پوری کہانی کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
دوسری طرف، وزیراعظم شہباز شریف نے واشنگٹن کے ساتھ معاشی و سفارتی محاذ پر محنت کی۔ انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں مسلسل یہ نکتہ اٹھایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور اگر مشرقِ وسطیٰ میں آگ لگی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو یہ باور کروایا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغام رسانی کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت پاکستانی سفارت کاروں نے خفیہ طور پر اومان اور جنیوا میں امریکی اور ایرانی حکام کی ملاقاتوں کیلئے گراؤنڈ ورک تیار کیا، جہاں دونوں فریقین کو ایسے پوائنٹس پر راضی کیا گیا جہاں ٹکراؤ کم سے کم ہو۔
جب سنگاپور میں پیٹ ہیگستھ نے پاکستان کی اس کوشش کا پبلک فورم پر اعتراف کیا، تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی بن کر سامنے آئی۔ امریکی وزیرِ دفاع کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر شکریہ ادا کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ واشنگٹن اب پاکستان کو محض ایک سیکیورٹی پارٹنر نہیں بلکہ ایک مخلص اور قابلِ اعتماد دوست کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی ڈیل ہونا باقی ہے اور صدر ٹرمپ کے فیصلے ہمیشہ غیر متوقع ہوتے ہیں۔ لیکن اس پورے منظرنامے نے دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک نیا امیج پیش کیا ہے، ایک ایسا پاکستان جو اب دنیا کے دو بڑے حریفوں کے درمیان امن کا ضامن بن کر ابھرا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اس اشتراکِ عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ جب ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہو، تو ناممکن سفارتی اہداف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔




