دی خیبر ٹائمز (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بادلوں اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے درمیان ایک طرف پسِ پردہ سفارت کاری تیز ہو گئی ہے تو دوسری جانب دھمکیوں اور فوجی تیاریوں کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جہاں ثالثوں کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں اہم پیش رفت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں ایران پر شدید ترین عسکری حملوں کا عندیہ دے دیا ہے۔
قطر اور پاکستان کی قیادت میں سفارتی پیش رفت
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے مشرقِ وسطیٰ کے دو اعلیٰ حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالث دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات کو کم کرنے کیلئے متحرک ہیں اور انہیں اس سلسلے میں کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ ثالثوں کی ان کوششوں کا بنیادی مقصد واشنگٹن اور تہران کو ایک عبوری جنگ بندی معاہدے کی طرف واپس لانا ہے۔ اس بات کی تصدیق ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھی کی گئی ہے کہ مختلف ثالثوں کے توسط سے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔
مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ کی دھمکی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو واضح الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سفارتی مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو وہ ایران پر سخت عسکری کارروائی کا حکم دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کے لیے وقت کی کمی کا اشارہ دیا اور کہا کہ “زیادہ وقت نہیں ہے؛ یا تو بات چیت بہت جلدی کامیاب ہوگی یا پھر بالکل نہیں ہوگی۔” صدر ٹرمپ نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ جمعے کے روز ایران پر متوقع حملے روکنے کا حکم صرف اور صرف ثالثی کی کوششیں کرنے والے دوست ممالک کی درخواست پر دیا تھا، تاکہ سفارت کاری کو ایک موقع فراہم کیا جا سکے۔
امریکی اسلحہ ذخائر پر بحث اور عسکری پوزیشن
ایران کے خلاف ممکنہ بڑی عسکری مہم جوئی پر امریکی دفاعی حلقوں میں بھی غور و خوض جاری ہے۔ ایک سینئر امریکی جنرل نے اس حوالے سے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے کرنا عسکری طور پر ممکن تو ہے، لیکن اس سے امریکی اسلحہ کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔
تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اسلحہ ختم ہونے یا کم پڑنے کی تمام خبروں اور افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی دیگر ملک سے کہیں زیادہ اور جدید ترین اسلحہ موجود ہے، اس لئے امریکی عسکری قابلیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
“ایران کے خلاف ہر حملے کی قیمت چکانی پڑے گی”: تہران کا ردِعمل
امریکی دھمکیوں اور خطے کی صورتحال پر ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے کی ہمیشہ بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے اور امریکا و اسرائیل اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ “غلط اندازے لگانے والوں کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یوکرین کو بھی جلد احساس ہو جائے گا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کی جانے والی کسی بھی کارروائی کو بغیر جواب کے ہرگز نہیں چھوڑتا۔
Here is a short summary of the key developments in the US, Iran tension:
Mediation & Diplomatic Push: Qatar and Pakistan are leading mediation efforts to bridge differences between Washington and Tehran, with both sides exchanging messages in an effort to reach an interim ceasefire agreement.
Trump’s Military Warning: US President Donald Trump warned that if negotiations fail, he will order severe military strikes against Iran. He noted that a previously planned attack was paused at the request of mediating nations to give diplomacy a chance.
US Firepower & Stockpile Debate: Trump dismissed reports of low ammunition, asserting unmatched US military capability, though a senior US general cautioned that a large-scale campaign could strain weapons reserves.
Iran’s Retaliation Warning: Ibrahim Azizi, head of the Iranian Parliament’s National Security Commission, cautioned that any attack on Iran comes with a heavy price, stating Tehran will not leave any military action unanswered.




