اسلام آباد (دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے سکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک بڑے ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی تفصیلا ت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کے حساس اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر من گھڑت اور گمراہ کن مہم چلانے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے تانے بانے اور مالیاتی تار براہِ راست بھارت سے ملتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ گرفتار شخص ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروس فراہم کرنے والا ہے، جسے کچھ عرصہ قبل سکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا۔ دورانِ تفتیش یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اس ملزم کے ذریعے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کو وائرل کرنے کیلئے تمام ادائیگیاں بھارت سے کی جا رہی تھیں، جبکہ تفتیش کے دوران اس مس انفارمیشن نیٹ ورک کی تمام معلومات اور نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔
عطا تارڑ نے انکشاف کیا کہ بھارت سے چلوائے جانے والے اس پروپیگنڈا نیٹ ورک میں جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) تکنیک اور ماضی کی پرانی ویڈیوز کا سہارا لے کر انہیں آزاد کشمیر کے موجودہ حالات سے غلط انداز میں جوڑا گیا تاکہ وہاں کے عوام میں اشتعال پھیلا کر حالات کو خراب کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بے شمار ایسے بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ثبوت کے طور پر سامنے آئے ہیں جو مسلسل کشمیری عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور خطے میں انارکی پیدا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے منفی کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت کی جانب سے تیار کردہ مواد کا بیشتر حصہ اسی کالعدم کمیٹی کے گرد گھومتا ہے، جس سے اس شرپسند گروہ کا بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ اور بھارتی فنڈنگ مکمل طور پر ثابت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کشمیر کاز یا کشمیری عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ محض کشمیر کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر ان عناصر کو کشمیریوں کے حقوق کا ذرا بھی احساس ہوتا تو یہ الیکشن کے جمہوری عمل کا حصہ بنتے، اور الیکشن سے ان کا بھاگنا ہی ان کے بھارت نواز ہونے کا بین ثبوت ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ان شرپسند عناصر نے پرتشدد احتجاج، ڈنڈے اور اسلحے کے زور پر ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور اسی پرتشدد سیاست کے نتیجے میں کشمیری پولیس کے جوانوں کو شہید کیا گیا، تاہم پاکستان کے پاس اس بھارتی سازش کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی تمام تر سازشوں کے باوجود وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی شب و روز انتھک محنت کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملک کی ترقی و استقلال کا سفر یونہی جاری رہے گا۔
Busting of the Disinformation Network
Pakistani security agencies arrested a key suspect running a digital marketing operation dedicated to spreading anti-Pakistan and anti-institution propaganda. Interrogations revealed that the entire network was funded directly from India to systematically orchestrate misinformation campaigns.
AI Manipulation and Fake Narratives
The hostile network utilized artificial intelligence and manipulated archived videos, misrepresenting them as current events in Azad Jammu and Kashmir (AJK). Numerous India-based social media accounts were identified actively fanning anti-state sentiment to trigger public unrest in the region.
Nexus with the Banned Joint Action Committee (JAC)
A significant portion of the propaganda was designed to support the banned Joint Action Committee in Kashmir. Minister Tarar highlighted that the group’s refusal to participate in democratic electoral processes serves as clear proof of its pro-India agenda, aimed purely at undermining the Kashmir cause.
Violence and Lawlessness
The digital campaign actively incited mobs to take the law into their own hands, fueling violent protests in AJK that led to armed clashes and the martyrdom of local police personnel.
Irrefutable Proof
State authorities possess solid, irrefutable evidence of Indian financial backing and direct involvement in orchestrating this cyber-subversion. Despite these malicious attempts, Pakistan’s international standing and diplomatic efforts continue to strengthen.




