شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق درپہ خیل میں ٹارگٹڈ حملہ، علاقے میں خوف و کشیدگی، ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق افسوسناک واقعہ میرانشاہ کے علاقے درپہ خیل میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ملک سیف اللہ خان داوڑ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق قبائلی رہنما کی لاش بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال میرانشاہ منتقل کر دی گئی جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی لوگوں میں شدید تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دئے ہیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر حملے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر اس کے محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے درپہ خیل اور گردونواح کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ قبائلی عمائدین اور مقامی شہریوں نے قبائلی رہنما کے قتل پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے عوام میں عدم تحفظ کی لہر دوڑا دی ہے۔ ملک سیف اللہ خان داوڑ کو علاقے میں ایک بااثر قبائلی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا اور ان کی اچانک موت کی خبر کے بعد مختلف حلقوں میں سوگ کی فضا قائم ہے۔

شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق

شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق درپہ خیل میں ٹارگٹڈ حملہ، علاقے میں خوف و کشیدگی، ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) مزید پڑھیں

پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹاؤن ون پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص یہ خطیر رقم ایک ایسے ٹھیکیدار کے حوالے کر دی گئی جسے صوبائی وزیر کا منظورِ نظر قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکے کی تقسیم کے دوران ایک بااثر اعلیٰ افسر نے دیگر ٹھیکہ داروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ مخصوص ٹھیکیدار کے حق میں دستبردار ہو جائیں تاکہ تمام کام ایک ہی فرد کے سپرد کیا جا سکے۔ اس مبینہ دباؤ کے بعد ٹھیکیدار برادری میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور معاملہ اب کھل کر تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پشاور کے 31 مقامی ٹھیکیداروں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک ٹھیکیدار کو نوازا جانا کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ناقدین اسے نہ صرف میرٹ کا قتل قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے سرکاری خزانے کی منظم بندر بانٹ بھی کہا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار برادری کا مؤقف ہے کہ اگر مقابلے کا شفاف عمل اپنایا جاتا تو درجنوں مقامی کنٹریکٹرز کو بھی مساوی مواقع مل سکتے تھے، مگر یہاں تمام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کے نئے دروازے کھلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے میرٹ، شفافیت اور احتساب کے بلند بانگ دعوے اس معاملے کے بعد سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر 30 کروڑ روپے کے ٹھیکے میں اس نوعیت کی مداخلت ہو سکتی ہے تو پھر دیگر ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب معاملہ صرف ٹھیکے کی تقسیم تک محدود نہیں رہا بلکہ پشاور میں ٹھیکہ داروں اور متعلقہ ایکسیئن کے درمیان تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ ٹھیکہ داروں نے مشترکہ مشاورت کے بعد پیر کے روز پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ مبینہ حکومتی دباؤ، دھمکیوں، اقربا پروری اور جاری مالی بے ضابطگیوں سے نہ صرف پردہ اٹھائیں گے، بلکہ اس بندر بانٹ میں تمام ان وزیروں مشیروں، سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کے نام بھی منظر عام پر لائینگے۔ میڈیا کے سامنے رکھ دینگے۔ ٹھیکہ دار برادری کا کہنا ہے کہ اگر ان کے تحفظات نہ سنے گئے تو وہ نہ صرف احتجاجی تحریک شروع کریں گے بلکہ متعلقہ محکمے کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کریں گے۔ یوں خیبرپختونخوا حکومت کیلئے ایک اور کرپشن اسکینڈل سیاسی دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔

پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز

پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع مزید پڑھیں

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں

تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ کے والد جان محمد اور مقتول پرویز کی بیوہ پریاز بیگم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز میں ان کے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مگر تاحال ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ جان محمد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی اور الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کا گھر اور کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچے تعلیم سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس حکام نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور ملزمان کی سرپرستی کی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پریاز بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو خانۂ خدا میں شہید کیا گیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ خاندان نے حکومت خیبر پختونخوا، پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

صحافیوں کیلئے بلا سود قرضے، میڈیا کالونیاں اور ضم اضلاع میں پریس کلبوں کی بہتری کا منصوبہ

پشاور ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صحافیوں کی فلاح، ضم اضلاع کی ڈیجیٹل ترقی، معدنی وسائل کے مؤثر استعمال، عدالتی نظام کی بہتری اور محنت کش بچوں کے مزید پڑھیں

تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ کے والد جان محمد اور مقتول پرویز کی بیوہ پریاز بیگم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز میں ان کے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مگر تاحال ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ جان محمد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی اور الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کا گھر اور کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچے تعلیم سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس حکام نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور ملزمان کی سرپرستی کی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پریاز بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو خانۂ خدا میں شہید کیا گیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ خاندان نے حکومت خیبر پختونخوا، پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد

پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ مزید پڑھیں

عوام کو ریلیف کیوں نہ ملا؟ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی حقیقت بے نقاب اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد اس فیصلے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں اور مارجنز میں اضافہ کرکے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی حساب کتاب میں دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ریفائنری لاگت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر کم ہوئی جبکہ اسی مدت میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر کمی آئی۔ اصولی طور پر اس کمی کے بعد صارفین کو قیمتوں میں استحکام یا معمولی کمی کا فائدہ ملنا چاہئے تھا، مگر حکومت نے اس کے برعکس دونوں مصنوعات کی قیمتیں یکساں طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بڑھا دیں۔ مالیاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM) میں ردوبدل ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر عائد لیوی مزید بڑھا دی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اندرون ملک ترسیل اور تقسیم کے نام پر لیا جانے والا فریٹ مارجن بھی اوپر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں کا پورا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت پیٹرول پر لیوی ٹیکس نہ بڑھاتی اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن میں اضافہ نہ کرتی تو موجودہ حساب کتاب کے مطابق قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ہرگز نہ ہوتا، بلکہ امکان تھا کہ دونوں مصنوعات کی قیمتیں تقریباً جوں کی توں رہتیں یا معمولی کمی بھی ہو سکتی تھی۔ تاہم حکومتی ریونیو بڑھانے کے لئے قیمتوں کے تعین میں ٹیکس عنصر کو غالب رکھا گیا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پہلے ہی اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے نہ صرف نجی ٹرانسپورٹ بلکہ مال برداری، زرعی مشینری، صنعتی پیداوار اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر متوقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے اور مال بردار گاڑیوں پر پڑے گا کیونکہ کھیتوں میں استعمال ہونے والے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور دیگر مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر چلتی ہیں۔ اسی طرح بین الصوبائی سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے سبزی، آٹا، دالیں اور روزمرہ استعمال کی اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل، رکشہ اور کار استعمال کرنے والے متوسط طبقے کی ماہانہ آمدورفت لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ جائے گی۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی صارف کو ریلیف نہیں ملتا تو پھر قیمتوں کے تعین کا موجودہ نظام صرف حکومتی محصولات بڑھانے کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع غیر رسمی طور پر یہ مؤقف دے رہے ہیں کہ مالیاتی خسارے، آئی ایم ایف اہداف اور ریونیو ضروریات کے باعث پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ناگزیر تھا، تاہم اس فیصلے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ ہفتوں میں بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو جمع کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تو مہنگائی کا مجموعی اشاریہ دوبارہ اوپر جا سکتا ہے۔ یوں واضح ہو گیا ہے کہ اس بار پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتی ٹیکس پالیسیوں اور اندرونی مارجن بڑھانے کے باعث کیا گیا، جس کا براہ راست خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

پیٹرول سستا ہونا تھا مگر حکومت نے مہنگا کر دیا، 26 روپے 77 پیسے اضافے کے پیچھے ٹیکسوں کا چونکا دینے والا کھیل بے نقاب

اسلام آباد: ملک بھر کے کروڑوں شہری اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار آیا تھا اور مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت مزید پڑھیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ٹیم) میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کے معروف کبیر ریسٹورنٹ کو سیل جبکہ منیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب انسپکشن کے دوران ریسٹورنٹ سے بھاری مقدار میں ممنوع اور مضر صحت چائنہ سالٹ برآمد ہوا، جو سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے مطابق پاکستان میں استعمال کے لئے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق معائنے کے دوران نہ صرف غیر معیاری اور صحت کے لئے خطرناک اجزاء کی موجودگی ثابت ہوئی بلکہ ریسٹورنٹ میں صفائی کی صورتحال بھی انتہائی ناقص پائی گئی۔ موقع پر موجود ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا جبکہ منیجر کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں چائنہ سالٹ کا استعمال ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے جو شہریوں کی صحت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق متعدد بار کارروائیوں کے باوجود بعض ہوٹل مالکان اس مضر صحت اجزاء کا استعمال ترک کرنے کے بجائے دوبارہ اسی غیر قانونی عمل کی طرف لوٹ جاتے ہیں جس سے شہریوں کی صحت مسلسل خطرے میں پڑ رہی ہے۔ پشاور میں فوڈ سیفٹی سے متعلق صورتحال طویل عرصے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق شہر کے کئی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کھانوں کی تیاری کے دوران ممنوع اور غیر معیاری اجزاء کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نگرانی کے نظام میں تسلسل نہ ہونے کے باعث یہ رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ اس کے نتیجے میں عوام میں فوڈ سیفٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور شہر بھر میں ایسے ریسٹورنٹس کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جو شہریوں کی صحت سے کھیلنے میں ملوث پائے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کو مضر صحت اشیاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور صرف عارضی کارروائیوں کے بجائے مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ہوٹل انڈسٹری میں موجود غیر معیاری اور خطرناک رجحانات کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

پشاور کبیر ریسٹورنٹ سیل، چائنہ سالٹ برآمد، منیجر گرفتار

پشاور ( دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ٹیم) میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کے معروف کبیر ریسٹورنٹ کو سیل جبکہ منیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس مزید پڑھیں

درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان ڈیرہ اسماعل خان ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں رات گئے ایک بار پھر دہشتگردی کا بڑا واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ درابن کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی۔ پولیس کے مطابق حملہ اچانک اور منظم انداز میں کیا گیا جس کے بعد حملہ آوروں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے دوران اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس سے ممکنہ بڑے نقصان کو روکا گیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری طلب کر لی گئی اور سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو تلاش کیا جا سکے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھانے کے قریب پہنچے اور راکٹ لانچر سے حملہ کیا جس کے باعث زور دار دھماکہ ہوا اور قریبی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور خصوصاً درابن کا علاقہ اس نوعیت کے حملوں کی زد میں آیا ہو۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ خطہ شدت پسندی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کا شکار رہا ہے جس کے باعث یہاں سیکیورٹی صورتحال اکثر کشیدہ رہتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شام کے بعد کئی علاقوں میں پولیس کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور بعض اوقات تھانوں کے دروازے بھی حفاظتی خدشات کے باعث بند رکھے جاتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بدامنی کے باعث نہ صرف سرکاری املاک غیر محفوظ ہیں بلکہ عام شہری بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے بھی بڑھتے ہوئے دباؤ اور خطرات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن تیز کر دیا ہے اور قریبی پہاڑی و دیہی علاقوں میں بھی ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاکہ حملہ آوروں کے ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان

ڈیرہ اسماعل خان ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں رات گئے ایک بار پھر دہشتگردی کا بڑا واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ درابن کو راکٹ لانچر سے نشانہ مزید پڑھیں