جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے نے ایک بار پھر علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور قبائلی عمائدین کو درپیش خطرات پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب قبائلی سربراہ کی گاڑی بازار کے مرکزی راستے سے گزر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ملک طارق خان، ملک سرفراز خان یارگل خیل اور جابر خان شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر وانا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ایک ٹارگٹڈ حملہ معلوم ہوتا ہے اور حملہ آوروں نے منصوبہ بندی کے تحت قبائلی رہنما کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا اور تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جنوبی وزیرستان، خصوصاً وانا اور اس کے گردونواح، گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں ہیں جہاں ٹارگٹ کلنگ، ریموٹ کنٹرول دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مقامی قبائلی مشران، امن کمیٹیوں کے اراکین اور حکومت نواز شخصیات مسلسل حملہ آوروں کے نشانے پر ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف اور بے یقینی کی فضا گہری ہوتی جارہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قبائلی عمائدین پر حملے نہ صرف مقامی امن عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ روایتی قبائلی ڈھانچے اور امن جرگوں کو بھی کمزور کرتے ہیں، جو ماضی میں شدت پسندی کے خلاف اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مقامی عوام نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق

وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار مزید پڑھیں

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ

تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مزید پڑھیں

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان

بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، مزید پڑھیں

میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے سماجی اور قانونی منظر نامے میں منشیات کی اسمگلنگ نے حالیہ برسوں میں ایک ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جو روایتی جرائم کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس بحران کا ایک نمایاں اور خوفناک چہرہ انمول عرف پنکی ہے، جسے میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوکین کوئین کے لقب سے پکارا ہے ۔ یہ کیس محض ایک مجرمہ کی گرفتاری کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے اس تاریک نظام کا عکس ہے جہاں مجرمانہ گروہ، طاقتور اشرافیہ، اور ریاستی اداروں کے بعض عناصر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح پیوست ہیں کہ انصاف کا تصور دھندلا کر رہ گیا ہے۔ انمول پنکی کی زندگی کی کہانی کسی جرم و سزا پر مبنی فلمی اسکرپٹ جیسی ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح سماجی خواہشات اور غلط صحبت انسان کو جرائم کی دنیا کے آخری سرے تک لے جا سکتی ہے۔ 1995 میں کراچی کے علاقے بلوچ پاڑہ میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والی انمول گلیمر اور فیشن کی دنیا میں نام کمانا چاہتی تھی ۔ چودہ سال کی چھوٹی عمر میں گھر چھوڑنے کے فیصلے نے اسے روایتی تحفظ سے دور کر کے جرائم کے ممکنہ خطرات کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کی جرائم کی دنیا میں باقاعدہ شمولیت اتفاقیہ نہیں بلکہ انتہائی سٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ تھی۔ اس نے پہلے ایک بین الاقوامی وکیل سے شادی کی جو مبینہ طور پر کوکین کی عالمی تجارت سے جڑا ہوا تھا، جہاں سے اس نے بین الاقوامی اسمگلنگ کے رموز سیکھے ۔ بعد ازاں، اس کی ایک سابق پولیس انسپیکٹر رانا اکرام سے وابستگی نے اسے وہ ادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا جو کسی بھی منظم مجرمانہ نیٹ ورک کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ان بااثر شوہروں اور اپنے بھائیوں، ناصر اور شوکت کی مدد سے اس نے ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو پنجاب سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا ۔ پنکی کا نیٹ ورک روایتی ڈیلرز سے بالکل مختلف تھا کیونکہ اس نے اس میں برانڈنگ اور کوالٹی کنٹرول کا تصور متعارف کرایا۔ وہ موبائل لیبارٹریز چلاتی تھی جہاں کوکین ہائیڈروکلورائڈ اور کیٹامائن جیسے مہلک کیمیکلز کی مدد سے منشیات تیار کی جاتی تھیں ۔ اس کے نیٹ ورک کی طرف سے تیار کردہ کوکین کے مختلف گریڈز مارکیٹ میں دستیاب تھے، جن میں اعلیٰ ترین گولڈن کیٹیگری 13,728 روپے فی گرام کے حساب سے فروخت ہوتی تھی ۔ اس کی مارکیٹنگ کا نعرہ تھا: ملکہ میڈم پنکی - نام ہی کافی ہے، انجوائے کریں ۔ اس کیس کا سب سے چونکا دینے والا پہلو انمول پنکی کی عدالت میں دیدہ دلیری اور اسے ملنے والا شاہانہ پروٹوکول ہے ۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ بغیر ہتھکڑیوں کے، انتہائی پراعتماد انداز میں اور ایک وی آئی پی کی طرح داخل ہوئی، جس نے ریاستی رٹ کا مذاق اڑا کر رکھ دیا ۔ اس کی یہ بے خوفی ان خفیہ تعلقات کا نتیجہ تھی جو اس نے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے بنائے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے گاہکوں میں بڑے سیاستدان، بیوروکریٹس، ان کی بیویاں اور معاشرے کے دیگر انتہائی بااثر افراد اور ان کے بچے شامل تھے ۔ سب سے خوفناک انکشاف یہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے ان بااثر گاہکوں کی منشیات استعمال کرنے کی ویڈیوز بنا کر رکھتی تھی تاکہ انہیں بلیک میل کر سکے، یہی وجہ تھی کہ پولیس اسے بارہ سال تک چھونے سے بھی کتراتی رہی ۔ پاکستان میں ایسے طاقتور لوگوں کی کہانیاں عام ہیں جو سیاستدانوں اور افسران کے ساتھ گہرے تعلقات کی وجہ سے سنگین جرائم کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں۔ انمول پنکی کے کیس کا جب ہم رانا ثناء اللہ جیسے ہائی پروفائل سیاسی مقدمات سے موازنہ کرتے ہیں تو نظام کے تضادات واضح ہو جاتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو 15 کلو ہیروئن کے الزام میں گرفتار کیا گیا، لیکن 2022 میں وہ بری ہو گئے کیونکہ استغاثہ ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ۔ اسی طرح آصف علی زرداری کے خلاف 2018 کا "فیک اکاؤنٹس اسکینڈل" منی لانڈرنگ کے گھناؤنے جرائم کا ایک بڑا ثبوت سمجھا جاتا ہے، جہاں اربوں روپے کی غیر قانونی ترسیلات کیلئے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس استعمال کئے گئے ۔ ایک طرف ٹھوس شواہد کے باوجود مجرموں کو عدالتوں میں پروٹوکول ملتا ہے اور دوسری طرف سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے سنگین مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔ تحقیقات کے دوران انمول پنکی کے موبائل فون سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اس نیٹ ورک کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں 835 رابطہ نمبرز ملے ہیں اور ان میں سے 300 نمبرز اس کے ایکٹو کسٹمرز کے بتائے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان گاہکوں میں 30 کے قریب سیاستدانوں کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں وہ براہِ راست منشیات فراہم کرتی تھی۔ انمول عرف پنکی نے اس دھندے میں ملوث اور گاہکوں میں صرف سیاست دان، بیوروکریٹس یا ان کی بیویاں ہی نہیں فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی بڑے بڑے نام اگل دئے ہیں، جن میں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے کی گرفتاری بھی اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ میں غیر ملکی، خاص طور پر افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو لاہور میں بیٹھ کر اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے ۔ اگرچہ خوف کے بادلوں میں ابھی بہت سے نام منظر عام پر آنا مشکل ہیں، لیکن شاید وقت کے ساتھ ساتھ مزید حقائق سامنے آ جائیں گے، مگر بدقسمتی سے ہماری عدالتوں کے انتہائی کمزور استغاثے کی وجہ سے ان کی گرفتاری، انہیں منطقی انجام یا عبرت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔

میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک

تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے سماجی اور قانونی منظر نامے میں منشیات کی اسمگلنگ نے حالیہ برسوں میں ایک ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جو روایتی جرائم کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن مزید پڑھیں

بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت پشاور کے سینئر صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے شرکت کی جبکہ موجودہ صورتحال کے خلاف متفقہ طور پر صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ جمعہ کے روز سے خیبر پختونخوا بھر میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا جس کے تحت احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دیگر احتجاجی اقدامات شامل ہوں گے ،اجلاس کے شرکاء نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے بے روزگار کیے گئے صحافیوں کی بحالی، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، شرکا نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو کارکن صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا انہیں جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ شرکا نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا،اجلاس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل، میں آسانی ہو ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئی ٹی این ای جج کی عدم تعیناتی کے باعث صحافی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد مقدمات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔اجلاس میں سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے کالے قوانین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرزکے صدر شمیم شاہد اور دیگر نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں اور صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، میڈیا مالکان کے ظلم، استحصال، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شرکا نے واضح کیا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، باعزت روزگار اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہر سطح پر بھرپور اور متحد آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔

بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی

پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، مزید پڑھیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء اور عمائیدین نے شرکت کی اس موقع پر اپنے خطاب میں ملک کیبت خان اور دیگر عمائیدین نے کہا کہ مناتو اور اس کے گردونواح کے دیہات میں لوگ انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جہاں سینکڑوں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (TDPs) تمام تر سرکاری تصدیقی طریقہ کار مکمل ہونے کے باوجود مالی معاوضے سے محروم ہیں اگرچہ دفتری کارروائی کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور ڈیٹا بھی فائنل کیا جا چکا ہے، لیکن زمین پر موجود حقائق بڑھتی ہوئی مایوسی اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔ عمائیدین نے متاثرہ خاندان لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے جیسے دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اپنے گھروں اور آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ نقل مکانی کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ خاندان نہ صرف اپنی املاک سے دور ہیں بلکہ ریاست کی جانب سے اس مالی امداد سے بھی محروم ہیں جو ان کی زندگیوں کی دوبارہ بحالی کے لیے وعدے کئے گئےتھے علاقے کے سماجی راہنما محبت خان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی مایوسی کی بنیادی وجہ معاوضہ ملنے میں تاخیر ہے، کیونکہ حکام نے کئی ماہ قبل تمام اہل افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا تھا۔ اس عمل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور بدعنوانی کو روکنا تھا جس سے بے گھر آبادی میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب جلد ہی امدادی فنڈز ان تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم، ان توقعات کا جواب خاموشی سے دیا گیا ہے محبت خان کا کہنا ہے کہ تمام تر سرکاری شرائط اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے باوجود تاحال کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ بائیومیٹرک تصدیق کی تکمیل اور امداد کی اصل فراہمی کے درمیان اس طویل وقفے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر کارکردگی کے لیے بنائے گئے اس نظام میں اتنی طویل تعطل کی وجہ کیا ہے۔ یہ انتظامی رکاوٹ محض کاغذی کارروائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہرے سماجی و اقتصادی بحران کا سبب بن رہی ہے جو متاثرہ خاندانوں کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔ معاوضے میں طویل تاخیر نے بہت سے لوگوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نقل مکانی کے دوران وہ اپنے اثاثوں اور آمدنی کے ذرائع دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مماتو سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور رحمان الللہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات سے دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے جن کی آمدنی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور وہ اب اپنے رشتہ داروں یا مقامی کمیونٹی کی امداد پر تکیہ کرنے پر مجبور ہیں۔ معاشی اثرات کے علاوہ اس صورتحال نے متاثرہ آبادی میں شدید نفسیاتی تناؤ بھی پیدا کر دیا ہے جہاں حکام کی جانب سے عدم توجہی اور خاموشی نے اس ابتدائی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جو امدادی نظام پر کیا گیا تھا۔ ایک بے گھر رہائشی عبداللہ نے بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو بنیادی ضروریات یا صحت کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ محرومی کی اس سطح نے ضلعی انتظامیہ سے اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ معاوضہ فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ بتائی جائے۔ اب کمیونٹی کے لیے بروقت امداد محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے تاکہ اس نظام پر ان کا اعتماد بحال ہو سکے جو فی الحال ان کی حالتِ زار سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ انتظامیہ کی مسلسل خاموشی اور متعلقہ محکموں کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے سے تنگ آکر مناتُو اور گردونواح کے متاثرہ خاندانوں نے مستقبل کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر آنے والے چند دنوں میں ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری ان حکام پر عائد ہوگی جو تصدیق شدہ ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بحران کی بڑھتی ہوئی شدت اس بات کی متقاضی ہے کہ فوری انتظامی مداخلت کی جائے تاکہ مزید مشکلات کو روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کرم کی ان کمزور برادریوں کو ان کی مشکلات میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے ضلع کرم کے کوارڈینیٹر شیراز باچا کا کہنا ہے کہ متاثرین کی بروقت اور ہر ممکن تعاون کے لئے ضلعی انتظامیہ اور فورسز کے ساتھ مل کر وہ ہرممکن اقدامات اٹھارہے ہیں جس کے باعث متاثرین کے زیادہ تر مسائل حل کئے گئے ہیں اور متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی سمیت ان کے تمام حل طلب مسائل کے حل کے لئے اقدامات جاری ہیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ

ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء مزید پڑھیں

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت کیا گیا جب بارود سے بھرے ایک لوڈر رکشہ کو فتح خیل پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس اسٹیشن میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں 15 اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ تین اہلکار شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو میں شہریوں کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 اور الخدمت کے رضاکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پولیس حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شدت پسندوں نے علاقے کے مختلف راستوں اور شاہراہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور امدادی کارروائیوں کیلئے جانے والی پولیس اور ریسکیو ٹیموں پر فائرنگ بھی کی۔ سیکیورٹی خدشات اور رات کی تاریکی کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ پہلے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم رہی، جبکہ دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بنوں اور اس کے گرد و نواح میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً تھانوں، پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حافظ گل بہادر گروپ، اتحاد المجاہدین، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو بنوں اور اس کے گرد و نواح میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے کئی دیہی علاقوں میں سرکاری عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور شام کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ خوری کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بنوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر کارروائیاں کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرچ آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق مزید پڑھیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے مزید پڑھیں