رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔ رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے مزید پڑھیں

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ ایران ایک بہتر معاہدہ قبول کرے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایک موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ڈیل پر آمادہ ہو جو دونوں ممالک کیلئے قابل قبول ہو۔ ان کے مطابق، اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری راستے کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں آسانی آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور مبینہ ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور وہ مؤثر طریقے سے تجارت نہیں کر پا رہا۔ ٹرمپ نے ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ وہاں اصل قیادت کس کے پاس ہے، اور ملک اندرونی انتشار کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے 75 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایران نے ممکنہ طور پر اپنی کچھ عسکری صلاحیت بحال کی ہو، تاہم امریکی فوج ایک دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک طویل المدتی اور پائیدار امن معاہدہ چاہتا ہے، اور اس سلسلے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث انہیں کچھ عرصے کیلئے گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان بیانات کی یہ جنگ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے مزید پڑھیں

ایرانی عدلیہ نے 8 خواتین کی سزائے موت سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت اور بعد ازاں اس کی مبینہ منسوخی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جن خواتین کا ذکر امریکی صدر کی جانب سے کیا جا رہا ہے، انہیں نہ تو کبھی سزائے موت سنائی گئی اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی عدالتی فیصلہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران میں سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد سے قبل 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم یہ دعویٰ بھی بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوا تھا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اب دوبارہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان خواتین کی سزائے موت “ٹرمپ کے مطالبے” پر منسوخ کر دی گئی ہے، جسے ایرانی حکام نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے “من گھڑت اور پروپیگنڈا پر مبنی خبر” قرار دیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ یہ مبینہ 8 خواتین کون ہیں، انہیں کب اور کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، یا آیا ان کے خلاف کوئی باضابطہ عدالتی کارروائی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر امریکی اور ایرانی بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے عالمی سفارتکاری اور جاری سیاسی کشیدگی میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔

ایرانی عدلیہ نے 8 خواتین کی سزائے موت سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت اور بعد ازاں اس کی مبینہ منسوخی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر مزید پڑھیں


لندن میں آبنائے ہرمز پر اہم کانفرنس آج، 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شریک اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شرکت کریں گے۔ ویب ڈیسک کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی تجارتی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش یا عدم استحکام عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق کانفرنس میں شریک فوجی ماہرین اپنے اپنے ممالک کی عسکری صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام اور خطے میں افواج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی حکمت عملی یا منصوبے کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی معاہدے کے بعد ہی عملی شکل دی جائے گی، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کانفرنس نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال بلکہ عالمی سلامتی کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس کے نتائج آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


لندن میں آبنائے ہرمز پر اہم کانفرنس آج، 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شریک

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے مزید پڑھیں

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی خاتون ہزاروں سانپ پال کر سالانہ 10 لاکھ یوآن (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، چن اس وقت اپنے خاندان کے سانپ فارم میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور تقریباً 60 ہزار سے زائد سانپوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 50 ہزار سے زائد انتہائی زہریلے سانپ جبکہ تقریباً 10 ہزار کوبرا سانپ شامل ہیں۔ چن نے بتایا کہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے دو سال بعد وہ اپنے آبائی قصبے واپس آئیں تاکہ اپنے والد کے سانپ فارمنگ کے کاروبار میں مدد کر سکیں۔ ابتدا میں ان کے والد اس بات کے سخت مخالف تھے کہ ان کی بیٹی اس خطرناک کام کا حصہ بنے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فارم کی وسعت اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث چن بھی اس پیشے کا باقاعدہ حصہ بن گئیں۔ چن کے مطابق سانپوں کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہوتا ہے، تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے اپنے والد کے ساتھ اس ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ چین میں سانپوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے، جن میں روایتی ادویات، طبی تحقیق اور خوراک شامل ہیں۔ سانپ کے زہر کی قیمت 40 سے 200 یوآن فی گرام تک ہوتی ہے، جبکہ سانپ کا گوشت 200 سے 300 یوآن فی کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔ تمام اخراجات نکالنے کے باوجود، چن کا یہ کاروبار انہیں سالانہ 10 لاکھ یوآن سے زائد منافع فراہم کرتا ہے۔ چن نہ صرف اس منفرد کاروبار کو چلا رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں، جہاں وہ اپنے سانپ فارم کے تجربات اور معلومات شیئر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سانپ کا ڈسنا شدید تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہ ان کے کام کا حصہ ہے اور وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں۔ چن کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ غیر روایتی اور خطرناک شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ محنت، حوصلہ اور مستقل مزاجی ساتھ ہو۔ ان کا یہ منفرد پیشہ نہ صرف انہیں مالی خودمختاری دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا

چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی مزید پڑھیں

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم مینگورہ ( عزیز خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، خصوصاً محلہ لنڈیکس اور محلہ بنگلہ دیش میں آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بجلی، گیس اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بحال نہ ہوسکیں، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان محلوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے فوری بعد وقتی امدادی سرگرمیاں تو دیکھنے میں آئیں، مگر مستقل بحالی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ گلیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ نکاس آب کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ پانی جمع رہتا ہے اور نالیاں ریت اور ملبے سے بھری پڑی ہیں، جس سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یونین کونسل کے سابق چیئرمین فضل ربی راجا کے مطابق، مقامی لوگوں نے بارہا اپنے منتخب نمائندوں کو مسائل سے آگاہ کیا، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وعدے تو کئے، لیکن متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی اور عارضی بحالی کے کئی کام علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انجام دئے، تاہم بڑے پیمانے پر درکار اقدامات کے لئے حکومتی وسائل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلوں نے ندیوں پر قائم کئی چھوٹے بڑے پل بہا دئے، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بچے اسکول اور مدارس جانے سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ندی میں اترنا پڑتا ہے۔ کاروباری افراد کو بھی روزانہ اسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بزرگ افراد کے لئے ندی پار کرنا ایک خطرناک مرحلہ بن چکا ہے، اور اکثر حادثات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ فضل ربی راجا کے مطابق، علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی عارضی پل تعمیر کئے، لیکن پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث یہ پل چند ہی دنوں میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرچکی ہے، مگر ایسے منصوبے جن کے لئے بھاری مشینری اور خطیر فنڈز درکار ہوں، وہ حکومت ہی انجام دے سکتی ہے۔ مقامی رہائشی محمد علی نے بتایا کہ گیس کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہے، اور کئی مقامات پر پائپ لائنیں سیلاب میں بہہ چکی ہیں۔ اسی طرح بجلی کا نظام بھی مکمل بحال نہیں ہو سکا، کیونکہ کئی کھمبے اور ٹرانسفارمر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش معمول بن چکی ہے، جبکہ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہونے کے باعث زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ علاقے، جو سیلاب سے قبل مینگورہ کے اہم اور قیمتی رہائشی علاقوں میں شمار ہوتے تھے، اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی، ہر طرف پھیلی گندگی، کیچڑ اور ملبہ نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی کو بھی گہنا چکا ہے۔ صفائی اور ترقیاتی کاموں کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، مینگورہ کے سٹی میئر شاہد علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فنڈز کی کمی کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جلد مرکزی پل کی تعمیر کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی بتدریج کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقوں میں تنگ گلیاں سرکاری مشینری کے استعمال میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور اضافی فنڈز کے حصول کے لئے حکومت سے رابطے میں ہیں۔ مینگورہ کے ان گنجان آباد محلوں میں لاکھوں افراد مقیم ہیں، جن میں سے کئی خاندان سیلاب کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کر گئے تھے، تاہم بعد ازاں اپنے گھروں کو آباد کرنے کی غرض سے واپس آنا پڑا۔ اب سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ خاندان ایک بار پھر مشکلات کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ صورتحال میں نہ تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کہیں اور مستقل طور پر منتقل ہونے کی سکت رکھتے ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر بنیادی سہولیات کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم

مینگورہ ( عزیر خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، مزید پڑھیں

اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر محیط سیزفائر اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے، مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک عارضی وقفہ تھا، مستقل حل نہیں۔ بظاہر میدان جنگ خاموش ہے، لیکن پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطگی نے نہ صرف کشیدگی کو بڑھایا بلکہ اس نے سیزفائر کی روح کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لینا ایک ایسا اقدام تھا جس نے حالات کو یکسر بدل دیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز میں ایسا سامان موجود تھا جو بظاہر تجارتی تھا، مگر اسے عسکری مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان میں دھاتیں، پائپ اور الیکٹرانک آلات شامل بتائے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایران اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ تہران کے نزدیک یہ نہ صرف سیزفائر کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی نفی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا وفد یہاں پہنچ چکا ہے اور اس نے مذاکرات کیلئے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تاہم ایران کی غیر یقینی صورتحال نے اس پورے عمل کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے آمادہ تھا، لیکن حالیہ پیش رفت کے بعد اس کا مؤقف سخت ہو گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس پر دباؤ جاری رہے گا، بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات صرف مقام اور تیاری کا نام نہیں، بلکہ اس کیلئے سیاسی ارادہ اور اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے، جو اس وقت واضح طور پر موجود نہیں۔ اگرچہ مذاکرات کے مقام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ شہر کے بڑے ہوٹلز کو اس مقصد کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان ہوٹلز کو جزوی طور پر خالی کرایا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات غیر معمولی ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، اور شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ مذاکرات چاہتا ہے، مگر اپنی شرائط کے ساتھ۔ اس کا زور ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر پابندیوں پر ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو اولین شرط قرار دے رہا ہے۔ اس کے نزدیک حالیہ جہاز ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ سنجیدہ سفارت کاری کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے ، اور یہی اختلافات اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سیزفائر اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر ایران مذاکرات میں شامل ہو جاتا ہے تو اس میں توسیع ممکن ہے۔ لیکن اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو یہ عارضی امن کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں فریق فوری طور پر کشیدگی کم کریں، کیونکہ کسی بھی قسم کی نئی جھڑپ نہ صرف اس سیزفائر کو ختم کر سکتی ہے بلکہ ایک وسیع تر تنازع کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سب کچھ تیار ہے۔ سفارتی ماحول موجود ہے، سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عالمی نظریں اس شہر پر مرکوز ہیں۔ مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا؟ یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں، بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، اور اگر ناکام رہے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اسلام آباد امن کی علامت بنتا ہے یا ایک ضائع شدہ موقع کی؟

اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر مزید پڑھیں

مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں تباہی مچا کر جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکی فوج کے شعبہ سینٹکام نے حالیہ کارروائی میں ایک ایرانی جہاز کو اپنی تحویل میں لینے اور اس پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں تصادم کا نیا محاذ کھل چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں، جو کہ حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کو پہنچنے والا سب سے بڑا شہری نقصان ہے۔ اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت عالمی دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرنے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں: 1. اعتماد کا فقدان: ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ اقدامات (جیسے جہازوں پر حملے) بند نہیں کرتے، بات چیت ممکن نہیں۔ 2. تہران کا الزام ہے کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر ایسے مطالبات رکھتا ہے جو ایران کی دفاعی صلاحیت (میزائل پروگرام) کو ختم کرنے سے متعلق ہیں، جو کہ اسے منظور نہیں۔ 3. ایران کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے دوہرے معیار میں سفارت کاری بے معنی ہے۔ اگر ہم ماضی کے مذاکرات پر نظر ڈالیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا موڑ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) تھا۔ * اوبامہ کے دور میں طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاکہ معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔ * 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کر دی۔ * موجودہ دور میں بھی ویانا میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے تاکہ اس معاہدے کو بحال کیا جا سکے، لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر بار معاہدے کی شرائط سے پھر جاتا ہے، اس لئے اب مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی حالیہ تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت پر جوابی حملے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ جنگ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن و معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری مزید پڑھیں