شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے موقع پر علیمہ خان کا پارٹی رہنماؤں پر سخت برہمی کا اظہار اسلام اباد (دی خیبرٹائمزمینٹرنگ ڈٰسک) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دن پارٹی رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کی عدم موجودگی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا لہجہ خاصا تلخ دکھائی دیا۔ انہوں نے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج اسمبلیوں میں بانی پی ٹی آئی کے نام اور ان کے ووٹوں کی بدولت بیٹھے ہیں، کیا انہیں آج یہاں اڈیالہ جیل کے باہر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا؟ انہوں نے اسے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن کی پہچان عمران خان ہے، وہ ان سے اظہار یکجہتی کیلئے بھی نہیں پہنچے۔ اس موقع پر موجود پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے علیمہ خان کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی اور وضاحت پیش کی کہ انہوں نے تمام متعلقہ فورمز پر پیغام پہنچا دیا تھا۔ شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ میں نے آپ کا بیان اور ہدایات پارلیمانی گروپ اور خیبر پختونخوا کے ایم این ایز (MNAs) کے مخصوص گروپس میں شیئر کر دی تھیں۔ تمام ارکان کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ اڈیالہ جیل پہنچیں۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ اگلے ہفتے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبے کے تمام ارکانِ اسمبلی یہاں جیل کے باہر موجود ہوں گے۔ علیمہ خان شاہد خٹک کی وضاحتوں سے مطمئن نظر نہ آئیں اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو لوگ مشکل وقت میں اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، انہیں عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا، کہ جن لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ لئے، انہیں تھوڑی سی شرم کرنی چاہئے۔ اگر وہ اڈیالہ جیل نہیں آ سکتے اور اپنے قائد کیلئے آواز بلند نہیں کر سکتے، تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی سیٹیں اور عہدے چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ملاقات کے مخصوص دنوں پر پارٹی قیادت اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد عام طور پر وہاں جمع ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ارکانِ اسمبلی کی مبینہ سستی اور کم دلچسپی پر تنقید کی جا رہی ہے، جس کا اظہار آج علیمہ خان نے کھل کر کر دیا

شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے موقع پر علیمہ خان کا پارٹی رہنماؤں پر سخت برہمی کا اظہار
اسلام اباد (دی خیبرٹائمزمینٹرنگ ڈٰسک) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دن پارٹی رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کی عدم موجودگی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا لہجہ خاصا تلخ دکھائی دیا۔ انہوں نے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج اسمبلیوں میں بانی پی ٹی آئی کے نام اور ان کے ووٹوں کی بدولت بیٹھے ہیں، کیا انہیں آج یہاں اڈیالہ جیل کے باہر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا؟ انہوں نے اسے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن کی پہچان عمران خان ہے، وہ ان سے اظہار یکجہتی کیلئے بھی نہیں پہنچے۔
اس موقع پر موجود پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے علیمہ خان کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی اور وضاحت پیش کی کہ انہوں نے تمام متعلقہ فورمز پر پیغام پہنچا دیا تھا۔ شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ میں نے آپ کا بیان اور ہدایات پارلیمانی گروپ اور خیبر پختونخوا کے ایم این ایز (MNAs) کے مخصوص گروپس میں شیئر کر دی تھیں۔ تمام ارکان کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ اڈیالہ جیل پہنچیں۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ اگلے ہفتے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبے کے تمام ارکانِ اسمبلی یہاں جیل کے باہر موجود ہوں گے۔
علیمہ خان شاہد خٹک کی وضاحتوں سے مطمئن نظر نہ آئیں اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو لوگ مشکل وقت میں اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، انہیں عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا، کہ جن لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ لئے، انہیں تھوڑی سی شرم کرنی چاہئے۔ اگر وہ اڈیالہ جیل نہیں آ سکتے اور اپنے قائد کیلئے آواز بلند نہیں کر سکتے، تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی سیٹیں اور عہدے چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ملاقات کے مخصوص دنوں پر پارٹی قیادت اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد عام طور پر وہاں جمع ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ارکانِ اسمبلی کی مبینہ سستی اور کم دلچسپی پر تنقید کی جا رہی ہے، جس کا اظہار آج علیمہ خان نے کھل کر کر دیا۔