دی خیبر ٹائمز افغان مانیترنگ ڈیسک: افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کے ضلع نُسائی میں جنوبی طالبان فورسز اور جمعہ خان فاتح سے وابستہ جنگجوؤں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد علاقے میں مسلح کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
افغانستان سے متعلق ذرائع کے مطابق نُسائی میں فریقین کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ اسی دوران جمعہ خان فاتح، جنہیں علاقے میں ایک بااثر مسلح کمانڈر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، نے مبینہ طور پر واٹس ایپ پر جاری ایک آڈیو پیغام میں اپنے ساتھیوں کو کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
مبینہ آڈیو پیغام میں ملا جمعہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے:
“اس وقت تنازع جاری ہے۔ دوستوں کو بتائیں، اگر ان کا کوئی منصوبہ ہے تو اسے شروع کریں۔”
ذرائع کے مطابق جمعہ خان فاتح نے بدخشان کے علاقے دروازہ میں بھی بعض افراد میں ہتھیار تقسیم کئے ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان کے حامی مزید منظم مسلح کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔
نُسائی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موجودہ کشیدگی کو صرف ایک مقامی جھڑپ سمجھنا شاید کافی نہیں ہوگا۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مقامی طاقت کے مراکز، سابق سیکیورٹی اہلکاروں، مسلح کمانڈروں اور طالبان قیادت کے درمیان تعلقات میں مسلسل تناؤ موجود رہا ہے۔
ان علاقوں میں اختلافات کی ایک بڑی وجہ مقامی کمانڈروں کی خودمختاری، سیکیورٹی کنٹرول، ہتھیاروں کی تقسیم، تقرریوں، وسائل اور طالبان کے مرکزی ڈھانچے کے مقابل مقامی اثر و رسوخ سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔ بدخشان جیسے سرحدی اور جغرافیائی طور پر دشوار گزار صوبے میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، جہاں مقامی نیٹ ورک اور مسلح کمانڈروں کا اثر اب بھی اہم ہے۔
موجودہ کشیدگی کی تازہ لہر نُسائی میں حالیہ دوبارہ ہونے والی جھڑپوں کے بعد نمایاں ہوئی ہے، تاہم اس مخصوص تنازعے کی ابتدا کی درست تاریخ اور دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کی مکمل تفصیل کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے۔
افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت کو کسی ایک تنظیم یا متحد کمانڈ کے تحت نہیں دیکھا جاتا۔ 2021 کے بعد کئی گروپ اور مقامی مسلح نیٹ ورک سامنے آئے، جن میں دو بڑے نام نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف چھوٹے علاقائی، سابق سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل اور مقامی مزاحمتی نیٹ ورک بھی وقتاً فوقتاً طالبان کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کرتے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی ایک حتمی اور متفقہ تعداد موجود نہیں۔ مختلف اوقات میں نئے گروپ وجود میں آئے، بعض نے اتحاد بنائے، جبکہ کچھ کے نام یا سرگرمیاں محدود علاقوں تک رہیں۔
موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بدخشان اور دیگر شمالی علاقوں میں طالبان حکومت کا انتظامی اور سیکیورٹی ڈھانچہ مکمل طور پر یکساں نہیں رہا۔ مختلف علاقوں میں مختلف کمانڈروں اور مقامی طاقت کے مراکز کے درمیان اختیارات اور وفاداریوں کے معاملات نے پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔
اگر نُسائی اور دروازہ میں موجودہ کشیدگی مزید پھیلتی ہے تو یہ صرف ایک مقامی مسلح جھڑپ نہیں رہے گی بلکہ بدخشان میں طالبان کے سیکیورٹی کنٹرول، مقامی کمانڈروں کے کردار اور شمالی افغانستان میں جاری مزاحمت کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کرسکتی ہے۔
جمعہ خان فاتح کے جنگی پیغام اور مبینہ طور پر ہتھیاروں کی تقسیم نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تاہم یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ موجودہ لڑائی مقامی تنازع تک محدود رہے گی یا کسی وسیع تر طالبان مخالف مزاحمت کا حصہ بنے گی۔
اسی طرح یہ بھی ابھی تک معلوم نہیں کہ نُسائی میں حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں کتنی ہلاکتیں یا گرفتاریاں ہوئی ہیں، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے اس مخصوص واقعے پر تاحال کوئی جامع سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بدخشان کی جغرافیائی اہمیت، تاجکستان کی سرحد سے قربت، مقامی مسلح نیٹ ورکس اور طالبان مخالف مزاحمت کے پس منظر میں نُسائی کی موجودہ کشیدگی کو صرف ایک ضلعی جھڑپ سمجھنا خطے کی مجموعی سیکیورٹی تصویر کو محدود کردے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ تصادم چند مقامی کمانڈروں کی لڑائی تک محدود رہتا ہے یا شمالی افغانستان میں مزاحمت کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرتا ہے۔
Exclusive Summary:
Fresh fighting has erupted in Afghanistan’s Badakhshan province between southern Taliban forces and fighters linked to Juma Khan Fateh. In a reported WhatsApp audio message, Mullah Juma urged his supporters to launch their plans amid the ongoing conflict, while sources claim weapons were distributed among local fighters in Darwazha. The escalation highlights long-running tensions over local control, armed authority and Taliban power structures in northern Afghanistan, raising questions over whether the clashes could develop into a wider resistance campaign.




