لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات لکی مروت ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) لکی مروت کے علاقے شہباز خیل سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش متعدد اہم انکشافات کیے ہیں، جن سے خطے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق عامر سہیل بنوں، لکی مروت اور میانوالی سمیت مختلف اضلاع میں تنظیمی سرگرمیوں کی کمانڈ، رابطہ کاری اور نیٹ ورک کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس تنظیم میں شامل ہوا۔ گرفتار کمانڈر نے انکشاف کیا کہ اس نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم ایک تربیتی مرکز میں دہشتگردی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مراکز کو مبینہ طور پر طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔ مزید برآں اس نے اپنے روابط کالعدم تنظیم داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے افغانستان سمیت دیگر مبینہ ذرائع سے مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی، جن میں "را" سے منسوب عناصر بھی شامل ہیں۔ اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد افراد شامل تھے، جن میں بعض افغان شہری بھی تھے۔ تحقیقات کے مطابق گرفتار دہشتگرد بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اپنے بیان میں ملزم نے کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے سرگرم ہے اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کمانڈر کے انکشافات کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق ان بیانات سے سرحد پار روابط اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے مختلف پہلوؤں پر مزید روشنی پڑنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ واقعات اور گرفتاریوں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہو رہی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کرک ایسے اضلاع ہیں جہاں ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہ متحرک ہیں۔ ان علاقوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا جغرافیائی پھیلاؤ جنوبی پنجاب کے ساتھ مل رہا ہے، جو سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک اہم تشویش ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر کارروائیاں نہ کی گئیں تو یہ صورتحال پنجاب تک عدم استحکام پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے مربوط حکمت عملی اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔

لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات

لکی مروت ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) لکی مروت کے علاقے شہباز خیل سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔ مزید پڑھیں

ٹھیکیداروں کا بقایا جات کی عدم ادائیگی پر احتجاج، صوبائی سطح پر تحریک کا اعلان

شمالی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پریس کلب میرانشاہ میں شمالی وزیرستان کے مقامی ٹھیکیداروں نے ترقیاتی فنڈز کی بندش اور کروڑوں روپے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید پڑھیں

“ڈیجیٹل شہرت کی قیمت، سوشل میڈیا اسٹارز کا دباؤ”

“ڈیجیٹل شہرت کی قیمت، سوشل میڈیا اسٹارز کا دباؤ” سوشل میڈیا اسٹارز کا وائرل ہونے” کی قیمت زندگی کے خاتمہ پر کیوں ہوتا ہے؟ ناہید جہانگیر ڈیجیٹل شہرت، آسان راستہ، مشکل انجام ڈیجیٹل دور میں جہاں شہرت حاصل کرنا آسان مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سال: دعوے، تنقید اور عوامی رائے

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا 13سالہ دور اقتدار…حکمرانوں کے دعوے …اپوزیشن کی تنقید…عوامی اظہار راۓ خصوصی تحریر: سفیراللہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)خیبر پختونخوا میں 2013 سے مسلسل برسر اقتدار ہے تب سے لے کر اب تک مزید پڑھیں

خلیج میں سیکیورٹی الرٹ: غیر ملکی کارکنوں کے لئے ہنگامی ہدایات اور سفری پابندیاں

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران کے محکمہ صحت کے مطابق، زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، خاص طور پر تہران کے شمالی اضلاع میں شہری عمارتوں پر ہونے والے حملوں نے رہائشیوں کو مزید پڑھیں

"انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی" ایک باغی روح کی رخصتی وہ محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے پریس کلب کی سیاست میں اپنی جرات اور اصول پسندی سے بغاوت کی وہ مثالیں قائم کیں جو برسوں تک مشعلِ راہ رہیں گی۔ آج جب وہ ہم سے جدا ہو کر منوں مٹی تلے جا سوئی ہے، تو اس کی کمی ایک ایسے رستے ہوئے زخم کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابات 2026: ایک عجیب کشمکش رواں سال 2026 کے پریس کلب انتخابات کا غلغلہ تھا۔ انیلا شاہین کے صدارت کے لئے کاغذاتِ نامزدگی کسی ہمدرد نے جمع کرا دئے تھے۔ دوسری طرف ایم ریاض بھائی جیسے مضبوط اور قد آور امیدوار میدان میں تھے، جن کی مقبولیت کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ کلب کے اندر ایک مضبوط لہر اٹھی کہ ایم ریاض صاحب کو بلا مقابلہ صدر منتخب کروا لیا جائے تاکہ "اتحاد اور یکجہتی" کا روایتی تاثر ابھرے۔ ہمارے بزرگ اور قابلِ قدر صحافی شمیم شاہد صاحب نے مجھے ایک بھاری ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کسی طرح انیلا شاہین کو دستبرداری پر راضی کیا جائے، کیونکہ ایم ریاض صاحب کی جیت تو یقینی تھی، مگر بلا مقابلہ انتخاب پریس کلب کے مستقبل کے لئے "مفید" مصلحت لگ رہی تھی۔ میں شمیم شاہد صاحب کا پیغام اور ان کی سونپی ہوئی ذمہ داری کا بوجھ لے کر ایک صبح سویرے انیلا کے گھر پہنچا۔ میرا مقصد اسے منت سماجت کر کے انتخابی عمل سے الگ کرنا تھا۔ میں نے بڑے دھیمے اور مصلحت آمیز لہجے میں دستبرداری کے فائدے گنوانے شروع کئے۔ میں اسے کہانیاں سناتا رہا کہ کیسے بلا مقابلہ انتخاب سے کلب مضبوط ہوگا، وہ خاموشی سے، ایک متانت بھری مسکراہٹ کے ساتھ میری تمام باتیں سنتی رہی۔ جب میں بول چکا، تو اس نے جس خوبصورت اور پروقار لہجے میں جواب دیا، اس نے میرے تمام مصلحت پسندانہ دلائل مٹی میں ملا دئے۔ اس نے بڑی درمندی سے کہا: "تم جانتے ہو؟ پریس کلب میں صرف دو تین درجن صحافی ہی سارا سال مراعات اور انفراسٹرکچر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ سینکڑوں ممبران وہ گمنام سپاہی ہیں جو سال میں صرف ایک بار، 'انتخابات' کے دن کلب کی دہلیز پار کرتے ہیں۔ وہ اس لئے آتے ہیں تاکہ اپنے برسوں پرانے ساتھیوں سے ملیں، قہقہے لگائیں، دکھ سکھ بانٹیں اور اس ایک دن کو جئیں جو ان کے لئے عید جیسا رنگین ہوتا ہے۔" اس کی دلیل میں ایک عجیب تڑپ تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر بلا مقابلہ انتخاب کا رواج جڑ پکڑ گیا، تو ان سینکڑوں ممبران کی رہی سہی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: "جس دن ووٹ پڑتا ہے، اس دن بڑے بڑے امیدوار ان عام ممبران کے پاس جاتے ہیں، انہیں عزت دیتے ہیں، ان کے ہاتھوں کو چومتے ہیں اور ان سے ووٹ مانگ کر انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ اگر یہ عمل ختم ہو گیا، تو چند سالوں میں پریس کلب کی کابینہ کا ممبر دوسرے صحافی کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے گا۔ میں نہیں چاہتی کہ ان لوگوں کی توہین ہو جو سارا سال کلب نہیں آتے مگر کلب کا اصل اثاثہ وہی ہیں۔" میں نے پھر بھی اصرار کیا، بحث نہ کرنے کی ضد کی اور کہا کہ بس اس صدارتی عہدے سے دستبرداری کے کاغذ پر ابھی اسی وقت دستخط کر دیں تاکہ میں شمیم شاہد صاحب اور ایم ریاض بھائی کو مطمئن کر سکوں۔ انیلا نے بڑے وقار سے جواب دیا: "مجھے معلوم ہے میں ایم ریاض بھائی کو شکست نہیں دے سکتی، لیکن میں 'انتخابی عمل' کو شکست نہیں ہونے دوں گی۔ میں میدان میں رہوں گی تاکہ مقابلہ زندہ رہے۔" پھر اس نے وہ بات کہی جو صرف ایک وسیع الظرف انسان ہی کہہ سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ پولنگ کے دن اپنا بیلٹ پیپر صاف ستھرا نکال کر مجھے دے دے گی، تاکہ میں وہ شمیم شاہد صاحب کے ذریعے ایم ریاض بھائی کو دے دوں۔ اس نے کہا: "مجھے میرا اپنا ووٹ بھی نہیں چاہئے۔ وہ خود اس پر مہر لگا لیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ تمام امیدوار گیٹ پر کھڑے ہو کر ووٹ دینے آنے والے بھائیوں کا استقبال کریں، ان سے گلے ملیں، ان کا احترام کریں اور اپنا ایجنڈا شیئر کریں۔ پریس کلب کے ان گمنام سپاہیوں کو کم از کم سال میں ایک دن تو 'وی آئی پی' ہونے کا احساس دلایا جائے!" انیلا کا مقصد عہدہ پانا نہیں تھا، بلکہ ان ممبران کے وقار کی بحالی تھا جو سارا سال نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگوں نے سیکرٹری کے عہدے کے لئے مصلحتوں کے سمجھوتے کئے، کسی نے گورننگ باڈی کےعہدے اپنے نام کرنے کی خاطر اصولوں کا قتل کیا، وہاں انیلا تن تنہا ایم ریاض جیسے دیو ہیکل امیدوار کے سامنے ڈٹ گئی، صرف اس لئے تاکہ جمہوریت کا حسن اور عام صحافی کا احترام برقرار رہے۔ آج پریس کلب کا ہر وہ ممبر جس کی عزتِ نفس کی خاطر انیلا نے یہ ہارا ہوا معرکہ لڑا، اس کا مقروض ہے۔ اس نے اتحاد کے نام پر ہونے والی "سرد مصلحتوں" کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا کہ عہدہ عارضی ہے، مگر ممبر کا احترام دائمی ہونا چاہئے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہے، مگر اس کی سوچ پریس کلب کی فضاؤں میں ایک مقدس خوشبو کی طرح موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اس غیرت مند، بہادر اور ممبران کے وقار کی محافظ بیٹی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس نے ایک ایسا مقابلہ کیا جس کے جیتنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا، مگر اس نے ہار کر بھی ان سینکڑوں صحافیوں کے دل جیت لئے جن کا وقار اس کی آخری سانس تک پہلی ترجیح رہا۔ اے پشاور پریس کلب کی غیرت مند شہزادی! تمہاری اس 'شکست' میں بھی ہزاروں فتوحات پوشیدہ ہیں۔ ناصر داوڑ

“انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی”ایک باغی روح کی رخصتی

“شکست کا اعتراف، مقابلے کا جنون: انیلا شاہین” محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے مزید پڑھیں

پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ، افغان فورسز نے سرحد پر تازہ دم دستے تعینات کردئے

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک طرف پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری جانب افغان طالبان کی مزید پڑھیں

لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ، ٹی ٹی پی کمانڈر ہلاک

لکی مروت دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ضلع لکی مروت کے علاقے ظریفوال سربند میں سکیورٹی فورسز اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین مزید پڑھیں

بنوں خودکش حملے کے بعد سرحد پار فضائی کارروائیاں، پکتیکا اور ننگرہار میں تین مقامات پر دھماکے

پشاور( دی خیبرٹائمز ماینٹرنگ ڈیسک ) 
افغانستان کے صوبوں پکتیکا اور ننگرہار میں تین مختلف مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے ان مزید پڑھیں