خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی قتل نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں جید علما کرام اور مذہبی قیادت کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے حسب معمول تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ایسی تحقیقات محض سرکاری خزانے پر بوجھ ثابت ہوتی ہیں اور اصل مجرموں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں ۔ یہ رپورٹ شیخ ادریس کے پس منظر، ان کے سسر مولانا حسن جان کی شہادت، دارالعلوم حقانیہ کی قیادت پر حملوں، داعش (ISKP) کی پاکستان میں موجودگی، اور خطے میں جاری افراتفری کے بنیادی اسباب کا ایک مفصل اور تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، جنہیں علمی حلقوں میں شیخ ادریس کے نام سے جانا جاتا تھا، 1961 میں ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے تھا جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور برصغیر کی عظیم مذہبی روایات میں پیوست تھیں ۔ ان کے والد، حکیم مولانا عبدالحق، اپنے دور کے ایک ممتاز عالم دین اور مناظرِ اسلام کے طور پر مشہور تھے، جبکہ ان کے دادا مفتی شہزادہ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی اور وہ ایک جید شیخ الحدیث تھے ۔ شیخ ادریس نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور ترنگزئی کے مقامی مدارس سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ مذہبی تعلیم (دورہ حدیث) کیلئے پاکستان کی مایہ ناز درسگاہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک کا رُخ کیا ۔ وہاں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی اور مفتی محمد فرید جیسے اکابرین سے استفادہ کیا ۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید تعلیم میں بھی مہارت حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی ۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر جامعہ نعمانیہ، عثمان زئی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تقریباً 40 سال تک تدریس کے فرائض سرانجام دئے ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وہ صحیح البخاری اور جامع ترمذی جیسی اہم کتب پڑھا رہے تھے اور ایک وقت میں ان کے شاگردوں کی تعداد 2,400 سے زائد تھی ۔ شیخ ادریس محض ایک مدرس نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم عمل رہے۔ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ضلع چارسدہ کے امیر اور سرپرست اعلیٰ رہے، اور 2002 سے 2007 کے درمیان خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ان کی شہادت کو خطے کے علمی اور سیاسی ماحول کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے ۔ شیخ ادریس بین الاقوامی سطح پر معروف عالم دین مولانا حسن جان مدنی کے داماد تھے ۔ مولانا حسن جان کی شہادت کا واقعہ 15 ستمبر 2007 کو پشاور کے علاقے وزیر باغ میں پیش آیا ۔ وہ پشاور کی مشہور درویش مسجد کے خطیب اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر تھے ۔ مولانا حسن جان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کچھ نامعلوم افراد نے انہیں نکاح خوانی کے بہانے ساتھ لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔ ان کی شہادت کی ایک بڑی وجہ ان کے معتدل مذہبی خیالات اور خودکش حملوں کے خلاف ان کے سخت فتاویٰ تھے ۔ انہوں نے 2001 میں اس وفد میں بھی شمولیت اختیار کی تھی جس نے افغانستان جا کر ملا عمر کو اسامہ بن لادن کی ملک بدری پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ امریکی حملے سے بچا جا سکے ۔ ان کی شہادت نے اس وقت بھی یہ ثابت کر دیا تھا کہ دہشت گرد گروہ ایسے ہر عالم دین کے دشمن ہیں جو امن اور اعتدال کی بات کرتا ہے ۔ شیخ ادریس کی حالیہ شہادت نے اس نظریاتی دشمنی کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے، کیونکہ شیخ ادریس بھی اپنے سسر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن مذاکرات کے حامی تھے ۔ خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم حقانیہ رہا ہے، جسے طالبان کی نرسری بھی کہا جاتا ہے ۔ اس ادارے کے سربراہ اور طالبان کے روحانی باپ کہلانے والے مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا گیا تھا ۔ ان کی شہادت ایک معمہ بنی رہی، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے پیچھے وہ گروہ ملوث تھے جو افغان امن عمل میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھے ۔ مولانا سمیع الحق کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے جمعیت علمائے اسلام (س) اور مدرسے کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ لیکن 28 فروری 2025 کو دارالعلوم حقانیہ کے اندر ہی جمعہ کی نماز کے بعد ایک خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ حملہ آور نے علمی لبادے میں ملبوس ہو کر خود کو ان کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں وہ اور دیگر چھ نمازی شہید ہو گئے ۔ ان حملوں کا مقصد حقانیہ جیسے بااثر اداروں کی قیادت کو ختم کر کے ایک علمی خلا پیدا کرنا ہے ۔ مولانا حامد الحق کی شہادت کی ذمہ داری اگرچہ واضح طور پر کسی نے قبول نہیں کی تھی، لیکن سیکیورٹی اداروں کو داعش (ISKP) پر قوی شبہ تھا، کیونکہ وہ دیوبندی علما اور افغان طالبان کے حامیوں کو اپنا اولین دشمن تصور کرتی ہے ۔ شیخ ادریس کی شہادت کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) نے قبول کی ہے ۔ داعش کا پاکستان میں وجود ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ یہ تنظیم 2015 میں اس وقت وجود میں آئی جب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے کچھ ناراض کمانڈروں نے ابوبکر البغدادی کی بیعت کی ۔ داعش کا ابتدائی گڑھ مشرقی افغانستان (ننگرہار اور کنڑ) تھا، لیکن جلد ہی اس نے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں بھی اپنے قدم جما لئے ۔ داعش کا نظریہ "تکفیریت" پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ ہر اس مسلمان کو واجب القتل قرار دیتے ہیں جو ان کی خلافت کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا ۔ داعش نے جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) کے متعدد علما اور کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جولائی 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے پر ہونے والا دھماکہ، جس میں 60 کے قریب افراد شہید ہوئے، داعش کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھا ۔ داعش کا مقصد صرف پاکستان یا افغانستان نہیں بلکہ ایک عالمی خلافت کا قیام ہے، جو اسے تحریک طالبان پاکستان (جو ایک قوم پرست ایجنڈا رکھتی ہے) سے ممتاز کرتا ہے ۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISKP) کیلئے سب سے بڑا فوجی اور نظریاتی چیلنج بن کر ابھری ہے ۔ داعش کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کر کے اسلام کے ساتھ غداری کی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں، داعش ان شدت پسندوں کیلئے ایک پرکشش پلیٹ فارم بن گئی ہے جو ٹی ٹی پی کی نئی پالیسیوں (جیسے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانا) سے مطمئن نہیں ہیں ۔ لہٰذا، داعش اب طالبان سے بھی زیادہ بے رحم اور غیر متوقع خطرہ بن چکی ہے ۔ داعش خراسان کی بنیاد جنوری 2015 میں رکھی گئی تھی ۔ اس کا پہلا امیر یا "والی" حافظ سعید خان اورکزئی تھا، جو ٹی ٹی پی کا سابق کمانڈر تھا، جو 2016 میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے، حافظ سعید کی ہلاکت کے بعد عبدالحسیب لوگی مقرر ہوئے، وہ افغانستانن میں 2017 کو ایک چھاپے کے دوران مارے گئے۔، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قیادت میں تبدیلیاں آتی رہیں کیونکہ اکثر رہنما ڈرون حملوں یا فوجی آپریشنز میں مارے گئے ۔ اس کے بعد آئی ایس کے پی کے ثنااللہ (شہاب المہاجر)مقرر ہوئے، جو 2020 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل ائیر پورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بھی تھے تا حال آئی ایس کے پی کے امیر ہیں، ثناء اللہ غفاری، جو شہاب المہاجر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت داعش خراسان کا سب سے خطرناک رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی قیادت میں داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور دیہی علاقوں کے بجائے شہری مراکز میں گوریلا حملوں اور ٹارگٹ کلنگ پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ مئی 2019 میں داعش نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید پیچیدہ کرتے ہوئے پاکستان صوبہ (ISPP) کے نام سے ایک علیحدہ شاخ بھی قائم کی، تاکہ مقامی سطح پر بھرتیوں اور کارروائیوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔ داعش کی جانب سے دیوبندی اور خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ علما کو نشانہ بنانے کی وجوہات گہری اور کثیر الجہتی ہیں ۔ داعش جمہوریت کو "کفر" قرار دیتی ہے، جبکہ جے یو آئی پاکستان کے پارلیمانی نظام کا حصہ ہے ۔ داعش جے یو آئی کو افغان طالبان کا سیاسی و نظریاتی بازو سمجھتی ہے ۔ چونکہ افغان طالبان افغانستان میں داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، اس لئے داعش پاکستان میں ان کے حامیوں کو نشانہ بنا کر بدلہ لیتی ہے ۔ داعش دیوبندی عقیدے کو قبر پرستوں اور مشرکوں کا عقیدہ قرار دے کر ان کے قتل کو شرعی طور پر جائز قرار دیتی ہے ۔ بااثر علما کے قتل سے معاشرے میں ایک ایسا سیاسی اور مذہبی خلا پیدا ہوتا ہے جسے داعش اپنے انتہا پسندانہ نظریات سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پاکستان اس وقت جس افراتفری کا شکار ہے، اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں اور معاشی بحران میں پیوست ہیں ۔ فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز ہوا، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ اس جنگ کا محرک 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکہ تھا جس میں 31 افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان نے اس کا الزام افغانستان میں پناہ گزین ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں پر لگایا اور 21 فروری کو آپریشن غضب للحقی (Operation Ghazab lil Haq) کے تحت ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ اس جنگ نے نہ صرف سرحد پار کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کے بحران نے مہنگائی کو ایک نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ محض پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے ۔ افغانستان میں داعش نے طالبان کے حامی علما جیسے شیخ رحیم اللہ حقانی اور وزیرِ برائے مہاجرین حاجی خلیل الرحمن حقانی کو نشانہ بنایا ہے ۔ پاکستان میں صورتحال اس لئے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں علما کو نہ صرف داعش بلکہ قوم پرست گروہوں اور بعض اوقات نامعلوم فرقہ وارانہ جتھوں سے بھی خطرہ رہتا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں قاری سمیع الدین اور قاری نعمان جیسے علما کا قتل اس کی واضح مثال ہے، جو امن کی آواز اٹھانے پر نشانہ بنے ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے جو 1980 کی دہائی سے جاری ہے ۔ سپاہ صحابہ (SSP) اور لشکر جھنگوی جیسے گروہوں نے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا، جبکہ سپاہ محمد (SMP) جیسے گروہوں نے انتقامی کارروائیاں کیں ۔ موجودہ دور میں داعش نے اس فرقہ وارانہ آگ کو مزید بھڑکایا ہے ۔ داعش نہ صرف شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرتی ہے بلکہ وہ ان سنی علما کو بھی نشانہ بناتی ہے جو بین المسالک ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں ۔ اگست 2024 میں پنجاب سے لشکر جھنگوی، سپاہ محمد اور داعش پاکستان کے جنگجوؤں کی بیک وقت گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ تنظیمیں اب ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی یا تزویراتی اتحاد بنا رہی ہیں تاکہ ریاست کو کمزور کیا جا سکے ۔ شیخ ادریس کی شہادت اور مئی 2026 کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور 2026 کی پاک افغان جنگ نے ملک کے داخلی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ پولیس کی تحقیقات محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اب ریاست کے سیکیورٹی میکانزم سے زیادہ جدید اور منظم ہو چکے ہیں ۔ جب تک ریاست اپنی "تزویراتی گہرائی" کی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتی اور افغانستان کے ساتھ ایک پائیدار امن معاہدے تک نہیں پہنچتی، علما اور معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا ۔ شیخ ادریس جیسے علما کا جانا محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک پوری علمی روایت کا خاتمہ ہے، جو معاشرے میں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کر رہی تھی ۔ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے علمی اور سیاسی خلا کو اگر جلد پر نہ کیا گیا تو داعش جیسے گروہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مزید کامیاب ہو جائیں گے ۔

خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی قتل نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں جید علما کرام اور مذہبی قیادت کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے حسب معمول تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ایسی تحقیقات محض سرکاری خزانے پر بوجھ ثابت ہوتی ہیں اور اصل مجرموں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں ۔ یہ رپورٹ شیخ ادریس کے پس منظر، ان کے سسر مولانا حسن جان کی شہادت، دارالعلوم حقانیہ کی قیادت پر حملوں، داعش (ISKP) کی پاکستان میں موجودگی، اور خطے میں جاری افراتفری کے بنیادی اسباب کا ایک مفصل اور تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، جنہیں علمی حلقوں میں شیخ ادریس کے نام سے جانا جاتا تھا، 1961 میں ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے تھا جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور برصغیر کی عظیم مذہبی روایات میں پیوست تھیں ۔ ان کے والد، حکیم مولانا عبدالحق، اپنے دور کے ایک ممتاز عالم دین اور مناظرِ اسلام کے طور پر مشہور تھے، جبکہ ان کے دادا مفتی شہزادہ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی اور وہ ایک جید شیخ الحدیث تھے ۔
شیخ ادریس نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور ترنگزئی کے مقامی مدارس سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ مذہبی تعلیم (دورہ حدیث) کیلئے پاکستان کی مایہ ناز درسگاہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک کا رُخ کیا ۔ وہاں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی اور مفتی محمد فرید جیسے اکابرین سے استفادہ کیا ۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید تعلیم میں بھی مہارت حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی ۔
ان کا پیشہ ورانہ سفر جامعہ نعمانیہ، عثمان زئی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تقریباً 40 سال تک تدریس کے فرائض سرانجام دئے ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وہ صحیح البخاری اور جامع ترمذی جیسی اہم کتب پڑھا رہے تھے اور ایک وقت میں ان کے شاگردوں کی تعداد 2,400 سے زائد تھی ۔ شیخ ادریس محض ایک مدرس نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم عمل رہے۔ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ضلع چارسدہ کے امیر اور سرپرست اعلیٰ رہے، اور 2002 سے 2007 کے درمیان خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ان کی شہادت کو خطے کے علمی اور سیاسی ماحول کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے ۔

شیخ ادریس بین الاقوامی سطح پر معروف عالم دین مولانا حسن جان مدنی کے داماد تھے ۔ مولانا حسن جان کی شہادت کا واقعہ 15 ستمبر 2007 کو پشاور کے علاقے وزیر باغ میں پیش آیا ۔ وہ پشاور کی مشہور درویش مسجد کے خطیب اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر تھے ۔ مولانا حسن جان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کچھ نامعلوم افراد نے انہیں نکاح خوانی کے بہانے ساتھ لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔
ان کی شہادت کی ایک بڑی وجہ ان کے معتدل مذہبی خیالات اور خودکش حملوں کے خلاف ان کے سخت فتاویٰ تھے ۔ انہوں نے 2001 میں اس وفد میں بھی شمولیت اختیار کی تھی جس نے افغانستان جا کر ملا عمر کو اسامہ بن لادن کی ملک بدری پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ امریکی حملے سے بچا جا سکے ۔ ان کی شہادت نے اس وقت بھی یہ ثابت کر دیا تھا کہ دہشت گرد گروہ ایسے ہر عالم دین کے دشمن ہیں جو امن اور اعتدال کی بات کرتا ہے ۔ شیخ ادریس کی حالیہ شہادت نے اس نظریاتی دشمنی کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے، کیونکہ شیخ ادریس بھی اپنے سسر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن مذاکرات کے حامی تھے ۔
خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم حقانیہ رہا ہے، جسے طالبان کی نرسری بھی کہا جاتا ہے ۔ اس ادارے کے سربراہ اور طالبان کے روحانی باپ کہلانے والے مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا گیا تھا ۔ ان کی شہادت ایک معمہ بنی رہی، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے پیچھے وہ گروہ ملوث تھے جو افغان امن عمل میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھے ۔
مولانا سمیع الحق کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے جمعیت علمائے اسلام (س) اور مدرسے کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ لیکن 28 فروری 2025 کو دارالعلوم حقانیہ کے اندر ہی جمعہ کی نماز کے بعد ایک خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ حملہ آور نے علمی لبادے میں ملبوس ہو کر خود کو ان کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں وہ اور دیگر چھ نمازی شہید ہو گئے ۔
ان حملوں کا مقصد حقانیہ جیسے بااثر اداروں کی قیادت کو ختم کر کے ایک علمی خلا پیدا کرنا ہے ۔ مولانا حامد الحق کی شہادت کی ذمہ داری اگرچہ واضح طور پر کسی نے قبول نہیں کی تھی، لیکن سیکیورٹی اداروں کو داعش (ISKP) پر قوی شبہ تھا، کیونکہ وہ دیوبندی علما اور افغان طالبان کے حامیوں کو اپنا اولین دشمن تصور کرتی ہے ۔
شیخ ادریس کی شہادت کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) نے قبول کی ہے ۔ داعش کا پاکستان میں وجود ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ یہ تنظیم 2015 میں اس وقت وجود میں آئی جب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے کچھ ناراض کمانڈروں نے ابوبکر البغدادی کی بیعت کی ۔ داعش کا ابتدائی گڑھ مشرقی افغانستان (ننگرہار اور کنڑ) تھا، لیکن جلد ہی اس نے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں بھی اپنے قدم جما لئے ۔
داعش کا نظریہ “تکفیریت” پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ ہر اس مسلمان کو واجب القتل قرار دیتے ہیں جو ان کی خلافت کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا ۔
داعش نے جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) کے متعدد علما اور کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جولائی 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے پر ہونے والا دھماکہ، جس میں 60 کے قریب افراد شہید ہوئے، داعش کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھا ۔
داعش کا مقصد صرف پاکستان یا افغانستان نہیں بلکہ ایک عالمی خلافت کا قیام ہے، جو اسے تحریک طالبان پاکستان (جو ایک قوم پرست ایجنڈا رکھتی ہے) سے ممتاز کرتا ہے ۔
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISKP) کیلئے سب سے بڑا فوجی اور نظریاتی چیلنج بن کر ابھری ہے ۔ داعش کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کر کے اسلام کے ساتھ غداری کی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں، داعش ان شدت پسندوں کیلئے ایک پرکشش پلیٹ فارم بن گئی ہے جو ٹی ٹی پی کی نئی پالیسیوں (جیسے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانا) سے مطمئن نہیں ہیں ۔ لہٰذا، داعش اب طالبان سے بھی زیادہ بے رحم اور غیر متوقع خطرہ بن چکی ہے ۔
داعش خراسان کی بنیاد جنوری 2015 میں رکھی گئی تھی ۔ اس کا پہلا امیر یا “والی” حافظ سعید خان اورکزئی تھا، جو ٹی ٹی پی کا سابق کمانڈر تھا، جو 2016 میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے، حافظ سعید کی ہلاکت کے بعد عبدالحسیب لوگی مقرر ہوئے، وہ افغانستانن میں 2017 کو ایک چھاپے کے دوران مارے گئے۔، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قیادت میں تبدیلیاں آتی رہیں کیونکہ اکثر رہنما ڈرون حملوں یا فوجی آپریشنز میں مارے گئے ۔
اس کے بعد آئی ایس کے پی کے ثنااللہ (شہاب المہاجر)مقرر ہوئے، جو 2020 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل ائیر پورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بھی تھے تا حال آئی ایس کے پی کے امیر ہیں،
ثناء اللہ غفاری، جو شہاب المہاجر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت داعش خراسان کا سب سے خطرناک رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی قیادت میں داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور دیہی علاقوں کے بجائے شہری مراکز میں گوریلا حملوں اور ٹارگٹ کلنگ پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ مئی 2019 میں داعش نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید پیچیدہ کرتے ہوئے پاکستان صوبہ (ISPP) کے نام سے ایک علیحدہ شاخ بھی قائم کی، تاکہ مقامی سطح پر بھرتیوں اور کارروائیوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔
داعش کی جانب سے دیوبندی اور خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ علما کو نشانہ بنانے کی وجوہات گہری اور کثیر الجہتی ہیں ۔
داعش جمہوریت کو “کفر” قرار دیتی ہے، جبکہ جے یو آئی پاکستان کے پارلیمانی نظام کا حصہ ہے ۔
داعش جے یو آئی کو افغان طالبان کا سیاسی و نظریاتی بازو سمجھتی ہے ۔ چونکہ افغان طالبان افغانستان میں داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، اس لئے داعش پاکستان میں ان کے حامیوں کو نشانہ بنا کر بدلہ لیتی ہے ۔
داعش دیوبندی عقیدے کو قبر پرستوں اور مشرکوں کا عقیدہ قرار دے کر ان کے قتل کو شرعی طور پر جائز قرار دیتی ہے ۔
بااثر علما کے قتل سے معاشرے میں ایک ایسا سیاسی اور مذہبی خلا پیدا ہوتا ہے جسے داعش اپنے انتہا پسندانہ نظریات سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے ۔
پاکستان اس وقت جس افراتفری کا شکار ہے، اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں اور معاشی بحران میں پیوست ہیں ۔
فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز ہوا، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ اس جنگ کا محرک 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکہ تھا جس میں 31 افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان نے اس کا الزام افغانستان میں پناہ گزین ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں پر لگایا اور 21 فروری کو آپریشن غضب للحقی (Operation Ghazab lil Haq) کے تحت ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔
اس جنگ نے نہ صرف سرحد پار کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کے بحران نے مہنگائی کو ایک نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔

علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ محض پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے ۔ افغانستان میں داعش نے طالبان کے حامی علما جیسے شیخ رحیم اللہ حقانی اور وزیرِ برائے مہاجرین حاجی خلیل الرحمن حقانی کو نشانہ بنایا ہے ۔
پاکستان میں صورتحال اس لئے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں علما کو نہ صرف داعش بلکہ قوم پرست گروہوں اور بعض اوقات نامعلوم فرقہ وارانہ جتھوں سے بھی خطرہ رہتا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں قاری سمیع الدین اور قاری نعمان جیسے علما کا قتل اس کی واضح مثال ہے، جو امن کی آواز اٹھانے پر نشانہ بنے ۔
پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے جو 1980 کی دہائی سے جاری ہے ۔ سپاہ صحابہ (SSP) اور لشکر جھنگوی جیسے گروہوں نے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا، جبکہ سپاہ محمد (SMP) جیسے گروہوں نے انتقامی کارروائیاں کیں ۔
موجودہ دور میں داعش نے اس فرقہ وارانہ آگ کو مزید بھڑکایا ہے ۔ داعش نہ صرف شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرتی ہے بلکہ وہ ان سنی علما کو بھی نشانہ بناتی ہے جو بین المسالک ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں ۔ اگست 2024 میں پنجاب سے لشکر جھنگوی، سپاہ محمد اور داعش پاکستان کے جنگجوؤں کی بیک وقت گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ تنظیمیں اب ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی یا تزویراتی اتحاد بنا رہی ہیں تاکہ ریاست کو کمزور کیا جا سکے ۔
شیخ ادریس کی شہادت اور مئی 2026 کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور 2026 کی پاک افغان جنگ نے ملک کے داخلی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔
پولیس کی تحقیقات محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اب ریاست کے سیکیورٹی میکانزم سے زیادہ جدید اور منظم ہو چکے ہیں ۔ جب تک ریاست اپنی “تزویراتی گہرائی” کی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتی اور افغانستان کے ساتھ ایک پائیدار امن معاہدے تک نہیں پہنچتی، علما اور معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا ۔
شیخ ادریس جیسے علما کا جانا محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک پوری علمی روایت کا خاتمہ ہے، جو معاشرے میں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کر رہی تھی ۔ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے علمی اور سیاسی خلا کو اگر جلد پر نہ کیا گیا تو داعش جیسے گروہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مزید کامیاب ہو جائیں گے ۔