ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور دہشتگردی کے الزامات نے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ چین کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے سفارتی عمل کا حصہ ہے جو ماضی کے دوحہ اور استنبول مذاکرات سے آگے بڑھ کر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابتدائی مگر نسبتاً مثبت ماحول میں ہونے والی سفارتی نشست سمجھے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات مارچ 2026 کے آغاز میں ایک مختصر نشست کی صورت میں منعقد ہوئے۔ اس ملاقات کو ابتدائی اعتماد سازی کا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگلے دور کی باضابطہ تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین کی فعال ثالثی میں دونوں ممالک کو ایک نسبتاً منظم اور سنجیدہ سفارتی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چین اس پورے عمل میں ایک اہم اور اثرانداز ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان یو شیا یونگ مسلسل اسلام آباد اور کابل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ چین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خطے میں استحکام ناگزیر ہے، سرحدی کشیدگی تجارت اور علاقائی منصوبوں کے لئے نقصان دہ ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں ارومچی کو ایک غیر جانبدار اور محفوظ سفارتی مقام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ارومچی مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سب سے اہم نکتہ سیکیورٹی صورتحال رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسند گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی، افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ایک واضح قانونی اور عملی میکانزم ہونا چاہئے۔ سرحدی علاقوں میں ان عناصر کی نقل و حرکت روکی جائے۔ پاکستان یہ بھی مؤقف رکھتا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط کئے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ ارومچی مذاکرات کے بعد افغان فریق کی جانب سے نسبتاً نرم اور مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔ یہ رویہ ماضی کے سخت اور الزام تراشی پر مبنی بیانات کے مقابلے میں ایک واضح تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مختلف گروہوں پر مکمل کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے اور سرحدی انتظام ابھی بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ ارومچی مذاکرات کو سمجھنے کے لئے ماضی کے سفارتی رابطوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ دوحہ، استنبول اور سعودی عرب میں ہونے والے پاک افغان امن مذاکرات، جو کئی نشستوں پر مشتمل رہے، ان کے مقابلے میں ارومچی مذاکرات سے دونوں ممالک کی توقعات زیادہ ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات امن، تجارت اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحدی تمام اہم بارڈرز بند ہیں۔ طورخم بارڈر کو وقفے وقفے سے صرف پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی واپسی کے لئے کھولا جاتا ہے، جبکہ تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لئے یہ بارڈر مستقل طور پر بند ہے۔ سرحدی کشیدگی اور بارڈر بندش نے دونوں ممالک کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سرحدی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے مجموعی معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ افغانستان میں خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ارومچی مذاکرات کی اہمیت اس لئے زیادہ سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دیگر سفارتی کوششوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ یہ مذاکرات چین کی براہ راست اور فعال ثالثی میں ہوئے جہاں ماحول نسبتاً زیادہ مثبت اور تعمیری رہا۔ دونوں فریق پہلی بار زیادہ منظم انداز میں آمنے سامنے بیٹھے جس سے سیکیورٹی اور سیاسی سطح پر ایک نئے میکانزم کی بنیاد پڑنے کا امکان پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ ان مذاکرات کے دوران فریقین پہلی بار ایک ہی میز پر ڈنر اور لنچ کے لئے بھی اکٹھے ہوئے جو اعتماد سازی کے حوالے سے ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے اگرچہ امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے تاہم اصل چیلنجز اب بھی برقرار ہیں جن میں دہشتگردی کا مسئلہ، سرحدی اعتماد کی کمی، سیاسی بیانیوں میں فرق اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مستقبل کے مذاکراتی عمل کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ارومچی مذاکرات کو نہ تو مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ناکامی۔ یہ دراصل ایک ابتدائی مگر اہم سفارتی قدم ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان، افغانستان اور چین تینوں اس نتیجے پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن صرف مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور عملی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ابتدائی کوشش ایک مستقل سفارتی میکانزم میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔ آنے والے مہینے اس سوال کا جواب واضح کریں گے۔

ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت

چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات: اعتماد سازی، سیکیورٹی تعاون اور خطے میں پائیدار امن کی نئی سفارتی کوشش تحریر: ناصر داوڑ چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے مزید پڑھیں

کویت نے ایران امریکہ کشیدگی کے باعث بند فضائی حدود دوبارہ کھول دی ، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال کویت سٹی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حمود مبارک کے مطابق فضائی حدود کو جمعرات کے روز باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا، جو 28 فروری سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی طور پر بند کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ مکمل سیکیورٹی جائزے اور بین الاقوامی ایوی ایشن اداروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد مسافروں اور فضائی آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث خلیجی خطے کی فضائی ٹریفک متاثر ہوئی تھی۔ متعدد ممالک نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود میں احتیاطی اقدامات کیے، جن میں پروازوں کی معطلی، روٹس کی تبدیلی اور سیکیورٹی الرٹس شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی فضائی حدود عالمی ایوی ایشن کے لئے نہایت اہم ہیں، اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری کشیدگی براہ راست بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز پر اثر ڈالتی ہے۔ کویتی سول ایوی ایشن کے مطابق فضائی آپریشنز کی بحالی ایک مرحلہ وار منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے، تاکہ تمام سروسز کو مکمل طور پر محفوظ اور مستحکم انداز میں دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں محدود پروازیں بحال کی گئی ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں مکمل آپریشن کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کے لئے مکمل تیاری موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کویت کا یہ اقدام خطے میں نسبتاً استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی مکمل طور پر غیر یقینی ہے۔

کویت نے ایران امریکہ کشیدگی کے باعث بند فضائی حدود دوبارہ کھول دی ، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال

کویت سٹی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مزید پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں کے معاملات، اس تازہ بحران کی بنیاد بنے، خلیج کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جہاں ایرانی افواج کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آئے جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کمزور نہیں ہونے دے گا، ان تمام حالات کے درمیان ایک عارضی سیزفائر ضرور قائم کیا گیا لیکن یہ زیادہ ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے نہ کہ مستقل حل کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات لگ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہے، اسی تناظر میں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں امن مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی گئی مگر یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں جس کی بڑی وجہ سخت شرائط، باہمی عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کا دباؤ تھا، پاکستان نے اس سارے معاملے میں محتاط اور متوازن پالیسی اپناتے ہوئے نہ صرف سفارتی رابطے جاری رکھے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے لئے یہ صورتحال ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کا خیال رکھنا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیزفائر ایک نازک مرحلہ ہے جو بظاہر سکون کا تاثر دیتا ہے مگر اس کے نیچے چھپی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسی لئے آنے والے دن نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران مزید پڑھیں

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی خاتون ہزاروں سانپ پال کر سالانہ 10 لاکھ یوآن (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، چن اس وقت اپنے خاندان کے سانپ فارم میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور تقریباً 60 ہزار سے زائد سانپوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 50 ہزار سے زائد انتہائی زہریلے سانپ جبکہ تقریباً 10 ہزار کوبرا سانپ شامل ہیں۔ چن نے بتایا کہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے دو سال بعد وہ اپنے آبائی قصبے واپس آئیں تاکہ اپنے والد کے سانپ فارمنگ کے کاروبار میں مدد کر سکیں۔ ابتدا میں ان کے والد اس بات کے سخت مخالف تھے کہ ان کی بیٹی اس خطرناک کام کا حصہ بنے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فارم کی وسعت اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث چن بھی اس پیشے کا باقاعدہ حصہ بن گئیں۔ چن کے مطابق سانپوں کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہوتا ہے، تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے اپنے والد کے ساتھ اس ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ چین میں سانپوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے، جن میں روایتی ادویات، طبی تحقیق اور خوراک شامل ہیں۔ سانپ کے زہر کی قیمت 40 سے 200 یوآن فی گرام تک ہوتی ہے، جبکہ سانپ کا گوشت 200 سے 300 یوآن فی کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔ تمام اخراجات نکالنے کے باوجود، چن کا یہ کاروبار انہیں سالانہ 10 لاکھ یوآن سے زائد منافع فراہم کرتا ہے۔ چن نہ صرف اس منفرد کاروبار کو چلا رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں، جہاں وہ اپنے سانپ فارم کے تجربات اور معلومات شیئر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سانپ کا ڈسنا شدید تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہ ان کے کام کا حصہ ہے اور وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں۔ چن کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ غیر روایتی اور خطرناک شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ محنت، حوصلہ اور مستقل مزاجی ساتھ ہو۔ ان کا یہ منفرد پیشہ نہ صرف انہیں مالی خودمختاری دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا

چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی مزید پڑھیں

مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں تباہی مچا کر جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکی فوج کے شعبہ سینٹکام نے حالیہ کارروائی میں ایک ایرانی جہاز کو اپنی تحویل میں لینے اور اس پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں تصادم کا نیا محاذ کھل چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں، جو کہ حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کو پہنچنے والا سب سے بڑا شہری نقصان ہے۔ اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت عالمی دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرنے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں: 1. اعتماد کا فقدان: ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ اقدامات (جیسے جہازوں پر حملے) بند نہیں کرتے، بات چیت ممکن نہیں۔ 2. تہران کا الزام ہے کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر ایسے مطالبات رکھتا ہے جو ایران کی دفاعی صلاحیت (میزائل پروگرام) کو ختم کرنے سے متعلق ہیں، جو کہ اسے منظور نہیں۔ 3. ایران کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے دوہرے معیار میں سفارت کاری بے معنی ہے۔ اگر ہم ماضی کے مذاکرات پر نظر ڈالیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا موڑ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) تھا۔ * اوبامہ کے دور میں طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاکہ معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔ * 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کر دی۔ * موجودہ دور میں بھی ویانا میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے تاکہ اس معاہدے کو بحال کیا جا سکے، لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر بار معاہدے کی شرائط سے پھر جاتا ہے، اس لئے اب مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی حالیہ تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت پر جوابی حملے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ جنگ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن و معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری مزید پڑھیں

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ رپورٹ ان تعلقات میں آنے والی حالیہ خرابی، اس کے تاریخی اسباب، شدت پسند گروہوں کے کردار، سفارتی مذاکرات کی ناکامیوں اور مستقبل کے ممکنہ منظر نامے کا ایک ماہرانہ اور مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔ اس مخالفت کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کا تنازع تھا، جسے افغانستان نے ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ افغان قیادت کا موقف رہا ہے کہ 1893 میں برطانوی ہند اور افغان امیر کے درمیان کھینچی گئی یہ لکیر محض ایک عارضی انتظامی تقسیم تھی جس نے پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔    آزادی کے فوراً بعد افغانستان نے پاکستان کے اندر پشتونستان کی تحریک کی حمایت کی، جس کا مقصد پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کو الگ کر کے ایک آزاد ریاست قائم کرنا یا انہیں افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس نظریاتی اور علاقائی تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی دہائیوں میں ہی عدم اعتماد کی دیوار کھڑی کر دی، جو 1961 اور 1963 کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل منقطع ہونے پر منتج ہوئی ۔    تعلقات میں خرابی کے دوسرے بڑے مرحلے کا آغاز 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی اور لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندر کلاشنکوف کلچر، منشیات اور شدت پسندی کے ایسے بیج بوئے جنہوں نے بعد ازاں خود پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، تو طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک طرف افغان طالبان کو پناہ دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی ہے، جس سے ڈبل گیم کا تاثر ابھرا اور دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔    دورانیہ تعلقات کی نوعیت اہم تنازع / محرک 1947–1960 شدید تناؤ ڈیورنڈ لائن اور پشتونستان تحریک 1961–1963 سفارتی بائیکاٹ سرحدی جھڑپیں اور قونصل خانوں پر حملے 1979–1989 تزویراتی تعاون سوویت یونین کے خلاف جہاد اور مہاجرین کی آمد 1996–2001 قریبی تعلقات طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنا 2021 تا حال تزویراتی دشمنی ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پر باقاعدہ جنگ    طالبان اور پاکستان: تزویراتی گہرائی سے تزویراتی بوجھ تک یہ سوال کہ کیا یہ طالبان پہلے پاکستان کے تھے؟ تزویراتی حلقوں میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی تحریک کو افغانستان میں استحکام لانے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کے لئے سپورٹ کیا جو پاکستان کے مفادات کی نگران ہو اور بھارت کے اثر و رسوخ کو روک سکے ۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا ۔    تاہم، 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد یہ تزویراتی حساب کتاب مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی واپسی کو "غلامی کی زنجیریں توڑنے" سے تعبیر کیا تھا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ افغان طالبان اب اسلام آباد کے زیر اثر رہنے کے بجائے ایک آزاد قوت کے طور پر ابھرے ہیں ۔ سب سے بڑا بحران "تحریک طالبان پاکستان" (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر پیدا ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ان کے درمیان نظریاتی، قبائلی اور تنظیمی روابط اتنے مضبوط ہیں کہ افغان طالبان انہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔    پاکستان کی نظر میں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے پاکستان کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ تزویراتی گہرائی کا جو تصور پاکستان نے برسوں سے پال رکھا تھا، وہ اب ایک تزویراتی بوجھ بن چکا ہے کیونکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے ۔    عسکری تصادم اور فضائی کارروائیوں کے اہداف پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب پاکستان نے اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر براہ راست فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ عسکری مداخلت اس بات کا واضح اعلان تھی کہ پاکستان اب صبر کی پالیسی ترک کر چکا ہے ۔    مارچ 2024 اور دسمبر 2024 کی فضائی کارروائیاں 18 مارچ 2024 کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ ان کارروائیوں کا مقصد حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈروں اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے میں ملوث تھے ۔ دسمبر 2024 میں پاکستان نے ایک بار پھر پکتیکا کے ضلع برمل میں کارروائی کی، جہاں پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ۔    پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان نے کابل میں ایک ڈرامائی فضائی حملہ کیا جس کا بنیادی ہدف ٹی ٹی پی کا امیر نور ولی محسود تھا ۔ اگرچہ وہ اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا، لیکن کابل جیسے شہر کے اندر اس نوعیت کی کارروائی نے افغان طالبان کو شدید دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ۔    استاد قریشی: اکتوبر 2024 میں ایک سینیئر ٹی ٹی پی لیڈر استاد قریشی کو بھی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا ۔    امید کیمپ (Omid Camp) پر حملہ: 16 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں واقع ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ یہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا مرکز تھا جہاں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ یہ نیٹو کا سابقہ اڈہ تھا جسے ٹی ٹی پی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی تھی ۔    پاکستان نے ان گروہوں کو فتنہ الخوارج کا نام دیا ہے اور میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ انہیں اسی نام سے پکاریں، تاکہ ان کے مذہبی لبادے کو بے نقاب کیا جا سکے ۔    سفارتی مذاکرات کا سفر: دوحہ سے ارومچی تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم کو روکنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر متعدد سفارتی کوششیں کی گئیں۔ ان مذاکرات میں قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین نے کلیدی کردار ادا کیا، لیکن ہر بار کسی نہ کسی تعطل کی وجہ سے دیرپا امن قائم نہ ہو سکا۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات (اکتوبر-نومبر 2025) مذاکرات کے اس سلسلے کا آغاز قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہوا، جہاں 18 سے 19 اکتوبر 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ۔ اس کے بعد مذاکرات کا مرکز ترکی کا شہر استنبول بن گیا۔ استنبول میں مذاکرات کے تین دور ہوئے:    پہلا دور: 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، جس میں ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ثالثی کی ۔    تیسرا دور: 6 سے 7 نومبر 2025 کو ہوا ۔    شرکاء: افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب کر رہے تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے ۔    پاکستان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ ایک باقاعدہ فتویٰ جاری کریں جس میں پاکستان کے خلاف جنگ کو غیر اسلامی قرار دیا جائے ۔ افغان وفد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ فتویٰ جاری کرنا دارالافتاء کا کام ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ پر ایسا نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے افغان حکومت نے عدم کنٹرول کا عذر پیش کر کے مسترد کر دیا ۔    ریاض کانفرنس (دسمبر 2025) دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب نے ریاض میں مذاکرات کی میزبانی کی ۔ یہاں بھی فریقین نے جنگ بندی کی توسیع پر تو اتفاق کیا، لیکن ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے کوئی تحریری ضمانت نہ مل سکی ۔ پاکستان نے واضح کیا کہ محض خالی وعدوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمین پر ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے ۔    اپریل 2026 کو سب سے اہم مذاکرات چین کے شہر ارومچی (Urumqi)، سنکیانگ میں ہوئے ۔ یہ مذاکرات یکم اپریل سے 7 اپریل 2026 تک جاری رہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے دفاعی، خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی ۔ چین کی جانب سے خصوصی ایلچی اور سفارت کاروں نے ثالثی کے فرائض انجام دئے۔    اگرچہ چین نے اسے ایک تعمیری عمل قرار دیا اور فریقین نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا، لیکن بنیادی ڈیڈ لاک برقرار ہے ۔ پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ کابل کا اصرار ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور اسے افغان سرزمین سے جوڑنا غلط ہے ۔    شہر / مقام تاریخ ثالثی بنیادی نتیجہ / تعطل کی وجہ دوحہ 18–19 اکتوبر 2025 قطر، ترکی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ استنبول 25 اکتوبر – 7 نومبر 2025 ترکی، قطر فتویٰ کے مطالبے پر تعطل ریاض 4–6 دسمبر 2025 سعودی عرب جنگ بندی کی تجدید، تحریری ضمانت کا فقدان ارومچی 1–7 اپریل 2026 چین کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، بنیادی مطالبات پر ڈیڈ لاک    پاک افغان تعلقات میں خرابی کا سب سے براہ راست اثر سرحد پر ہونے والی تجارت پر پڑا ہے۔ اکتوبر 2025 سے پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر طورخم، چمن اور سپن بولدک جیسے اہم سرحدی راستوں کو کئی بار بند کیا ۔    افغان وزارت صنعت و تجارت کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2024 میں 2.46 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں گر کر 1.77 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی تقریباً 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی، جبکہ پاکستان سے درآمدات بھی 23 فیصد تک گر گئیں ۔ پاکستان کے لئے یہ بندش ماہانہ 2.5 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کے نقصان کا سبب بن رہی ہے ۔    تجارت میں اس تعطل کی وجہ سے افغانستان نے اپنا رخ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں ازبکستان اور قازقستان کی طرف کر لیا ہے ۔ 2025 میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغان تجارت 122 ملین ڈالر سے بڑھ کر 216 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت لاکھوں افغانوں کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔    پہلا مرحلہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا جس میں غیر دستاویزی افغانوں کو نکالا گیا ۔    دوسرا مرحلہ اپریل 2024 میں افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کو نشانہ بنایا گیا ۔    تیسرا مرحلہ اگست 2025 میں شروع ہوا جس کا ہدف 1.4 ملین پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز ہیں ۔    انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اس جبری انخلاء پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ واپس جانے والے افغانوں کو طالبان کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مستقبل میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی کی ایک مستقل وجہ بنا رہے گا، کیونکہ پاکستان اسے سکیورٹی کی ضرورت قرار دیتا ہے جبکہ کابل اسے نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی پامالی سمجھتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں سوشل میڈیا نے پٹرول کا کام کیا ہے۔ دونوں جانب سے پروپیگنڈا اور غلط معلومات (Misinformation) کی تشہیر نے عوامی سطح پر نفرتوں کو ہوا دی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے حامیوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم چلا رکھی ہے ۔    طالبان کے پروپیگنڈا سیل نے تاجکستان کے انٹیلی جنس چیف اور دیگر غیر ملکی عہدیداروں کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے تاکہ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان سفارتی تعلقات خراب کیے جا سکیں ۔    سوشل میڈیا پر پشتون اور بلوچ قوم پرستی کو ہوا دے کر پاکستانی شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔    اسلام آباد میں دھماکوں یا سیاسی بحران کے بارے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر اور جعلی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کیا جاتا ہے ۔    تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، شدت پسند گروہوں میں داعش خراسان (ISK) ڈیجیٹل میدان میں سب سے زیادہ نفیس اور خطرناک پروپیگنڈا کر رہی ہے، جو 12 سے زائد زبانوں میں مواد تیار کرتی ہے ۔ تاہم، افغان سرزمین سے ہونے والے سوشل میڈیا استعمال میں ٹی ٹی پی کے حامی اور طالبان کے ڈیجیٹل اثاثے زیادہ متحرک ہیں جو براہ راست پاکستان کی داخلی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی قوم پرست اور مخصوص سیاسی حلقے ان بیانیوں کو نادانستہ یا دانستہ طور پر آگے بڑھاتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان رابطے کے پل ٹوٹ رہے ہیں ۔    تعلقات میں خرابی کا ایک ابھرتا ہوا اور انتہائی خطرناک پہلو دریائے کنڑ (Kunar River) پر ڈیم کی تعمیر ہے ۔ افغانستان نے پاکستان سے مشاورت کے بغیر اس دریا پر ڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے، جو خیبر پختونخوا کے لئے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ پاکستان اسے آبی دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں زراعت اور بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔    تزویراتی لحاظ سے، پاکستان کے لئے یہ صورتحال تشویشناک ہے کہ بھارت نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے ۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بھارت کے لئے لانچنگ پیڈ بن جائے گا، جیسا کہ سابقہ دورِ حکومت میں تھا ۔    پاکستان کا سرکاری بیانیہ اب انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے کھلی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کابل نے دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند ہونا چاہئے ۔    دوسری طرف، طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر نہ ڈالے ۔ ان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور کابل کسی کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔ تزویراتی گہرائی کا پرانا خواب اب ایک ڈراؤنی حقیقت بن چکا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کشیدگی میں عارضی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن جب تک ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور ڈیورنڈ لائن کی شناخت جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، یہ خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مستقبل میں پاکستان کی پالیسی مزید جارحانہ دفاع (Aggressive Defense) کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جس میں فضائی حملے اور معاشی پابندیاں ایک معمول بن جائیں گی۔ دوسری طرف، افغانستان کا اپنی معیشت کو پاکستان سے الگ کر کے ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑنا پاکستان کے تزویراتی اثر و رسوخ کو مزید کم کر دے گا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان دونوں ممالک کے عام شہریوں، تاجروں اور ان لاکھوں مہاجرین کا ہو رہا ہے جو دو ریاستوں کے انا اور مفادات کی جنگ میں پس رہے ہیں۔

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ

دی خیبر ٹائمز کوصی تحریر: پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران مزید پڑھیں

اسلام آباد امن کانفرنس 2026: امریکہ، ایران اور اسرائیل کے مابین تاریخی مذاکرات اور پاکستان کا کلیدی کردار

�خطہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری دہائیوں پر محیط کشیدگی جب 2026 کے اوائل میں ایک ہمہ گیر جنگ کی صورت اختیار کر گئی، تو عالمی برادری ایک ایسی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی جس کے اثرات شاید صدیوں تک مزید پڑھیں