پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک بار پھر خطرناک ثابت ہونے لگے ہیں جہاں صومالیہ کے قریب سرگرم بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق “اونر 25” نامی اس آئل ٹینکر پر 21 اپریل کو مسلح قزاقوں نے دھاوا بولا اور جہاز کو یرغمال بنا لیا، جبکہ اس پر سوار 11 پاکستانی ملاحوں سمیت مجموعی عملہ تاحال قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود جہاز سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا، جس کے باعث پاکستان میں موجود عملے کے اہل خانہ شدید اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس اینڈ شپنگ کی جانب سے بھی پاکستانی کریو سے براہِ راست رابطہ قائم نہیں ہوسکا، جبکہ جہاز بھیجنے والی متعلقہ شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز پر موجود عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے ملاح بھی شامل ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف غیر رسمی ذرائع سے اتنی اطلاع ملی ہے کہ جہاز پر موجود انڈونیشین کپتان کی رہائی کے لئے انڈونیشیا کی حکومت نے قزاقوں سے رابطے شروع کر دئے ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے بارے میں اب تک کوئی واضح حکومتی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ کے مطابق کئی دن گزر چکے ہیں مگر نہ شپنگ کمپنی کوئی جواب دے رہی ہے، نہ سرکاری ادارے تسلی بخش معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اہل خانہ نے کہا ، کہ ان کے گھروں میں قیامت برپا ہے،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے بچے زندہ ہیں یا زخمی، ان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، حکومت فوراً عملی اقدامات کرے۔" متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم، وزارت خارجہ، وزارت بحری امور اور پاکستانی سفارتی مشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر رابطے کرکے پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنائیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب خلیج عدن اور بحیرۂ عرب کے بعض حصے طویل عرصے سے بحری قزاقوں کی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے خطرناک ترین سمندری روٹس میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی بحری گشت کے باعث قزاقی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بحری قزاق عموماً تجارتی جہازوں یا آئل ٹینکرز کو گھیر کر ان کے عملے کو یرغمال بناتے ہیں اور بعد ازاں بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں مذاکرات ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک جاری رہتے ہیں، جس کے دوران ملاح انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ سمندری شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ملاح بڑی تعداد میں غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دیتے ہیں لیکن بیرونِ سمندر ہنگامی حالات میں ان کی سکیورٹی، انشورنس، قانونی تحفظ اور فوری سفارتی معاونت کے حوالے سے پاکستان کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اونر 25 کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پاکستانی حکام نے جہاز کے روٹ، سکیورٹی پروٹوکول اور ہائی رسک زون میں داخلے سے متعلق پہلے سے کوئی نگرانی کی تھی یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جہاز پر مسلح سکیورٹی موجود تھی یا نہیں اور حملے کے وقت ایمرجنسی سگنل کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ تاحال وزارت بحری امور، وزارت خارجہ یا متعلقہ پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے کوئی جامع باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر خاندانوں اور بحری ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بین الاقوامی رابطے نہ کئے گئے تو عملے کی رہائی کا عمل مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال پورے ملک کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں جبکہ 11 پاکستانی خاندان اپنے پیاروں کی ایک خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی

اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک مزید پڑھیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں خصیوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ نہیں بلکہ معاشی طور پر ایک دوسرے پر گہرے انحصار رکھتے ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش، ٹرانزٹ میں رکاوٹیں اور سیاسی کشیدگی نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو متاثر کیا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک جانے والے تجارتی نیٹ ورک کو بھی جھٹکا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس بندش کے اثرات افغانستان پر نسبتاً زیادہ شدید پڑے ہیں، جہاں برآمدی خسارہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی حجم میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ 2024 میں جہاں مجموعی دوطرفہ تجارت 2.461 ارب ڈالر کے قریب تھی، وہیں 2025 میں یہ کم ہو کر 1.766 ارب ڈالر تک آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ سرحدی بندشیں، لاجسٹک مسائل اور سیاسی عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جو 1.644 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.261 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات 817 ملین ڈالر سے کم ہو کر 505 ملین ڈالر تک محدود ہو گئیں۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس معاشی جال کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو برسوں میں آہستہ آہستہ قائم ہوا تھا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ افغانستان کی درآمدی ضروریات جو پہلے پاکستان کے راستے سے بڑی حد تک پوری ہوتی تھیں، ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ تجارت محدود ہو کر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ اس دوران سینکڑوں کنٹینرز مختلف سرحدی راستوں پر پھنس گئے، جس کے باعث نہ صرف تجارتی سامان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے بھی تاجروں پر بوجھ بنے رہے۔ اس صورتحال نے لاجسٹک کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس بندش کا اثر صرف بڑے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا بلکہ زمینی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ واضح ہیں۔ چمن، طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کی روزی براہ راست اس تجارت سے وابستہ ہے۔ جب سرحدیں بند ہوئیں تو ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور زرعی اجناس کے تاجر سب متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار کی برآمد رکنے سے کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ ان کی پیداوار منڈی تک نہ پہنچ سکی اور انہیں کم قیمت پر مقامی سطح پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریونیو کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کو واضح نقصان ہوا ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی، ٹرانزٹ فیس اور دیگر تجارتی محصولات میں کمی نے سرکاری آمدنی پر اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں پر اضافی دباؤ اور غیر کلیئر شدہ سامان کی موجودگی نے لاجسٹک اخراجات بڑھا دئے ہیں، جبکہ افغانستان میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہو جاتی تو دونوں معیشتوں پر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے تھے۔ ان معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندان جو روزگار کے لئے ان راستوں پر انحصار کرتے تھے، اچانک آمدنی سے محروم ہو گئے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے مزدوروں اور تاجروں کو ویزہ اور سرحدی پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں معاشی دباؤ بڑھنے کے ساتھ سماجی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں غربت میں اضافہ اور بے روزگاری نمایاں ہیں۔ اسی پس منظر میں چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کے امکانات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چین کی ثالثی نے اس عمل کو ایک نیا رخ دیا ہے، جہاں سیکیورٹی اور تجارت کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محدود پیمانے پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کی ری-ایکسپورٹ کی اجازت جیسے اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مکمل تعطل کے بجائے مرحلہ وار بحالی کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم تین امکانات سامنے آتے ہیں۔ اگر سیاسی اعتماد بحال ہو اور سیکیورٹی خدشات کم ہوں تو تجارت تیزی سے بحال ہو سکتی ہے۔ دوسرا امکان جزوی بحالی کا ہے، جس میں محدود گزرگاہیں اور کنٹرولڈ تجارت شامل ہو سکتی ہے۔ تیسرا اور کم مثبت امکان یہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو سرحدی بندشیں طویل ہو سکتی ہیں، جس کا اثر صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی تجارت متاثر ہو گی۔ اس پوری صورتحال کا بنیادی سبق یہی ہے کہ تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا خطے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر اپنی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ اسی لئے ماہرین مشترکہ کسٹمز نظام، ڈیجیٹل ٹریکنگ، فاسٹ ٹریک گزرگاہوں اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ ایک زیادہ مستحکم تجارتی فریم ورک کی تجویز دیتے ہیں۔ اگر اعتماد کی فضا بحال ہو جائے تو یہ تعلق صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ خلا نہ صرف دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز …. ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ مزید پڑھیں

واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار 
واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریب میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقریب واشنگٹن کے معروف ہلٹن ہوٹل میں جاری تھی جہاں وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں، میڈیا نمائندوں، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عشائیے کا باقاعدہ آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک ہال میں ایک زور دار آواز گونجی جسے ابتدائی طور پر کچھ شرکا نے دھماکہ یا شیشے ٹوٹنے کی آواز سمجھا، لیکن چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی۔ رپورٹس کے مطابق واقعے سے چند سیکنڈ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیکورٹی پرچی دکھائی گئی، اسی نوعیت کی پرچی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ پرچی ملتے ہی صدر ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے جبکہ ان کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو بھی واضح طور پر حیرت اور پریشانی میں دیکھا گیا۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار حرکت میں آئے اور پورے بال روم میں ایمرجنسی ردعمل شروع ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ جیسی آواز سنائی دینے پر تقریب میں موجود متعدد مہمان چیخ اٹھے اور کئی افراد اپنی میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ کچھ صحافیوں نے موبائل فونز بند کر کے زمین پر لیٹنے کو ترجیح دی جبکہ سیکریٹ سروس کے مسلح اہلکاروں نے چند ہی لمحوں میں صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ اسی دوران کئی اہلکاروں نے اسلحہ تان کر داخلی راستوں کو گھیر لیا اور مشتبہ شخص کی تلاش شروع کردی۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور مرکزی دروازے کے قریب نصب میگنیٹو میٹر کی جانب تیزی سے بڑھا اور اسی دوران اس نے بال روم کے قریب موجود ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی مارنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اہلکار جوابی کارروائی کے لئے فوراً متحرک ہوئے اور حملہ آور کو قابو میں کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی حالت سے متعلق فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ واقعے کے بعد پورے ہوٹل کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا اور بم ڈسپوزل، فرانزک اور وفاقی تفتیشی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ یا سیاسی محرک کا ہاتھ تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے پس منظر، اس کی ہوٹل تک رسائی اور اسلحہ اندر لانے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ تقریب میں صدر کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں ہونے والا یہ عشائیہ امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں کا ایک اہم سالانہ اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں صدور عموماً صحافیوں سے غیر رسمی انداز میں ملاقات کرتے ہیں۔ ایسے حساس موقع پر فائرنگ نے امریکی سیکیورٹی سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں یہ ایک غیر معمولی شام تھی، سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار اور بہادرانہ کام کیا، انہوں نے چند لمحوں میں صورتحال کو قابو میں لیا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہوں نے سفارش کی تھی کہ شو جاری رہنے دیا جائے، تاہم تمام فیصلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ہدایات کے مطابق کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو یہ جان کر اطمینان ہونا چاہئے کہ سیکیورٹی ادارے ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف امریکی صدارتی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ آئندہ صدارتی انتخابی ماحول میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کئی متنازع سیکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے بیچ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ واشنگٹن میں پیش آنے والی اس فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی داخلی سلامتی کے نظام کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار


واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے مزید پڑھیں

پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ 
پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے محتاط سفارت کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو جذباتی بیانات یا وقتی تنازعات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ قومی مفاد، خطے کے استحکام اور عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغان وزارت خارجہ کے ڈپلومیسی انسٹیٹیوٹ کی چھٹی تخصصی تربیتی کورس کی تقریبِ فراغت سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ چین کے شہر ارومچی میں کابل اور اسلام آباد کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کو افغانستان میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی، سرحدی تنازعات، مہاجرین کی واپسی اور دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہے، بیجنگ میں ہونے والا سفارتی رابطہ ایک نئی امید کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مولوی امیر خان متقی نے تقریب سے خطاب میں نئے افغان سفارتکاروں کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ وہ ایسے بڑے اور حساس معاملات میں انتہائی محتاط رہیں جن میں دو برادر اسلامی اور پڑوسی ممالک شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سفارتکار کی اصل آزمائش انہی نازک مواقع پر ہوتی ہے جب اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ کس بیان، کس مؤقف اور کس سفارتی انداز سے ملک کو فائدہ ہو سکتا ہے اور کس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول افغانستان اس وقت خطے میں تنہائی نہیں بلکہ روابط، تعاون اور توازن کی پالیسی چاہتا ہے، اس لیے نئی سفارتی کھیپ کو جذبات سے زیادہ تدبر اور حکمت کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جبکہ کابل حکومت ان الزامات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی۔ اسی دوران سرحدی گزرگاہوں کی بندش، تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں، افغان مہاجرین کی بے دخلی، اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر کہا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا، جبکہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ مسائل کا حل دباؤ نہیں بلکہ براہ راست مذاکرات میں ہے۔ انہی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باعث چین نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے کم کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کیا۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی اتحادی ہے بلکہ افغانستان میں بھی معدنیات، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف سی پیک کے توسیعی امکانات متاثر ہوں گے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی، تجارتی راہداریوں اور انسداد دہشت گردی کے علاقائی اہداف کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اسی پس منظر میں چین نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سرگرم سفارت کاری کی۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون، مہاجرین، ٹرانزٹ تجارت، سفارتی رابطوں کی بحالی اور باہمی اعتماد سازی جیسے امور زیر بحث آئے۔ اگرچہ مذاکرات کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے لہجے میں نرمی دیکھی گئی، جسے مبصرین ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ پشاور اور کابل کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان وزیر خارجہ کی جانب سے ان مذاکرات کو مثبت قرار دینا محض رسمی بیان نہیں بلکہ کابل کی پالیسی میں ایک محتاط سفارتی اشارہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ معاشی بحران، عالمی تنہائی اور اندرونی دباؤ کے باعث افغانستان مزید علاقائی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ متقی کا سفارتکاروں کو دیا گیا یہ پیغام بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ہر حساس مسئلے میں “ملکی فائدہ اور نقصان” کو سمجھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل حکومت اپنی نئی سفارتی ٹیم کو زیادہ عملی، مفاداتی اور کم جذباتی خارجہ پالیسی کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ صرف افغان تجارت کے لئے ضروری ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک معتدل اور ذمہ دار ریاستی روئے کا تاثر دینے کے لیے بھی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی میزبانی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی رابطوں کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اگر بیجنگ مذاکرات کے بعد اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو سرحدی کشیدگی میں کمی، تجارتی راستوں کی بحالی، سفارتی نمائندگی کے دائرہ کار میں اضافہ اور سیکیورٹی تعاون کے نئے فریم ورک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مولوی امیر خان متقی کے حالیہ بیان نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تصادم سے نکال کر سفارت کاری کی پٹڑی پر واپس لانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسلام آباد اور کابل اس نرم ہوتے ہوئے سفارتی ماحول کو عملی پیش رفت میں بدل پاتے ہیں یا نہیں؟

پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ


پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے مزید پڑھیں

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے چند ہفتوں میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اس اعلان نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے ضروری قانونی مسودہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ اس اقدام کو برطانیہ میں موجود بعض یہودی تنظیموں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالف گروہوں کی دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کافی عرصے سے اس ادارے پر پابندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ برطانوی قانونی نظام میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی عناصر اور تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی باقاعدہ ریاستی فوج یا سرکاری ادارے کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم مجوزہ قانون سازی اس روایت میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ پہلی بار کسی غیر ملکی ریاستی فوجی ادارے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ایران برطانیہ تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یورپی یونین پہلے ہی فروری میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے ابتدائی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد برطانیہ کا ممکنہ اقدام مغربی دنیا میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ سخت مؤقف کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے اور سخت مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ریاستی فوجی ادارے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اقدام عالمی سفارتی نظام میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے اور اس کے طویل مدتی سیاسی و قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قانون سازی آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث متوقع ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے مفاد میں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیاں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں خطے میں اپنے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار مزید پڑھیں

ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام آباد پہنچنا خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و سفارتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور بالخصوص امریکا کی جانب سے مسلط کردہ اقدامات کے اثرات پر پاکستان کے ساتھ مشاورت کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے تمام سفارتی مشاہدات اور موجودہ صورتحال پر مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا تاہم امریکا کے ساتھ کسی ملاقات یا باضابطہ مذاکرات کا کوئی ایجنڈا زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور موجودہ حالات میں ترجیح خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے عروج پر ہے اور مختلف ادوار میں اگرچہ بالواسطہ سفارتی رابطے سامنے آتے رہے ہیں تاہم براہ راست مذاکرات کبھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ماضی میں پہلے مرحلے کے دوران عمان اور کچھ یورپی ممالک کی ثالثی سے محدود رابطے ہوئے تھے جن میں بنیادی طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی غیر رسمی چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا تاہم ان کوششوں کے باوجود کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ موجودہ صورتحال میں ایران کے وزیر خارجہ کا اسلام آباد دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال حساس ہے اور مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات کی تردید سامنے آ چکی ہے لیکن خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پس پردہ رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اس حوالے سے اہم ہو سکتا ہے کیونکہ خطے میں اس کے تعلقات دونوں فریقین کے ساتھ موجود ہیں اور وہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک نرم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے واضح تردید کے بعد یہ بات مزید نمایاں ہو گئی ہے کہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی براہ راست مذاکراتی عمل کی باضابطہ شروعات نہیں ہوئی تاہم اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں خطے کی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام مزید پڑھیں

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔ رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے مزید پڑھیں