Illustration of portable air defense systems with Chinese and Iranian flags representing reports of a possible MANPADS shipment.

ایران کو چین سے 400 تک مین پورٹیبل فضائی دفاعی نظاموں کی فراہمی چند ہفتوں میں متوقع: رائٹرز کا انکشاف

ترسیل کا روٹ چینی شہر اُرومچی سے پاکستان کے راستے ایران تک، آئی ایس پی آر کی پاکستانی ملوثیت کی سخت تردید

دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں معاملے سے واقف تین باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران آئندہ چند ہفتوں کے دوران چین سے کندھے پر رکھ کر فائر کئے جانے والے مین پورٹیبل فضائی دفاعی نظاموں (MANPADS) کی پہلی کھیپ وصول کرنے والا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں تہران کی جانب سے اپنے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی اب تک کی سب سے نمایاں کوششوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ رائٹرز کے نامہ نگاروں جان ایرش اور جوناتھن ساؤل نے تیار کی ہے۔
معاہدے کے تحت 300 سے 400 تک مین پورٹیبل فضائی دفاعی نظام خریدے جا رہے ہیں، جن میں چینی ساختہ QW-12 اور FN-16 میزائل سسٹم شامل ہیں۔
معاہدے کی مجموعی مالیت 60 سے 70 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
معاہدہ ہانگ کانگ میں قائم کمپنی ژونگ چنگ باؤ شانگ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے ذریعے طے پایا، جو ایرانی حکام اور چینی سپلائر کے درمیان بطور واسطہ کام کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کھیپ ابتدائی طور پر مغربی چین کے شہر اُرومچی سے ہوائی راستے روانہ ہوگی، جس کے بعد پاکستان کے راستے ایران پہنچائی جائے گی۔
پاکستان کی فوجی میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے اس ضمن میں پاکستان کے کسی بھی کردار کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
چینی دفتر خارجہ نے بھی ان رپورٹس کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ حال ہی میں دستخط کر دیا گیا تھا، تاہم ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ ترسیل کا شیڈول، حتمی مقدار اور دیگر عملی تفصیلات اب بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں ان نظاموں کی فراہمی سے ایران کے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی ہتھیاروں کے ذخیرے میں نمایاں اضافہ ہوگا اور یہ امر بیجنگ اور تہران کے مابین گہرے ہوتے عسکری تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
QW-12 اور FN-16 دراصل کندھے پر رکھ کر فائر کئے جانیوالے، انفراریڈ گائیڈڈ فضائی دفاعی نظام ہیں جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کئے گئے ہیں۔ اپنی نقل و حرکت کی صلاحیت کے باعث انہیں فوجی تنصیبات، توانائی کے ڈھانچے اور دیگر حساس مقامات کے ارد گرد تیزی سے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق QW-12 کو نسبتاً نئی اقسام QW-18 اور QW-19 کے مقابلے میں کم صلاحیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ نظام ڈرونز اور کم پرواز کرنے والے اہداف کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
ایک یورپی سکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے ملک کے حکام QW سیریز کے نظاموں بشمول QW-12، QW-18 اور QW-19 کی ایران کو ممکنہ فروخت سے متعلق کئی زیرِ غور معاہدوں سے آگاہ ہیں۔ جبکہ مشرق وسطیٰ میں موجود ایک دوسرے سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ایران QW-12 اور QW-18 میزائل خریدنے کی کوشش میں تھا، مگر انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔ یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ معاملہ محض ایک تنہا سودا نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ترسیل کا روٹ: چین سے پاکستان کے راستے ایران تک
رپورٹ کا ایک اہم اور حساس پہلو ترسیل کا روٹ ہے۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے مابین طے شدہ منصوبے کے تحت کھیپ پہلے مغربی چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر اُرومچی سے ہوائی جہاز کے ذریعے روانہ کی جائے گی، جس کے بعد یہ پاکستان کے راستے سے گزر کر ایران پہنچائی جائے گی۔ تاہم ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستان کے راستے سے گزرنے کا یہ مرحلہ فضائی ذرائع سے مکمل ہوگا یا زمینی راستے سے۔
رائٹرز کے مطابق دو مغربی خفیہ ذرائع اور ایک ایرانی اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ تہران نے چینی عسکری سازوسامان اور دوہرے استعمال کی حامل اشیاء کو زیادہ خفیہ طریقے سے اور ترسیل میں رکاوٹ کا خطرہ کم کر کے منتقل کرنے کے لئے زمینی راستوں کے متبادل پر بھی غور کیا ہے۔
اسلام آباد اور بیجنگ کا ردعمل
پاکستان کے راستے ممکنہ ترسیل کی خبر سامنے آنے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ چین سے ایران کو فضائی دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی میں پاکستان کے ملوث ہونے کے قیاسات مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے تاحال اس بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب چینی دفتر خارجہ نے بھی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاعات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور بیجنگ خطے میں امن کے فروغ اور تنازع کے خاتمے کیلئے مسلسل مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں مقیم ژونگ چنگ باؤ شانگ گروپ، جو مبینہ طور پر معاہدے میں شامل کمپنی کی پیرنٹ کمپنی ہے، نے بھی رائٹرز کی جانب سے بھیجی گئی ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ چین ماضی میں بھی ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق الزامات کو بارہا بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکا ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے وقتاً فوقتاً چینی ساختہ دفاعی آلات کے حصول کا اعتراف بھی سامنے آتا رہا ہے۔
اس معاہدے کو سمجھنے کیلئے خطے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی حملے کئے، جن میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے اور کئی اہم فوجی و سرکاری تنصیبات تباہ ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو 8 مارچ 2026 کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔
اپریل کے پہلے ہفتے میں پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے مابین دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پائی، اور جون کے وسط میں ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے تاکہ 60 دن میں تنازع کا باضابطہ خاتمہ ہو سکے۔ تاہم جولائی میں کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھی اور تب سے جنگ بندی بارہا ٹوٹ چکی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے حالیہ ہفتے بمباری روک دی تھی، تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو حملے دوبارہ شروع کئے جا سکتے ہیں، یوں پانچ ماہ سے جاری یہ تنازع تاحال نظریاتی طور پر جنگ بندی کی حالت میں ہے، مگر عملاً کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
اسی طویل تصادم کے دوران ایران کو اپنی کلیدی تنصیبات، فوجی اڈوں اور میزائل و ڈرون سے جڑے پیداواری مراکز کے دفاع میں سنگین مشکلات کا سامنا رہا، جس نے تہران کی قیادت کو اپنے فضائی دفاعی نظام کی فوری بحالی اور توسیع پر مجبور کیا۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں میزائل، ڈرون اور رڈار ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، مگر حالیہ جنگ نے فکسڈ فوجی و اسٹریٹجک تنصیبات کو جدید طیاروں اور درست نشانہ باز ہتھیاروں سے بچانے کے چیلنج کو نمایاں طور پر بے نقاب کر دیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق مین پورٹیبل فضائی دفاعی نظاموں کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ روایتی اور بھاری فضائی دفاعی بیٹریوں کے برعکس آسانی سے منتقل کئے جا سکتے ہیں، چھوٹی ٹیموں کے ذریعے چلائے جا سکتے ہیں اور بار بار مقام تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ ایک ہی جگہ نصب روایتی دفاعی نظاموں کے مقابلے میں دشمن کے حملوں کیلئے کم آسان ہدف بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نظاموں کو حالیہ جنگ میں پیش آنے والی کمزوریوں کے بعد ایران کی ترجیحات میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔
یہ معاملہ چین اور ایران کے مابین وسیع تر عسکری تعاون کا صرف ایک پہلو دکھائی دیتا ہے۔ رائٹرز پہلے بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ ایران بحری جہاز شکن کروز میزائلوں کے حصول کیلئے چین کے ساتھ ایک الگ معاہدے کے قریب ہے، تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے یا نہیں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایران کے دفاعی سازوسامان کے حصول میں گھریلو پیداوار اور غیرملکی سپلائرز پر انحصار کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے، اور یہ سب دہائیوں کی پابندیوں اور دفاعی درآمدات پر عائد سختیوں کے باوجود ہو رہا ہے۔
اگرچہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، رائٹرز کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ترسیل کی حتمی مقدار، وقت اور راستے سے متعلق تفصیلات میں ابھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ اگر یہ معاہدہ اپنی موجودہ نوعیت میں مکمل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ایران کی دفاعی صلاحیت پر اثرانداز ہوگا بلکہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ اور پاکستان کے ممکنہ کردار سے متعلق بحث کو بھی ہوا دے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان خطے میں ایران، امریکا اور دیگر فریقین کے مابین ثالثی کی کوششوں میں پہلے ہی سرگرم کردار ادا کر چکا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ایران امریکا تنازع کی نوعیت بلکہ چین اور خطے کے دیگر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے عسکری تعلقات کی سمت کا بھی تعین ہوگا۔

یہ رپورٹ خبر رساں ادارے رائٹرز کی خصوصی رپورٹ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی تصدیق شدہ رپورٹس پر مبنی ہے۔ چین، پاکستان اور ایران کے متعلقہ حکام کے ردعمل کو بھی اصولی طور پر متن میں شامل کیا گیا ہے۔

News Summary 

TEHRAN/BEIJING: Iran is expected to receive up to 400 man-portable air defense systems (MANPADS) from China within the next few weeks, according to a report revealed by Reuters. The deal marks a significant development in regional defense logistics and military cooperation between the two nations.