خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد سے، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری دھڑوں کی کارروائیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس نے صوبے کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد جو 2021 میں محض 282 تھی، غیر معمولی رفتار سے بڑھتی ہوئی 2024 میں 1,758 سالانہ تک جا پہنچی ہے ۔ یہ خوفناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے نہ صرف جدید ترین امریکی ساختہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات تک رسائی حاصل کر لی ہے، بلکہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس عسکری پھیلاؤ کے نتیجے میں صوبے میں سیکیورٹی فورسز شدید دباؤ کا شکار ہیں، ریاستی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور شہری حقوق و عوامی جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔    صوبائی سیکیورٹی کے اس مجموعی بگاڑ اور ریاستی عملداری کے زوال کا سب سے تشویشناک مظہر صوبے کے جنوبی اضلاع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کبھی عسکریت پسندی سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں عسکریت پسندی کا نیا گڑھ قائم ہو چکا ہے جس نے پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ضلع کرک میں، جو کبھی پرامن سمجھا جاتا تھا، اب ایک اہم میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پہلی بار شدت پسند تنظیموں نے اس ضلع تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے سرکاری عملداری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی پولیس کو تھانوں اور قلعہ نما چوکیوں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ کرک میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بمباری کی گئی، اور جب زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسیں روانہ ہوئیں تو عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، لاشوں کو نذرِ آتش کیا اور گاڑیوں کو پھونک دیا ۔ اس منظم عسکری اجارہ داری نے پولیس فورس کی دن ڈھلنے کے بعد نقل و حرکت کو صفر کر دیا ہے اور مضافاتی و دیہی پٹی پر عسکریت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکمرانی قائم ہو چکی ہے ۔    کرک کی اس ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی اور عسکریت پسندوں کا گہرا نفوذ نمایاں ہے۔ ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے پولیس کا وہ حشر نشر کر دیا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لکی مروت میں پولیس اسٹیشنوں پر مسلسل ہونے والے راکٹ اور دستی بموں کے حملوں، اور سڑک کنارے نصب بارودی سرنگوں کے ذریعے پولیس افسران کی ہلاکتوں نے فورس کے حوصلے پست کر دئے ہیں ۔ ستمبر 2024 میں، عاجز آ کر لکی مروت کے پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑیں اور تاجہ زئی کے مقام پر انڈس ہائی وے بلاک کر کے تاریخی دھرنا دیا ۔ ان مظاہرین کا کھلا مطالبہ تھا کہ اگر سیکیورٹی فورس کو جدید ہتھیار اور جنگی اختیارات دئے جائیں تو وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی حکام انہیں بے یار و مددگار چھوڑ چکے ہیں ۔ اسی طرح ضلع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عسکریت پسندوں نے نہ صرف سرکاری عملداری کو شدید متاثر کیا ہے، بلکہ یہاں کے عوام کا جینا بھی محال ہو گیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں روزانہ کی بنیاد پر بینک کی کیش گاڑیوں کی لوٹ مار، تاجروں کا اغوا برائے تاوان اور بنوں میں مئی 2026 میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کئے گئے خودکش دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا جنوبی ریجن عسکریت پسندوں کے چنگل میں آ چکا ہے ۔    جنوبی اضلاع کی اس سیکیورٹی دلدل کا موازنہ اگر قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کا خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق اس تزویراتی وعدے کے باوجود ناکام رہا کہ اس سے یہاں کی محرومیوں کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی خوشحالی آئے گی اور امن کا بول بالا ہوگا ۔ انضمام کے آٹھ سال بعد بھی ریاستی دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ نہ تو ان قبائلی اضلاع کی تاریخی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس یہ خطہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید بدامنی کا شکار ہو چکا ہے ۔ ریاستی ڈھانچے کی منتقلی اتنی ناقص اور عجلت پسندانہ تھی کہ نوآبادیاتی دور کے قانون (FCR) کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور انتظامی خلا کو پورا نہیں کیا جا سکا ۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کا سب سے ہولناک سماجی اثر یہ نکلا ہے کہ کوئی بھی طاقت اور مالی حیثیت رکھنے والا قبائلی شخص عسکریت پسندوں کے ڈر اور معاشی زوال کی وجہ سے قبائلی اضلاع سے نکل کر پشاور ، اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس، جس غریب شخص کے پاس ہجرت کرنے کی طاقت اور وسائل نہ ہوں، وہ ان جنگ زدہ اضلاع میں عملاً یرغمال بنے اپنے تلخ ترین دن گزارنے پر مجبور ہے ۔    قبائلی اضلاع کے اس سماجی و سیکیورٹی خلا کے معاشی اثرات پورے صوبے کی کاروباری برادری اور عام شہریوں پر بھی بھتہ خوری کی شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سب سے سنگین مالی مظہر بھتہ خوری (Bhatta) کا وہ منظم جال ہے جس نے اب باقاعدہ ایک متوازی متحرک ٹیکسیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور عسکریت پسندوں کی بقا و فنانسنگ کا ایک بڑا حصہ اسی بھتے سے حاصل ہوتا ہے ۔ صوبے میں بھتہ خوری اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکریت پسند گروہ اب نہ صرف بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو واٹس ایپ کالز اور ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈز پر دھمکیاں دے کر لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں بلکہ انتہائی غریب طبقہ بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں ہے ۔ حالت یہ ہے کہ سڑک کنارے ریڑھیاں لگانے والے غریب ریڑھی فروش بھی شدت پسند تنظیموں کو باقاعدہ بھتے کی وصولی کر کے ہی پیاز، آلو اور ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں ۔ انکار کی صورت میں ان کی ریڑھیوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کرنا اس معاشی المئے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس کا بنیادی مقصد 140,000 سے زائد غریب دکانداروں کو اس منظم بھتہ خور مافیا کے چنگل سے بچانا ہے ۔    مذکورہ معاشی نچوڑ کی جڑیں عسکریت پسندی کی مالیاتی فنڈنگ کے منظم نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے ان فنڈنگ نیٹ ورکس کے بنیادی اہداف میں بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار شامل ہیں جنہیں واٹس ایپ پیغامات، غیر ملکی نمبرز اور براہ راست اغوا برائے تاوان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ ان کی اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ کابل، خوست اور لغمان میں بنے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، عسکریت پسند سرکاری اور نجی ٹھیکیداروں سے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر 5% سے 15% تک جبری ٹیکسیشن کی شکل میں بھتہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبے اور سی پیک فیز 2.0 کے کام معطل ہو رہے ہیں ۔ اس کام کو منظم کرنے میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عسکری کمانڈرز براہِ راست ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ، شدت پسندوں کو چرس اور افیون کی فصلوں پر 20% سے 30% تک کا براہ راست شیئر دے کر منشیات کے ڈیلرز اور اسمگلر بھی بھتہ دیتے ہیں، جس سے غیر قانونی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور یہ کالا دھن عسکریت پسندی کی فنڈنگ کے کام آتا ہے ۔ اس غیر قانونی منشیات ٹیکسیشن کو تحریک طالبان پاکستان اور وادی تیراہ میں متحرک لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، انتہائی نچلے درجے پر غریب ریڑھی فروشوں اور دکانداروں سے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر مائیکرو بھتہ خوری کی جاتی ہے جہاں مقامی فعال عسکری سیل اور غنڈہ مافیا کا گٹھ جوڑ غریب خاندانوں کا معاشی استحصال کرتا ہے ۔    ریاستی سطح پر ان معاشی اور مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دہائیوں پر محیط بدامنی کو ختم کرنے کے نام پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک متعدد عسکری آپریشنز (مثلاً سوات آپریشن، ضربِ عضب، رد الفساد اور حالیہ آپریشن عزم استحکام) کئے جا چکے ہیں، لیکن یہاں مستقل امن کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس ناکامی کے برعکس، حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے متعدد نیٹ ورکس بنا کر یہاں ترقی، بحالی اور خوشحالی کے ایسے قصیدے گھڑے ہیں جو تھکنے کا نام نہیں لیتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے ۔ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں وہی پرانی محرومی، وہی خوفناک بدامنی، بلکہ اب تو یہ کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کی موجودہ لہر 2014 سے قبل کی بدامنی سے بھی زیادہ ہولناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تضاد کو چھپانے کے لئے ریاستی سطح پر ایک غیر اعلانیہ سنسرشپ لاگو ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قومی میڈیا پر بھی خیبر پختونخوا کی اس ابتر بدامنی، روزانہ کی ہلاکتوں، اور قبائلی اضلاع کی گہری سیکیورٹی و سماجی محرومی کو بالکل رپورٹ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہاں کا عام شہری خود کو ملک سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔    اس میڈیا بلیک آؤٹ کے پسِ پردہ عسکریت پسندوں کا تنظیمی ڈھانچہ جس تیزی سے مضبوط ہوا ہے، وہ ایک تزویراتی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2014 میں شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسندوں کا جو تنظیمی نیٹ ورک عارضی طور پر توڑ دیا گیا تھا، عسکری منصوبہ بندی میں تزویراتی خامیوں کے باعث وہ نیٹ ورک اب نہ صرف دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے ۔ اس نیٹ ورک کے جڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسند بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کی کابل آمد کے بعد، ان جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں، جہاں سے انہوں نے سرحد پار نقل و حرکت تیز کی اور جدید امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اور جنوبی اضلاع میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ سے بحال اور فعال کر دیا ۔    عسکریت پسندوں کی اس دوبارہ تنظیمِ نو میں ان کی تنظیمی مضبوطی اور نت نئے تزویراتی اتحادوں کا کلیدی کردار ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے کئی منتشر اور الگ ہو جانے والے دھڑوں کو دوبارہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مرکزی ڈھانچے میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود بکھری ہوئی شدت پسند تنظیموں اور دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا غیر معمولی ماہر مانا جاتا ہے، جس نے سخت نظم و ضبط قائم کر کے عسکریت پسندوں کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط کیا ہے ۔ اس عسکری ارتقاء کا سب سے خطرناک پہلو شمالی وزیرستان کے روایتی حافظ گل بہادر گروپ (HGBG) کا دن بہ دن مضبوط ہونا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے لئے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔ اب اس گروپ نے اپنا باقاعدہ تنظیمی نام بدل کر اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) رکھ لیا ہے اور اس مہلک عسکری اتحاد میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ، لشکرِ اسلام گروپ اور حرکت الانقلابِ اسلامی پاکستان جیسے دھڑے شامل ہو چکے ہیں ۔    شدت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کی تفصیلی اندرونی دھڑے بندیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عزائم اور اثرات واضح ہوتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مفتی نور ولی محسود کی کلیدی قیادت میں تقریباً 80 سے زائد چھوٹے مقامی عسکری سیلز (ڈالگئی) کے اتحاد کی شکل میں متحرک ہے ۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر جنوبی و مغربی اضلاع، سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور منظم گوریلا حملوں، سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتی ہے ۔ دوسری جانب، اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کا نیا اتحاد حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور حرکت الانقلابِ اسلامی کی شراکت داری سے شمالی وزیرستان، بنوں، خیبر اور وادی تیراہ میں فعال ہے ۔ یہ گروہ فوجی چھاؤنیوں پر بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش حملوں اور نائٹ ویژن اسنائپنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والا متشدد گروپ ٹی ٹی پی جماعت الاحرار (JuA) پشاور، مہمند، باجوڑ اور نوشہرہ پٹی پر سرگرم ہے، جو اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق رکھتا ہے مگر آزاد فیلڈ آپریشنز کے تحت شہری علاقوں میں دستی بموں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگز کرتا ہے، جس کے باعث عام شہری روز بہ روز شدید غیر یقینی اور خوف و ہراس کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔    اس مسلسل اور منظم بدامنی کے براہِ راست اور مہلک معاشی اثرات صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ (HIE)، جو کبھی صوبے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھی، اب عملاً کھنڈر بننے جا رہی ہے کیونکہ وہاں درجنوں صنعتیں اور فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ۔ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے اس صنعتی بندش کی دو بڑی اور بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ بدامنی اور بھتہ خوری ہے جس کے تحت حیات آباد کے فیکٹری مالکان کو عسکریت پسندوں کی جانب سے واٹس ایپ پر کروڑوں روپے کے بھتے کے پیغامات مل رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کے گھروں اور فیکٹریوں کو دستی بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے سینکڑوں مینوفیکچررز اپنا تمام سرمایہ لے کر بیرونِ ملک یا پنجاب منتقل ہو چکے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ بجلی کے ناقابلِ برداشت بلز اور گیس کنکشنز پر پابندی ہے، جس کی وجہ سے اب کارخانہ دار فیکٹریاں چلانے کی مالی سکت ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزانہ کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کے تحت 55 فیصد اور سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے زیرِ انتظام 64 فیصد کارخانے اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔    خیبر پختونخوا کے بگڑتے ہوئے سلامتی کے حالات کا براہِ راست تعلق پاکستان اور افغان امارتِ اسلامی کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سرحدی تنازعات سے ہے ۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان بھڑک اٹھنے والی باقاعدہ سرحدی جنگ، جس میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل تھے، نے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بدترین نہج پر پہنچا دیا ہے ۔ چین، جس نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان حملوں اور سیکیورٹی بحران سے شدید تشویش کا شکار ہے ۔ اس جیو پولیٹیکل تعطل میں سب سے تشویشناک تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب امارتِ اسلامی افغانستان نے چین کو ایک اہم اجلاس میں مطلع کیا کہ کابل کی یہ کوشش ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت اور ان کے تمام عسکری دھڑوں کو زبردستی افغان سرزمین سے نکال کر واپس پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیل دے رہے ہیں ۔ افغان طالبان یہ اقدام اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لگنے والے عالمی الزامات اور سفارتی بلیک میلنگ کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے ۔ اس تزویراتی فیصلے کے تحت، سنکیانگ کے ایغور علیحدگی پسندوں کا مہلک گروہ ای ٹی آئی ایم یا رکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) بھی مجبوراً افغانستان سے نکل کر پاکستان کے قبائلی اضلاع کا رخ کرے گا ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کی قبائلی اضلاع کی طرف یہ زبردستی منتقلی خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے والی ہے جہاں سے نکلنا شاید ریاست کے بس میں نہ رہے، اور یہ خدشہ روز بہ روز حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ امن و امان کی یہ بدترین صورتحال ناقابلِ تلافی حد تک مزید خراب ہو جائے گی ۔

خیبر پختونخوا میں ریاستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ

خصوصی رپورٹ : ناصر داوڑ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر مزید پڑھیں

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ تحریر: ناصر داوڑ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی راکھ سے اب ایک ایسی چنگاری پھوٹی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فروری 2026 کا مہینہ تاریخ میں اس موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دہائیوں پر محیط تزویراتی گہرائی کا تصور کھلی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان فوجی تنصیبات پر فضائی حملے محض عسکری کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس صبر کے لبریز ہونے کا اعلان تھا جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر اسلام آباد میں پایا جاتا تھا۔ 16 مارچ 2026 کو کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے المناک حملے، جس میں 400 سے زائد جانیں گئیں، اور ایک لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی نے اس انسانی بحران کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، تاہم پاکستان اسے دہشتگردی کا ٹریننگ کیمپ بتا رہاہے، اسی سنگین صورتحال میں بیجنگ نے اپنی روایتی خاموشی توڑ کر ارومچی امن عمل کے ذریعے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر انٹری دی ہے جو اب صرف معاشی ہی نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل ریفری بننا چاہتا ہے۔ ارومچی مذاکرات کا پس منظر اور سفارتی نشستوں کا ارتقاء چین نے اس ثالثی کیلئے سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی کا انتخاب محض اتفاقاً نہیں کیا، بلکہ یہ کابل اور اسلام آباد کیلئے ایک خاموش پیغام تھا کہ اس خطے کی بدامنی براہِ راست چین کی سرحدوں کو متاثر کرتی ہے۔ اپریل 2026 کے پہلے ہفتے میں ہونے والے یہ مذاکرات پانچ مختلف مراحل پر محیط تھے، جن میں سفارتی نزاکتوں سے زیادہ عسکری حقائق پر زور دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں جہاں مذاکرات کے ضابطے طے ہوئے، وہیں دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اصل تپش محسوس کی گئی جب ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں، ڈیورنڈ لائن پر باڑ کی حفاظت اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ چوتھی اور پانچویں نشست تک آتے آتے، چین نے دونوں فریقین کو ایک ایسے تیکنیکی فریم ورک پر لانے کی کوشش کی جہاں جذباتی بیانئے کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق کو اہمیت دی جائے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اب صرف وعدوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی مسماری کا مادی ثبوت چاہئے۔ ان مذاکرات میں شریک وفود کی ساخت دونوں ممالک کی ترجیحات کا آئینہ دار تھی۔ پاکستان نے اپنے وفد کو انتہائی مختصر اور تیکنیکی رکھا، جس کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی کر رہے تھے، جبکہ پسِ پردہ انٹیلی جنس اور عسکری حکام کی موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے خالصتاً سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس، افغان طالبان کا وفد جس میں مولوی محب اللہ وسیق اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کے نمائندے شامل تھے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل اسے طاقت کے توازن کا معاملہ سمجھتا ہے۔ طالبان کا یہ وفد سفارتی لفاظی کے بجائے زمینی عسکری قوت کے دفاع کیلئے ارومچی پہنچا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بیجنگ کے تزویراتی مفادات اور علاقائی استحکام کی ضرورت چین کی اس غیر معمولی مداخلت کے پیچھے کھربوں ڈالر کا داؤ لگا ہوا ہے۔ بیجنگ کیلئے سی پیک محض ایک سڑک نہیں بلکہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی شہ رگ ہے۔ سی پیک 2 کے تحت چین اب اپنی سرمایہ کاری کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک لے جانے کا خواب دیکھ رہا ہے، لیکن یہ خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب پاک افغان سرحد پر بندوقیں خاموش ہوں۔ داسو ڈیم جیسے منصوبوں پر چینی انجینئرز کی ہلاکت نے بیجنگ کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر اس نے اب مداخلت نہ کی تو اس کی معاشی سلطنت کو عسکریت پسندی کی دیمک چاٹ جائیگی۔ اس کے علاوہ، سنکیانگ کی سیکیورٹی چین کا سب سے حساس ترین پہلو ہے۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)یا ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) جیسے گروہوں کا افغان سرزمین کو استعمال کرنا چین کیلئے ریڈ لائن ہے، اور وہ ارومچی عمل کے ذریعے کابل کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ چینی سرمایہ کاری کے بدلے میں اسے اپنی سرحدوں کو علیحدگی پسندوں سے پاک رکھنا ہوگا۔ جیو پولیٹیکل سطح پر چین خود کو امریکہ کے متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد، پاک افغان تنازع کا حل بیجنگ کے گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو کی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار ہوگا۔ چین جانتا ہے کہ اگر وہ یہاں ناکام ہوا تو امریکہ کو بگرام ایئر بیس جیسے اڈوں کے ذریعے خطے میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل جائے گا، جو چینی جوہری تنصیبات کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ افغانستان کے لیتھیم، کوبالٹ اور تانبے کے وسیع ذخائر، جن کی مالیت کھربوں ڈالر ہے، چین کی جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کیلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مس عینک جیسے منصوبوں کی کامیابی کیلئے چین کسی بھی قیمت پر سرحد کے دونوں اطراف امن کا خواہاں ہے، چاہے اس کیلئے اسے دونوں اتحادیوں پر سخت دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور ٹی ٹی پی کا پیچیدہ معاملہ 2020 کا دوحہ معاہدہ، جس کی بنیاد پر امریکہ نے افغانستان چھوڑا تھا، اب ایک بے معنی کاغذ کا ٹکڑا نظر آتا ہے۔ اس معاہدے کی روح یہ تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹیں اور زمینی حقائق اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور حافظ گل بہادر گروپ جیسے عناصر نہ صرف افغان سرزمین پر موجود ہیں بلکہ انہیں ایک طرح کی نظریاتی چھتری بھی میسر ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بنوں چھاؤنی جیسے حملوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔ امارتِ اسلامی کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کو سرحد سے دور منتقل کر دیا ہے، ایک ایسا تزویراتی مغالطہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو مطمئن کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی منتقلی کیلئے 10 ارب روپے کے مطالبے کو مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے کیش کرانا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین بیعت کا رشتہ ہے جو کسی بھی سیاسی معاہدے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرتے ہیں تو انہیں اندرونی بغاوت اور اپنے جنگجوؤں کے داعش خراسان (IS-KP) میں شامل ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ یہی وہ نظریاتی بندھن ہے جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے ارومچی میں جن عسکری تنظیموں کی فہرست پیش کی ہے، ان میں ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکرِ اسلام، اتحاد المجاہدین پاکستان، جیشِ فرسانِ محمد اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) بھی شامل ہیں۔ بی ایل اے کے حوالے سے پاکستان کا یہ موقف کہ اسے افغان انٹیلی جنس کی خاموش حمایت حاصل ہے، اس تنازع کو ایک نئے اور خطرناک رخ پر لے گیا ہے جہاں اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے باغیوں کو پناہ دینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی اور بگرام ایئر بیس: پاک افغان تعلقات میں نئی تبدیلیاں مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین اس پوری صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مابین بڑھتی ہوئی قربت اور تزویراتی شراکت داری نے کابل کے ماتھے پر پسینہ لا دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ اور پاکستان کی جانب سے امریکی مفادات کیلئے سیکیورٹی سب کنٹریکٹر کا ممکنہ کردار چین کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کی مدد سے امریکہ بگرام میں واپس آتا ہے تو سی پیک کا پورا منصوبہ امریکی نگرانی میں آ جائے گا۔ اسی لئے چین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی خوشنودی کیلئے پڑوسیوں کے ساتھ پل نہیں جلا سکتا۔ پاکستان، چین اور امریکہ کے اس تہرے تزویراتی مقابلے نے افغانستان کو ایسی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اب بھارت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کابل کی جانب سے بھارتی فوج سے تربیت کے مطالبات اور نئی دہلی سے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات نے اسلام آباد کی اس دیرینہ اسٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی کو دفن کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان، افغانستان میں ایک ایسی دوست حکومت چاہتا تھا جو مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے۔ اسلام آباد کے اسٹریٹجک ڈیپتھ کے تصور کو دفن کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان جسے اپنا زیرِ اثر علاقہ سمجھتا تھا، وہ اب اس کے حریفوں کا نیا ٹھکانہ بنتا جا رہا ہے۔ ارومچی عمل اگرچہ ایک (سیفٹی والو) کے طور پر کام کر رہا ہے جو کسی بڑے دھماکے کو روک رہا ہے، لیکن یہ مستقل امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ جب تک ٹی ٹی پی کا نظریاتی وجود اور ڈیورنڈ لائن کا سرحدی تنازع موجود ہے، تب تک کوئی بھی معاہدہ محض ایک عارضی فائر بندی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گا۔ ارومچی امن عمل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ کیا چین اپنی معاشی طاقت کو عسکری دباؤ میں بدل سکتا ہے؟ پاکستان کی معاشی مجبوری اور افغانستان کی سفارتی تنہائی بیجنگ کے ہاتھ میں وہ پتے ہیں جنہیں وہ بہت احتیاط سے کھیل رہا ہے۔ تاہم، پاک افغان تعلقات کی تلخی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف میز پر بیٹھنے سے دل صاف نہیں ہوں گے۔ یہ ایک ایسی جیو پولیٹیکل بساط ہے جہاں ہر کھلاڑی دوسرے کو مات دینے کیلئے نئے مہرے چل رہا ہے، اور اس جنگ میں فی الوقت امن کی دستک بہت کمزور سنائی دے رہی ہے۔

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ

پاکستان، چین اور امریکہ کے تہرے مقابلے نے کابل کو دہلی کے قریب کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہو یا بگرام کی واپسی کا مطالبہ، پاک افغان تعلقات اب اس نہج پر ہیں جہاں صرف میز پر مزید پڑھیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول مزید پڑھیں

قانون کی زنجیریں اور بے زبان قیدی: لنڈی کوتل کے درخت سے چارسدہ کے دروازوں تک تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے نشے کی عکاسی کرتی ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر کی وادی ہو یا چارسدہ کے زرخیز میدان، یہاں اجنبی حکمرانوں نے صرف انسانوں کو ہی پابندِ سلاسل نہیں کیا بلکہ درختوں اور دروازوں کو بھی "باغی" قرار دے کر زنجیروں میں جکڑ دیا۔ لنڈی کوتل: وہ درخت جو سوا صدی سے قید ہے لنڈی کوتل کی تاریخی فوجی چھاؤنی (کینٹ) میں داخل ہوں تو ایک بوڑھا اخروٹ کا درخت ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔ اس درخت کی شاخیں اب پھل نہیں دیتیں، مگر اس کے تنے کے گرد لپٹی بھاری بھرکم زنجیریں اور اس پر نصب تختی جس پر انگریزی میں "I am under arrest" (میں زیرِ حراست ہوں) لکھا ہے، ایک مضحکہ خیز مگر تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ واقعہ 1898 کا ہے جب ایک برطانوی فوجی افسر نشے کی حالت میں یہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ درخت اپنی جگہ سے ہل کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بغاوت پر افسر نے اسے مجرم قرار دے کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس درخت کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ آج 125 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ زنجیریں اسی طرح موجود ہیں، جو برطانوی راج کے اس تکبر کی یاد دلاتی ہیں جہاں ایک افسر کا وہم بھی قانون بن جاتا تھا۔ لنڈی کوتل سے کچھ فاصلے پر چارسدہ کے علاقے شبقدر میں موجود ایف سی قلعہ (شنکر گڑھ) ایک اور انوکھی سزا کا گواہ ہے۔ اس قلعے کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے آج بھی موٹی زنجیروں اور تالوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق، برطانوی دور میں ان دروازوں کو بھی قیدی بنا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مہم یا حملے کے دوران یہ دروازے بروقت بند نہ ہو سکے تھے، جس پر برطانوی حکام نے انہیں غفلت اور نافرمانی کا مرتکب قرار دے کر تاحکمِ ثانی زنجیروں سے جکڑنے کا حکم دے دیا۔ آج یہ مقفل دروازے اس دور کے اس آمرانہ نظام کی گواہی دے رہے ہیں جہاں جزا و سزا کا تصور منطق اور عقل سے بالاتر تھا۔ تاریخ دان ان واقعات کو محض اتفاق یا کسی افسر کی انفرادی حرکت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ دراصل، یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک گہرا نفسیاتی حربہ تھا۔ سرحد کے ان علاقوں میں جہاں قبائلی حریت پسندی انگریزوں کے لئے مستقل دردِ سر تھی، وہاں اس قسم کے اقدامات کا مقصد ایک خاموش اور خوفناک پیغام دینا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اس خطے پر ایف سی آر (Frontier Crimes Regulation) جیسا سیاہ قانون مسلط کیا گیا تھا۔ جس طرح لنڈی کوتل کے درخت کو زنجیروں میں جکڑا گیا اور چارسدہ کے دروازوں کو تالے لگائے گئے، اسی طرح ایف سی آر کے ذریعے پورے قبائل کو اجتماعی ذمہ داری کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی زبانوں پر تالے لگا دئے گئے تھے۔ نوآبادیاتی حکمران یہ جتانا چاہتے تھے کہ، جب برطانوی راج کے قانون سے بے زبان درخت اور بے جان دروازے نہیں بچ سکتے، تو بغاوت کرنے والے انسانوں کا انجام کیا ہوگا؟ یہ زنجیریں دراصل اس نوآبادیاتی ذہنیت کی علامت تھیں جو قانون کے نام پر جبر کو جائز سمجھتی تھی۔ آج یہ درخت اور دروازے صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ عبرت کے نشان ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح ہوں یا مقامی شہری، سب کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ کیا اب ان بے زبانوں کو آزادی نہیں ملنی چاہیے؟ وقت بدل گیا، سلطنتیں ختم ہو گئیں اور برطانوی راج قصہ پارینہ بن گیا، مگر یہ زنجیریں آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جب اختیار اور طاقت کے ساتھ عقل کا دامن چھوٹ جائے، تو فیصلے تاریخ کے صفحات پر تمسخر بن کر رہ جاتے ہیں۔ لنڈی کوتل کا گرفتار درخت اور چارسدہ کے مقفل دروازے آج بھی اپنی آزادی کے منتظر ہیں، یا شاید وہ اسی حال میں رہ کر ہمیں ماضی کی تلخ حقیقتیں سنانا چاہتے ہیں۔

قانون کی زنجیریں اور بے زبان قیدی: لنڈی کوتل کے درخت سے چارسدہ کے دروازوں تک

تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے مزید پڑھیں

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک بار پھر خطرناک ثابت ہونے لگے ہیں جہاں صومالیہ کے قریب سرگرم بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق “اونر 25” نامی اس آئل ٹینکر پر 21 اپریل کو مسلح قزاقوں نے دھاوا بولا اور جہاز کو یرغمال بنا لیا، جبکہ اس پر سوار 11 پاکستانی ملاحوں سمیت مجموعی عملہ تاحال قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود جہاز سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا، جس کے باعث پاکستان میں موجود عملے کے اہل خانہ شدید اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس اینڈ شپنگ کی جانب سے بھی پاکستانی کریو سے براہِ راست رابطہ قائم نہیں ہوسکا، جبکہ جہاز بھیجنے والی متعلقہ شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز پر موجود عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے ملاح بھی شامل ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف غیر رسمی ذرائع سے اتنی اطلاع ملی ہے کہ جہاز پر موجود انڈونیشین کپتان کی رہائی کے لئے انڈونیشیا کی حکومت نے قزاقوں سے رابطے شروع کر دئے ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے بارے میں اب تک کوئی واضح حکومتی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ کے مطابق کئی دن گزر چکے ہیں مگر نہ شپنگ کمپنی کوئی جواب دے رہی ہے، نہ سرکاری ادارے تسلی بخش معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اہل خانہ نے کہا ، کہ ان کے گھروں میں قیامت برپا ہے،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے بچے زندہ ہیں یا زخمی، ان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، حکومت فوراً عملی اقدامات کرے۔" متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم، وزارت خارجہ، وزارت بحری امور اور پاکستانی سفارتی مشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر رابطے کرکے پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنائیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب خلیج عدن اور بحیرۂ عرب کے بعض حصے طویل عرصے سے بحری قزاقوں کی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے خطرناک ترین سمندری روٹس میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی بحری گشت کے باعث قزاقی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بحری قزاق عموماً تجارتی جہازوں یا آئل ٹینکرز کو گھیر کر ان کے عملے کو یرغمال بناتے ہیں اور بعد ازاں بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں مذاکرات ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک جاری رہتے ہیں، جس کے دوران ملاح انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ سمندری شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ملاح بڑی تعداد میں غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دیتے ہیں لیکن بیرونِ سمندر ہنگامی حالات میں ان کی سکیورٹی، انشورنس، قانونی تحفظ اور فوری سفارتی معاونت کے حوالے سے پاکستان کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اونر 25 کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پاکستانی حکام نے جہاز کے روٹ، سکیورٹی پروٹوکول اور ہائی رسک زون میں داخلے سے متعلق پہلے سے کوئی نگرانی کی تھی یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جہاز پر مسلح سکیورٹی موجود تھی یا نہیں اور حملے کے وقت ایمرجنسی سگنل کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ تاحال وزارت بحری امور، وزارت خارجہ یا متعلقہ پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے کوئی جامع باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر خاندانوں اور بحری ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بین الاقوامی رابطے نہ کئے گئے تو عملے کی رہائی کا عمل مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال پورے ملک کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں جبکہ 11 پاکستانی خاندان اپنے پیاروں کی ایک خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی

اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک مزید پڑھیں