برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے چند ہفتوں میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اس اعلان نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے ضروری قانونی مسودہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ اس اقدام کو برطانیہ میں موجود بعض یہودی تنظیموں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالف گروہوں کی دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کافی عرصے سے اس ادارے پر پابندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ برطانوی قانونی نظام میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی عناصر اور تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی باقاعدہ ریاستی فوج یا سرکاری ادارے کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم مجوزہ قانون سازی اس روایت میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ پہلی بار کسی غیر ملکی ریاستی فوجی ادارے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ایران برطانیہ تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یورپی یونین پہلے ہی فروری میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے ابتدائی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد برطانیہ کا ممکنہ اقدام مغربی دنیا میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ سخت مؤقف کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے اور سخت مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ریاستی فوجی ادارے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اقدام عالمی سفارتی نظام میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے اور اس کے طویل مدتی سیاسی و قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قانون سازی آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث متوقع ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے مفاد میں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیاں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں خطے میں اپنے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار مزید پڑھیں

ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام آباد پہنچنا خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و سفارتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور بالخصوص امریکا کی جانب سے مسلط کردہ اقدامات کے اثرات پر پاکستان کے ساتھ مشاورت کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے تمام سفارتی مشاہدات اور موجودہ صورتحال پر مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا تاہم امریکا کے ساتھ کسی ملاقات یا باضابطہ مذاکرات کا کوئی ایجنڈا زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور موجودہ حالات میں ترجیح خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے عروج پر ہے اور مختلف ادوار میں اگرچہ بالواسطہ سفارتی رابطے سامنے آتے رہے ہیں تاہم براہ راست مذاکرات کبھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ماضی میں پہلے مرحلے کے دوران عمان اور کچھ یورپی ممالک کی ثالثی سے محدود رابطے ہوئے تھے جن میں بنیادی طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی غیر رسمی چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا تاہم ان کوششوں کے باوجود کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ موجودہ صورتحال میں ایران کے وزیر خارجہ کا اسلام آباد دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال حساس ہے اور مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات کی تردید سامنے آ چکی ہے لیکن خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پس پردہ رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اس حوالے سے اہم ہو سکتا ہے کیونکہ خطے میں اس کے تعلقات دونوں فریقین کے ساتھ موجود ہیں اور وہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک نرم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے واضح تردید کے بعد یہ بات مزید نمایاں ہو گئی ہے کہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی براہ راست مذاکراتی عمل کی باضابطہ شروعات نہیں ہوئی تاہم اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں خطے کی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام مزید پڑھیں

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔ رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے مزید پڑھیں

امریکا نے چین کی آئل ریفائنری اور شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں، ایران کی تیل برآمدات نشانے پر پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور اداروں کو خبردار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے اور اسے تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ چین کی ایک معروف نجی آئل ریفائنری اور اس سے منسلک شپنگ نیٹ ورک ایران سے خام تیل خریدنے، ذخیرہ کرنے اور عالمی منڈیوں تک منتقل کرنے میں ملوث پایا گیا، جس کے بعد ان پر باضابطہ پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں متعدد شپنگ فرمیں، سمندری لاجسٹک آپریٹرز، آئل بروکرز اور تقریباً 40 ٹینکرز شامل ہیں جو مبینہ طور پر ایرانی تیل کو خفیہ راستوں، جعلی دستاویزات اور مختلف جھنڈوں کے تحت عالمی منڈیوں تک پہنچاتے رہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی تیل برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خطے میں عسکری سرگرمیوں، اتحادی ملیشیاؤں کی معاونت اور حساس جوہری پروگرام کے لئے استعمال کرتا ہے، اس لیے واشنگٹن ایران کے ہر اس مالی ذریعے کو نشانہ بنا رہا ہے جو اسے عالمی پابندیوں کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ، جو کمپنیاں، بینک، شپنگ ادارے یا ریفائنریز ایرانی تیل کے کاروبار میں شریک ہوں گی، انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف ایران ہی نہیں بلکہ ان تمام بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف ہیں جو تہران کی تیل تجارت کو سہارا دے رہے ہیں۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ جو بھی ملک یا کمپنی ایران سے تیل خریدے گی یا اس کے ساتھ کاروبار کرے گی، اسے امریکی پابندیوں کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ایران کو معاشی طور پر مکمل تنہائی میں دھکیلنا واشنگٹن کی ترجیح ہے تاکہ تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ پابندیاں اسی زیرو ایرانی آئل ایکسپورٹ حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ عالمی توانائی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے خام تیل خریدنے والے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ اگرچہ چین سرکاری سطح پر امریکی یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم چینی نجی ریفائنریز اور آزاد شپنگ نیٹ ورکس ایران سے رعایتی نرخوں پر خام تیل حاصل کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی فروخت کا بڑا حصہ چین کو مختلف غیر رسمی راستوں سے بھیجتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اکثر جہازوں کے نام تبدیل کئے جاتے ہیں سمندر میں تیل ایک ٹینکر سے دوسرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ کارگو دستاویزات میں اصل ملک چھپایا جاتا ہے، مختلف ممالک کے جھنڈے استعمال کئے جاتے ہیں امریکا کا دعویٰ ہے کہ تازہ پابندیاں اسی خفیہ نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے لگائی گئی ہیں۔ ایران کی معیشت پہلے ہی شدید افراط زر، کرنسی کی گراوٹ، بے روزگاری اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے۔ ایسے میں تیل کی برآمدات ہی تہران کیلئے سب سے بڑا زرمبادلہ ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر چین کی ریفائنریز اور شپنگ نیٹ ورکس پر امریکی دباؤ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو ایران کی یومیہ تیل برآمدات میں کمی آسکتی ہے، حکومت کی آمدنی متاثر ہوگی، عالمی ادائیگیوں کا نظام مزید محدود ہوگا، ایرانی ریال پر دباؤ بڑھے گا۔ بیجنگ نے فوری طور پر ان پابندیوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں چین امریکی یکطرفہ اقتصادی اقدامات کو بین الاقوامی تجارت میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب، امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ ایران امریکا جوہری مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اس لئے تازہ پابندیاں صرف ایران مخالف اقدام نہیں بلکہ چین کو بھی ایک واضح سفارتی پیغام تصور کی جا رہی ہیں۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایرانی تیل کی سپلائی مزید محدود ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات اور سمندری راستوں کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری گزرگاہوں میں کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایران کے خلاف صرف براہ راست پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ تہران کے ہر تجارتی شراکت دار، خریدار اور ترسیلی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ، واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر اس نہج پر لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ یا تو مذاکرات میں مکمل لچک دکھائے یا شدید مالی بحران کا سامنا کرے۔

امریکا نے چین کی آئل ریفائنری اور شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں، ایران کی تیل برآمدات نشانے پر

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ مزید پڑھیں

امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور پر غیر یقینی، پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری اسلام آباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جب کہ سفارتی حلقے کسی حتمی پیش رفت کے منتظر ہیں۔ اسلام آباد میں موجود باخبر سفارتی ذریعے کے مطابق اب تک نہ تو کسی نئی تاریخ کی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی تہران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی جواب سامنے آیا ہے، جس کے باعث مذاکرات کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کئی برسوں سے کشیدگی کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، اور باہمی اعتماد کا فقدان شامل ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کی علیحدگی کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے محدود اور بالواسطہ سفارتی کوششیں زیادہ اہم ہوگئیں۔ گزشتہ عرصے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث مختلف ممالک، بالخصوص پاکستان، نے دونوں فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں تیز کیں۔ اسلام آباد میں موجود سرکاری زرائع کے مطابق جب آئندہ مذاکراتی دور کے بارے میں پیش رفت سے متعلق سوال کیا گیا تو جواب مختصر مگر معنی خیز تھا: انتظار کر رہے ہیں۔ اس جواب کو سفارتی حلقے محتاط مگر امید افزا ماحول کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور مختلف سطحوں پر بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس عمل میں ایک سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ فعال رابطے میں ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور پائیدار امن کے امکانات کو فروغ دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارت کاری کا بنیادی مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا اور ایسے کسی بھی تصادم سے بچاؤ ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے امیدوں پر بات کرتے ہوئے ایک سرکاری زرائع نے مذہبی حوالے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مثبت پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم سفارتی ماہرین کے مطابق صورتحال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی، سیکیورٹی اور سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ فی الحال صورتحال جوں کی توں ہے اور دنیا ایک واضح اشارے کی منتظر ہے، چاہے وہ کسی نئی تاریخ کا اعلان ہو یا تہران کی جانب سے باضابطہ جواب، جو اسلام آباد میں مجوزہ مذاکراتی عمل کے دوسرے دور کی راہ ہموار کر سکے۔

امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور پر غیر یقینی، پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری

اسلام آباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جب کہ سفارتی حلقے کسی حتمی پیش رفت کے منتظر ہیں۔ اسلام آباد میں موجود مزید پڑھیں

ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور دہشتگردی کے الزامات نے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ چین کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے سفارتی عمل کا حصہ ہے جو ماضی کے دوحہ اور استنبول مذاکرات سے آگے بڑھ کر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابتدائی مگر نسبتاً مثبت ماحول میں ہونے والی سفارتی نشست سمجھے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات مارچ 2026 کے آغاز میں ایک مختصر نشست کی صورت میں منعقد ہوئے۔ اس ملاقات کو ابتدائی اعتماد سازی کا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگلے دور کی باضابطہ تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین کی فعال ثالثی میں دونوں ممالک کو ایک نسبتاً منظم اور سنجیدہ سفارتی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چین اس پورے عمل میں ایک اہم اور اثرانداز ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان یو شیا یونگ مسلسل اسلام آباد اور کابل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ چین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خطے میں استحکام ناگزیر ہے، سرحدی کشیدگی تجارت اور علاقائی منصوبوں کے لئے نقصان دہ ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں ارومچی کو ایک غیر جانبدار اور محفوظ سفارتی مقام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ارومچی مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سب سے اہم نکتہ سیکیورٹی صورتحال رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسند گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی، افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ایک واضح قانونی اور عملی میکانزم ہونا چاہئے۔ سرحدی علاقوں میں ان عناصر کی نقل و حرکت روکی جائے۔ پاکستان یہ بھی مؤقف رکھتا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط کئے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ ارومچی مذاکرات کے بعد افغان فریق کی جانب سے نسبتاً نرم اور مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔ یہ رویہ ماضی کے سخت اور الزام تراشی پر مبنی بیانات کے مقابلے میں ایک واضح تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مختلف گروہوں پر مکمل کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے اور سرحدی انتظام ابھی بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ ارومچی مذاکرات کو سمجھنے کے لئے ماضی کے سفارتی رابطوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ دوحہ، استنبول اور سعودی عرب میں ہونے والے پاک افغان امن مذاکرات، جو کئی نشستوں پر مشتمل رہے، ان کے مقابلے میں ارومچی مذاکرات سے دونوں ممالک کی توقعات زیادہ ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات امن، تجارت اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحدی تمام اہم بارڈرز بند ہیں۔ طورخم بارڈر کو وقفے وقفے سے صرف پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی واپسی کے لئے کھولا جاتا ہے، جبکہ تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لئے یہ بارڈر مستقل طور پر بند ہے۔ سرحدی کشیدگی اور بارڈر بندش نے دونوں ممالک کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سرحدی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے مجموعی معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ افغانستان میں خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ارومچی مذاکرات کی اہمیت اس لئے زیادہ سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دیگر سفارتی کوششوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ یہ مذاکرات چین کی براہ راست اور فعال ثالثی میں ہوئے جہاں ماحول نسبتاً زیادہ مثبت اور تعمیری رہا۔ دونوں فریق پہلی بار زیادہ منظم انداز میں آمنے سامنے بیٹھے جس سے سیکیورٹی اور سیاسی سطح پر ایک نئے میکانزم کی بنیاد پڑنے کا امکان پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ ان مذاکرات کے دوران فریقین پہلی بار ایک ہی میز پر ڈنر اور لنچ کے لئے بھی اکٹھے ہوئے جو اعتماد سازی کے حوالے سے ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے اگرچہ امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے تاہم اصل چیلنجز اب بھی برقرار ہیں جن میں دہشتگردی کا مسئلہ، سرحدی اعتماد کی کمی، سیاسی بیانیوں میں فرق اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مستقبل کے مذاکراتی عمل کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ارومچی مذاکرات کو نہ تو مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ناکامی۔ یہ دراصل ایک ابتدائی مگر اہم سفارتی قدم ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان، افغانستان اور چین تینوں اس نتیجے پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن صرف مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور عملی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ابتدائی کوشش ایک مستقل سفارتی میکانزم میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔ آنے والے مہینے اس سوال کا جواب واضح کریں گے۔

ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت

چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات: اعتماد سازی، سیکیورٹی تعاون اور خطے میں پائیدار امن کی نئی سفارتی کوشش تحریر: ناصر داوڑ چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے مزید پڑھیں

کویت نے ایران امریکہ کشیدگی کے باعث بند فضائی حدود دوبارہ کھول دی ، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال کویت سٹی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حمود مبارک کے مطابق فضائی حدود کو جمعرات کے روز باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا، جو 28 فروری سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی طور پر بند کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ مکمل سیکیورٹی جائزے اور بین الاقوامی ایوی ایشن اداروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد مسافروں اور فضائی آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث خلیجی خطے کی فضائی ٹریفک متاثر ہوئی تھی۔ متعدد ممالک نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود میں احتیاطی اقدامات کیے، جن میں پروازوں کی معطلی، روٹس کی تبدیلی اور سیکیورٹی الرٹس شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی فضائی حدود عالمی ایوی ایشن کے لئے نہایت اہم ہیں، اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری کشیدگی براہ راست بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز پر اثر ڈالتی ہے۔ کویتی سول ایوی ایشن کے مطابق فضائی آپریشنز کی بحالی ایک مرحلہ وار منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے، تاکہ تمام سروسز کو مکمل طور پر محفوظ اور مستحکم انداز میں دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں محدود پروازیں بحال کی گئی ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں مکمل آپریشن کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کے لئے مکمل تیاری موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کویت کا یہ اقدام خطے میں نسبتاً استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی مکمل طور پر غیر یقینی ہے۔

کویت نے ایران امریکہ کشیدگی کے باعث بند فضائی حدود دوبارہ کھول دی ، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال

کویت سٹی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مزید پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں کے معاملات، اس تازہ بحران کی بنیاد بنے، خلیج کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جہاں ایرانی افواج کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آئے جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کمزور نہیں ہونے دے گا، ان تمام حالات کے درمیان ایک عارضی سیزفائر ضرور قائم کیا گیا لیکن یہ زیادہ ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے نہ کہ مستقل حل کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات لگ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہے، اسی تناظر میں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں امن مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی گئی مگر یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں جس کی بڑی وجہ سخت شرائط، باہمی عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کا دباؤ تھا، پاکستان نے اس سارے معاملے میں محتاط اور متوازن پالیسی اپناتے ہوئے نہ صرف سفارتی رابطے جاری رکھے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے لئے یہ صورتحال ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کا خیال رکھنا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیزفائر ایک نازک مرحلہ ہے جو بظاہر سکون کا تاثر دیتا ہے مگر اس کے نیچے چھپی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسی لئے آنے والے دن نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران مزید پڑھیں

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی خاتون ہزاروں سانپ پال کر سالانہ 10 لاکھ یوآن (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، چن اس وقت اپنے خاندان کے سانپ فارم میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور تقریباً 60 ہزار سے زائد سانپوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 50 ہزار سے زائد انتہائی زہریلے سانپ جبکہ تقریباً 10 ہزار کوبرا سانپ شامل ہیں۔ چن نے بتایا کہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے دو سال بعد وہ اپنے آبائی قصبے واپس آئیں تاکہ اپنے والد کے سانپ فارمنگ کے کاروبار میں مدد کر سکیں۔ ابتدا میں ان کے والد اس بات کے سخت مخالف تھے کہ ان کی بیٹی اس خطرناک کام کا حصہ بنے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فارم کی وسعت اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث چن بھی اس پیشے کا باقاعدہ حصہ بن گئیں۔ چن کے مطابق سانپوں کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہوتا ہے، تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے اپنے والد کے ساتھ اس ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ چین میں سانپوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے، جن میں روایتی ادویات، طبی تحقیق اور خوراک شامل ہیں۔ سانپ کے زہر کی قیمت 40 سے 200 یوآن فی گرام تک ہوتی ہے، جبکہ سانپ کا گوشت 200 سے 300 یوآن فی کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔ تمام اخراجات نکالنے کے باوجود، چن کا یہ کاروبار انہیں سالانہ 10 لاکھ یوآن سے زائد منافع فراہم کرتا ہے۔ چن نہ صرف اس منفرد کاروبار کو چلا رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں، جہاں وہ اپنے سانپ فارم کے تجربات اور معلومات شیئر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سانپ کا ڈسنا شدید تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہ ان کے کام کا حصہ ہے اور وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں۔ چن کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ غیر روایتی اور خطرناک شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ محنت، حوصلہ اور مستقل مزاجی ساتھ ہو۔ ان کا یہ منفرد پیشہ نہ صرف انہیں مالی خودمختاری دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا

چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی مزید پڑھیں