"Ahmad Massoud and the National Resistance Front (NRF) delegation walking on a red carpet at an official government reception in Tehran, flanked by Iranian honor guards."

ایران، این آر ایف اور طالبان: تہران کی ’دو رخی‘ سفارت کاری نے خطے میں ہلچل مچا دی

رپورٹ: دی خیبر ٹائمز
خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے درمیان، ایران کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تہران کی جانب سے طالبان مخالف افغان مزاحمتی تحریک (NRF) کی قیادت کو نہ صرف مدعو کرنا، بلکہ انہیں مکمل ریاستی اور وی وی آئی پی (VIP) پروٹوکول دینا ایک ایسا اقدام ہے جس نے کابل میں بیٹھی امارت اسلامی افغانستان کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ایران کا یہ اقدام اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ ایک طرف تو تہران باضابطہ طور پر طالبان کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن دوسری جانب اسی حکومت کے خلاف کھڑے گروہ کو ریاستی مہمان کے طور پر پذیرائی دینا، طالبان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
افغان طالبان، جو کہ این آر ایف کو اپنے اقتدار کیلئے ایک براہِ راست خطرہ اور بغاوت تصور کرتے ہیں، تہران کی جانب سے ان کے مخالفین کو دی جانے والی اس اہمیت پر سخت ناخوش ہیں۔ طالبان حلقوں کیلئے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ ایک پڑوسی ملک، جو ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کا دعویدار ہے، کیسے ان کے دشمنوں کو سرخ قالین (Red Carpet) استقبال پیش کر سکتا ہے۔
اس سفارتی پیش رفت نے عام افغان شہریوں کو بھی حیران اور مشتعل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر افغان شہری ایران کے اس دوہرے معیار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ٹویٹر اور دیگر پلیٹ فارمز پر جاری بحث میں صارفین کا کہنا ہے کہ تہران کا یہ قدم نہ صرف افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ یہ افغان عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ افغانستان سے دیگر ممالک میں پناہ حاصل کرنے والے عام شہری ایران کے اس عمل کو ایک مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں،
مبصرین کے مطابق، سوشل میڈیا پر آنے والا یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افغان عوام خطے کے دیگر ممالک کو اپنے ملک میں جاری طاقت کے کھیل میں مفاد پرست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
افغان حکومتی ذرائع کے مطابق امارت اسلامی افغانستان ایران کے اس اقدام سے سخت ناراض ہے۔ طالبان کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی کے باوجود، ان کے قریبی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایران طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بجائے، انہیں کمزور کرنے کیلئے اسٹریٹجک ہیسنگ (Strategic Hedging) کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
طالبان کا ماننا ہے کہ احمد مسعود اور ان کے ساتھیوں کو اس سطح کا پروٹوکول دینا، تہران کی جانب سے طالبان کو ایک غیر مستحکم اور عارضی حکومت سمجھنے کا واضح اشارہ ہے۔
اگر ہم تاریخی تناظر میں دیکھا جائے، تو ایران کی یہ پالیسی طالبان 1.0 کے دور کی یاد دلاتی ہے جب تہران نے شمالی اتحاد (Northern Alliance) کی حمایت کی تھی۔ ایران تہران میں اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ طالبان کی موجودہ حکومت کو افغان معاشرے میں وسیع تر قبولیت حاصل نہیں ہے، لہذا وہ اپنے دیرینہ اتحادیوں (این آر ایف) کو منظر نامے سے غائب نہیں ہونے دینا چاہتا۔
دوسری جانب تہران کو یہ بھی ادراک ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لائی ہے اور وہ طالبان کے بچاؤ کیلئے اب میدان میں نہیں آئے گا۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایران، این آر ایف کو ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر تیار کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں اگر طالبان حکومت کمزور پڑتی ہے، تو تہران کے پاس کابل میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کا راستہ موجود ہو۔
ایران کا یہ دو رخی کھیل، جہاں ایک طرف طالبان کے ساتھ بات چیت اور دوسری طرف ان کے مخالفین کو ریاستی پروٹوکول دینا، خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا طالبان اس پر کوئی سخت ردعمل دیتے ہیں، یا پھر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بچانے کیلئے اس تلخی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:

پاک افغان تزویراتی بریک ڈاؤن، سی پیک ٹو کا مستقبل اور چین کا علاقائی کردار

___________________________________________

Executive Summary: Iran, the NRF, and the Taliban
The Incident: Iran recently hosted leadership from the anti-Taliban National Resistance Front (NRF), providing them with VIP, state-level “Red Carpet” protocol.

The Diplomatic Paradox: Tehran is executing a “dual-track” strategy—maintaining official diplomatic relations with the Taliban administration while simultaneously empowering their primary armed opposition.

Taliban’s Reaction: The Islamic Emirate of Afghanistan is deeply frustrated by this move. They view the NRF as an existential threat and see Iran’s actions as a direct challenge to the Taliban’s legitimacy as the sole representative of Afghanistan.

Public Backlash: Afghan citizens are taking to social media to condemn Tehran’s “double standards,” accusing Iran of playing regional chess and interfering in Afghanistan’s internal affairs.

Tehran’s Strategic Goal: Iran is engaging in “strategic hedging.” By keeping the NRF relevant, Tehran is securing alternative political leverage in Kabul, hedging its bets in case the current Taliban government faces further international isolation or internal collapse.