دی خیبر ٹائمز انٹرنیشنل ڈیسک : خطے میں سیکیورٹی کی بدلتی صورتحال اور عسکریت پسندی کے سائے اب پاک-افغان سرحد کے بعد افغان-تاجک سرحد پر بھی گہرے ہو گئے ہیں۔ بیجنگ کے بھاری مالیاتی فنڈز سے بننے والی تزویراتی دوشنبہ-کلمہ ہائی وے پر چینی انجینئرز اور ورکرز نے سخت حفاظتی خدشات کے باوجود دوبارہ کام تو شروع کر دیا ہے، لیکن خطے میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس اور علیحدگی پسند تحریکوں نے چین اور وسطی ایشیا کے اس اہم ترین اقتصادی کوریڈور کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، تاجکستان کا ضلع شمس الدین شاہین اور ‘درواز’ کا پہاڑی علاقہ جو افغان صوبے بدخشاں کے بالکل سامنے دریائے پنج کے پار واقع ہے، طویل عرصے سے منشیات، ہتھیاروں اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں اس مکسچر میں سونے کی غیر قانونی کان کنی اور چینی کاروباری مفادات بھی شامل ہو چکے ہیں، جس نے عسکریت پسندوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
نومبر 2024: شاہین-ایس ایم گولڈ مائننگ کیمپ پر حملے میں ایک چینی ورکر ہلاک ہوا۔
اگست 2025: افغان کنارے پر سونے کی کان کنی کے دوران دریا کے بہاؤ پر تنازع ہوا، جس پر تاجک بارڈر گارڈز اور افغان طالبان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
دسمبر 2025: ایک اور مسلح جھڑپ میں دو تاجک سرحدی محافظ اور تین عسکریت پسند مارے گئے۔
چینی ورکرز کی دستبرداری اور ڈرون حملے: کام کیوں رکا تھا؟
چین اس خطے میں 230 ملین ڈالر کی بھاری گرانٹ سے 109 کلومیٹر طویل کلمہ ہائی وے کو مختصر کر کے 92 کلومیٹر کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس میں چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن (CRBC) ٹھیکیدار ہے۔ لیکن سرحد پار سے ہونے والے دو بڑے حملوں نے بیجنگ کو ہلا کر رکھ دیا:
1. 30 نومبر 2025 (شودک گاؤں): افغان بدخشاں سے آنے والے عسکریت پسندوں نے حملہ کر کے دو چینی شہریوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا۔
2. نومبر 2025 (شمس الدین شاہین): افغان حدود سے بارود سے لیس ڈرون (UAV) کے ذریعے چینی کیمپ پر حملہ کیا گیا، جس میں تین چینی باشندے مارے گئے۔
ان حملوں کے بعد چین نے غیر معمولی طور پر سخت ایکشن لیتے ہوئے اپنے شہریوں کو سرحد سے نکلنے کی وارننگ دی تھی، اور اب جون 2026 میں بھی چینی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو سیکیورٹی اور شدید موسم کے باعث تاجکستان کے جنوبی سرحدی علاقوں میں سفر نہ کرنے کی سخت ہدایت جاری رکھی ہوئی ہے۔
آئی ایس کے پی (ISKP) اور جماعت انصار اللہ: تاجکستان کا سب سے بڑا سردرد
سیکیورٹی مانیٹرنگ ٹیموں کے مطابق، تاجکستان کے علاقے ‘گورنو-بدخشاں’ میں علیحدگی پسندی کے رجحانات اور حالیہ ہنگاموں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ تاجکستان کیلئے اس وقت دو بڑے خطرات موجود ہیں:
داعش خراسان (ISKP): عالمی دہشت گرد تنظیم نے تاجکستان کے اندر مضبوط نیٹ ورک بنا لیا ہے، اور حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ہونے والے آئی ایس کے پی کے بڑے حملوں میں تاجک شہریوں کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔
جماعت انصار اللہ (تاجک طالبان): تاجک حکومت نے باقاعدہ طور پر افغان بدخشاں میں موجود اس گروپ کو علاقائی استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جو تاجکستان کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔
افغان سرحد پر بڑھتے ہوئے خطرات نے روس کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد CSTO اور چین دونوں کو متحرک کر دیا ہے، روسی بلاک (CSTO) کا اقدام: سی ایس ٹی او نے افغانستان کی شمالی سرحد کو وسطی ایشیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 سے 2029 تک تاجک-افغان سرحد کیلئے جدید ہتھیار، لاجسٹکس اور مواصلاتی آلات فراہم کرنا شروع کر رہا ہے۔
چین کا سیکیورٹی فنڈ: تاجک پارلیمنٹ نے حال ہی میں افغان سرحد کے قریب 9 نئی بارڈر پوسٹس بنانے کیلئے چین کے 57.4 ملین ڈالر (550 ملین سومونی) کے فنڈ کی منظوری دی ہے، جس سے بیجنگ کا تاجکستان کی سرحدوں پر دفاعی اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا۔
دوشنبہ کلمہ ہائی وے کا دوبارہ شروع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ وسطی ایشیا کے معاشی منصوبے اب سیکیورٹی مسائل کے ساتھ بری طرح جڑ چکے ہیں۔ دوشنبہ کو معیشت کیلئے سڑک چاہئے، بیجنگ کو اپنے شہریوں کا تحفظ درکار ہے، افغان طالبان دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے رہے جس کیلئے انہوں نے بدخشاں سے کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے، جبکہ ماسکو خطے میں اپنا فوجی کنٹرول برقرار رکھنے کا خواہشمند ہے۔ اب اس تزویراتی سڑک کا مستقبل کنکریٹ اور ماؤنٹین انجینئرنگ سے زیادہ، تاجک فوج کی بندوقوں اور افغان طالبان کے وعدوں پر ٹکا ہوا ہے۔
Exclusive Summary: Rising Militancy Threatens China’s Strategic Border Corridor
Despite severe security threats, Chinese workers have resumed construction on the strategic, China-funded Dushanbe-Kulma highway corridor in Tajikistan. However, escalating cross-border militancy and separatist friction along the porous Afghan-Tajik frontier continue to jeopardize Beijing’s multi-million-dollar economic footprints in Central Asia.
Key Takeaways:
The Strategic Route: The $230 million China-funded Kalai-Khumb to Vanj road project, managed by China Road and Bridge Corporation (CRBC), serves as a critical trade link connecting Dushanbe directly to the Chinese frontier through the Pamir mountains.
Deadly Disruptions: Construction was completely halted following deadly cross-border strikes in late 2025—including an explosive drone attack—which claimed the lives of five Chinese nationals across the Darvaz and Shamsiddin Shohin border districts.
Complex Threat Landscape: The Gorno-Badakhshan region is facing a dangerous mix of localized separatist riots, illegal gold mining disputes, and a rising footprint of global terror networks like ISIS-K (ISKP) and Jamaat Ansarullah (commonly known as the Tajik Taliban).
Militarization of the Border: In a massive security response, the Russia-led CSTO alliance is preparing a multi-year military hardware deployment (2026–2029) to fortify the frontier, while Tajikistan recently approved a $57.4 million Chinese-funded plan to construct nine new border facilities near Afghanistan.
The Bottom Line: While the return of Chinese crews keeps the infrastructure corridor moving, the project’s ultimate survival no longer depends on concrete and engineering, but on armed Tajik protection and the Taliban’s ability to police cross-border militants.




