بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت پشاور کے سینئر صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے شرکت کی جبکہ موجودہ صورتحال کے خلاف متفقہ طور پر صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ جمعہ کے روز سے خیبر پختونخوا بھر میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا جس کے تحت احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دیگر احتجاجی اقدامات شامل ہوں گے ،اجلاس کے شرکاء نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے بے روزگار کیے گئے صحافیوں کی بحالی، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، شرکا نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو کارکن صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا انہیں جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ شرکا نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا،اجلاس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل، میں آسانی ہو ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئی ٹی این ای جج کی عدم تعیناتی کے باعث صحافی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد مقدمات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔اجلاس میں سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے کالے قوانین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرزکے صدر شمیم شاہد اور دیگر نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں اور صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، میڈیا مالکان کے ظلم، استحصال، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شرکا نے واضح کیا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، باعزت روزگار اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہر سطح پر بھرپور اور متحد آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔

بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی

پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، مزید پڑھیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء اور عمائیدین نے شرکت کی اس موقع پر اپنے خطاب میں ملک کیبت خان اور دیگر عمائیدین نے کہا کہ مناتو اور اس کے گردونواح کے دیہات میں لوگ انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جہاں سینکڑوں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (TDPs) تمام تر سرکاری تصدیقی طریقہ کار مکمل ہونے کے باوجود مالی معاوضے سے محروم ہیں اگرچہ دفتری کارروائی کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور ڈیٹا بھی فائنل کیا جا چکا ہے، لیکن زمین پر موجود حقائق بڑھتی ہوئی مایوسی اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔ عمائیدین نے متاثرہ خاندان لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے جیسے دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اپنے گھروں اور آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ نقل مکانی کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ خاندان نہ صرف اپنی املاک سے دور ہیں بلکہ ریاست کی جانب سے اس مالی امداد سے بھی محروم ہیں جو ان کی زندگیوں کی دوبارہ بحالی کے لیے وعدے کئے گئےتھے علاقے کے سماجی راہنما محبت خان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی مایوسی کی بنیادی وجہ معاوضہ ملنے میں تاخیر ہے، کیونکہ حکام نے کئی ماہ قبل تمام اہل افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا تھا۔ اس عمل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور بدعنوانی کو روکنا تھا جس سے بے گھر آبادی میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب جلد ہی امدادی فنڈز ان تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم، ان توقعات کا جواب خاموشی سے دیا گیا ہے محبت خان کا کہنا ہے کہ تمام تر سرکاری شرائط اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے باوجود تاحال کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ بائیومیٹرک تصدیق کی تکمیل اور امداد کی اصل فراہمی کے درمیان اس طویل وقفے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر کارکردگی کے لیے بنائے گئے اس نظام میں اتنی طویل تعطل کی وجہ کیا ہے۔ یہ انتظامی رکاوٹ محض کاغذی کارروائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہرے سماجی و اقتصادی بحران کا سبب بن رہی ہے جو متاثرہ خاندانوں کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔ معاوضے میں طویل تاخیر نے بہت سے لوگوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نقل مکانی کے دوران وہ اپنے اثاثوں اور آمدنی کے ذرائع دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مماتو سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور رحمان الللہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات سے دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے جن کی آمدنی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور وہ اب اپنے رشتہ داروں یا مقامی کمیونٹی کی امداد پر تکیہ کرنے پر مجبور ہیں۔ معاشی اثرات کے علاوہ اس صورتحال نے متاثرہ آبادی میں شدید نفسیاتی تناؤ بھی پیدا کر دیا ہے جہاں حکام کی جانب سے عدم توجہی اور خاموشی نے اس ابتدائی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جو امدادی نظام پر کیا گیا تھا۔ ایک بے گھر رہائشی عبداللہ نے بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو بنیادی ضروریات یا صحت کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ محرومی کی اس سطح نے ضلعی انتظامیہ سے اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ معاوضہ فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ بتائی جائے۔ اب کمیونٹی کے لیے بروقت امداد محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے تاکہ اس نظام پر ان کا اعتماد بحال ہو سکے جو فی الحال ان کی حالتِ زار سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ انتظامیہ کی مسلسل خاموشی اور متعلقہ محکموں کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے سے تنگ آکر مناتُو اور گردونواح کے متاثرہ خاندانوں نے مستقبل کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر آنے والے چند دنوں میں ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری ان حکام پر عائد ہوگی جو تصدیق شدہ ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بحران کی بڑھتی ہوئی شدت اس بات کی متقاضی ہے کہ فوری انتظامی مداخلت کی جائے تاکہ مزید مشکلات کو روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کرم کی ان کمزور برادریوں کو ان کی مشکلات میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے ضلع کرم کے کوارڈینیٹر شیراز باچا کا کہنا ہے کہ متاثرین کی بروقت اور ہر ممکن تعاون کے لئے ضلعی انتظامیہ اور فورسز کے ساتھ مل کر وہ ہرممکن اقدامات اٹھارہے ہیں جس کے باعث متاثرین کے زیادہ تر مسائل حل کئے گئے ہیں اور متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی سمیت ان کے تمام حل طلب مسائل کے حل کے لئے اقدامات جاری ہیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ

ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء مزید پڑھیں

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز بلیٹن عوام کیلئے حتمی سچ سمجھا جاتا تھا۔ صحافی معاشرے میں فکری رہنما تصور کئے جاتے تھے، اخبارات قومی مباحثے کی سمت متعین کرتے تھے اور ٹی وی چینلز عوامی رائے سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے، ہزاروں میڈیا ورکرز بے یقینی کا شکار ہیں، اور سوشل میڈیا نے معلومات، خبروں اور رائے سازی کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں صحافت ختم ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ اس کی شکل تبدیل ہورہی ہے۔ ماضی میں صحافت کا مرکز اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز تھے، مگر اب صحافت موبائل فون، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، پوڈکاسٹس اور ویب سائٹس میں منتقل ہورہی ہے۔ پہلے ادارے صحافی کو شناخت دیتے تھے، آج صحافی خود ایک ادارہ بنتا جارہا ہے۔ اب کسی بڑے چینل یا اخبار سے وابستگی ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی بلکہ ذاتی ساکھ، ڈیجیٹل موجودگی اور عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ زیادہ اہم بن چکا ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا زوال دراصل اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی عادت تبدیل کردی۔ لوگ صبح اخبار خریدنے کے بجائے موبائل فون پر خبریں پڑھنے لگے۔ اشتہارات، جو اخبارات کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، گوگل اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہوگئے۔ نتیجتاً اخبارات مالی بحران کا شکار ہوگئے، صفحات کم ہوئے، تنخواہیں رُکیں اور صحافی فارغ کئے جانے لگے۔ اسی طرح 2002 کے بعد پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے عروج نے ایک نئی میڈیا انڈسٹری کو جنم دیا۔ جیو، اے آر وائی، دنیا، ایکسپریس، سما اور دیگر چینلز نے صحافت کو نئی رفتار دی، ہزاروں نوجوان اس شعبے میں آئے اور میڈیا ایک طاقتور صنعت بن گیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی الیکٹرانک میڈیا شدید مسائل کا شکار ہوگیا۔ اشتہارات میں کمی، ریٹنگ کی دوڑ، سیاسی دباؤ، ادارتی آزادی پر قدغنیں اور ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار نے نیوز چینلز کی بنیادیں کمزور کردیں۔ اب نوجوان نسل ٹی وی اسکرین سے زیادہ موبائل اسکرین پر وقت گزارتی ہے۔ لوگ بریکنگ نیوز کیلئے ٹی وی آن کرنے کے بجائے یوٹیوب، ایکس، فیس بک یا واٹس ایپ کھولتے ہیں۔ اسی بحران کے باعث میڈیا انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ہورہی ہیں۔ کئی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور میں بے روزگار صحافی کی اصطلاح مکمل طور پر درست ہے؟ شاید پہلے یہ لفظ زیادہ مناسب تھا، مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب صحافت صرف کسی اخبار یا ٹی وی چینل کی نوکری کا نام نہیں رہی۔ اگر کوئی صحافی روایتی میڈیا ادارے سے الگ ہوکر بھی یوٹیوب، فیس بک، ویب سائٹ، پوڈکاسٹ، ڈیجیٹل رپورٹنگ یا فری لانس جرنلزم کررہا ہے تو اسے مکمل طور پر بے روزگار کہنا درست نہیں ہوگا۔ آج زیادہ مناسب اصطلاح آزاد صحافی، ڈیجیٹل صحافی یا فری لانس جرنلسٹ ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ بے روزگاری سے زیادہ ذہنی جمود کا ہے۔ موجودہ دور میں بے کار صحافی وہ نہیں جو کسی ادارے میں ملازم نہیں، بلکہ وہ ہے جو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صحافی جو اب بھی صرف روایتی نیوز روم کے انتظار میں بیٹھا رہے، نئی ٹیکنالوجی نہ سیکھے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور رہے اور جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، وہ عملی طور پر خود کو محدود کررہا ہے۔ آج کا دور ملٹی میڈیا جرنلزم کا ہے، جہاں ایک شخص لکھ بھی سکتا ہے، ویڈیو بھی بنا سکتا ہے، پوڈکاسٹ بھی کرسکتا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنا براہِ راست سامعین بھی بنا سکتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کیلئے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کن پلیٹ فارمز پر کام کرنا چاہئے؟ موجودہ حالات میں یوٹیوب سب سے طاقتور پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔ یہاں تجزیے، وی لاگز، انٹرویوز، ڈاکیومنٹریز اور پوڈکاسٹس کیلئے بڑی گنجائش موجود ہے۔ فیس بک اب بھی اردو صحافت کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے، خاص طور پر مقامی خبروں اور لائیو سیشنز کیلئے۔ ٹک ٹاک نوجوان نسل تک پہنچنے کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ ایکس فوری خبروں اور سیاسی مباحثوں کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انسٹاگرام، واٹس ایپ چینلز اور ذاتی ویب سائٹس بھی مستقبل کی صحافت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اب کامیاب صحافی وہ ہوگا جو صرف ایک پلیٹ فارم پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کرے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر سنجیدہ، علمی اور فکری لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں، جبکہ شور مچانے والے، جذبات بھڑکانے والے اور غیر سنجیدہ عناصر زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا الگورتھم ہے، جو تحقیق، دلیل اور متوازن گفتگو کے بجائے جذباتی، متنازع اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے۔ چیخنے، لڑنے، الزامات لگانے اور سنسنی پھیلانے والے مواد کو زیادہ ویوز ملتے ہیں، جبکہ سنجیدہ مواد اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف بہت سے پڑھے لکھے، باشعور اور سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا کو غیر سنجیدہ سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میدان غیر ذمہ دار لوگوں کیلئے خالی رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً عوامی بیانیہ اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو معلومات اور تحقیق سے زیادہ جذبات فروخت کرتے ہیں۔ بعض عناصر لوگوں کو احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے، انہیں غصے اور مایوسی کی طرف دھکیلنے اور جذباتی ردعمل پیدا کرنے کیلئے اشتعال انگیز الفاظ اور منفی بیانئے استعمال کرتے ہیں۔ دن رات ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کرنا ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی، تقسیم اور نفسیاتی دباؤ کو بھی بڑھاتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کا حل یہ نہیں کہ سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ دیں۔ اگر باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار لوگ جدید پلیٹ فارمز پر فعال نہیں ہوں گے تو پھر یہ میدان مکمل طور پر شور، نفرت اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، سیاسی بیانیے، سماجی شعور اور معلومات کی ترسیل کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ اس لئے صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر آنا چاہئے، مگر تحقیق، ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ۔ پاکستانی میڈیا اس وقت ایک بڑے انتقالی دور سے گزر رہا ہے۔ روایتی میڈیا کمزور ضرور ہورہا ہے، مگر صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں نئی شکل اختیار کررہی ہے۔ مستقبل ان صحافیوں کا ہے جو ٹیکنالوجی سیکھیں گے، ویڈیو، آڈیو اور تحریر تینوں پر عبور حاصل کریں گے، اپنی ذاتی ساکھ بنائیں گے اور جدید پلیٹ فارمز پر خود کو منظم انداز میں پیش کریں گے۔ اب صرف کسی ادارے کی نوکری پر انحصار کافی نہیں رہا۔ آج کامیاب وہی ہوگا جو خود کو ایک برانڈ، ایک پلیٹ فارم اور ایک مستقل آواز کے طور پر منوا سکے۔ وقت ہمیشہ اُنہی لوگوں اور اداروں کو زندہ رکھتا ہے جو خود کو حالات اور تقاضوں کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف ماضی کی شہرت، تجربہ یا نام کسی کی بقا کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایک وقت تھا جب “نوکیا” موبائل فون کی دنیا کا سب سے بڑا اور قابلِ اعتماد نام سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کے تقریباً ہر کونے میں اگر بہترین موبائل فون کا ذکر ہوتا تو نوکیا سرفہرست ہوتا، مگر وقت کے بدلتے تقاضوں، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور نئی دنیا کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ نہ کرسکنے کے باعث وہ آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہوگیا، اور اس کی جگہ نئے اور جدید اسمارٹ فونز نے لے لی۔ صحافت کی دنیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اگر کوئی صحافی صرف ماضی کے تجربات، روایتی انداز اور پرانے نظام پر اصرار کرے گا، اور نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بدلتی میڈیا دنیا کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا، تو وہ بھی وقت کے ساتھ اسی طرح منظر سے غائب ہوجائے گا۔ آج کا دور اُنہی صحافیوں کا ہے جو سیکھنے، بدلنے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز

تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز مزید پڑھیں

"Pak-Afghan border tension, Urumqi peace process, and regional geopolitics 2026"

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ

پاکستان، چین اور امریکہ کے تہرے مقابلے نے کابل کو دہلی کے قریب کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہو یا بگرام کی واپسی کا مطالبہ، پاک افغان تعلقات اب اس نہج پر ہیں جہاں صرف میز پر مزید پڑھیں

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت کیا گیا جب بارود سے بھرے ایک لوڈر رکشہ کو فتح خیل پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس اسٹیشن میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں 15 اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ تین اہلکار شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو میں شہریوں کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 اور الخدمت کے رضاکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پولیس حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شدت پسندوں نے علاقے کے مختلف راستوں اور شاہراہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور امدادی کارروائیوں کیلئے جانے والی پولیس اور ریسکیو ٹیموں پر فائرنگ بھی کی۔ سیکیورٹی خدشات اور رات کی تاریکی کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ پہلے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم رہی، جبکہ دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بنوں اور اس کے گرد و نواح میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً تھانوں، پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حافظ گل بہادر گروپ، اتحاد المجاہدین، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو بنوں اور اس کے گرد و نواح میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے کئی دیہی علاقوں میں سرکاری عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور شام کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ خوری کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بنوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر کارروائیاں کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرچ آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق مزید پڑھیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

Exterior view of the U.S. Consulate building in Peshawar, Pakistan, before its permanent closure in May 2026.

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے مزید پڑھیں

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول مزید پڑھیں