تحریر: قدسیہ یوسفی، حالہ نور
کسی گھر کے اجڑنے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ یہ ان چار دیواریوں سے پوچھئے، جہاں ہنسی کی جگہ اب سکتہ، اور اطمینان کی جگہ بکھر جانے کے ہولناک کھٹکے نے لے لی ہے۔ امان اللہ کیلئے، جو کل تک اپنے بچوں کے کھلکھلاتے چہروں اور اسکول کے بستوں کو دیکھ کر اطمینان کی سانس لیتے تھے، اب ہر نیا سورج ایک ہولناک کابوس بن کر طلوع ہوتا ہے۔ رات کو دروازے پر ہونے والی آہٹ کی دہشت، اپنوں سے بچھڑ جانے کا خوف، اور ایک ایسے نامعلوم دیس کی طرف دھکیل دئے جانے کا کرب جس کا ان سے کوئی شناسا تعلق نہیں، اس احساس نے ان کی روح کو مفلوج کر دیا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک شوہر اور بیوی کی قانونی جدائی کی نہیں، یہ ان معصوم بچوں کے دم گھٹنے کی داستان ہے جن کی سانسیں اپنے والدین کے وجود سے جڑی ہیں۔ افغان شہریوں کی زبردستی وطن واپسی کی حالیہ پالیسیوں نے ان ہزاروں گھرانوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں جو دہائیوں سے اس مٹی میں محبت، رشتے اور خواب بو رہے تھے۔ امان اللہ، جن کی آنکھیں اسی دھرتی پر کھلیں، جنہوں نے یہی کی فضاؤں میں سانس لیا، اور ایک پاکستانی خاتون کے ساتھ مقدس رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے، آج اچانک ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اجنبی ملک چلے جائیں جسے انہوں نے کبھی دیکھا تک نہیں۔
اگر یہ خاندان تقسیم ہوتے ہیں، تو یہ صرف دو الگ الگ پاسپورٹ رکھنے والے انسانوں کا بچھڑنا نہیں ہوگا، بلکہ بچوں کے نازک مستقبل، ان کے اسکول، ان کی زبان، اور ان کی معصوم یادوں کا زندہ قتل عام ہوگا۔ پاکستان میں اس وقت ایسے ہزاروں مقدس رشتے قائم ہیں جن کے سروں پر جلاوطنی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ بچے اپنے باپ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے خوفزدہ آنکھوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا بابا کو ہم سے چھین لیا جائے گا؟ اور والدین کے پاس ضبط کے چند آنسوؤں کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
امان اللہ کے الفاظ میں ایک ایسی التجا ہے جو کسی بھی پتھر دل کو موم کر دے:
میں اسی مٹی پر پیدا ہوا، یہی میرا اوڑھنا بچھونا رہا۔ میری بیوی پاکستانی ہے، بچے اسی دیس میں پل کر بڑے ہو رہے ہیں۔ 2015 میں مجھے رجسٹریشن کارڈ ملا، اور جب حکومت نے پاکستانی شریکِ حیات رکھنے والوں کیلئے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کا راستہ کھولا تو میں نے بھی نادرا میں درخواست دی تاکہ قانونی طور پر اپنے بچوں کا سایا بن کر رہ سکوں۔ چھ ماہ گزر گئے، لیکن میری فائل دفتروں کی گرد میں دبی ہے اور یہاں ہمارا ہر لمحہ اس خوف میں کٹ رہا ہے کہ کل ہم ایک دوسرے کی صورت دیکھ بھی سکیں گے یا نہیں۔
قانونی خشک الفاظ کی آڑ میں ان انسانی المیوں کا درد اکثر چھپ جاتا ہے۔ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کا قانون جہاں شہریت کی بات کرتا ہے، وہیں عرصے سے صنف کی بنیاد پر ایک خاموش تفریق بھی چلی آ رہی تھی۔ قانون دان مہوش منیب کے مطابق، محض شادی شہریت کا خودکار پروانہ نہیں بنتی، لیکن جب بات ایک خاندان کے اکٹھ کی ہو تو معاملہ عدالتوں تک جاتا ہے۔
ماضی میں جہاں پاکستانی مرد سے شادی کرنے والی غیر ملکی خاتون کیلئے شہریت کا راستہ نسبتاً آسان تھا، وہیں پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے غیر ملکی شوہر کو بند گلی میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ اس صریح ناانصافی کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، اور عدالت نے تاریخ ساز فیصلہ دیتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ انصاف کے تقاضے تمام شہریوں کیلئے یکساں ہونے چاہئیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے متعدد کیسز میں افغان شریکِ حیات کو نادرا کے ذریعے اوریجن کارڈ کیلئے رجوع کرنے کا راستہ دیا اور حتمی فیصلے تک ملک بدری پر اسٹے آرڈر جاری کئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قانونی نظام میں انسانیت کی رمق ابھی باقی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (UNHCR) کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق، کسی بھی خاندان کو دو حصوں میں کاٹ کر پھینک دینا ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ اگر شوہر افغان اور بیوی پاکستانی ہے، یا اس کے برعکس، تو ریاستی حکمتِ عملی ایسی ہونی چاہئے جو خاندان کی وحدت کو برقرار رکھے۔ اگرچہ حکومت نے کچھ مثبت اشارے دئے ہیں، لیکن جب تک کاغذی پیچیدگیوں کو آسان اور تیز تر نہیں بنایا جاتا، ہزاروں انسانوں کے گھروں پر چھائے سیاہ بادل نہیں چھٹ سکتے۔
:قانونی اور انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق اس قیامت خیز صورتحال سے نکلنے کیلئے چار ہنگامی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہیں
* معلومات اور رہنمائی کی آسان فراہمی: غیر یقینی کے ماحول کو ختم کرنے کیلئے نادرا اور متعلقہ اداروں کے ذریعے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے حصول کا سادہ، شفاف اور واضح طریقہ کار بتایا جائے۔
* انفرادی اور انسانی بنیادوں پر جائزہ: ہر خاندان کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ قیام کی مدت، شادی کی قانونی حیثیت اور بچوں کے کاغذات کی روشنی میں ہر معاملے کا انفرادی اور رحم دلانہ جائزہ لیا جائے۔
* بچوں کا تحفظ اولین ترجیح: بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور نفسیاتی بقا کیلئے ان کی دستاویزات اور ان کے والدین کے اکٹھ کو قانونی کارروائی میں سب سے اوپر رکھا جائے۔
* بین الاجنسی مربوط رابطہ: سرکاری اداروں، نادرا، اور حقوقِ انسانی کے اداروں کے درمیان فوری اور مضبوط رابطہ قائم کیا جائے تاکہ التوا کا شکار فائلیں ہزاروں زندگیاں تباہ نہ کریں۔
اس معاملے پر حکومتی مؤقف جاننے کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہو سکا۔ یہ خاموشی امان اللہ اور ان جیسے ہزاروں خاندانوں کیلئے سانس روک دینے والی ہے۔
امان اللہ کیلئے نادرا کا وہ کاغذی ٹکڑا محض ایک شناختی کارڈ نہیں، بلکہ اس کی محبت، اس کے بچوں کی مسکراہٹ اور اس کے گھر کی چھت کی ضمانت ہے۔ کیا قوانین اتنے بے حس ہو سکتے ہیں کہ جیتی جاگتی محبتوں اور معصوم بچپن کو روند ڈالیں؟ امان اللہ اور ان جیسے ہزاروں بے بس انسان آج بھی اسی آس میں سانسیں گن رہے ہیں کہ شاید قانون کا قلم ان کے بکھرتے آشیانوں پر رحم کھا لے۔
-
Risk of Family Fragmentation: Mandatory return policies threaten to tear apart households where children have grown up entirely within Pakistani communities and school systems.
-
Administrative Gridlock: Illustrating this crisis, Amanullah who was born, raised, and married in Pakistan applied for a Pakistan Origin Card (POC) six months ago through NADRA. Despite his deep ties and Pakistani family, his application remains stalled, leaving his household in constant fear of forced displacement to a country he has never known.
-
Peshawar High Court (PHC) Intervention: Historically, Pakistan’s administrative application of citizenship laws created gender disparities, favoring foreign wives of Pakistani men over foreign husbands of Pakistani women. Landmark PHC rulings challenged this inequality, directing NADRA to process POC applications for foreign husbands and granting temporary injunctions against deportation.
-
Distinct Legal Statuses: Legal analysts emphasize that while marriage does not automatically confer citizenship under the Pakistan Citizenship Act of 1951, the Pakistan Origin Card (POC) provides a critical, lawful pathway to preserve family cohabitation.
-
UNHCR Position: UNHCR Pakistan spokesperson Qaisar Khan Afridi stresses that public policy must prioritize family integrity. Dividing parents and compelling children to choose between split households inflicts long-term psychological and developmental harm on minors.
-
Clear NADRA Pathways: Establish simplified, accessible procedures for bi-national couples seeking POC registration.
-
Individualized Assessments: Evaluate households on a case-by-case basis taking into account duration of residence, legal marriage documentation, and child welfare rather than applying uniform deportation orders.
-
Child-Centric Protections: Prioritize the rights and mental well-being of native-born children in all administrative decisions.
-
Inter-Agency Alignment: Strengthen operational coordination between NADRA, federal ministries, judicial authorities, and humanitarian organizations to resolve backlogged files efficiently.




