پشاور: دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک
روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان کے بارے میں آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کئی ماہ سے مسلسل کشیدگی، سرحدی تنازعات، دہشتگردی کے الزامات اور باہمی اعتماد کے شدید بحران سے دوچار ہیں۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان سخت مؤقف سامنے آنے اور مشترکہ اعلامئے پر اتفاق نہ ہونا اس بات کو نمایاں کر دیا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات اب محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے، بلکہ دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کی بنیادی سطح بھی متاثر ہو چکی ہے۔
اسی دوران افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے گرفتاری کے وارنٹ بھی سفارتی منظرنامے میں ایک نئے اور حساس عنصر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یوں ماسکو اجلاس میں علاقائی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ افغانستان کی داخلی پالیسیوں اور طالبان حکومت کی بین الاقوامی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات بھی نمایاں ہو گئے۔
5 اکتوبر 2026 کو ہونے والی مشاورت میں پاکستان کی نمائندگی افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق نے کی جبکہ افغان وفد کی قیادت وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی۔
اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان سے متعلق علاقائی مسائل پر مشاورت، سیاسی و اقتصادی تعاون، دہشتگردی، منشیات اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات پر مشترکہ فہم پیدا کرنا تھا۔ تاہم پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان موجود بنیادی اختلافات نے اجلاس کے ماحول پر گہرا اثر ڈالا۔
امیر خان متقی نے اپنے خطاب میں افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور افغانستان میں ہونے والی مبینہ فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں پر اعتراض اٹھایا۔ افغان حکومت کا بنیادی مؤقف یہ رہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین کے خلاف طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔
اس کے جواب میں پاکستانی وفد نے افغانستان میں موجود مبینہ عسکریت پسند گروہوں اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو مرکزی مسئلہ قرار دیا۔ محمد صادق نے پاکستانی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے اور اسلام آباد اپنے شہریوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے علاوہ داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ گروہوں اور دیگر عسکری تنظیموں کے حوالے سے بھی افغانستان میں موجود مبینہ پناہ گاہوں کے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور افغانستان کے خلاف پاکستانی اقدامات کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ یہی بنیادی اختلاف ماسکو اجلاس میں بھی نمایاں رہا۔
مشترکہ اعلامیہ کیوں اہم تھا؟
ماسکو فارمیٹ کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا اس بار کی مشاورت کا اہم ترین سفارتی پہلو بن کر سامنے آیا ہے۔
روس کے افغانستان کیلئے صدارتی نمائندے ضمیر کابلوف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات اور کشیدگی کے باعث اجلاس کے بعد مشترکہ بیان پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
اگر یہ صورت حال گزشتہ اجلاسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی ہے تو اس کی اہمیت محض ایک سفارتی دستاویز کے نہ بننے تک محدود نہیں۔ مشترکہ اعلامیہ عام طور پر شریک ممالک کے درمیان کم از کم ان نکات پر اتفاق کی علامت ہوتا ہے جنہیں وہ اجتماعی طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس بار اس سطح پر اتفاق نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی فورم بھی پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بنیادی اختلافات کو وقتی طور پر سمیٹنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
تاہم اسے ماسکو فارمیٹ کی مکمل ناکامی قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا۔ ایسے علاقائی فورمز کی اہمیت بعض اوقات مشترکہ اعلامئے سے زیادہ اس بات میں ہوتی ہے کہ فریقین ایک ہی سفارتی میز پر موجود رہیں اور اختلافات کے باوجود رابطے کے راستے کھلے رہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اجلاس کے موقع پر محمد صادق اور امیر خان متقی کے درمیان باقاعدہ دوطرفہ ملاقات نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق دونوں شخصیات اجلاس کے بعد عشائئے میں ایک ہی میز پر موجود تھیں تاہم کوئی باضابطہ باہمی گفتگو نہیں ہوئی۔ دوسری جانب محمد صادق نے روس، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت دیگر شریک وفود کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اگر دونوں فریق ایک دوسرے سے براہ راست بات کرنے کیلئے بھی تیار نہیں تو یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ موجودہ کشیدگی میں اگلے مرحلے کی سفارت کاری کس راستے سے آگے بڑھے گی۔
یہاں روس کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔
ماسکو نے گزشتہ برسوں میں افغانستان سے متعلق علاقائی سفارت کاری میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ماسکو فارمیٹ اسی کوشش کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس میں روس کے ساتھ خطے کے دیگر اہم ممالک کو بھی افغانستان کے مستقبل، سلامتی اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کا موقع ملتا ہے۔
موجودہ حالات میں روس کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مکمل ثالثی کا دعویٰ کئے بغیر دونوں کے درمیان رابطے کا ایک قابل قبول ذریعہ کیسے بن سکتا ہے۔
ضمیر کابلوف کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ روس کیلئے افغانستان کی سلامتی صرف افغان مسئلہ نہیں بلکہ وسطی ایشیا، دہشتگردی، منشیات اور علاقائی استحکام سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مفادات بھی اسی صورتحال سے منسلک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی پاک افغان کشیدگی اب دوطرفہ مسئلے سے آگے بڑھ کر ایک علاقائی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان موجودہ تنازع کی جڑ دو مختلف بیانیوں میں ہے۔
پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کیلئے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے عناصر ذمہ دار ہیں اور طالبان حکومت انہیں مؤثر طور پر روکنے میں ناکام رہی ہے۔
افغان طالبان اس مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور پاکستان کو اپنی داخلی سلامتی کے مسائل کا ذمہ دار افغانستان کو نہیں ٹھہرانا چاہئے۔
اس اختلاف کے ساتھ ایک دوسرا تنازع بھی جڑ گیا ہے، پاکستان کی جانب سے سرحد پار کارروائیوں اور فضائی حملوں کا معاملہ۔
کابل ان کارروائیوں کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے جبکہ اسلام آباد انہیں اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشتگردی کے خطرے کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرتا ہے۔
جب ایک فریق کا بنیادی مسئلہ دہشتگردی اور محفوظ پناہ گاہیں ہو اور دوسرے کا بنیادی مسئلہ خودمختاری اور فضائی حملے، تو مذاکرات میں مشترکہ زبان پیدا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
طالبان قیادت کے خلاف آئی سی سی وارنٹ: ایک نیا سفارتی دباؤ
ماسکو اجلاس کے ساتھ ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کا معاملہ بھی عالمی سطح پر نمایاں ہوا۔
رپورٹ شدہ وارنٹس میں امارت اسلامیہ کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی سمیت بعض اعلیٰ حکام کے نام شامل ہیں۔ ان پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مبینہ منظم اور بنیادی طور پر جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو انسانیت کے خلاف جرم، یعنی ان پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنس کی بنیاد پر منظم ایذا رسانی اور امتیازی سلوک کے ذریعے انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔نرپورٹ شدہ کارروائی میں وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔
یہاں ایک اہم قانونی فرق سمجھنا ضروری ہے، آئی سی سی کے گرفتاری وارنٹ کسی فرد کو عدالت سے مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتے۔ یہ عدالت کی جانب سے گرفتاری اور عدالتی کارروائی کیلئے جاری کیا جانے والا قانونی اقدام ہے، جبکہ جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالتی عمل کے بعد ہوتا ہے۔
طالبان حکومت نے آئی سی سی کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار اور اس کے فیصلوں کو قبول نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
طالبان حکومت پہلے ہی عالمی سطح پر تسلیم کئے جانے کے پیچیدہ مسئلے سے دوچار ہے۔ اگر اس کے اعلیٰ حکام کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو افغانستان کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوششوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
خصوصاً خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے حوالے سے طالبان کی پالیسیوں پر مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تنقید پہلے ہی موجود ہے۔
طالبان کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ افغانستان کا نظام داخلی مذہبی اور سماجی اصولوں کے مطابق چل رہا ہے اور بیرونی اداروں کو اس کے داخلی نظام میں مداخلت کا اختیار نہیں۔
یہی اختلاف اب سفارتی اور سیاسی مسئلے کے ساتھ قانونی اور انسانی حقوق کے ایک بڑے عالمی سوال میں بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
ماسکو اجلاس اور آئی سی سی وارنٹ کا بیک وقت سامنے آنا؟
ماسکو اجلاس میں پاکستان اور طالبان کے درمیان تلخی اور اسی عرصے میں طالبان قیادت کے خلاف آئی سی سی کی کارروائی کا سامنے آنا دو الگ واقعات ہیں، لیکن دونوں افغانستان کے موجودہ سفارتی ماحول کو سمجھنے میں اہم ہیں۔
ایک طرف طالبان حکومت پاکستان جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ سکیورٹی تنازع میں ہے۔ دوسری طرف اسے مغربی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے خواتین کے حقوق، انسانی حقوق اور قانونی احتساب کے سوالات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال میں طالبان حکومت کیلئے سفارتی گنجائش ایک پیچیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ افغانستان کو خطے کے ممالک کے ساتھ معاشی اور سیاسی روابط کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان، چین، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک بھی افغانستان کے ساتھ اپنے اپنے مفادات کے تحت تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا ماسکو فارمیٹ کوئی راستہ نکال سکتا ہے؟
موجودہ صورتحال میں ماسکو سے فوری پاک افغان بریک تھرو کی توقع شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔ تاہم اس فورم کی اہمیت اس لئے برقرار ہے کہ یہ دونوں ممالک کو ایک ایسے علاقائی ماحول میں لاتا ہے جہاں روس، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی موجود ہوتی ہیں۔
اصل ضرورت کسی فوری بڑے معاہدے کے بجائے اعتماد سازی کے چھوٹے لیکن قابل عمل اقدامات کی ہے۔
سب سے پہلے پاکستان اور افغانستان کو دہشتگردی کے معاملے پر ایسے قابل تصدیق طریقہ کار کی طرف بڑھنا ہوگا جس میں الزامات کے بجائے شواہد، معلومات کے تبادلے اور عملی اقدامات کو اہمیت دی جائے۔
اسی طرح سرحدی کشیدگی، تجارت، ٹرانزٹ، مسافروں کی آمدورفت اور فضائی کارروائیوں جیسے معاملات کیلئے مستقل رابطے کا کوئی مؤثر نظام ضروری ہے۔
اگر براہ راست سیاسی مذاکرات فی الحال مشکل ہیں تو تیسرے فریق یا علاقائی فورمز کے ذریعے مرحلہ وار رابطہ بحال کیا جا سکتا ہے۔
پاک افغان تعلقات کی موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک اب صرف دوطرفہ تعلقات کے اندر رہ کر اس بحران کو حل نہیں کر سکتے۔
افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے چین، روس، ایران اور وسطی ایشیا کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح پاکستان کیلئے افغانستان میں امن براہ راست اس کی داخلی سلامتی، تجارت اور سرحدی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
اس لئے ماسکو فارمیٹ جیسے پلیٹ فارم آنے والے دنوں میں مزید اہم ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ علاقائی طاقتیں محض بیانات جاری کرنے کے بجائے پاکستان اور افغانستان کے درمیان قابل عمل اعتماد سازی کا طریقہ کار پیدا کر پاتی ہیں یا نہیں۔
ماسکو میں مشترکہ اعلامئے کا نہ ہونا پاک افغان تعلقات میں موجود گہری خلیج کی ایک علامت ضرور ہے، لیکن یہ سفارت کاری کے اختتام کی علامت نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اسلام آباد اور کابل کب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایک دوسرے کے مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اپنے اختلافات کو منظم کرنے کیلئے مستقل مذاکراتی راستہ ضروری ہے۔
پاکستان کیلئے دہشتگردی کا مسئلہ بنیادی سلامتی کا معاملہ ہے جبکہ افغان طالبان کیلئے خودمختاری اور بیرونی دباؤ بنیادی حساسیت رکھتے ہیں۔ جب تک دونوں فریق ان دو بنیادی خدشات کے درمیان کوئی قابل قبول توازن پیدا نہیں کرتے، ہر علاقائی اجلاس عارضی رابطہ تو فراہم کر سکتا ہے لیکن مستقل حل نہیں۔
آئی سی سی کی کارروائی نے طالبان حکومت کیلئے ایک الگ بین الاقوامی قانونی دباؤ بھی پیدا کر دیا ہے۔ ایسے میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں علاقائی سفارت کاری پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ماسکو فارمیٹ کا اصل امتحان اب یہ نہیں کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا روس، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک مل کر ایسا سفارتی ماحول پیدا کر سکتے ہیں جس میں پاکستان اور افغانستان دوبارہ براہ راست بات چیت کی طرف واپس آئیں۔ یہی راستہ موجودہ بحران کو مزید بگڑنے سے روکنے کی پہلی شرط ہو سکتا ہے۔
Summary
The eighth Moscow Format consultations on Afghanistan highlighted the deepening rift between Pakistan and the Afghan Taliban, with security, cross-border tensions and sovereignty remaining the key points of disagreement. The failure to issue a joint statement further reflected the difficulty of finding common ground between Islamabad and Kabul.
Pakistan reiterated concerns over militant groups allegedly operating from Afghan territory, while the Taliban accused Pakistan of violating Afghan sovereignty through alleged air operations. The absence of a formal bilateral meeting between Pakistan’s Special Representative Muhammad Sadiq and Afghan Foreign Minister Amir Khan Muttaqi also underscored the current diplomatic deadlock.
Meanwhile, reported ICC arrest warrants against senior Taliban leaders have added another layer of international legal and diplomatic pressure on the Taliban government. The developments have made the role of regional powers, particularly Russia, China, Iran and Central Asian states, increasingly important in preventing further escalation.
The immediate challenge is to establish confidence-building measures, maintain diplomatic channels and create a mechanism for addressing terrorism, border tensions and other disputes. While the Moscow Format could not bridge the current divide, it remains an important platform for keeping regional diplomacy alive.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




