دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر
خیبر پختونخوا اسمبلی سے حال ہی میں منظور ہونے والا اختیارات، استحقاقات، مراعات اور استثنیٰ ایکٹ 2026 ایک ایسا قانونی دستاویز ہے جس نے صوبے کی سیاسی تاریخ میں ایک تاریک باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ قانون بظاہر پارلیمانی استحقاق کو قانونی شکل دینے کا نام ہے، لیکن اس کی تہہ میں پوشیدہ مقاصد عوامی مفاد کے بجائے منتخب نمائندوں کی ذاتی مراعات کے تحفظ اور میڈیا کی آواز کو دبانے کے سوا کچھ نہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ اسمبلی تک پہنچنے والے ایم پی ایز اور ایم این ایز کا راستہ عمران خان کی رہائی اور نظریاتی بیانیے سے ہو کر گزرتا ہے۔ عوامی جذباتی وابستگیوں کے سہارے ایوانوں تک پہنچنے والے یہ نمائندے اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی اپنے نصب العین کو بھول گئے۔ آج یہ وہی طبقہ ہے جو نہ صرف عمران خان سے ملاقات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا بلکہ ان کا مکمل فوکس سرکاری عہدوں، شاہانہ مراعات اور اسمبلی کے اندر اپنے لیے قانون سازی کرنے پر مرکوز ہے۔ عوام کے مسائل اور تبدیلی کا وعدہ محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے، جبکہ عملی میدان میں یہ طبقہ مراعات کے حصول کیلئے بے چین دکھائی دیتا ہے۔
اس قانون کے ذریعے ارکان اسمبلی نے اپنے لئے جو مراعات مختص کی ہیں، وہ تاریخ میں بطور شاہانہ استحقاق یاد رکھی جائیں گی۔ اسلحہ لائسنسوں کی فراوانی، سرکاری پاسپورٹس، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ، اور سرکاری ریسٹ ہاؤسز پر قبضے جیسے اقدامات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ عوامی نمائندے کس طرح عوامی ٹیکس کے پیسوں سے اپنی عیاشیوں کا بندوبست کر رہے ہیں۔ یہ قانون سازی پارلیمانی آزادی کے نام پر ایک ایسے استثنیٰ کا قیام ہے جس کا مقصد جوابدہی سے بچنا ہے۔
اس قانون کا سب سے بھیانک پہلو میڈیا اور آزادیٔ صحافت کے خلاف سخت اقدامات ہیں۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس (KUJ) نے بجا طور پر اس کی شدید مذمت کی ہے۔ یونین کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی کے مطابق، اسمبلی کی کارروائی کی آزادانہ کوریج پر پابندیاں، صحافیوں کیلئے قید اور بھاری جرمانوں کے شکنجے دراصل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اس بل کو مہینوں تک خفیہ رکھا گیا اور اسے کسی بھی اسٹیک ہولڈر یا صحافتی تنظیم کے سامنے نہیں لایا گیا۔ ایک ایسا قانون جو میڈیا کو چپ کرانے کیلئے بنایا گیا ہو، وہ جمہوری نہیں بلکہ آمریت کے ہتھکنڈوں کا عکاس ہے۔
جدید جمہوری معاشروں میں پارلیمنٹ کا وقار اس کی کارکردگی اور شفافیت سے ہوتا ہے، نہ کہ میڈیا کو دھمکانے سے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کا یہ اقدام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایوان اب عوامی احتساب کے سامنے جوابدہ رہنے سے گریزاں ہے۔ اسمبلی نے خود کو قانون سے بالاتر کرنے کیلئے جو استحقاق استعمال کیا ہے، وہ دراصل عوام کے اعتماد کا قتل ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کا یہ اعلان درست ہے کہ اگر متنازع شقیں واپس نہ لی گئیں، تو صحافی برادری ایک بھرپور احتجاجی تحریک چلانے میں حق بجانب ہوگی۔ حکومت وقت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافت پارلیمنٹ کی حریف نہیں، بلکہ اس کی آئینہ دار ہے۔
اگر یہ قانون اپنی موجودہ شکل میں نافذ رہا تو یہ جمہوری تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہوگا جسے آنے والی نسلیں مینڈیٹ کے سوداگروں کے نام سے یاد رکھیں گی۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اس متنازع قانون پر نظرثانی کرے، بصورت دیگر، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ان نمائندوں کو عوام اور تاریخ کی عدالت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔نوٹ: یہ مضمون “دی خیبر ٹائمز” کی جانب سے جاری کردہ خصوصی تحقیقاتی سیریز کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ اور حکومتی احتساب کو یقینی بنانا ہے۔
Executive Summary: The Khyber Pakhtunkhwa Assembly’s Controversial Privileges Act 2026
Source: The Khyber Times (Special Investigative Report)
This investigative piece critiques the recently passed “Khyber Pakhtunkhwa Assembly (Powers, Privileges, Allowances, and Immunity) Act 2026,” labeling it a “dark chapter” in the province’s political history. While framed as a measure to formalize parliamentary privileges, the report argues that the act is primarily designed to secure personal benefits for lawmakers and stifle media freedom rather than serve the public interest.
Key Findings:
-
Betrayal of Mandate: The report asserts that lawmakers, who gained power through the narrative of Imran Khan, have abandoned their core mission upon securing office. Instead of focusing on public issues, they are preoccupied with acquiring government positions and extravagant perks.
-
“Royal” Privileges: The act grants legislators excessive benefits, including unlimited arms licenses, official passports, toll tax exemptions, and access to state rest houses. The report highlights these as evidence of lawmakers using public funds to secure personal comforts, effectively using “parliamentary independence” as a shield against accountability.
-
Threat to Press Freedom: A major portion of the report focuses on the act’s repressive measures against the media. Citing the Khyber Union of Journalists (KUJ), led by President Kashifuddin Syed and General Secretary Irshad Ali, the piece condemns the restrictions on reporting assembly proceedings, noting that the threat of imprisonment and heavy fines for journalists violates Article 19 of the Constitution of Pakistan.
-
Lack of Transparency: The report criticizes the government for keeping the bill hidden for months, bypassing consultation with key stakeholders and media organizations, which it terms a “dictatorial tactic” rather than a democratic process.
Conclusion and Stance: The Khyber Times argues that true parliamentary dignity is built on performance and transparency, not on silencing the press. Supporting the KUJ’s call for protest, the report warns that if these controversial clauses are not withdrawn, the government will be remembered by future generations as “merchants of the mandate”. The article concludes by urging the government to engage all stakeholders and revise the law to ensure it aligns with constitutional values and public accountability.




