English: Balochistan Police cap on a rocky landscape, symbolizing the security inquiry in Ziarat.زیارت سکیورٹی انکوائری کی علامت کے طور پر چٹانی علاقے پر بلوچستان پولیس کی ٹوپی

زیارت سانحہ: پولیس کے پاس اسلحہ کم تھا یا انتظامی غفلت؟ حکومتِ نے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی

دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک: بلوچستان کے ضلع زیارت میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد جہاں حکومت نے ایس پی زیارت کو معطل کر کے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، وہیں سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے مختلف نوعیت کا پروپیگنڈا اور قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ ان قیاس آرائیوں میں سب سے نمایاں بات اہلکاروں کے پاس اسلحہ کی کمی کا دعویٰ ہے۔
ترجمان حکومتِ بلوچستان، شاہد رند نے ان تمام خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، کہ حکومتِ بلوچستان سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ایس پی زیارت کی معطلی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سکیورٹی میں کوتاہی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انکوائری کمیٹی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی، بشمول اسلحہ کی دستیابی اور نفری کی تعیناتی کے معاملات۔ جو بھی غفلت کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔”
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو اس لئے نشانہ بنایا گیا یا اغوا کیا گیا کیونکہ ان کے پاس دفاع کیلئے انتہائی کم اسلحہ موجود تھا۔ دی خیبر ٹائمز کے تجزیے کے مطابق، اس بحث میں چند حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے:
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق کے بغیر ان پر یقین کرنا قبل از وقت ہے۔ کمیٹی اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ وسائل کی کمی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے انٹیلیجنس یا حکمتِ عملی کی کوئی بڑی خامی تھی۔
سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق، ایسے حساس مواقع پر سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ مواد پھیلانے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور سکیورٹی اداروں کا مورال گرانا ہوتا ہے۔
عوام کو چاہئے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع اور مستند خبروں پر انحصار کریں۔ 15 دن کی یہ انکوائری رپورٹ ہی اس بات کا حتمی جواب ہوگی کہ آیا سکیورٹی انتظامات میں واقعی کوئی بڑی خامی تھی یا اسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ بلوچستان کے مشکل جغرافیائی حالات میں پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور انہیں ہر قسم کے جدید اسلحے سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم، واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی قیاس آرائیوں کو احتیاط کے ساتھ لینا چاہئے۔
دی خیبر ٹائمز اپنے قارئین سے اپیل کرتا ہے کہ کسی بھی ایسی ویڈیو یا پیغام کو شیئر کرنے سے گریز کریں جس کی تصدیق نہ ہو سکی ہو۔ ہم اس معاملے کی ہر پیشرفت کو شفافیت کے ساتھ آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔

Exclusive: Ziarat Security Breach Sparks High-Level Inquiry
QUETTA: In a swift response to the recent security incident in Ziarat, the Balochistan government has suspended the local Superintendent of Police (SP) and established a high-level inquiry committee. Comprised of senior police officials and Intelligence Bureau (IB) representatives, the committee is mandated to investigate the security lapses including allegations regarding insufficient weaponry and submit a comprehensive report within 15 days.
Addressing the controversy, Government Spokesperson Shahid Rind affirmed the government’s commitment to accountability, stating that any negligence whether in resource allocation or tactical planning will be met with strict disciplinary action.
While social media narratives continue to fuel debate over the alleged lack of equipment provided to the fallen and abducted personnel, the government has urged the public to rely solely on verified information. This inquiry marks a critical step toward evaluating security protocols and restoring morale, as authorities move to address the systemic challenges facing law enforcement in the province.