Iranian and American flags side-by-side with a document representing the Islamabad Memorandum of Understanding.

اسلام آباد مفاہمت نامے کی خلاف ورزی: ایران کا امریکہ پر سخت ردعمل، سنگین نتائج کی تنبیہ

اسلام آباد: دی خیبر ٹائمز مانیٹرمنگ ڈیسک
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر “اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ” (MoU) کے آرٹیکل 10 کی صریح خلاف ورزی کا باقاعدہ الزام عائد کیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں عارضی نرمی کو ختم کرنے کا امریکی فیصلہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد معاہدے پر دستخط ہوئے ابھی 20 دن بھی نہیں گزرے کہ امریکہ نے اپنے وعدوں سے انحراف شروع کر دیا ہے۔ تہران نے 21 جون کے جنرل لائسنس کو منسوخ کرنے کے امریکی اقدام کو واشنگٹن کی ‘بدنیتی’ اور ناقابلِ اعتماد ہونے کا ثبوت قرار دیا ہے۔
ایران نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکہ نے براہِ راست، اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے ذریعے، معاہدے کی دیگر شقوں کو بھی مسلسل پامال کیا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ اس کے برعکس ایران نے اب تک اپنے تمام وعدوں کی مکمل پاسداری کی ہے۔
ایرانی بیان میں بار بار اسلام آباد میمورنڈم کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اس کشیدگی کو ایک الگ تھلگ سیاسی تنازع کے بجائے معاہدے کی خلاف ورزی کے تناظر میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے، تاکہ عالمی برادری پر یہ واضح کیا جا سکے کہ خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار کون ہے۔
بیان کے اختتام پر ایران نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سکیورٹی کے تحفظ کیلئے جو بھی اقدامات ضروری سمجھے گا، وہ اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے بعد ہونے والی یہ تازہ ترین پیش رفت خطے میں سفارتی تعلقات میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔