Iranian IRGC coastal missile battery overlooking oil tankers and naval warships in the Strait of Hormuz amid Middle East tension, for The Khyber Times. آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور بحری جنگی جہازوں کے سامنے تعینات ایرانی کوسٹل میزائل بیٹری، دی خیبر ٹائمز خبر کے لیے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور نئے فضائی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے سنگین اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا خطرہ حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ رواں سال فروری میں شروع ہونے والے امریکہ-ایران براہِ راست فوجی تصادم کے بعد اب صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب ایران نے خلیجِ فارس میں واقع دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کیلئے مکمل طور پر بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ ایرانی عسکری قیادت کی جانب سے یہ سخت ترین فیصلہ عمانی ساحل کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی ڈرون کے ذریعے گرائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی ملٹری سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس تزویراتی بحری راستے کا کنٹرول اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔
اس بحری محاذ آرائی کے ساتھ ہی سفارتی تعطل اور عسکری کارروائیوں میں بھی ہولناک تیزی آئی ہے، اور گزشتہ چند ہفتوں سے جاری عارضی جنگ بندی اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت ترین نتائج کی دھمکیوں کے بعد امریکی فضائیہ نے گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف، پاسدارانِ انقلاب کے مراکز اور دفاعی تنصیبات پر شدید بمباری کی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس صورتحال پر سخت ترین موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر تہران کو طاقت کی زبان ہی سمجھ آتی ہے تو امریکہ بموں کے ذریعے ہی بات چیت کرے گا، جس کے جواب میں ایران نے بحرین میں قائم امریکی بحری بیڑے کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ امریکی صدر ایرانی حکام کے ساتھ پسِ پردہ رابطوں میں ہیں اور ایک نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفارت خانے اور تہران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی دھمکی یا طاقت کے استعمال کے زیرِ اثر کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔
دوسری طرف، اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست میزائلوں اور ڈرونز کا تبادلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں حالیہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے “رامات ڈیوڈ” ایئر بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی و فضائی آپریشنز مسلسل جاری ہیں، جہاں حالیہ مہینوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ساڑھے تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، اور تہران نے دھمکی دی ہے کہ اگر بیروت پر بمباری نہ روکی گئی تو مزاحمتی فرنٹ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔ اسی اثنا میں یمن کے حوثی باغیوں نے بھی بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی دھمکیوں کے ساتھ تل ابیب کی جانب بیلسٹک میزائل داغ کر اسرائیل کے دفاعی نظام کو چیلنج کیا ہے۔ ایران نے تمام خلیجی ممالک کو بھی دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی زمین، فضائی حدود یا فوجی اڈے امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف کارروائی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں، ورنہ انہیں بھی اس جنگ کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور اس شدید ترین جنگی ماحول کے باعث عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے اپنے نیوکلیئر پلانٹس تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔