ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول مزید پڑھیں

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ ایران ایک بہتر معاہدہ قبول کرے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایک موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ڈیل پر آمادہ ہو جو دونوں ممالک کیلئے قابل قبول ہو۔ ان کے مطابق، اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری راستے کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں آسانی آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور مبینہ ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور وہ مؤثر طریقے سے تجارت نہیں کر پا رہا۔ ٹرمپ نے ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ وہاں اصل قیادت کس کے پاس ہے، اور ملک اندرونی انتشار کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے 75 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایران نے ممکنہ طور پر اپنی کچھ عسکری صلاحیت بحال کی ہو، تاہم امریکی فوج ایک دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک طویل المدتی اور پائیدار امن معاہدہ چاہتا ہے، اور اس سلسلے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث انہیں کچھ عرصے کیلئے گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان بیانات کی یہ جنگ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے مزید پڑھیں