ایرانی عدلیہ نے 8 خواتین کی سزائے موت سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت اور بعد ازاں اس کی مبینہ منسوخی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جن خواتین کا ذکر امریکی صدر کی جانب سے کیا جا رہا ہے، انہیں نہ تو کبھی سزائے موت سنائی گئی اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی عدالتی فیصلہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران میں سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد سے قبل 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم یہ دعویٰ بھی بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوا تھا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اب دوبارہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان خواتین کی سزائے موت “ٹرمپ کے مطالبے” پر منسوخ کر دی گئی ہے، جسے ایرانی حکام نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے “من گھڑت اور پروپیگنڈا پر مبنی خبر” قرار دیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ یہ مبینہ 8 خواتین کون ہیں، انہیں کب اور کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، یا آیا ان کے خلاف کوئی باضابطہ عدالتی کارروائی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر امریکی اور ایرانی بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے عالمی سفارتکاری اور جاری سیاسی کشیدگی میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔

ایرانی عدلیہ نے 8 خواتین کی سزائے موت سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت اور بعد ازاں اس کی مبینہ منسوخی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر مزید پڑھیں


لندن میں آبنائے ہرمز پر اہم کانفرنس آج، 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شریک اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شرکت کریں گے۔ ویب ڈیسک کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی تجارتی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش یا عدم استحکام عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق کانفرنس میں شریک فوجی ماہرین اپنے اپنے ممالک کی عسکری صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام اور خطے میں افواج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی حکمت عملی یا منصوبے کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی معاہدے کے بعد ہی عملی شکل دی جائے گی، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کانفرنس نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال بلکہ عالمی سلامتی کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس کے نتائج آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


لندن میں آبنائے ہرمز پر اہم کانفرنس آج، 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز شریک

اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سمندری راستوں کی بحالی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے، جس میں 30 سے مزید پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں کے معاملات، اس تازہ بحران کی بنیاد بنے، خلیج کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جہاں ایرانی افواج کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آئے جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کمزور نہیں ہونے دے گا، ان تمام حالات کے درمیان ایک عارضی سیزفائر ضرور قائم کیا گیا لیکن یہ زیادہ ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے نہ کہ مستقل حل کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات لگ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہے، اسی تناظر میں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں امن مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی گئی مگر یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں جس کی بڑی وجہ سخت شرائط، باہمی عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کا دباؤ تھا، پاکستان نے اس سارے معاملے میں محتاط اور متوازن پالیسی اپناتے ہوئے نہ صرف سفارتی رابطے جاری رکھے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے لئے یہ صورتحال ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کا خیال رکھنا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیزفائر ایک نازک مرحلہ ہے جو بظاہر سکون کا تاثر دیتا ہے مگر اس کے نیچے چھپی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسی لئے آنے والے دن نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران مزید پڑھیں